شہناز رحمت اللہ۔ بلبلِ بنگال


جنریشن ایکس کرہِ ارض پر پائی جانی وہ نسلِ انسانی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد پیدا ہوئی۔ پوری دنیا کے تناظر میں بات کی جائے تو یہ نسل شہری حقوق کی تحریکوں، انسان کے چاند پر قدم رکھنے اور ویتنام کی جنگ جیسے واقعات کی شاہد ہے۔ ہمارا تعلق بھی جنریشن ایکس سے ہی ہے۔ جو اپنے بچپن سے ہی مشہور شاعر اور ادیب جمیل الدین عالی کے لکھے ”سوہنی دھرتی اللہ رکھے“ ، اور ”جیوے جیوے پاکستان“ جیسے ولولہ انگیز ملی نغمے سن کر بڑی ہوئی۔ البتہ تب ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ لافانی نغمے گانی والی گلوکارہ شہناز بیگم ہیں۔ آج بھِی ان نغموں کو سن کر پورے جسم میں ایک عجیب سی برقی لہریں دوڑ جاتی ہیں یعنی انگ انگ میں بجلی سی بھر جاتی ہے۔

شہناز بیگم، جن کا پورا نام شہناز رحمت اللہ تھا، کا تعلق بنگال (ان کی پیدائش کے وقت مشرقی پاکستان) سے تھا۔ شہناز بیگم 2 جنوری 1952 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام فضلِ حق، اور والدہ کا نام آسیہ حق تھا۔ ان کا خاندان فنون لطیفہ سے وابستہ تھا۔ ان کے بھائیوں میں معروف اداکار ظفر اقبال اور موسیقار انور پرویز شامل تھے۔

Shahnaz begum Rahmatullah with her brother Zafar Iqbal
Shahnaz begum with her brother Zafar Iqbal

شہناز بیگم نے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں پھول محمد، استاد منیر حسین، الطاف محمود اور شہنشاہِ غزل جناب مہدی حسن جیسی نابغہِ روزگار ہستیاں شامل تھیں۔ انہوں نے صرف 11 سال کی عمر میں اپنے گلوکاری کے کیریئر کا آغاز کیا اور 1963 کی فلم نیا سُر میں بطور پلے بیک سنگر اپنا پہلا گانا گایا۔ اس کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے بھی گائیکی کا سلسلہ شروع کیا۔ اور ان کی آواز پورے پاکستان میں پھیل گئی۔

شہناز نے غزلوں اور فلمی نغموں کے ساتھ بڑی تعداد میں مقبولِ عام ملی نغمے بھی گائے۔ وہ بنگال (اس وقت مشرقی پاکستان) سے تعلق رکھنے والی پہلی گلوکارہ تھیں جنہوں نے فلمی گانوں کے ساتھ ساتھ ملی نغموں میں بھی اپنا نام پیدا کیا۔ جیوے جیوے پاکستان، سوہنی دھرتی، رات آئی تھی سو بیت گئی، موج بڑھے یا آندھی آئے، جیسے لازوال نغموں کو اپنی لازوال آواز میں گا کر ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ ان کے علاوہ دیا جلائے رکھنا، گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے۔ موج بڑھے یا آندھی آئے، اور وطن کی مٹی گواہ رہنا، جیسے ناقابلِ فراموش ملی نغموں نے انہیں پاکستان کے طول و عرض میں مشہور اور مقبول عام کر دیا۔

بنگلہ دیش بننے کے بعد ، انہوں نے خان عطا الرحمن کی فلم ”عبارتورا مانوش ہو“ میں ”ایک ندی خون پار کر کے“ جیسا مشہور گانا گایا۔ شہناز کو جو چیز باقی گلوکاروں اور گلوکارؤں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے وہ بہ یک وقت دو قوموں کی محبوب ملی نغمہ خواں بنیں۔ یہ بہت منفرد اعزاز ہے جو کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ ان کی آواز میں کچھ ایسی خاص بات تھی۔ مکمل سُر، واضح تلفظ، اور جذبوں سے بھرپور ادائیگی۔ کہ سادہ گانا بھی دل کو چھو جاتا، ناقابلِ فراموش بن جاتا۔ ان کی مدھر اور سریلی آواز سننے والوں کو ایک ایسے جہاں میں لے جاتی ہے جہاں سُر ہیں، نغمگی ہے، نرمی، اور لطافت ہے۔

شہناز بیگم نے ستر کی دہائی کے اوائل میں مشہور غزل ”کہاں ہو تم چلے آؤ“ گائی اور کیا خوب گائی۔ بہزاد لکھنوی کی شاعری اور کریم شہاب الدین کی ترتیب دی گئی موسیقی والی یہ غزل جب شہناز بیگم کے گلے سے سُر بن کے نکلی تو سننے والے اپنے سر دھنتے رہ گئے۔ یہ غزل ریڈیو پاکستان اور مختلف ٹی وی پروگراموں میں نشر ہوئی۔ یہاں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ نیرہ نور بھِی یہ غزل گا چکی ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ شہناز کے مقابلے میں ”وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی“ والا معاملہ ہی ہے۔ شہناز کی گائی اس غزل کو سنیں تو یوں لگتا ہے جیسے سننے والا آسمان میں بادلوں کے درمیان مکمل بے وزن ہو کر سلو موشن میں پرواز کر رہا ہو۔

شہناز بیگم کی ایک اور مشہور غزل ”کس کے لیے فضا کو سجاتی ہے چاندنی“ 1973 میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ غزل ان کے مشہور البم Classics of Shahnaz Begum میں شامل ہے، جو 2014 میں EMI پاکستان کے تحت دوبارہ ریلیز ہوئی۔ اس غزل کے شاعر رانا اکبر آبادی ہیں، جبکہ موسیقی سہیل رانا نے ترتیب دی۔ یہ غزل بھی ریڈیو پاکستان اردو پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہو کر مقبول ہوئی۔ اس غزل میں شہناز کی آواز اور ان کے سریلے گلے کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے۔

شہناز بیگم کی گایا ہوا ایک اور مشہور گیت ”ہم تم جہاں ملے تھے“ ہے جو انہوں نے نہایت دل گداز انداز میں گایا ہے۔ اس گیت کی گائیکی میں شہناز بیگم نے اپنی آواز کا جادو جگانے کے ساتھ ساتھ گیت کے اشعار میں موجود دُکھ، یادوں، اور درد کو گویا ایک خوب صورت لڑی میں پرو دیا۔ شہناز بیگم کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس اور گہرائی ہے جو ہر لفظ کو معنی دیتی ہے۔ جب وہ ”ہم تم جہاں ملے تھے“ گاتی ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ صرف ان اشعار کو ہی گا نہیں رہی، بلکہ اپنے دل کی گہرائیوں سے ایک ایک لفظ کو محسوس کر رہی ہیں۔

ان کی آواز میں ایک ایسا سحر ہے جو سننے والے کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ اس گیت کے ہر لفظ میں موجود غم اور خوشی کا تذکرہ سننے والے کو اپنی ہی زندگی کی کہانی بن کر محسوس ہوتا ہے۔ یہ فقط ایک گیت ہی نہیں ہے، بلکہ ایک عکاسی ہے انسانوں کے اندر کے اضطراب، محبت، اور علیحدگی کے جذبات کی۔ اس گیت میں شہناز بیگم نے اس خواب کو مجسم کیا ہے جو ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے، وہ خواب جو کسی ملاقات کا پیشِ منظر یا پسِ منظر ہوتے ہیں، وہ ملاقات، وہ لمحے، جو ہمیشہ کے لیے ایک میٹھی میٹھی یاد بن کر رہ جاتے ہیں۔ یہ گیت سن کر ایک ہی لمحے میں غم کی لہر، محبت کی گہرائی اور خوابوں کی معصومیت سب یکجا ہو جاتے ہیں۔ ان کی آواز میں وہ دھیما سا درد، محسوس ہوتا ہے جو نہ صرف دلوں کو چھوتا، بل کہ ان میں ایک نیا جہان آباد کر دیتا ہے۔

شہناز کی گایا ایک اور خوب صورت گیت ”تال سے ندیا گہری“ ہے، جسے ای ایم آئی نے 1982 میں ریلیز کیا تھا۔ دل کی گہرائیوں میں اُتر جانے والے اس گیت میں زندگی کے مختلف پہلوؤں، محبت کی شدت، اور داخلی پیچیدگیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اس گیت میں شاعر نے ایک خوبصورت تشبیہ دی ہے، جس میں تال کی موسیقی اور ندی کی گہرائی کا موازنہ کیا گیا ہے، یہ محض ایک رومانوی گیت ہی نہیں بلکہ انسان کی جذباتی گہرائیوں اور تعلقات کے پیچیدہ اُتار چڑھاؤ کا سریلی موسیقی کے آہنگ میں ایک شاعرانہ بیان ہے۔ شہناز بیگم کی آواز میں ایک خاص جاذبیت اور سادگی تھی۔ ان کی آواز کی نرمی اور میٹھاس اس گیت میں پوری شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ گیت سنتے وقت سامعین ان گہرے جذبات کی شدت بھرپور طریقے سے محسوس کر سکتے ہیں۔

شہناز بیگم کا ایک اور بے حد سریلا، اور دل میں گھر کردینے والا ”میں وہ کنول ہوں“ ایک ایسا علامتی گیت ہے جس میں شاعر نے خود کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی ہے۔ کنول، جو کیچڑ میں کھل کے بھی اپنی پاکیزگی اور خوبصورتی برقرار رکھتا ہے، شاعر بھی دنیا کی آلائشوں میں رہتے ہوئے بھی اپنی معصومیت اور سچائی کو برقرار رکھنے کی بات کرتا ہے۔ اپنے آپ کو ناقابلِ حصول کہتا ہے۔ یہ گیت شہناز بیگم کی گائیکی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جو سننے والوں کو خود شناسی، پاکیزگی، سچائی اور انفرادیت کی راہ پر گامزن ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ گیت ان کی فنی مہارت اور اپنے فن سے جذباتی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزے کی بات یہ کہ یہ گیت بنگال کی ساحرہ رونا لیلی نے بھی گایا تھا۔ اور خدا لگتی بات یہ ہے کہ رونا کی آواز میں اس گیت کو سننا کوئی بہت ہی الگ سا اور شدید روحانی مسرت پہنچاتا تجربہ ہے۔ شہناز نے بھی اچھا گایا مگر رونا کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔

”آ جا تو کہاں ہے“ بھی شہناز کا گایا ہوا ایک دل چھو لینے والا نغمہ ہے جو ان کے 2014 میں ریلیز ہونے والے البم TV Hits Vol 1 کا حصہ ہے۔ اس گیت کے شاعر صہبا اختر ہیں، جو اردو ادب کے معروف شاعر تھے۔ اس گیت نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہو کر مقبولیت حاصل کی۔ پسِ منظر میں دھیما ساز، سادہ کمپوزیشن اور شہناز بیگم کی آواز ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں، جیسے آواز اور موسیقی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں۔ ان کی آواز میں کوئی جھٹکا یا زور نہیں، بلکہ ایک مسلسل بہاؤ ہے، جو سامع کو جذبات کی ایک مدھم لہر میں بہا لے جاتا ہے۔

یوں تو پاکستانی فلم انڈسٹری میں تیز میوزک کی ابتدا کا سہرا احمد رشدی کے سر ہے جنہوں 1966 میں فلم ارمان کے لئے مسرور انور کا لکھا اور نثار بزمی کی موسیقی میں ترتیب دیا ہوا، پاکستان فلم انڈسٹری کا پہلا تیز گانا ”کوکو کورینا“ گایا۔ مگر شہناز بیگم نے بھی اس اولین دور میں چند تیز گانے گائے تھے۔ ان کا ایک گانا ”آؤ چلیں“ ہے جس میں اخلاق احمد، خالد سلیم، اور محمد افراہیم بھی شہناز کے ساتھ سپورٹ رول میں سٹیج پرفارم کرتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی اخلاق احمد ہیں جو بعد میں پاکستان فلم انڈسٹری کے نہایت مقبول گلوکار بنے۔ اس گانے میں شہناز کی آواز سن کر یوں لگتا ہے جیسے وہ صرف گا نہیں رہیں بلکہ سننے والے کا ہاتھ تھام کر کہہ کسی ایسی دنیا میں جانے کی دعوت دے رہی ہوں جہاں صرف محبت ہو، سکون ہو، اور خواب حقیقت بن جائیں۔

شہناز بیگم کا ایک اور قدرے تیز گانا مہکتا موسم آیا ہے جو شہناز نے پی ٹی وی کے لئے گایا تھا۔ انٹرنیٹ پر ڈھونڈنے کے باوجود اس گانے کا فل ورژن نہ مل سکا، ستر کی دہائی تک شہناز بیگم پاکستانی فلم انڈسٹری میں اپنی گلوکاری سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتی رہیں۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد 1973 میں انہوں نے بنگلہ دیش جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ادھر ہی مستقل رہائش پذیر ہو گئیں۔ اس کے بعد وہ پاکستان نہیں آ سکیں۔ ان کے دل میں پاکستان کے لئے بہت محبت اور عزت تھی مگر گزرتے وقت کے ساتھ انہیں پاکستان اور پاکستانیوں سے کافی گلے شکوے ہو گئے جن کا اظہار انہوں نے 1998 میں ہونے والی ایک کانفرنس میں کیا۔

کانفرنس کے دوران ایک پاکستان صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں کہا کہ اگرچہ پاکستان میں میری بطورِ گلوکارہ بہت پسند کیا جاتا تھا، ہر جگہ میری پذیرائی ہوتی تھی، میرے اعزاز میں تقریبات بھی سجتی تھیں، مگر اس کے ساتھ ہی بڑے دکھ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ بطورِ بنگالی، لوگ مجھ سے ذرا فاصلے پر ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ میری اور میری آواز کی تعریف فقط میرے منہ پر ہی کی جاتی تھی۔ جب کہ پیٹھ پیچھے تحقیر آمیز الفاظ میں مجھے بنگالی گلوکارہ کہا جاتا تھا۔ میرے لئے بنگالی ہونا باعث فخر ہے مگر لوگوں کے لہجہ میں ایسی بات ہوتی تھی گویا بنگالی کوئی بہت ہی نیچ اور پست قوم ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ اسلام آباد میں گھر بنانا اور شام کو وہاں کی کشادہ اور صاف سڑکوں پر سائیکلنگ کرنا چاہتی ہیں۔

اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران، شہناز بیگم کو کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی گلوکاری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان میں انہیں تمغہِ امتیاز دیا گیا۔ پی ٹی وی بھِی انہیں 2007 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔ جب کہ بنگلا دیش نے بھی شہناز بیگم کو 1992 میں ”ایکشے پدک“ اور 1990 میں بہترین خاتون پلے بیک سنگر کا بنگلہ دیش نیشنل فلم ایوارڈ دیا۔

سال 2010 میں شہناز کی زندگی نے ایک نیا موڑ لے کر آیا جب ان کا رجحان مذہب کی طرف ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا گھر فروخت کر کر کے حاصل شدہ رقم سب غریبوں میں بانٹ دی، اور ایک عمرے کی ادائیگی کے بعد نہ صرف گلوکاری تیاگ دی بل کہ شو بز کی ہر طرح کی سرگرمیوں سے لاتعلق سی ہو کر رہ گئیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی وضع قطع بھی بدل دی، اور سر سے پاؤں تک خود کو ڈھانپنا شروع کر دیا۔

شہناز کا انتقال سڑسٹھ برس کی عمر 23 مارچ 2019 کو ڈھاکہ میں دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوا۔ یوں پاکستانی ملی نغموں کی ملکہ، بنگال کی بلبل، جو پاکستان تو پہلے ہی چھوڑ چکی تھیں، یومِ پاکستان کے موقع یہ جہان بھِی چھوڑ گئیں۔ اور یوں اپنے خاندان اور مداحوں کو سوگوار کر گئیں۔ ان کی آواز، البتہ، آج بھی لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن کے زندہ ہے۔ گلزار کے اس گیت کی طرح

نام بھول جائے گا
چہرہ یہ بدل جائے گا
میری آواز ہی میری پہچان ہے

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari