فضہ علی کی سہیل وڑائچ کے متعلق ”لینگویج شیمنگ“


عید شو کے ایک پروگرام میں فضہ علی نے سہیل وڑائچ کے متعلق یہ کہنے کی جسارت کر ڈالی
” سہیل وڑائچ اگر صحافی نہ ہوتے تو واش روم صاف کرنے کی ملازمت کر رہے ہوتے“
آن لائٹر نوٹ سب نے اس جملے کو انجوائے کیا، حتی کہ سہیل وڑائچ بھی خاصی دیر تک مسکراتے رہے، جگاڑو یا ” کام چلاؤ“ سماج میں یہ سب چلتا ہے، یہاں بہت سارے لوگ حادثاتی طور پر برعکس کام کر رہے ہیں، ان کی مہارت تو کسی اور فیلڈ میں ہے لیکن شکم سیری یا سماجی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے با امر مجبوری ایسی فیلڈ جوائن کرنا پڑی جو ان کے مزاج یا اہلیت سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔

جامعات، سکول و کالج کے پروفیسر اور اساتذہ دیکھ لیں جس مضمون کی بنیاد پر بھرتی ہوتے ہیں اس مضمون کو پڑھانے کی بجائے اسلامیات پڑھاتے ہیں یا موٹیویشنل اسپیکر بن کر طلباء کو اخلاقیات سکھا رہے ہوتے ہیں۔

رہی بات سوشل میڈیا کے ٹرینڈز یا سٹنٹ کی، تو سیدھی یا سچی باتوں کی طرف کون متوجہ ہوتا ہے بھائی؟
پوسٹ ٹروتھ کے زمانے میں سچائی اور کھرا پن کہاں؟

چٹکلا بازی، سنسنی خیزی، میمز یا افواہ بازی آج کل کے سوشل میڈیائی نارمز کا حصہ بن چکی ہے، مقبولیت کے یہ حربے وہیں پنپتے ہیں جہاں سماجی ناہمواریاں عروج پر ہوں، انصاف اور میرٹ ناپید ہو چکا ہو، اس طرح کے سماج میں ہنر، ٹیلنٹ یا کاروباری ذرائع مکروہ ترین شکل میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

اب یہاں سہیل وڑائچ کی جگہ کوئی اور معمولی سا انسان یا سیاستدان ہوتا تو فضہ علی کا یہ جملہ شہ سرخی بن پاتا؟

یا اس جملے کو اس قدر میڈیا ہائپ ملتی؟

ممکن ہے دونوں کے مابین ایک میوچل سٹنٹ ہو، اندازہ کرنے کے لیے کہ لوگ اس جملے کے متعلق کیا ردعمل دیتے ہیں کون جانے؟

شو بزنس کی چکاچوند روشنیوں میں کچھ بھی بعید نہیں ہوتا، قطع نظر اس بات کے کہ فضہ کو اس قدر انسلٹنگ لہجے میں بات کرنی چاہیے تھی یا نہیں، ہر ایک کا اپنا ذوق، ظرف، شائستگی یا تہذیب ہوتی ہے، اگر کسی کو اس قسم کا لہجہ یا انداز پسند ہے تو اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی نا!

کسی کے متعلق کچھ بھی سن کر کوئی رائے قائم کرنا سننے والی کی صوابدید ہوتا ہے، ہمارا اس کی رائے سے اتفاق کرنا کوئی ضروری نہیں ہوتا، سمجھنے والی بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی بھی ایک معزز پروفیشن ہے، ہماری کھوکھلی انا یا چوزن ون کے زعم کی وجہ سے اس معتبر پروفیشن کو ہم نے مسلم اور نان مسلم کے بیچ بانٹ دیا ہے جو اپنی نوعیت میں ایک گھٹیا رویہ ہے۔

مہذب دنیا میں ہاتھ سے کام کرنے والے ہر پیشے کو معزز و مکرم سمجھا جاتا ہے، یہ لعنت تو ہمارے ہاں رواج پا چکی ہے کہ ہم ہاتھ سے کام کرنے والے مزدور کو کمی کمین کہتے ہیں اور انتہائی حقیر لہجے میں ہیئر ڈریسر کو ”نائی“ قصاب کو ”قصائی“ صفائی کرنے یا کوڑا کرکٹ اٹھانے والوں کو ”چوہڑا“ کہتے ہیں، المیہ دیکھیے کہ اس زعم میں بھی مبتلا ہو چکے ہیں کہ ہم ایک بلند اخلاق فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔

حالانکہ ہمارے ہی بھائی بندے خلیجی ممالک یا یورپی دنیا میں یہی کچھ کرتے ہیں لیکن یہاں آ کر وہ کسی کام کو ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتے اس سے بڑی منافقت بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟

گندگی ڈالنے والے تو معزز کہلائیں اور معززین کی گندگی کو ٹھکانے لگانے والے ”چوہڑے یا کمی کمین کہلائیں کیا ظلم ہے؟

فضہ علی کے جملے میں ”اگر“ ساری بات کا لب لباب ہے، ایک فرضی سی کیفیت کو ”لافٹر“ موڈ میں لے گئی، ہاں لہجے اور انداز پر تنقید ہو سکتی ہے لیکن صحافت اور کلیننگ دونوں ہی معزز پیشے ہیں، فرض کر لینے سے دونوں کی تکریم میں کوئی فرق محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

باقی جس طرح کے سماج میں ہم رہتے ہیں یہاں انسانوں کو محض انسان سمجھنے کا کوئی چلن نہیں ہے، ہماری لغت میں گوشت پوست کا یہ انسان یا تو فرشتہ ہو سکتا ہے یا شیطان، تیسری قسم کی تو کوئی گنجائش ہی ممکن نہیں ہے، ججمینٹل رویوں، محض گناہ و ثواب کی بنیاد پر یا لوگوں کے بیڈروم میں زبردستی گھسنے کے رجحانات کے ساتھ ہم اپنے عصر کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتے اور جو وقت کا ساتھ دینے کے قابل نہیں رہتا وقت کے بلیک ہول میں گم ہو جاتا ہے۔

عمران خان کی صورت میں جو مسیحا گھڑا گیا، اس کی شخصیت کے متعلق جو اساطیری کہانیاں تراشی گئیں ان کے اثرات سے نکلتے نکلتے نجانے کتنی دہائیاں لگ جائیں، کون جانے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں مسیحائی یا سنیارٹی کی علت سے باہر نکلنا چاہیے، کوئی بھی شخص دیوتا نہیں ہوتا، کسی کی رائے یا تصور حتمی نہیں ہوتی، کسی پر طنز یا تنقید کرنے سے کوئی تذلیل نہیں ہوتی اور نا ہی اسے دل پر لینا چاہیے۔

ڈمی میوزیم کیا چیز ہے؟ آفتاب اقبال نجانے کتنوں کی ڈمیاں بنا کر ٹھٹھے اڑایا کرتا تھا، کبھی کبھار خود پر بھی ہنس لینے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS