صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 44 : عہد و پیماں


” جو شخص اچھی بیوی پاتا ہے تو سمجھو اس کو اچھی چیز ملی۔ یہ خداوند کی طرف سے تحفہ ہے۔ “ امثال 18 : 22

پادری پال نے کئی ہفتے پہلے سے مریم کی شادی کے سلسلے میں انتظامات کرنے شروع کر دیے تھے۔ انکل شاہد اور آنٹی چاہتی تھیں کہ شادی کی رسومات سینٹ فلپس چرچ میں ہوں جو اُن کا فیملی چرچ تھا، مگر انہوں نے مریم کی خواہش کا احترام کیا، جسے پادری پال سے خصوصی لگاؤ تھا۔ یہ محبت یک طرفہ نہیں تھی کیوں کہ وہ اکثر سوچتے تھے کہ کاش ان کی ایک بیٹی ہوتی اور وہ مریم ہوتی۔ ایک جانب وہ مریم کے لیے خوش تھے مگر دوسری جانب وہ دانی ایل کے لیے رنجیدہ تھے۔

کبھی کبھار وہ گہرا سانس لے کر خود کلامی شروع کر دیتے، ”کاش، مریم نے دانی ایل کو چنا ہوتا!“ مگر پھر خود ہی سر کو جھٹک کر کہتے، ”اونہہ! میں کون ہوتا ہوں ایسی خواہش کرنے والا؟“ بہرحال ان کی تیاری زور و شور سے جاری تھی۔ انہوں نے سوچا کہ موسیقی کے بغیر شادی کی تقریب بڑی پھیکی رہے گی۔ دانی ایل کے جانے سے اُن کا گرانڈ پیانو خاموش ہو گیا تھا۔ آخر کار انہوں نے عبدالمنان صاحب کے متعلق سوچا جو کوئٹہ سے وہ پیانو لے کر آئے تھے اور اسے ٹیون کیا تھا۔

پادری پال کی اُن سے نہ صرف خط و کتابت رہتی تھی بلکہ اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔ چناں چہ انہوں نے خط لکھا کہ اگر اُن کی نظر میں کوئی اچھا پیانسٹ ہو تو دو چار روز کے لیے بھیج دیں۔ اُن کا جواب آیا کہ سب سے اچھے پیانسٹ تو وہ خود ہیں لہٰذا وہ خود ہی آ جائیں گے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ اسی بہانے اُنہیں ریورنڈ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع مل جائے گا۔

شادی کے روز مہمانوں کی آمد سے پہلے پادری پال نے ہال میں گھوم پھر کر اور نشستوں کے نیچے جھانک کر معائنہ کیا کہ کہیں کوئی کاغذ کا پُرزہ وغیرہ نہ پڑا ہو۔ عبدالمنان اپنے ساتھ چرچ کی موسیقی کی ایک موٹی سی کتاب لائے تھے جس میں سینکڑوں دھنیں تھیں۔ انہوں نے پیانو کے سامنے بیٹھ کر سولہویں صدی کی ایک پُر وقار مُناجات کی دھن چھیڑ دی، جو دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی صدا بن کر عبادت گاہ کو تقدس کا لباس پہنا دیتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرشتے محفل میں شامل ہو گئے ہوں۔

پادری پال نے ہال کے اندر کی روشنیوں کو مدھم کر دیا تاکہ کھڑکیوں سے آنے والی باہر کی روشنی کا اثر واضح ہو۔ جب چرچ کی اونچی اونچی کھڑکیوں میں جڑے رنگ برنگے شیشوں سے گزر کر باہر کی روشنی ہال میں آتی، تو سارے رنگ مِل کر چرچ کے فرش پر روشنیوں کا ایک قالین بچھا دیتے۔ ہر قدم پر ان رنگین شعاعوں سے چرچ کا ہر پتھر مسیح کے نور کو اپنے اندر جذب کر کے عبادت گزاروں کے سینے میں اُتار دیتا۔ چرچ کے وسط میں نصب ایک بڑی گول کھڑکی میں فیروزی رنگ کے شیشے لگے تھے، جو سورج کی تیز کرنوں کو مدہم سایوں میں بدل دیتے تھے اور دائیں جانب والی چھوٹی کھڑکیوں کے اوپر لگے عنابی شیشوں سے آنے والی گہری سرخ روشنی مسیح کے خون کا احساس دلاتی۔

بائیں جانب ایک چوکور کھڑکی تھی جس میں گہرے سبز شیشے پھول دار انگور کی شکل میں کاٹے گئے تھے اور وہ مسیح کو انگور کی بیل سے تشبیہ کی یاد دلاتے تھے جب اس نے کہا تھا کہ ”انگُور کا حقِیقی درخت مَیں ہُوں اور میرا باپ باغبان ہے۔“ مرکزی محراب کے اوپر ایک لمبی، پتلی کھڑکی میں سنہری زعفرانی رنگ کے شیشے جڑے تھے۔ سنہری روشنی مومن کے دل میں مسیح کی روشنی کی علامت ہے۔

ہال کی پشت پر پادری پال کے آفس کے علاوہ مزید دو کمرے تھے جن میں سے ایک دُلہا اور دوسرا دُلہن کی تیاری کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ بائیں جانب برآمدے میں انکل شاہد کی طرف سے شادی کے بعد ظہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

جب شادی کی رسومات شروع ہوئیں تو ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ پادری پال قربان گاہ کے آگے منبر پر آ گئے۔ ان سے کچھ فاصلے پر بائیں جانب ایک اور منبر نصب تھا جہاں مسز پنٹو تقریب کے دوران اعلانات کرنے کے لیے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ وہ تقریب کے دوران اعلانات کی نگران تھیں، ادھیڑ عمر کی باوقار خاتون تھیں جن کی آواز میں اعتماد اور تجربے کی آمیزش تھی۔ وہ گورنمنٹ گرلز کالج میں پروفیسر تھیں اور چرچ کی ہر تقریب میں منتظمہ کا کردار ادا کرتی تھیں۔ انہوں نے مائکروفون کے نزدیک آ کر اعلان کیا، ”برائے مہربانی تمام مہمان اپنی نشستیں سنبھال لیں، تقریب کا آغاز ہونے والا ہے۔ اگلی دو قطاریں دائیں جانب دلہا کے عزیزوں کے لیے اور بائیں جانب دلہن کے عزیزوں کے لیے مخصوص ہیں۔“

یہ سننا تھا کہ فضا میں سرسراہٹ سی دوڑ گئی۔ آہستہ آہستہ سب بیٹھنے لگے اور چرچ میں پھر خاموشی ہو گئی۔ گرانڈ پیانو کی لرزتی دھن فضا میں ابھری اور مسز پنٹو نے اعلان کیا کہ دلہا کے والدین تشریف لا رہے ہیں۔ عادل اور گلوریا باوقار انداز سے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے داخل ہوئے اور اگلی قطار میں دائیں جانب بیٹھ گئے۔ ان کے بعد دلہن کی والدہ اور بہن بھائیوں کی آمد کا اعلان ہوا اور آنٹی اپنے بچوں کے ساتھ داخل ہوئیں۔ ان کے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے بعد دروازہ کھلا اور دلہا مع اپنے معاون (Best Man) اور چار دوستوں کے، موسیقی کی دھن پر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دائیں جانب ایک قطار میں کھڑے ہو گئے۔

مسز پنٹو آگے بڑھ کر مائکروفون کے مزید نزدیک آئیں اور سرگوشی میں اگلا اعلان کیا ”اب دلہن کی سہیلیاں داخل ہو رہی ہیں۔“ دروازہ کھلا اور ایک ایک کر کے چھ برائیڈز میڈز داخل ہوئیں، جیسے کسی قرونِ وسطیٰ کی شاہی تقریب کا خاموش جلوس ہو۔ ان کے آسمانی نیلے گاؤن ہوا میں ہلکے سے لہرا رہے تھے اور ہر ایک کے ہاتھ میں سفید پھولوں کا گل دستہ اور ہونٹوں پر باوقار مسکراہٹ تھی۔ وہ قربان گاہ کی بائیں جانب قطار میں کھڑی ہو گئیں۔

مسز پنٹو نے مسکرا کر اگلا اعلان کیا، ”اب ایک ننھی سی گڑیا پھول بکھیرنے آ رہی ہے اور اس کے ساتھ ایک ننھا انگوٹھی بردار بھی ہے۔“ ساری نظریں دروازے پر جم گئیں۔ چھوٹی سی فلاور گرل سفید فراک میں ملبوس، سر پر پھولوں کا تاج، ہاتھ میں گلاب کی پتیوں سے بھری ٹوکری لیے مسکراتی ہوئی آہستہ آہستہ داخل ہوئی۔ وہ ہر قدم پر پھولوں کی پتیاں قالین پر بکھیرتی آ رہی تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی کی عمر کا ایک لڑکا سیاہ سوٹ اور بو ٹائی میں ملبوس، ہاتھ میں ایک سنہری پلیٹ لیے چل رہا تھا جس میں ایک مخملی ڈبّہ تھا۔ پھر چرچ میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ مسز پنٹو مائیک سے کچھ پیچھے ہٹیں اور ایک لمحہ توقف کرنے کے بعد اعلان کیا، ”تمام معزز مہمان کھڑے ہو جائیں کیوں کہ دلہن تشریف لا رہی ہیں۔“

تمام مہمان کھڑے ہو گئے۔ پیانو کی دھن بدلی اور موسیقی نے دلہن کی آمد کا اعلان کیا۔
Here comes the bride!

دروازہ کھلا، اور مریم سفید گاؤن میں ملبوس، چہرے پر جالی دار گھونگھٹ ڈالے، انکل شاہد کے ساتھ نمودار ہوئی۔ وہ چرچ کے وسطی راستے پر موسیقی کی دھن پر ، آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ہوئی آگے آئی۔ سفید لباس کے دامن پر سنہری کڑھائی چمک رہی تھی، اور گلابوں سے سجے گلدستے کو وہ دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے، قالین پر پھیلی گلاب کی پتیوں پر چلتی ہوئی قربان گاہ تک پہنچی تو انکل شاہد نے اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کر عارف کی طرف بڑھایا۔ عارف نے وہ ہاتھ تھاما۔ ایک لمحے کے لیے نگاہیں ملیں اور دونوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ مسز پنٹو نے اعلان کیا کہ تمام مہمان اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔

پادری پال نے کتاب مقدس کھولی اور بلند آواز سے کہا، ”پیارے عزیزو، ہم یہاں یوحنّا عارف اور مریم کو ازدواجی بندھن میں جوڑنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ محبت صبر کرنے والی ہے، مہربان ہے۔ محبت حسد نہیں کرتی، فخر نہیں کرتی، تکبر نہیں کرتی۔ محبت بے ادبی نہیں کرتی، اپنا بھلا نہیں چاہتی، خفا نہیں ہوتی، بدلہ نہیں لیتی۔ محبت نیکی کے ساتھ خوش ہوتی ہے ؛ ہر چیز برداشت کرتی ہے، ہر چیز پر یقین رکھتی ہے، ہر چیز کی امید رکھتی ہے، ہر چیز پر ثابت قدم رہتی ہے۔ یہ شادی محبت کا باغ ہے، یہاں خواہشوں کے کانٹے نہیں، صبر اور مہربانی کے پھول کھلتے ہیں۔ پس جو خدا نے ملایا ہے، اسے انسان جدا نہ کرے۔ یہ دستورِ آسمان ہے کہ جوڑی کو صرف خود خدا کے بندھن میں باندھا جائے، نہ کہ دنیاوی رکاوٹوں کی قید میں۔“

پھر انہوں نے بائبل بند کر کے دونوں کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھ کر پوچھا، ”کیا تم، یوحنّا عارف، مریم کو اپنی شریکِ حیات کے طور پر ، خدا اور اِس جماعت کے روبرو، قبول کرتے ہو؟“

”ہاں، میں قبول کرتا ہوں،“ عارف نے جواب دیا۔

”اور تم، مریم، کیا تم یوحنّا عارف کو اپنا شوہر مان کر یہ عہد کرتی ہو کہ خوشی، غم، صحت اور مرض میں اُس کے ساتھ وفادار رہو گی؟“ مریم نے گھونگھٹ کے پیچھے سے دھیرے سے مسکرا کر کہا، ”ہاں، میں قبول کرتی ہوں۔“

پادری پال نے انگوٹھیاں منگوائیں۔ مخملی ڈبے سے دو سنہری حلقے نکالے گئے۔ عارف نے مریم کے ہاتھ میں انگوٹھی پہناتے ہوئے کہا، ”میں یہ انگوٹھی تمہیں دیتا ہوں، اپنے عشق اور اٹل رفاقت کی علامت کے طور پر ۔“

پھر مریم نے عارف کے ہاتھ میں انگوٹھی پہناتے ہوئے کہا، ”میں یہ انگوٹھی تمہیں دیتی ہوں، اپنی محبت، احترام اور شریکِ حیات ہونے کے عہد کے طور پر ۔“

پادری پال نے دونوں کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر دعا کی، پھر بلند آواز سے کہا، ”خدا کے فضل اور گواہوں کی موجودگی میں، میں تمہیں شوہر اور بیوی قرار دیتا ہوں۔“ جیسے ہی انہوں نے یہ اعلان کیا، حاضرین نے ایک ساتھ زور دار تالیاں بجائیں۔ کچھ لوگ کھڑے ہو گئے، کچھ کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی، اور اس اعلان کے ساتھ ہی چرچ کے بلند میناروں میں لگی گھنٹیاں بجنے لگیں تاکہ ان کی گونج محلّے کے ہر گھر تک عارف اور مریم کے نکاح کی خوش خبری پہنچا دے۔

دلہن کی سہیلیاں اور دلہا کے دوست قطار بنا کر چرچ کے دروازے کی طرف بڑھے۔ ان کے پیچھے عارف اور مریم ہاتھوں میں ہاتھ لیے، قالین پر بکھری پتیوں کے بیچ سے گزرے اور برآمدے کی جانب چل دیے جہاں ظہرانے کا انتظام تھا۔ عادل، گلوریا، انکل شاہد اور آنٹی نے باری باری عارف اور مریم کو گلے لگایا اور دعائیں دیں۔

جب مہمانوں نے محبت سے بھرپور مبارک بادیاں دینا شروع کیں، تو پیانو سے ایک نئی دھن اٹھی، جس سے ایسی مہک کا احساس ہوا جیسے تازہ کھلے گلابوں کی خوشبو فضا میں گھُل گئی ہو، اور ہر سرگوشی، ہر مسکراہٹ، ایک مسرت بھرا جھونکا بن کر دلوں پر چھا گئی ہو۔ چند مہمانوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ابھر آئے، مگر ان میں اداسی کا کوئی رنگ نہیں تھا، بلکہ امید اور دعاؤں کا عکس تھا، جو پیانو کی دھن نے مزید گہرا کر دیا تھا۔

Facebook Comments HS