آپریشن سندور میں مودی کی ”سیاسی مانگ“ اجڑ چکی
عسکری محاذ پر کامیابی کے بعد پاکستان سفارتی محاذ پر جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی سفارتی وفد دنیا کے سامنے بھارتی جارحیت اور جھوٹ کو بے نقاب کر رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی بند کر کے پانی پر پہلی ایٹمی جنگ کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے دنیا کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں اگلی بار جنگ ہوئی تو ٹرمپ کے پاس مداخلت کر کے رکوانے کا وقت نہیں ہو گا۔ کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت کا موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن اب امریکی صدر بھی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر عالمی تنازع ہے۔ پانچ دن کی جنگ کا نتیجہ ہے کہ اب بھارتی بھی کہتے ہیں کہ کشمیر دوطرفہ تنازع ہے۔ دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا بھارت بلوچستان میں مداخلت کرتا ہے، کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتا ہے۔ اس سے قبل دورہ نیویارک کے دوران بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد نے امریکی کانگریس کے ارکان سے ملاقاتوں میں بھارت کے ساتھ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ بلاول کا کہنا تھا کہ خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ مودی اور نیتن یاہو کی پالیسیاں ہیں۔ مودی کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی ”سستی“ کاپی ہے۔
بلاول کی قیادت میں وفد نے اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کو بھر انداز میں پیش کیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی جڑ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے، پاکستان کے خلاف بلا اشتعال جارحیت، اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے جیسے اقدامات میں ہے، جو پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے لئے زندگی کی علامت ہے۔
دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سفارتی محاذ سنبھال رکھا ہے۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دو روزہ سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔ جہاں انہوں نے حالیہ پاک بھارت تنازع کو کم کرنے میں تعمیری کردار پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ چار ملکی دورہ کر چکے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ شملہ معاہدہ فارغ ہو گیا، کنٹرول لائن کو اب سیز فائر لائن سمجھا جائے، سیز فائر لائن اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی حیثیت پر بات کرنا ہو گی، ہم واپس 1948 والی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ جبکہ ذرائع وزارت خارجہ کے مطابق شملہ معاہدہ تاحال منسوخ نہیں کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کی بات دہرا دی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں بہت مضبوط لیڈرشپ ہے بھارت کو ایک طرف عسکری محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف سفارتی محاذ پر بھی رسوائی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی سفارتی وفد مودی کی خفت مٹانے کے بجائے موج مستیوں میں مصروف ہے۔ ششی تھرور کی قیادت میں بھارتی وفد گیانا، پاناما، کولمبیا اور برازیل میں ناکامی کے بعد واشنگٹن میں ہزیمت سمیٹ رہا ہے۔ جبکہ کا نگریس کے رہنما راہول گاندھی کی طرف سے مودی سرکار پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ راہول گاندھی مودی سرکار کو ٹرمپ کی طرف سے ”نریندر سرینڈر“ کا کہہ کر مذاق اڑا رہے ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے مسلسل سوالات پر مودی کی خاموشی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ آپریشن سندور میں مودی کی ”سیاسی مانگ“ اجڑ چکی ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیرہ کا کہنا ہے کہ سارے عوام مودی سے آپریشن سندور کی ناکامی پر سوال کر رہے ہیں، مگر کوئی جواب نہیں۔ بھارت کے سابق ہوم سیکرٹری گوپال پلئی نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کی لہر کے پیچھے مودی سرکار ہے۔
سیاسی طور پر کمزور مودی شرمندگی مٹانے کے لیے کبھی پاکستان پر دھمکیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ کبھی روڈ شو کرتے ہیں تو کبھی مسلم کارڈ کھیل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مودی سرکار کیا دوبارہ کوئی حماقت کر سکتی ہے؟ کیا خطے میں ابھی بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے؟ اور پاکستان کو سفارتی محاذ پر بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے اور کیا کیا کرنے کی ضرورت ہے؟


