کیا پاکستان چین کا اسرائیل ہے؟

اگر آپ سے کہا جائے کہ پاکستان چین کا اسرائیل ہے تو کیسا لگے گا؟ مجھے نہیں یقین کہ زیادہ لوگوں کو یہ بات پسند آئے گی۔ مگر یہ بات اپنے اشارے اور استعارے میں بہت گہری بات ہے جو چائنہ پاکستان تعلقات کی گہرائی اور گیرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ جملہ اینڈریو سمال کی کتاب چائنہ پاکستان ایکسز کا پہلا جملہ ہے۔ یہ جملہ چائنیز خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل شانگ وانگ کائے نے 1990 کی دہائی میں امریکی وفد کے سامنے بولا تھا۔ اس جملے کے تناظر میں پاک چین تعاون اور دوستی کے پس منظر میں امریکی وفد پر واضح کرنا تھا کہ پاکستان چائنہ کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ امریکہ کے لیے اسرائیل۔
بعد ازاں یہی جملہ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے امریکی کے خارجہ امور کی کونسل کے سامنے بات کرتے ہوئے بولا۔ انہوں نے یہ بات امریکہ اور دیگر قوتوں کو مختصراً باور کروانے کے لیے کہی کہ پاکستان چین کے لیے کتنا اہم ہے اور یہ کہ چین اس تعلق کو نبھانے کے لئے کس حد تک جا سکتا ہے۔ بعد ازاں اس جملے پر وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو پاکستان میں سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس جملے سے اغاز کرنے والی زیر مطالعہ کتاب ”اینڈریو سمال“ کی اس کتاب ”China Pakistan Axis“ میں ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری پاک چین دوستی کا انتہائی تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب کے مطابق اگرچہ شروع میں چین اور بھارت کے تعلقات بہت بہتر تھے جبکہ پاکستان خود کو کمزور سمجھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کھڑا تھا۔ ان دنوں ہندی چینی بھائی بھائی کا نعرہ ایسے ہی عام تھا جیسے پاک چین دوستی کا اج کل۔ ایسے میں پاکستان کی طرف سے کسی نے انڈیا کے ساتھ چائنہ کے خلاف فوجی اتحاد کی بھی بات کی جس کو بھارت نے مسترد کر دیا۔
پاکستان اور چین کے تعلقات میں گرمی 1960 کی دہائی میں آئی جب چین کی بھارت کے ساتھ پہلی جنگ ہوئی۔ اس جنگ کے بعد پاکستان اور چین کا رومان شروع ہوا جو تب سے لے کر اب تک کہیں بھی کمزور پڑتا دکھائی نہیں دیا۔ اگرچہ ہر جنگ کے موقع پر چین نے پاکستان کو سیاسی سفارتی اور معاشی مدد دی ہے لیکن خود کبھی بھی اپنے فوجی پاکستان کے ساتھ جنگ میں نہیں اتارے۔ چین نسبتاً امن پسند اور بزنس کرنے والی ریاست ہے لہذا وہ جنگ سے دور بھاگتی ہے اور جنگ رکوانے اور امن کو بحال کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تا ہم 1971 کی جنگ میں چین نے پاکستان کی خصوصی مدد نہیں کی لیکن پھر بھی سفارتی سطح پر بہت اہم کردار ادا کیا۔
ہر اس موقع پر جہاں اقوام متحدہ میں پاکستان کو ضرورت پڑی تو چین نے اس کا ساتھ دیا۔
روس کے ساتھ کولڈ وار کے دنوں میں پاکستان کی مدد سے چین اور امریکہ کے تعلقات کا آغاز ہوا جو بعد ازاں بہت مضبوط ہوئے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ کا افغانستان میں کردار بھی چین کے لیے اہمیت اختیار کر گیا۔ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے چینی اور امریکی مل کر کام کرتے رہے۔ اسی دوران چین نے پاکستان کو ایٹم بم بنانے میں بڑی مدد دی اور کہا جاتا ہے کہ 1990 میں پاکستان نے نہ صرف ایٹم بم بنا لیا تھا بلکہ چین کی مدد سے سنکیانگ صوبے میں ٹیسٹ بھی کر لیا تھا۔ یہ بعد ازاں 1998 میں انڈیا کے دھماکوں کے بعد باقاعدہ ٹیسٹ کر کے اعلان کیا گیا۔ چین بہت سے انرجی کے سول معاہدوں میں بھی پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے۔ کے تحت بھارت کو تو سول مقاصد کے لیے نیوکلیئر پلانٹ لگانے کی اجازت تھی لیکن پاکستان کو نہیں اس بات پر چائنہ نے پاکستان کو مکمل سپورٹ کیا اور اٹامک انرجی کے پروجیکٹ لگا کر دیے۔
دیگر مختلف جہتوں کے تعلقات کے ساتھ سب سے اہم تعلق مشترکہ دشمن بھارت کی وجہ سے ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ امریکہ ایشیا میں بھارت کو چین کے مقابلے میں عسکری اور معاشی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی کے جواب میں چائنہ پاکستان کو مضبوط بنا کر خطے میں اپنا علاقائی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ چین کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کے ذریعے سی پیک منصوبے کے تحت ایک تجارتی راہداری قائم کرے اور بحرہ ہند میں اپنی پوزیشن اور تجارت کو بڑھائے تاکہ وہ عرب ممالک اور یورپ تک رسائی حاصل کر سکے۔
یہ ایک طرح سے چائنا کی مجبوری بھی ہے کہ کسی بھی تلخی کی صورت میں مشرقی چینی سمندر اور جنوبی چینی سمندر میں امریکی حلیفوں کی مدد سے چین کی آمدورفت کو روکا جا سکتا ہے۔ اس سے چین کی معاشی اور تزویراتی حیثیت غیر موثر ہو سکتی ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر مغربی بارڈر پر تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کے ساتھ ایشیائی ریاستوں اور زمینی طور پر پاکستان سے سی پیک کے ذریعے جڑ جائے۔ گوادر پورٹ کے ذریعے بحیرہ عرب سے منسلک ہو کر نہ صرف امریکی اثرو رسوخ سے آزادی ہو گی بلکہ مڈل ایسٹ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن ہوگی۔ دفاعی امور کے لئے گوادر کو نیول بیس بھی بنایا جا سکے گا۔
پاکستان سے تعلق کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چین کے مغربی صوبے سنکیانگ انگ میں ایغور مسلمانوں کی شدت پسند تنظیموں کی طرف سے معاونت پر علیحدگی کا مطالبہ زور پکڑتا رہا ہے۔ چائنا بارڈر کے ساتھ نئی بننے والی مسلمان ریاستیں دہشت گردی کا گڑھ بنتی جا رہی ہے جس کے اثرات چین کے مغربی صوبے پر بھی پڑے ہیں۔ چینی اس ضمن میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتا ہے کیونکہ اس کے پوری دنیا میں موجود دہشت گرد جماعتوں میں ایسے سورسز موجود ہیں جہاں سے یہ چینی دہشت گردی کی فوجی اور غیر فوجی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چائنا کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ چین نے کبھی بھی امریکہ سے تعلقات پر پاکستان پر اعتراض نہیں کیا بلکہ امریکی اور مغربی اسلحہ خریدنے پر پاکستان کی طرف سے اس کی تمام دسترس چین کو دی جاتی ہے۔ اس دسترس کی وجہ سے کچھ ہی عرصے کے بعد مغربی اسلحہ چائنہ میں ریورس انجینیئرنگ کر کے پاکستان کو مہیا کر دیا جاتا ہے۔
اس ضمن میں بلوچستان میں گرنے والے دو امریکی کروز میزائل اور اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے گرے ہوئے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کی واپسی سے پہلے چینیوں کی رسائی ہے۔ اسی طرح افغانستان سے تمام روسی اسلحہ بھی چینیوں کو دیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی اسلحہ ساز انڈسٹری مغرب سے بہت بہتر اسلحہ بنا رہی ہے۔ اس ضمن میں رائٹر نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان کے میزائل پر صرف پاکستان کا نام لگایا جاتا تھا جبکہ اصل میں یہ چین کی طرف سے مہیا کیے جاتے رہے ہیں۔
آخر میں سی پیک ایک ایسا 60 بلین ڈالرز کا پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے جو پاکستان کی معاشی تزویراتی اور جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کر کے رکھ دے گا۔ اس صوبے میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں چینی بی ایل اے بی شامل ہے جو چینی انجینئرز کو مسلسل ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں چائنہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ اپنے 11 ہزار فوجی اپنے چینی عملے کی حفاظت کے لیے تعینات کرنا چاہتا ہے۔ اس آفر کو پاک فوج نے امریکی ردعمل کی وجہ سے رد کر دیا ہے۔ اس سیکیورٹی کے لیے پاکستان نے پہلے 10 ہزار سکیورٹی پرسن تعینات کیے تھے جو بعد میں 15 ہزار ہو گئے اور اس کو 30 ہزار تک بڑھانے کا منصوبہ بھی زیرغور ہے۔
پاک چائنہ تعلقات کی بابت سب سے اہم بات جو مصنف نے لکھی ہے وہ یہ کہ پاکستان اور چائنہ کے درمیان یا تو تحریری معاہدات ہیں ہی نہیں اور جو معاہدات ہیں وہ کبھی منظر عام پر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا سر توڑ کوششوں کے باوجود پاکستان اور چائنہ کے حقیقی تعلقات کی نوعیت نہیں جان سکی۔
البتہ اس کتاب سے جو میں نے نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان چائنہ کے ساتھ اپنی جغرافیائی سرحدوں کی وجہ سے ایک جڑواں بھائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسرا جس طرح امریکہ نے بھارت کو ایشیا میں اپنا حلیف بنا کر چین کے خلاف کھڑا کیا اسی طرح طاقت کے توازن کو برابر رکھنے کے لیے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان چائنہ کی مجبوری ہے۔ اس کے علاوہ یہ پاکستان ہی ہے جس کے ذریعے جو پورے ایشیا خلیجی ممالک اور یورپ کی منڈیوں تک اپنے مال کی سپلائی اور ایشیا میں اپنی مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔ کتاب بے حد دلچسپ بھی ہے اور خارجہ تعلقات کو سمجھنے والے طلباء کے لئے ایک بہترین ماخذ بھی۔ کتاب کے تحقیقی مقام کو سمجھنے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ ساڑھے تین سو کے قریب صفحات پر مشتمل کتاب میں صرف ریفرنس ہی 109 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔

