’’مْنّی‘‘ سے زیادہ بدنام ہمارے سیاستدان



خواجہ آصف صاحب کے ساتھ 1990 کی دہائی میں بے تکلف شناسائی کا آغاز ہوا تھا۔ بتدریج وہ ’’وزیر سے وزیرتر‘‘ ہوتے چلے گئے اور میں بدنصیب دو ٹکے کا قلم گھسیٹ ہی رہا۔ اب ان سے ٹیلی فون پر بھی گفتگو کا موقعہ نصیب نہیں ہوتا۔ عالمی میڈیا سے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں چند باتیں کہیں جو پاکستان کے وزیر دفاع سے ادا نہیں ہونا چاہیے تھیں۔ شناسائی کے سلسلے برقرار ہوتے تو نہایت خلوص سے انہیں ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ایسی باتوں سے اجتناب کا ازخود مشورہ دیتا۔ بدھ کی رات مگر ان سے منسوب ایک بیان منظر عام پر آیا ہے۔ اس کے ذریعے چیئرمین سینٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہوں میں تقریباََ 600فیصد اضافے کو انہوں نے ’’مالی فحاشی‘‘ قرار دیا۔ ان کے ادا کئے الفاظ نہایت تلخ ہیں۔ اس کے باوجود ان کی تائید کو مجبور ہوں۔

خواجہ صاحب کے بیان سے قبل میں ٹی وی شو میں کیمروں کے روبرو ہاتھ باندھ کر سردار ایاز صادق صاحب اور یوسف رضا گیلانی صاحب سے بدھ ہی کی شام یہ التجا کرنے کو مجبور ہوا کہ وہ وزیر خزانہ کی جانب سے منگل کے دن پیش ہوئے بجٹ کے ذریعے تنخواہوں میں اضافے کی تجویز کو رد کردیں۔ قومی اسمبلی سے اس کی منظوری کے باوجود یہ اعلان کردیں کہ وہ منظور ہوئی تنخواہ نہیں لیں گے۔

یہ فریاد کرنے سے قبل میں نے سوبار سوچا تھا۔ عمر تمام ملکی سیاست کے مشاہدے میں خرچ کرنے کی بدولت میں اس عمومی رائے سے اتفاق نہیں کرتا کہ سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت ’’نکمے مگر بدعنوان‘‘ عناصر پر مشتمل ہے۔ نہایت دیانتداری سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہماری اشرافیہ کے دیگر طبقات کے مقابلے میں سیاستدان ایک فلمی گانے والے ’’منی‘‘ کی طرح ضرورت سے زیادہ بدنام ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ ہر وقت عوام کی نگاہوں میں رہتے ہیں۔ سیاستدان منتخب ہونے کے بعد بھی ہر مالیاتی برس کے اختتام پر اپنے اثاثوں کی تفصیلات عوام کے روبرو رکھتا ہے۔ 1950کی دہائی سے سول اور عسکری قیادت کی جانب سے ریاستی فیصلہ سازی پر کامل اختیار حاصل کرلینے کے بعد سیاستدانوں کو ’’احتساب‘‘ کے بہانے اکثر ذلیل ورسوا بھی کیا جاتا ہے۔ ’’احتساب‘‘ کی بنیادی وجہ اگرچہ ان کی مبینہ کرپشن نہیں بلکہ کسی ایک جماعت سے وفاداری ہوتی ہے جو ’’احتسابی عمل‘‘ کی ڈور کھینچنے والوں کو ہماری تاریخ کے کسی موڑ پر پسند نہیں ہوتی۔ ’’ناپسندیدہ‘‘ تصور ہوئی جماعت سے احتسابی عمل میں جڑا سیاستدان علیحدگی کا اعلان کر دے تو اس کی مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔

حقائق سے قطع نظر ’’احتساب‘‘ کے نام پر گزشتہ کئی دہائیوں سے اچھالے گند نے سیاستدانوں کو اجتماعی طورپر ناجائز دولت کا حریص بناکر پیش کیا ہے۔ 2016 کے بعد سے ہماری سیاست ’’ہائی برڈ‘‘ بھی ہونا شروع ہو گئی۔ پیغام یہ گیا کہ ’’بدعنوان‘‘ ہونے کے علاوہ سیاستدان انتہائی نکمے بھی ہیں جو ریاستی امور چلانے کے نااہل ہیں۔ انہیں ریاست کے دائمی اداروں سے مسلسل ہدایت درکار ہے۔ 2024 کے انتخاب کے بعد سیاستدانوں کی ساکھ کو مزید دھچکا لگا۔ نام نہاد فارم 45 اور فارم 47 کے مابین فرق والی بحث چھڑگئی۔ موجودہ پارلیمان میں بیٹھے سیاستدان اس بحث کو مؤثر انداز میں فروعی ثابت نہیں کر پائے۔ اس کی وجہ سے عمومی طورپر یہ تاثر برقرار ہے کہ وہ ’’کسی اور کا مینڈیٹ‘‘ چراکر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

