ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قتل: یہ 2025 ہے یا پتھر کا زمانہ؟


دنیا مریخ پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہے، مصنوعی ذہانت انسانی زندگی میں نئی آسانیاں پیدا کر رہی ہے، اور افریقہ جیسے خطے جہاں کبھی بھوک و جہالت کا راج تھا، آج وہاں انسانی حقوق، نفسیات اور سائنسی شعور کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ مگر افسوس! پاکستان جیسے ملک میں 2025 کے سال میں بھی ایک 17 سالہ لڑکی کو صرف ”نہ“ کہنے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا تعلق اسی ملک سے تھا۔ اسلام آباد میں اُسے اس لیے گولی مار کر قتل کر دیا گیا کیونکہ اُس نے ایک غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی پیشکش۔ ”گرل فرینڈ“ بننے سے انکار۔ کر دیا۔ قاتل کوئی اجنبی نہیں تھا، بلکہ ایک جاننے والا، جو ایک لڑکی کے انکار کو برداشت نہ کر سکا اور اپنی زہریلی مردانگی کے گھمنڈ میں اُس کی جان لے بیٹھا۔

یہ واقعہ پہلا نہیں۔ 4 جنوری 2018 کو قصور سے اغوا ہونے والی سات سالہ زینب انصاری کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں نور مقدم کو محض شادی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ چار سال کی بچیوں سے لے کر 80 سالہ خواتین تک اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ نہ گلی میں، نہ اسکول میں، نہ یونیورسٹی میں، نہ دفتر میں اور نہ ہی گھر کی چار دیواری میں۔

2024 میں پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے 32,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں جنسی زیادتی، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔ یہ وہ کیسز ہیں جو رپورٹ ہوئے ؛ ہزاروں ایسے ہیں جو سماجی دباؤ یا قانونی نظام کی خامیوں کی وجہ سے دبا دیے گئے۔ بدقسمتی سے ان میں سزا کی شرح نہایت کم ہے، اور بیشتر ملزمان بے خوف گھومتے رہتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی صورتحال افسوسناک ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2023 کے مطابق پاکستان 146 ممالک میں آخری نمبر پر ہے۔ یہ محض ایک درجہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی، تعلیمی، قانونی اور اخلاقی زوال کا مظہر ہے۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ اس انحطاط کی جڑیں ہمارے تعلیمی نظام میں پیوست ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں متعارف کروایا گیا نصاب نہ صرف شدت پسندی کو پروان چڑھاتا رہا، بلکہ عورت کو بطور مکمل انسان تسلیم کرنے کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا۔ اس نصاب میں انسان سازی، احترامِ نسواں، رواداری اور شعور کی کوئی تربیت نہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ثنا یوسف، نور مقدم یا زینب کیوں قتل ہوئیں ؛ سوال یہ ہے کہ کب ہم اجتماعی طور پر یہ تسلیم کریں گے کہ عورت کوئی ”ملکیت“ نہیں، انسان ہے؟ کب ہم مانیں گے کہ ”نہ“ کہنے کا حق صرف مرد کو نہیں بلکہ عورت کو بھی ہے؟ کب ہمارے تعلیمی ادارے انسان کو محض ڈگری یافتہ نہیں، بلکہ حساس، مہذب اور ذمہ دار شہری بنانے کی کوشش کریں گے؟

ثنا یوسف کا قتل صرف ایک لڑکی کا قتل نہیں ؛ یہ عورت کی خودمختاری، اُس کی آزادی اور اُس کے جینے کے حق پر حملہ ہے۔ یہ قتل ایک سوچ کا تسلسل ہے، جو عورت کو آج بھی صرف جنس، ملکیت یا مرد کی انا کی تسکین کا ذریعہ سمجھتی ہے۔

ہمیں ماننا ہو گا کہ صرف قانون سازی کافی نہیں، قانون کا نفاذ اور اجتماعی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ہمیں ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو طلبہ کو سکھائے کہ عورت کو دیکھنے کا زاویہ اس کے جسمانی خد و خال نہیں، بلکہ اُس کا وجود، شعور اور کردار ہونا چاہیے۔

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو 1980 کی دہائی سے پہلے کا پاکستانی سماج کہیں زیادہ متوازن، مہذب اور محفوظ تھا۔ محلے، سڑکیں، اسکول، بازار۔ سب جگہوں پر عورت، بزرگ، اور بچے محفوظ تھے۔ ادب، موسیقی، فنونِ لطیفہ کا ذوق عام تھا۔ قومی شعور بلند تھا۔ مگر ضیاء دور کے بعد شروع ہونے والا زوال آج تک جاری ہے، جسے اب روکنا لازم ہو چکا ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم ثنا، نور، زینب اور ہزاروں بے آواز لڑکیوں کے لیے آواز اٹھائیں، ان کے حق میں لکھیں، بولیں اور ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھیں جہاں کسی کی زندگی، کسی اور کی انا کے رحم و کرم پر نہ ہو۔

اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوں سے خواتین محفوظ نہیں، اگر مدرسوں میں بچے محفوظ نہیں، تو پھر تعلیمی نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہو گا۔ ہمیں وہ نظامِ تعلیم درکار ہے جو موجودہ دور کی سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور معاشی ضروریات کو پورا کرے۔ ورنہ ثنا یوسف جیسے سانحات ہمارے معمول بن جائیں گے، اور ہم ہر بار صرف ماتم ہی کر سکیں گے۔

Facebook Comments HS