اولاد کی قاتل ماں


دنیا میں صرف ایک رشتہ ایسا ہوتا ہے جو بنا کسی لالچ کے، بنا کسی مشروط محبت کے، انسان کے وجود کو پروان چڑھاتا ہے۔ وہ رشتہ ”ماں“ ہے۔ ماں کی آغوش وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے نے ہنسنا، رونا، بولنا، جینا سیکھا۔ مگر جب یہی آغوش مقتل بن جائے، جب محبت کے مقدس ترین نام پر دھبہ لگے، جب ممتا کا رشتہ اپنے ہی وجود سے نفرت کرنے لگے تو سمجھ لیجیے ہم صرف زمانے کے نہیں، زمانوں کے زوال میں داخل ہو چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں منڈی بہاؤالدین کے ایک گاؤں ”مراد وال“ میں ایک خبر نہیں، ایک نوحہ سامنے آیا۔ عید کا موقع تھا، خوشیاں تھیں، مہمانیاں تھیں۔ ایک آٹھ، نو سال کی بچی معصوم، نازک، چمکتے ہوئے آنکھوں والی اپنے کسی رشتے دار کے ہاں عید منانے آئی تھی۔ پھر وہ لاپتہ ہوئی۔ تلاش شروع ہوئی۔ گاؤں کی کھلی زمین، کھیت، گوٹھ سب چھان مارے گئے۔ پھر اچانک ایک چیخ سنائی دی۔ کسی نے قریبی کھیتوں میں ایک بچی کی کٹی پھٹی لاش دیکھ لی اور پھر وہ چیخیں پورے گاؤں میں گونجنے لگیں۔ مگر درد کی انتہا یہاں نہیں تھی۔ زخم کی شدت اس وقت کھلی جب ابتدائی تفتیش میں اسی بچی کی سگی ماں نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر قتل کا اقرارِ جرم کر لیا۔ وہ شخص اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور وہ معصوم بچی اس شادی کی راہ میں ”رکاوٹ“ تھی۔ یہ صرف جرم نہیں تھا، یہ محبت کے نام پر انسانیت کا ذبح تھا۔ یہ ممتا کے دامن پر وہ دھبہ تھا جسے صدیوں تک وقت بھی نہیں دھو سکے گا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب لفظ ”ماں“ بھی خود کو شرمندہ محسوس کرنے لگا۔

لیکن سوال یہ ہے کیا واقعی کوئی عورت، جو ماں ہو، ایسا کر سکتی ہے؟ کیا محض ایک مرد کی محبت میں، کوئی ماں، اپنی کوکھ سے جنمی بچی کا گلا گھونٹ سکتی ہے؟ کیا دنیا کی سب سے مضبوط فطری محبت، ماں اور اولاد کا تعلق اتنا کمزور، اتنا ارزاں ہو چکا ہے؟ ہمیں یہ ماننے میں تکلیف ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سماج کے بگڑے رشتے، جذباتی خلا، اخلاقی زوال اور بے مہار خواہشات بعض اوقات انسان کو حیوان سے بھی بدتر بنا دیتے ہیں۔ جب رشتوں کے تقدس کو بازار کی بولی لگتی ہے، جب محبت شہوت بن جائے، جب آزادی بے راہ روی بن جائے، جب مرد صرف جسم دیکھے اور عورت صرف تنہائی محسوس کرے تو پھر ایک ماں بھی قاتلہ بن سکتی ہے اور ایک معصوم کم سن بچی بھی قربان ہو سکتی ہے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ آج اگر ایک ماں اپنی بیٹی کو اس لیے مار دے کہ اس کی ”آزادی“ میں خلل تھا تو کیا کل ایک باپ اپنے بیٹے کو اس لیے مار دے گا کہ وہ اس کے خوابوں کے مطابق نہیں؟ کیا بہن اپنے بھائی کو مار دے گی؟ کیا ہم سب صرف خواہشوں کے غلام بن کر اپنے ہی رشتوں کو روندتے جائیں گے؟

اس اندوہناک واقعہ کے بعد کئی دوست پوچھ رہے ہیں کہ آخر ایسی کیا ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ایک ماں نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی قدم ہے۔ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں مگر ابتدائی بیان آیا ہے کہ ماں نے اعتراف کیا: ”میں شادی کرنا چاہتی تھی اور یہ بچی رکاوٹ تھی۔“

لیکن سوال یہ ہے کیا واقعی صرف شادی کے لیے کوئی ماں اپنی بچی کو مار دیتی ہے؟ یقیناً نہیں۔ معاملہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور سیاہ ہے۔ میرے محدود علم اور تجربہ کے مطابق ممکنہ محرکات درج ذیل ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے بچی نے ماں کو قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا ہو۔ یہ سب سے ممکنہ اور عام محرک ہے جو کئی ایسے کیسز میں دیکھا گیا۔ جب ایک کم عمر بچی اپنی ماں کو کسی اجنبی مرد کے ساتھ قابلِ اعتراض یا ناپسندیدہ حالت میں دیکھ لیتی ہے تو وہ لمحہ ماں کے لیے شرمندگی اور خوف کی ایک لہر لے آتا ہے۔ ماں کو ڈر لگتا ہے کہ بچی کسی کو بتا نہ دے، بدنامی نہ ہو، اس کا ”نیا“ رشتہ برباد نہ ہو جائے۔ یہ خوف، یہ شرمندگی کبھی کبھی انسان کو حیوان بھی بنا دیتی ہے۔

دوسرا یہ بھی ممکن ہے کہ جس مرد سے خاتون شادی کرنا چاہتی تھی اس نے صاف کہا ہو ”یہ بچی میرے ساتھ نہیں رہے گی، ورنہ بات ختم!“ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب عورت دو راستوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ یا تو ماں بن کر بیٹی کا ساتھ دے یا پھر عورت بن کر مرد کا سایہ تھام لے اور جب عورت ماں سے پہلے ”محبت کی مریضہ“ بن جائے، تو وہ ماں نہیں رہتی۔ وہ صرف ایک ”خود غرض وجود“ رہ جاتی ہے۔

تیسرا یہ بھی ممکن ہے کہ خاتون کسی نفسیاتی بیماری، مسلسل بلیک میلنگ، یا جذباتی غلامی میں مبتلا ہو جہاں آشنا نے اسے دھمکایا ہو ”یا تو بچی سے جان چھڑاؤ۔ یا ہم ختم!“ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ ممکن ہے بچی نے آشنا کو ماں کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا ہو۔ ایسے حالات میں، جب کوئی عورت خود کو بے سہارا، بدنامی کے خوف میں گھرا محسوس کرے تو وہ کسی اندھے کنویں میں چھلانگ لگا سکتی ہے اور ساتھ میں اپنی بیٹی کو بھی لے جاتی ہے۔

چوتھا یہ بھی ممکن ہے کہ بچی شاید خاموش نہیں رہی ہو۔ بچے اکثر معصوم ہوتے ہیں لیکن سچ بولنے میں بے باک بھی۔ ممکن ہے وہ بچی اپنی ماں کو ڈرانے لگی ہو:

”امی! میں نانا کو بتا دوں گی!“
”امی! مجھے وہ انکل پسند نہیں!“
”امی! یہ سب غلط ہے!“
ایسے جملے اگرچہ سچ ہوتے ہیں، مگر ماں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جب وہ سچ کو برداشت کرنے کے قابل نہ ہو۔

پانچویں بات یہ بھی ممکن ہے کہ بچی کی موجودگی، ماں کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی ہو۔ کچھ عورتیں اپنے ماضی کو چھپانا چاہتی ہیں اور بچی اس ماضی کا جیتا جاگتا ثبوت ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ماں چاہتی ہے کہ وہ نئی زندگی کا آغاز کرے، جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو، ایسے میں بچی صرف ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک ”ثبوتِ جرم“ بن جاتی ہے اور ثبوت کو دفن کرنا سب سے آسان راستہ سمجھا جاتا ہے۔

چھٹا یہ کہ معاشرتی تنہائی، احساسِ کمتری اور ”پیار کی بھوک“ ۔

ساتواں اور آخری محرک شاید سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہے ایک عورت، جو سالوں سے تنہا ہو، شاید ترک کی گئی ہو یا شوہر نے اسے چھوڑ دیا ہو، وہ سماج سے دور دل سے خالی صرف ایک بات چاہتی ہے ”کوئی اسے اپنائے“ ۔ اور جب ایک مرد کسی شرط پر اسے اپنانے کا وعدہ کرتا ہے تو وہ عورت، ”ماں“ کا کردار ترک کر دیتی ہے۔

اور نتیجہ، ایک کم سن بچی جو شاید روز ماں کو ”امی! امی!“ کہہ کر لپٹتی تھی، جو عید کے کپڑے پہننے کو بے تاب تھی، جسے شاید ابھی محبت، دھوکہ، فریب اور موت کا مطلب بھی نہ آتا تھا آج ایک قبر میں ہے۔

آخری بات یہ کہ اس بچی کا نام شاید کبھی نہ جانا جائے۔ اس کے خواب، اس کی گڑیائیں، اس کی عید کے کپڑے، سب مٹی میں دفن ہو گئے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ اگر ماں قاتلہ بننے لگے تو دنیا میں زندگی کا تصور ہی مر جاتا ہے۔

Facebook Comments HS