بے وقعتی اور ساکھ لٹ جانے کے اس موسم میں اورنگزیب صاحب نے منگل کی سہ پہر آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا ہے۔ اس کا سرسری مطالعہ یہ پیغام دیتا ہے کہ عوام کی زندگی اس بجٹ کے ذریعے مزید اجیرن بنادی جائے گی۔ ملکی تاریخ کا یہ پہلا بجٹ ہے جس میں مزدور کی کم از کم تنخواہ بھی مقرر نہیں ہوئی۔ وزیر خزانہ فرماتے ہیں کہ صنعت کار اس کی اجازت نہیں دیتے۔ افراطِ زر کے بوجھ سے دبے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بہت سوچ بچار کے بعد محض دس فی صد اضافے کا فیصلہ ہوا ہے۔

کم از کم اجرت طے نہ ہونے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض دس فی صد اضافے کے تناظر میں یہ تجویز ا خبار کے ہر قاری اور ٹی وی شوز کے ہر ناظر کو پریشان کر رہی ہے کہ چیئرمین سینٹ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی تنخواہوں میں یکمشت تقریباَ َ600 فی صد اضافہ کردیاجائے گا۔ یہ دونوں عہدے اس سے قبل ہر ماہ تقریباََ اڑھائی لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرتے تھے۔ نیا بجٹ منظور ہوجانے کے بعد وہ ہر ماہ ساڑھے 21لاکھ روپے کی خطیر رقم حاصل کرنے کے حق دار ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ سے جب اس سنسنی خیز اضافے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے انگریزی کی ایک اصطلاع استعمال کی۔ CGR (سی جی آر)۔ یہ غالباََ کمپائونڈ گروتھ ریٹ Compound Growth Rate کا مخفف ہے۔ سادہ زبان میں موصوف نے جواز یہ پیش کیا کہ چونکہ ہر برس چیئرمین سینٹ اور قومی اسمبلی کے سپیکر کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوتا رہا اس لئے نوبرس کے طویل وقفے کے بعد ہوا یکمشت اضافہ لوگوں کو غیر معقول محسوس ہو رہا ہے۔

وطن عزیز میں اگر پارلیمانی نظام حقیقی معنوں میں لاگو ہوتا تو میں پرجوش انداز میں اس اضافے کا دفاع کرتا۔ ’’ہائی برڈ‘‘ ہو جانے کے بعد مگر ہماری سیاست ’’ملاوٹی‘‘ ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی کہنے کو ریاست کا سب سے بااختیار اور خودمختار ادارہ ہے۔ بینکاری سے وزیر خزانہ کے منصب پر پہنچے ٹیکنوکریٹ- اورنگزیب- مگر جب منگل کے روز بجٹ تقریر کررہے تھے تو ان کی تقریر کا تحریری متن ’’خودمختار پارلیمان‘‘ کے اراکین کی میز پر پہنچنے میں بہت دیر لگی۔ اس طرح بجٹ کو جائز شمار کرتی دستاویزات کا پلندہ بھی ان کی میزوں تک بروقت نہیں پہنچایا گیا۔ بجٹ پیش کر دینے کے بعد اس کی وضاحت کے لئے ہوئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اراکین پارلیمان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے ’’انفورسمنٹ‘‘ کے نام پر ٹیکس وصول کرنے والی انتظامیہ کو مزید اختیارات کی بذریعہ قانون سازی منظوری نہ دی تو وہ 400سے 500ارب روپے کے مزید ٹیکس لگانے کو مجبورہوں گے۔ ٹیکنوکریٹ وزیر کے ہاتھوں ’’منتخب نمائندوں‘‘ کی اس نوعیت کی برسرعام بے قدری میں نے عمر تمام رپورٹنگ کی نذر کردینے کے باوجود کبھی نہیں دیکھی۔ یوسف رضا گیلانی اور سردار ایاز صادق کا فرض ہے کہ وہ سیاستدانوں کی عزت وساکھ بحال کروانے میں پہل کریں۔ تاریخ نے انہیں یہ فریضہ ادا کرنے کا سنہری موقعہ دیا ہے۔ اپنی تنخواہوں میں اضافے کو وصول کرنے سے انکار کردیں۔ تانکہ عوام تک یہ پیغام پہنچے کہ ہر سیاستدان دولت کی حرص میں مبتلا نہیں۔

(بشکریہ روزنامہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS