”نہ“ کا معنی انکار ہے تذلیل نہیں
ثنا یوسف کا پاکستان کے دارالحکومت میں قتل ایک حادثہ نہیں بلکہ سانحہ ہے یا اس سے بڑھ کر ایک المیہ ہے جو پورے سماج کی نظام اخلاق، اقدار، تربیت اور نظام عدل پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ المیہ کیونکر وقوع پذیر ہوا؟ اس کے پس پردہ کون سے محرکات ہیں؟ اس طرح کے سانحات کا کس طرح تدارک ممکن ہے؟ یہ اور اس طرح کے سوالات کا ایک طویل سلسلہ ہے۔
اب تک کی تفتیش کے مطابق یہ قتل اس لیے کیا گیا کہ مقتولہ نے ایک ”مرد“ کو نہ کہا، اس کی تعلق بنانے کی خواہش کو ردّ کر دیا۔ کیا یہ اتنا بڑا جرم تھا کہ جو کسی انسان کی جان لینے کے لیے کافی تھا؟ تعلق تو ہوتا ہی باہمی رضامندی سے ہے، کانسٹنٹ کی عدم موجودگی تو جبر ہے تعلق نہیں۔ نا جس کے معنی انکار کے ہیں، اسے تذلیل کے معنی کس نے دیے؟ یہاں صورتحال کا تجزیہ کریں تو مسئلہ ہمارے سماجی نظام میں دکھائی پڑتا ہے جہاں لڑکوں کو بچپن سے ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اعلی ہیں، برتر ہیں، فاتح ہیں، مالک ہیں، اور انکار ان کی نام نہاد مردانگی کو زیب نہیں۔
اس طرح کی تربیت معاشرے میں شدت پسندی سمیت کئی معاشرتی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ تربیت مردوں کی انا کو بہت توانا کر دیتی ہے وہ انا جس کو نہ سننا ہرگز برداشت نہیں۔ اس طرح کے مرد اساس معاشرے میں عورت کے انکار کو مرد کی توہین کے مترادف سمجھتا ہے، اور پھر اس توہین کا ”بدلہ“ لینے کو عین جذباتی، فطری اور اکثر اوقات جائز بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ظلم ہے بلکہ انسانیت اور انصاف کے ہر اصول کے منافی ہے۔
اس صورتحال میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ عورت کی آزادی یا خوشی کا نہیں، مرد کی انا کا ہے۔ ہمیں قانون سازی یا سخت سزاؤں کی نہیں، بلکہ تربیت، تعلیم اور تہذیبی شعور میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بیٹوں کو بچپن سے یہ سکھانا ہو گا کہ عورت کا وجود، لباس اور زندگی اس کا اپنا حق ہے، جیسا کہ ان سارے معاملات میں مرد آزاد ہیں ٹھیک عورت بھی بحیثیت انسان ویسے ہی آزاد ہے۔ ہمیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تعلیم و تربیت یکساں کرنی ہو گی۔ نیز ہمیں اپنے بیٹوں کو سکھانا ہو گا کہ کسی شخص کے ”نہ“ کہنے کا مطلب صرف انکار ہے، تذلیل نہیں۔ نہ کہنا دوسرے فریق کا حق ہے، اس پر غصہ، بدلہ یا تشدد کم ظرفی ہے، نہ کہ قابلِ فخر غیرت۔
اس المناک واقعے سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ رویے ہیں جو اس قتل کے بعد سامنے آئے۔ ان بے حس تبصروں میں اس طرح کی باتیں کی گئی ہیں کہ ”وہ ایسی ویڈیوز کیوں بناتی تھی؟“ ، ”ایسی لڑکیاں انجام کو پہنچتی ہیں“ ، ”لڑکوں کو بھی تو جذبات ہوتے ہیں۔“ ”ایسی لڑکیاں تو دعوت دیتی ہیں“ ، ”اس نے اسے انکار کیوں کیا؟“ ، ”صفائی مہم کا آغاز“ وغیرہ وغیرہ۔ یہ محض جملے نہیں، وکٹم بلیمنگ ہے جو سماج کی بیمار سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں جو قاتل کی بجائے مقتولہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔ ہمارے فیصل آباد کے نہایت عمدہ شاعر نصرت صدیقی کا کمال شعر ہے :
ایک ظلم کرتا ہے ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے
کیا یہ منافقت نہیں کہ جہاں ایک طرف یہی عوام سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو فالو کرتی ہے، وہیں دوسری طرف ان کی ہنسنے، گانے اور زندگی کو جینے والی ویڈیوز کو ”فحاشی“ قرار دے کر انھیں خاموش کروانا چاہتی ہے۔ لباس، سوشل میڈیا، آزادی یا انکار۔ کسی بھی بات کو قتل کا جواز بنایا جا سکتا ہے؟ میں نے اس سانحے کے بعد مقتولہ کی کچھ ویڈیوز دیکھی، ان میں کوئی فحش یا مخرب اخلاق مواد موجود نہیں۔ (اور اگر فحش مواد ہو بھی تب بھی یہ کسی کے قتل کا جواز بن سکتا ہے؟
اور ایسی باتیں اس سماج کے لوگ کر رہے ہیں جو پورن مواد دیکھنے میں سر فہرست ہیں ) خیر ثنا یوسف کی ویڈیوز میں تو ایک گڑیا سی لڑکی ہنستی، گاتی، کھیلتی اور زندگی کو خوشی سے جیتی ہوئی دکھائی دی، کیا لڑکیوں کو اپنی خوشی اور مرضی سے زندگی گزارنے کا کوئی اختیار نہیں؟ کیا عورت کا زندہ رہنا، مسکرانا، اپنی پسند سے کپڑے پہننا، ویڈیو بنانا یا انکار کرنا کسی مرد کی غیرت کے لیے اتنا بڑا چیلنج ہے کہ اس کا جواب صرف گولی، تشدد یا قتل ہی ہو؟
کچھ عرصے پہلے بھی ایک ایسا ہی تکلیف دہ سانحہ ہوا نور مقدم کا قتل۔ وہاں معاملہ اس سے مختلف تھا یہاں انکار تھا تو وہاں اقرار، لیکن دونوں کا انجام ایک ہی ہوا۔ ہمیں یہ سچ تسلیم کرنے میں مزید کتنی لاشیں درکار ہوں گی کہ مسئلہ لڑکی کی آزادی کا نہیں مسئلہ مرد کی منہ زور طاقت اور سماج میں اس کے مقام کا ہے۔ میری اس تحریر کا مقصد مردوں کی مخالفت ہرگز نہیں نا میں کسی ماتا راج (Matriarchy) کی خواہاں ہوں، حالانکہ اس خطے کی تاریخ میں ایسا راج موجود ہے۔ ہمیں کم از کم ایسے معاشرے کے قیام کا خواب تو دیکھنا چاہیے یا اس کے قیام کے لیے اپنی سی کوشش تو کرنا چاہیے جہاں تمام انسانوں کو بلاتفریق رنگ و جنس بنیادی انسانی حقوق یکساں میسر ہوں۔ جہاں کسی کا انکار اس خوبصورت زندگی کے خاتمے کا سبب نہ بنے۔


