احساس مت دلائیں


وہ ہلکی سی گھبراہٹ کے ساتھ اٹھا، حوصلہ جمع کیا اور ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوا اور خاموشی سے دروازہ بند کر دیا۔ دھیمے مگر بھاری قدموں کے ساتھ وہ مہمانوں کی طرف بڑھا جو اُس کا انتظار کر رہے تھے۔ جو پہلے ہلکی پھلکی گفتگو ہو رہی تھی، اچانک ایک گہری خاموشی میں بدل گئی۔ مہمانوں کی سوالیہ نظریں اور کمرے میں چھا گیا سنّاٹا، ماحول کو مزید گھٹن زدہ بنا رہا تھا۔

والد نے اسے دیکھا، صوفہ خالی کیا اور کہا، ”یہاں بیٹھ جاؤ۔“ اس نے آہستگی سے صوفے پر بیٹھنے میں کوئی دشواری محسوس نہ کی، کیونکہ وہ گھر کی چیزوں سے واقف تھا۔ ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ ایک مہمان، جو شکل سے بڑے معزز اور پرہیزگار لگ رہے تھے، بولے ”بیٹا، تھوڑا پاس آ جاؤ، آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔“ وہ خاموشی سے ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ پھر اس مہمان نے پہلا سوال کیا:

”آپ کو کتنا نظر آتا ہے؟“ یہ سوال اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ تھوڑی ناگواری سے اُس نے جواب دیا
”مجھے نظر نہیں آتا، صرف دن کی روشنی کا اندازہ ہوتا ہے، وہ بھی صرف دائیں آنکھ سے۔ بائیں آنکھ سے تو بالکل نہیں دکھائی دیتا۔“ اس کی آواز میں دکھ اور ناراضگی دونوں شامل تھے۔ مہمان نے افسوس کا اظہار کیا ”اوہو، بہت افسوس ہوا، اللہ رحم کرے۔“

وہ دل سے اُداس ہو گیا، خیالوں میں گم ہو گیا۔ پھر اس مہمان نے اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ ہلایا اور پوچھا ”یہ کتنی انگلیاں ہیں؟“

یہ عمل اس کے لیے نہایت ناپسندیدہ تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے، مگر اس نے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے صرف اتنا کہا ”نہیں، مجھے انگلیاں نظر نہیں آ رہیں۔“

پھر وہی افسوس بھری آواز، اور اس کے دل کو مزید گہرا زخم لگا۔ مگر مہمان کی تسلی یہیں نہ رکی، اس نے اپنا موبائل نکالا، ٹارچ آن کی اور قریب بیٹھے لڑکے کے سامنے روشنی کی اور پوچھا ”یہ روشنی نظر آ رہی ہے؟“ اب تو اس کے چہرے کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا۔ ماتھے پر شکنیں، آنکھوں میں غصہ اور چہرے پر نفرت کے آثار واضح تھے۔ اس کے والدین اور بھائی یہ سب دیکھ رہے تھے، مگر مہمان کی عزت کی وجہ سے خاموش بیٹھے رہے۔

جب دوبارہ اُس نے کہا ”نہیں، مجھے بالکل نظر نہیں آتا،“ تو مہمان نے پھر افسوس کا اظہار کیا ”بہت افسوس ہوا، اللہ رحم کرے۔“

لیکن یہ سوالات اور غیر ضروری رویہ اُس کے لیے ایک گہرا ذہنی صدمہ بن گیا۔ پچھلے پندرہ سال سے اُس نے اس احساس کو دفن کر رکھا تھا۔ اُس نے کبھی اپنے نابینا پن کو کمزوری نہیں سمجھا تھا۔ ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارتا رہا، لیکن آج یہ مہمان اُسے اچانک یاد دلا گیا ”تم تو دیکھ نہیں سکتے۔ تم تو ایک معذور ہو۔“ ہماری سوسائٹی کتنی عجیب ہے۔ انسان کی پریشانی، کمزوری یا مسئلے پر سوالات کر کے اُسے مزید دُکھ دیتی ہے۔ شاید وہ مہمان ہمدردی کے جذبے سے کہہ رہا تھا، لیکن اُن کی یہ ”ہمدردی“ اُس کے لیے زخم تھی۔

یہ صرف ایک نابینا شخص کی مثال ہے۔ اگر کسی کی شادی نہ ہوئی ہو، کسی کی طلاق ہو گئی ہو، کسی کو نوکری نہ مل رہی ہو، کسی کا کاروبار ناکام ہو گیا ہو، کوئی اپنے مالی حالات سے پریشان ہو، کوئی امتحان میں ناکام ہو گیا ہو، کوئی بیمار ہو، یا کوئی کسی بھی پریشانی میں مبتلا ہو۔ لوگ ہر وقت بس اِس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کسی کا دُکھ چھیڑیں، کب انہیں یاد دلائیں کہ وہ کسی مصیبت میں ہیں۔ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ کوئی شخص اپنی مصیبت کو بھول کر زندگی کو سمیٹ رہا ہوتا ہے، تو انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ اُس کا دُکھ پھر سے تازہ کریں۔ آخر میں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ہم انسانیت کے کس درجے پر کھڑے ہیں؟ کیا ہماری ہمدردی واقعی کسی کا دُکھ کم کرتی ہے یا اُسے مزید گہرا کرتی ہے؟ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی زخم ہوتا ہے۔ لیکن وہ ہر وقت، ہر کسی کو دکھاتا نہیں۔ ہر زخم کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کے سامنے کھولا جائے۔

ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے الفاظ اور رویے پر غور کریں۔ کسی کا مذاق اُڑانا یا اُس کے زخموں کو بار بار چھیڑنا صرف ہماری اخلاقی کمی کا ثبوت ہے۔ اصل ہمدردی وہ ہے جو عزت دے، خاموشی سے سمجھے، اور کسی کو اُس کا دُکھ یاد نہ دلائے۔ بلکہ اُس کا حوصلہ بڑھائے۔

ہماری سوچ کا امتحان اِس بات میں نہیں کہ ہم کسی کی کمزوری دیکھ کر افسوس کریں، بلکہ اِس میں ہے کہ ہم کسی کی تکلیف میں بھی اُسے ایک باعزت شخصیت کے طور پر قبول کریں۔

Facebook Comments HS