پیش بین (اٹلی کی ایک ترجمہ کہانی)

افسانہ: لوئیجی پراندیلو
ترجمہ: جاوید بسام
نینو میندولا اپنے فارم سے واپس آ رہا تھا، جب گاڑی سڑک کے کنارے سان بیاجیو کے چھوٹے گرجے پر پہنچی تو اس نے پہاڑی پر واقع قبرستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ جان سکے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور قبرستان کے نگراں نوچو پمپینا کے بارے میں بلدیہ کو جو شکایات موصول ہوئی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے۔
نینو میندولا تقریباً ایک سال سے بلدیہ کا کونسلر تھا۔ اس نے جب سے یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ اس دن سے اس کی طبیعت خراب تھی۔ اسے چکر آنے لگے تھے۔ مگر وہ اسے تسلیم کرنا نہیں چاہتا تھا، اس کے لیے یہ امر سوہان روح تھا کہ کسی دن وہ مرگی کا شکار ہو جائے گا۔ وہ بیماری جس نے اس کے تمام آبا و اجداد کو قبل از وقت قبروں میں پہنچا دیا تھا۔ لہذا وہ ہمیشہ خراب موڈ میں نظر آتا، گاڑی سے منسلک اس کی چھوٹی گھوڑی اس بارے میں اچھی طرح جانتی تھی، مگر شہر سے باہر دیہی علاقے میں سارا دن وہ بہت اچھا محسوس کرتا اور اپنے اندرونی خوف پر قابو پا لیتا تھا۔ آخر اس نے فوری طور پر قبرستان کا معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا اس نے اپنے ساتھیوں سے وعدہ کر رکھا تھا، لیکن اتنے عرصے سے ٹال رہا تھا۔
میندولا نے پہاڑی پر چڑھتے ہوئے سوچا۔ ”صرف زندہ لوگ ہی نہیں مردہ بھی اس گندے ملک میں مصیبت کا باعث ہیں، لیکن وہ ہمیشہ سکون سے رہتے ہیں، جبکہ زندہ ایک زحمت ہیں، مرنے والوں کو کوئی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی دیکھ بھال کیسی کی جا رہی ہے، اچھی یا بری؟ میں اس سے انکار نہیں کروں گا کہ جب ہم مریں گے تو ہمارے ساتھ ناروا سلوک کیا جائے گا، ہمیں احمق اور شرابی پامپینا کی تحویل میں دے دیا جائے گا، یہ ناگوار ہو سکتا ہے۔ چلو اب دیکھتے ہیں۔“
قبرستان کا نگراں نوچو پامپینا، جس کا عرفی نام مقدس تحفہ تھا۔ ایک مثالی نگران تھا۔ مگر اس کا نظارہ قابل دید تھا، ایک لاروا جو سانس کھو چکا تھا۔ ہوا اسے اڑا کر لے جا سکتی تھی، اس کی آنکھیں بجھی ہوئی اور بے رنگ تھیں، آواز نہیں تھی، بلکہ مچھر کی چیخ تھی۔ وہ خود ایک مردہ لگ رہا تھا، جو اپنی جاگیر کی دیکھ بھال کے لیے قبر سے نکلا ہو کہ وہاں کیا صورتحال ہے؟ اگرچہ اس کے اردگرد پرسکون اور مہذب لوگ رہتے تھے۔
پتے، ہاں وہاں درختوں سے گرے ہوئے پتے تھے جو راستوں میں بکھرے ہوئے تھے اور کچھ بڑھی ہوئی جھاڑیاں جن کو تراشنے کی ضرورت تھی، اور شرارتی چڑیاں، جو اس بات سے بے خبر تھیں کہ قبروں کے کتبوں پر رموز اوقاف کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ انہیں پچی کاری کے انداز میں جا بجا سرمئی سکتوں اور فجائیہ نشانات سے بھر رہی تھیں۔ مگر یہ معمولی باتیں تھیں۔
مگر نوچو کی ڈیوڑھی میں داخل ہوتے ہی میندولا کی نظر دروازے کے دائیں جانب پڑی تو وہ حیران رہ گیا۔ ”یہ کیا ہے؟“ اس نے استفسار کیا۔
نوچو کے پیلے ہونٹ مسکراہٹ سے پھیل گئے۔ وہ بڑبڑایا: ”جناب عالی! یہ تابوت ہے۔“
وہ واقعی ایک خوبصورت تابوت تھا۔ چمکدار شاہ بلوط کی لکڑی سے بنا، گل میخوں اور سنہری گلٹ کاری کے ساتھ۔ وہ چھوٹے کمرے کے وسط میں رکھا تھا۔
”شکریہ، میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ یہ تابوت ہے۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ تم نے اسے یہاں کیوں رکھا ہے؟“ میندولا نے پوچھا۔
”یہ محترم کیولیئر پیکارون کا تابوت ہے۔
”پیکارون؟ کیا وہ ابھی تک مرا نہیں؟“
”نہیں، نہیں، حضور والا! خدا اسے لمبی عمر عطا فرمائے۔ آپ جانتے ہوں گے کہ پچھلے مہینے اس بے چارے کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا۔“ پامینیا نے کہا۔
”تو پھر؟“
”وہ اسے یہاں لایا، اِس عمر میں تابوت کے پیچھے پورا راستہ پیدل چلا۔ پھر اس نے مجھے بلایا اور کہا:“ سنو مقدس تحفے! میں اب زیادہ نہیں جیوں گا، زیادہ سے زیادہ ایک ماہ۔ ”“ کیا کہہ رہے ہیں؟ جناب عالی! ”میں نے کہا۔“ چپ کر کے سنو برخوردار اس تابوت کی قیمت بیس اونزا سے زیادہ ہے، تم دیکھ رہے ہو یہ بہت خوبصورت ہے، میں نے مرحومہ کی خاطر کہ وہ سکون سے رہے، پیسے کی پروا نہیں کی سمجھے، لیکن اب اسے اِس کی ضرورت نہیں ہے، اتنے خوبصورت تابوت کا زیر زمین کیا کام؟ اسے خراب کرنا گناہ ہو گا۔ ہم میت کو اندرونی زنک تابوت میں احتیاط سے دفن کر دیتے ہیں اور تم اسے میرے لیے محفوظ رکھو۔ مجھے خود اس کی ضرورت ہوگی۔ میں کچھ دنوں بعد رات کے اندھیرے میں اسے منگوا لوں گا۔ ”
میندولا مزید کچھ سننا اور دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ شہر واپس آنے اور یہ خبر پھیلانے کے لیے بے تاب ہو گیا کہ پیکارون نے اپنی بیوی کے تابوت کو اپنے لیے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
پیکارون ایک وکیل تھا جو بوربن دور میں آرڈر آف سینٹ جانوریئس کا نائٹ بن گیا تھا۔ وہ اپنے بخل اور چالاکی کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ وہ ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ اس کے بارے میں ایسی ایسی باتیں مشہور تھیں جنہیں سن کر حیرانی ہوتی تھی، لیکن یہ کہانی۔ میندولا نے خوش دلی سے بدقسمت چھوٹی گھوڑی کو چابک مارتے ہوئے سوچا، اس کہانی نے باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ خالص سچ تھا۔ واہ واہ اس نے تابوت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
میندولا کی گھوڑی طوفانی رفتار سے دوڑ رہی تھی اور گاڑی کھڑکھڑاتے ہوئے دھول کے بادل اڑا رہی تھی، لیکن میندولا نے اس پر دھیان نہیں دیا۔ وہ اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ جب وہ یہ خبر پامپینا کی سرگوشی نما آواز میں لوگوں کو سنائے گا تو وہ قہقہوں سے کیسے آسمان زمین ایک کر دیں گے؟ اچانک اس نے کان بہرا کر دینے والی پکاریں سنیں : ”رکو!“ رکو! ”کوئی سڑک کے کنارے واقع دولسما سکولو کی سرائے سے آوازیں دے رہا تھا۔
اس نے گردن گھما کر دیکھا اور گاڑی روک لی۔ وہ اس کے شکاری دوست بارتولو گیلو اور گیسپیئر فکارا تھے جو سرائے کے دروازے پر انگور کی بیلوں کے نیچے بیٹھے تھے۔ وہ یہ سمجھ کر چیخنے لگے تھے کہ میندولا کا گھوڑا بے قابو ہو گیا ہے۔
”تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میں صرف رفتار بڑھانا چاہتا تھا۔“ میندولا گاڑی سے اترتے ہوئے بولا۔
”اوہ، تم اس طریقے سے رفتار بڑھاتے ہو؟ کیا تمہارے پاس گھر میں ایک فالتو سر بھی رکھا ہے؟“ گیلو نے کہا۔
”دوستو! اگر تم کو معلوم ہوتا کہ میں اتنی جلدی میں کیوں ہوں تو تم یہ نہ کہتے۔“ میندولا نے کہا۔ وہ ہانپ رہا تھا، لیکن بہت اچھے موڈ میں تھا۔ اس نے دوستوں کو تابوت کی کہانی سنائی۔
دونوں نے پہلے تو یقین نہ کرنے کا بہانہ کیا، صرف حیرت کا اظہار کیا۔ آخر میندولا نے قسمیں کھائیں کہ اس نے تابوت اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ شکاریوں نے جواب میں پیکارون کے دوسرے کارناموں کے بارے میں بتانا شروع کر دیا، جو سب کو پہلے سے ہی معلوم تھے۔ میندولا پلٹ جانا چاہتا تھا، لیکن انہوں نے سرائے کے مالک دولسما سکولو کو گلاس لانے کا حکم دیا، وہ چاہتے تھے کہ میندولا ان کے ساتھ بیٹھ کر پیئے۔ تاہم کونسلر اس جگہ پر کھڑا رہا۔
سرائے والے نے کشتی کی شکل کی کھال کی ٹوپی پہن رکھی تھی جو کانوں کے نیچے تک آ رہی تھی اور قمیض کی آستینیں اوپر چڑھا رکھی تھیں جس سے اس کے بالوں بھرے بازو نظر آرہے تھے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا اور آہ بھرتے ہوئے بولا۔ ”معاف کیجئے گا میں نے آپ کی ہر بات سنی ہے۔ میرے پاس بھی ایک خبر ہے جس سے مجھے تکلیف بھی پہنچی ہے۔ آج صبح ہی کیولیئر پیکارون کا کتا یہاں نمودار ہوا، وہ بہت آوارہ جانور ہے، مالک کے گھر سے کینٹیلو تک آزادانہ گھومتا رہتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے آج میرے ساتھ کیا کیا؟ اس نے یہاں سے تقریباً بیس یا کچھ زیادہ، چٹنی والی ساسیج چرا لیں، تاکہ وہ ان کے ساتھ زہر لے سکے، خوش قسمتی سے میرے پاس اس بات کے دو گواہ موجود ہیں۔“
تینوں دوستوں کو ہنسی آ گئی۔ میندولا نے کہا: ”میرے عزیز! تم انہیں بھول جاؤ۔“
دولسما سکولو نے طیش سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ”نہیں، خدا کی قسم وہ مجھے ساسیجز کی قیمت ادا کرے گا۔ ہاں وہ ادا کرے گا۔“
تینوں نے قہقہے لگاتے ہوئے نفی میں سر ہلائے۔
”حضرات! مجھے ایک ترکیب آ گئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس پر کیسے عمل کرنا ہے۔“
پھر اس نے عادت کے مطابق چالاکی سے آنکھ جھپکائی اور اپنی پھیلی ہوئی شہادت کی انگلی سے دوسری پلک نیچے کی۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا طریقہ اختیار کرے گا، صرف اتنا کہا کہ وہ کسانوں کا منتظر ہے۔ جنہوں نے صبح کا واقعہ دیکھا تھا۔ وہ شام سے پہلے ان کے ساتھ پیکارون کے پاس جائے گا۔ میندولا بغیر پیے واپس لوٹ گیا۔ گیلو اور فیکارا نے بل ادا کیا اور سرائے کے مالک کو پیکارون کے پاس نہ جانے کا مشورہ دے کر گھر چلے گئے۔
بمبا کنگ کے زمانے کے وکیل اور آرڈر آف سان گینارو کے نائٹ کیولیئر پیکارون کو قصبے سے باہر نکلنے والے راستے پر ایک منزلہ ولا بنانے میں بیس سال کا عرصہ لگا تھا، کہا جاتا تھا کہ اس مکان پر اس کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا تھا۔ افواہ سازوں کا کہنا تھا کہ وہ راستے میں پائے جانے والے پتھروں سے بنا تھا جو پیکارون خود ایک ایک کر کے پیروں سے دھکیل کر وہاں لے آیا تھا۔
وہ ایک مشہور قانون دان، اعلیٰ ذہانت کا مالک اور ماہر فلسفی تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی گنوسٹک ازم اور عیسائی فلسفہ پر دو کتابیں جرمن زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں، مگر وہ بہت زیادہ دقیانوسی اور رجعت پسند بھی تھا۔ ایک پیکارون یا دوسرے لفظوں میں ہر نئی چیز کا بدترین دشمن۔ وہ اب بھی سن 1921 کے فیشن میں ملبوس نظر آتا۔ اس نے گھوڑے کی نعل جیسی مونچھیں رکھی ہوئی تھی؛ وہ منحنی سا آدمی تھا، ایک بے مروت انسان، اس کی پلکیں ہمیشہ جھکی رہتیں اور آنکھیں بند لگتی تھیں، وہ ہمیشہ اپنی ٹھوڑی کھجاتے اور ہانپتے ہوئے بڑبڑاتا تھا، جیسے اپنے اندرونی خیالات کی منظوری دے رہا ہو۔ ”آہ۔ اٹلی! انہوں نے اٹلی کے ساتھ کیا کیا۔ بہت پیارا، آہ۔ اٹلی۔ پل اور سڑکیں۔ سڑک کے قمقمے۔ فوج اور بحریہ۔ افف۔ لازمی تعلیم۔ لیکن اگر میں گدھا ہی رہنا چاہوں تو کیا ہو گا؟ کوئی راستہ نہیں۔ بس ٹیکس پیکارون ادا کرے۔ “
سچ پوچھیں تو اس نے بہت کم یا کچھ بھی ٹیکس نہیں دیا تھا۔ وہ بہت باریک نکات کے ذریعے انتہائی چالاکی سے کام لیتا اور کلکٹر تھکن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے۔ وہ ہمیشہ کہتا۔ ”ریلوے؟ اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟ میں کہیں نہیں جاتا۔ سڑک کے قمقمے؟ میں شام کو باہر نہیں نکلتا۔ میں کچھ نہیں مانگتا، شکریہ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ سانس لینے کے لیے بس تھوڑی سی ہوا، شاید آپ نے ہوا بھی بنائی ہے؟ کیا مجھے اس ہوا کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی؟ جس میں مِیں سانس لیتا ہوں۔“
وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا تھا۔ چند سال پہلے تک اس نے اپنے پیشے سے خوب کمائی کی تھی۔ اس کے پاس کافی بچت بھی ہوگی۔ مرنے کے بعد وہ انہیں کس کے لیے چھوڑے گا؟ اس کا کوئی قریبی یا دور کا رشتے دار نہیں تھا۔ ٹھیک ہے، وہ بینک نوٹ اپنے تابوت میں رکھ سکتا تھا، وہی خوبصورت تابوت جو اس نے اپنے لیے محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن گھر؟ اور کینٹیلو کے قریب زمینیں؟
دولسما سکولو دو کسانوں کے ساتھ جب پھاٹک پر پہنچا تو محافظ ترکو کتا باڑ پر غصے سے بھونکنے لگا، جیسے وہ سمجھ گیا ہو کہ سرائے والا اس کی شکایت کرنے آیا ہے۔ بوڑھے نوکر نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ پیکارون باغیچے میں موجود چھوٹے گرمائی گھر میں مطالعہ کر رہا تھا۔ آخر اس نے سیٹی بجا کر کتے کو بلایا اور پٹے سے پکڑا، پھر نوکر نے اسے زنجیر سے باندھ دیا۔ دولسما سکولو ایک معزز آدمی کی طرح اتوار کے لباس میں تھا۔ وہ اچھا لگ رہا تھا، اپنے تازہ منڈے ہوئے سرخ و سفید چہرے کے ساتھ معمول سے زیادہ خوشحال اور امیر دکھائی دے رہا تھا۔ علاوہ ازیں اس کے دائیں گال پر گھونگھریالے بالوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا مسّا تھا۔ جبکہ اس کے ساتھی غریب کسان دن بھر محنت کے بعد تھکن زدہ اور میلے لباس میں نظر آرہے تھے۔
وہ گرمائی گھر میں داخل ہوئے۔ سرائے کا مالک بے تکلفی سے بولا: ”واہ! کیا خوبصورت اور طاقتور کتا ہے۔ عمدہ چوکیدار، یہ بہت قیمتی ہے۔“
پیکارون نے تعریف کے جواب میں سر ہلایا اور آنکھیں کھول کر کچھ بڑبڑایا، پھر پوچھا۔ ”تم کیا چاہتے ہو؟ بیٹھو۔“
اور دیوار کے ساتھ رکھے لوہے کے اسٹولوں کی طرف اشارہ کیا۔ دولسما سکولو نے ان میں سے ایک کو آگے میز کے قریب کیا اور دونوں کسانوں سے کہا: ”تم وہاں بیٹھو۔“
پھر اس نے پیکارون کا رخ کرتے ہوئے مزید کہا: ”جناب عالی! میں قانون کے ماہر کے طور پر آپ سے کچھ مشورہ لینے آیا ہوں۔“
پیکارون نے آنکھیں کھولیں اور بولا۔ ”مشورہ؟ لیکن میرے عزیز میں کافی عرصے سے قانون کی پریکٹس نہیں کر رہا۔“
”میں جانتا ہوں۔“ دولسما سکولو نے جلدی سے اتفاق کیا۔ ”لیکن حضور والا! آپ ایک ماہر قانون دان رہے ہیں اور میرے والد، خدا ان پر رحمت کرے، ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ بیٹا تجربے کار لوگوں کی پیروی کرو۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس شعبے کے ماہر ہیں۔ مجھے آج کے نوجوان وکلاء پر اعتماد نہیں ہے۔ میں کسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا نہیں چاہتا۔ یاد رکھیں! میں پاگل نہیں ہوں۔ میں یہاں فقط مشورے کے لیے آیا ہوں، جو صرف آپ مجھے دے سکتے ہیں۔“
پیکارون نے آنکھیں بند کر لیں اور بڑبڑایا۔ ”بولیں، میں سن رہا ہوں۔“
”حضور والا! آپ جانتے ہیں۔ “ دولسما سکولو نے بولنا شروع کیا۔
لیکن پیکارون نے گردن جھٹکی اور نتھنے پھلا بولا: ”افف، میں جانتا ہوں، تم جانتے ہو، وہ جانتا ہے۔ میرے عزیز مدعّا بیان کرو۔“
دولسما سکولو تھوڑا سا جھجکا، پھر مسکرا کر دوبارہ بات شروع کی: ”جی حضور والا! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ محترم جانتے ہیں کہ میں سڑک کے کنارے ایک سرائے چلاتا ہوں۔ “
”ہاں، شکاریوں کی آرام گاہ، میں وہاں سے کئی بار گزرا ہوں۔ جب ہم اپنی زمینوں کی طرف جاتے ہیں تو وہ راستے میں آتی ہے۔“
”جی، اور آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ وہاں انگور کے سائبان کے نیچے کاؤنٹر پر میں ہمیشہ کچھ کھانے پینے کی چیزیں سجائے رکھتا ہوں۔ روٹی، پھل یا مختلف قسم کی ساسیجز۔“
پیکارون نے اثبات میں سر ہلایا، پھر پراسرار انداز میں بولا۔ ”میں نے دیکھا اور کبھی کبھی سنا بھی ہے۔“
”کیا آپ نے سنا بھی ہے؟“
”ہاں برخوردار! سرائے کے آگے سڑک پر ہر وقت دھول اڑتی رہتی ہے جو آپ کی ساسجیز پر بھی گرتی ہے جس سے کھانے والے کے دانت کڑکڑاتے ہیں۔ خیر کام کی بات کریں۔“
دولسما سکولو نے خفت سے تھوک نگلا اور بولا۔ ”جناب عالی آج میں نے سور کے گوشت اور چٹنی والے کچھ ساسیجز معمول کے مطابق کاؤنٹر پر سجائے۔ اوہ۔ میں پھر پٹری سے اتر رہا ہوں۔ یہ میری عادت ہے۔ جناب شاید آپ کو معلوم نہ ہو، لیکن ان دنوں کچھ بٹیر شکار گاہ میں آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے سڑک پر شکاریوں اور کتوں کی ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔ میں مدعے پر آ رہا ہوں، پھر جناب ایک کتا، ایک شریف آدمی کا کتا اچانک نمودار ہوا، کاؤنٹر کے قریب پہنچا، چھلانگ لگا کر ساسیج منہ میں دبائے اور یہ جا اور وہ جا۔“
” کتا؟“
”جی جناب عالی! میں اس کے پیچھے بھاگا اور میرے پیچھے یہ دو محنت کش بھی بھاگے۔ یہ اپنے کھیت میں جاتے ہوئے کچھ خریدنے کے لیے سرائے پر رک گئے تھے۔ چنانچہ، ہم تینوں کتے کے پیچھے بھاگے، لیکن ہم اسے نہیں پکڑ سکے۔ اگر پکڑ بھی لیتے تو جناب ان ساسیجز کا کیا کرتے؟ وہ کتے کے دانتوں کے نشانوں اور خاک میں لتھڑے ہوئے تھے، لیکن جناب میں نے کتے کو پہچان لیا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کس کا کتا ہے۔“
”ھھم۔ ایک منٹ ٹھہرو۔“ پیکارون نے اسے ٹوکا۔
”کیا مالک اس کے ساتھ نہیں تھا؟“
”نہیں، حضور والا۔“ دولسما سکولو نے جلدی سے جواب دیا۔ ”وہ شکاریوں میں شامل نہیں تھا، واضح رہے کہ کتا گھر سے بھاگ گیا تھا۔ جب شکار چل رہا ہو تو کتوں کی قوت شامہ بڑھ جاتی ہے۔ وہ بے چینی سے زنجیر توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جوں ہی موقع ملتا ہے بھاگ جاتے ہیں۔ اچھا جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اور میرے یہ دوست چوری کے گواہ، یہ جانتے ہیں کہ وہ کتا کس کا ہے، تو جناب عالی بحیثیت وکیل، کیا آپ مجھے یہ بتا سکتے ہیں کہ کتے کا مالک مجھے اس نقصان کی تلافی کا پابند ہے یا نہیں؟“
پیکارون نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا: ”بالکل برخوردار! وہ پابند ہے۔“
دولسما سکولو خوشی سے اچھل پڑا، لیکن فوراً خود پر قابو پاتے ہوئے۔ وہ دونوں کسانوں کی طرف متوجہ ہوا: ”کیا تم نے سنا؟ وکیل صاحب کا کہنا ہے کہ کتے کا مالک مجھے نقصان کی تلافی کا ذمہ دار ہے۔“
”یقیناً میں کہتا ہوں۔“ پیکارون نے تصدیق کی۔ ”کیا یہ اس بات سے انکاری ہیں؟“
”نہیں، جناب عالی!“ دولسما سکولو نے خوشی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا۔ ”لیکن آپ مجھے معاف کر دیجیے گا، حضور والا! کہ میں ایک غریب جاہل یہ بات آپ کو گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ کو ساسیجز کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ کیوں کہ وہ آپ کا ترکو کتا تھا۔“
پیکارون نے حیرت سے ڈولسما سکولو کو دیکھا، پھر نظریں نیچی کر کے سامنے میز پر پڑی کتاب پڑھنے لگا۔ کسانوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ دولسما سکولو نے انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پیکارون ابھی تک پڑھنے کا بہانہ کر رہا تھا۔ پھر وہ اپنی ٹھوڑی کھجاتا اور کراہتا ہوا بولا: ”اچھا تو وہ میرا ترکو تھا؟“
”جی جناب! میں قسم کھا سکتا ہوں۔“ دولسما سکولو اچھل کر کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے بولا۔
”اور آپ یہاں دو گواہوں کے ساتھ آ گئے۔“ پیکارون نے آہ بھر کر اداسی سے کہا۔
”نہیں، جناب عالی! گواہی صرف اس صورت میں جب آپ مجھ پر یقین نہ کریں۔“ دولسما سکولو نے جلدی سے کہا۔
”اوہ اس لیے؟ پیکارون بڑبڑایا۔“ لیکن میں آپ پر یقین کرتا ہوں، میرے عزیز بیٹھو۔ آپ ایک سادہ لوح آدمی ہیں۔ میں آپ پر یقین کرتا ہوں۔ میں ادائیگی کروں گا۔ اگرچہ میری شہرت ایک ایسے آدمی کی طور پر ہے جس سے آپ ایک لیرا بھی نہیں لے سکتے، سمجھے؟ ”
”جناب عالی! ایسا کون کہتا ہے؟“
”سب کہتے ہیں اور اس پر یقین رکھتے ہیں، اچھا دو۔ افف۔ دو گواہ۔“
”انصاف کی خاطر، ہم دونوں کے لیے۔“
”بہت خوب! قانون سب کے لیے برابر ہے۔ آپ نے اچھی بات کہی۔ میں ٹیکس نہیں دیتا، میرے عزیز، کیونکہ وہ اکثر غیر منصفانہ ہوتے ہیں، لیکن میں بل ادا کرتا ہوں۔ میرے ترکو نے ساسیج چرا لیے، بتائیں میں آپ کا کتنا دین دار ہوں۔“
دولسما سکولو جو اپنے تئیں پورے یقین کے ساتھ یہاں آیا تھا کہ اسے اپنا حق منوانے کے لیے بوڑھے چالاک مینڈک کی چالوں اور ہیلوں کے خلاف طویل جدوجہد کرنی پڑے گی۔ وہ اس طرح وکیل کا سر تسلیم خم ہوتے دیکھ کر شرمندہ ہو گیا۔
”بس جناب، ایک بنڈل میں تقریباً بیس ساسیجز تھے، شاید کچھ زیادہ یا کم۔ ویسے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“ اس نے کہا۔
”نہیں، نہیں۔ برخوردار مجھے بتائیں کہ میں آپ کا کتنا دین دار ہوں، میں ادائیگی کرنا چاہتا ہوں۔ جلدی کریں۔ آپ کام کرتے ہیں، آپ کو نقصان پہنچا ہے، آپ معاوضے کے حقدار ہیں۔“ پیکارون نے اصرار کیا۔
دولسما سکولو ہلکے سا کندھے اچکا کر مسکرایا اور بولا: ”ایک بنڈل میں بیس ٹکڑے۔ یہ موٹا۔ تقریباً دو کلو گرام کا، لاگت ایک لیرا۔“
”کیا آپ اتنے کم نرخ پر بیچتے ہیں؟“ پکارون نے استفسار کیا۔
”جناب عالی! دراصل یہ ساسجیز آپ نے نہیں کھائے، میں بس ان کی لاگت مانگ رہا ہوں، یعنی اسے بنانے پر جو خرچہ ہوا۔“
”نہیں نہیں۔ “ پیکارون نے اس کی بات سے اتفاق نہیں کیا۔ ”اگر میں نے نہیں کھائے، لیکن میرے کتے نے تو کھائے ہیں، ایک کلو گرام کے دو لیرے۔ کیا یہی نرخ ہے؟“
”یقیناً۔“
”مجموعی طور پر چار لیرے۔ خوب برخوردار۔ اچھا۔ پچیس نفی چار کیا ہوئے؟ اگر میں غلط نہیں ہوں تو اکیس۔ خوب چلیں آپ مجھے اکیس لیرے دیں اور بات کو یہیں ختم کرتے ہیں۔“
سرائے کے مالک کو خیال آیا کہ اس نے غلط سنا ہے۔ ”آپ نے کیا کہا؟“
”برخوردار اکیس لیرے۔“ پیکارون نے اطمینان سے دہرایا۔ ”یہاں دو گواہ ہیں۔ جنہوں نے پوری روداد سنی ہے۔ انصاف ہم دونوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ آپ میرے پاس مشورہ لینے آئے۔ میں مشورے یعنی قانونی مشاورت کے لیے پچیس لیرے چارج کرتا ہوں۔ یہ ریٹ ہے۔ میں ساسیجز کے چار لیرے کا مقروض ہوں۔ آپ مجھے اکیس لیرے ادا کریں اور معاملہ ختم کریں۔“
دولسما سکولو نے حیرت سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ روئے یا ہنسے۔ وہ یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وکیل سنجیدہ ہے، لیکن یہ بھی نہیں لگتا تھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔
”میں۔ یا آپ؟“ سرائے والے نے ہکلا کر پوچھا۔
”برخوردار آپ۔“ پیکارون نے وضاحت کی۔ ”آپ ایک سرائے چلا رہے ہیں۔ میں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے وکیل کا پیشہ اختیار کیا ہے۔ لہٰذا اگر میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ آپ کو معاوضہ لینے کا حق ہے، تو آپ بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتے۔ آپ نے جو مشاورت مجھ سے لی ہے۔ اس سے آپ جان گئے ہیں کہ اگر کسی کا کتا آپ کی ساسجیز چرا لے تو کتے کا مالک آپ کے نقصان کی تلافی کا پابند ہے۔ کیا آپ کو پہلے یہ بات معلوم تھی؟ نہیں، میرے عزیز، علم قیمت ادا کر کے ملتا ہے۔ میں نے اسے حاصل کرنے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں؟“
”جناب عالی۔ میں ساسیجز کے لیے آپ کا قرض معاف کرتا ہوں۔ میں ایک غریب جاہل ہوں۔ مجھے معاف کر دیں۔ یہاں ہم اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہیں۔“ دولسما سکولو نے آنکھوں میں نمی لیے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
”ارے نہیں، میرے عزیز۔ میں آپ کا نقصان پورا کر رہا ہوں۔ حق، حق ہے، جتنا آپ کے لیے اتنا میرے لیے۔ میں ادائیگی کر رہا ہوں۔ آپ بھی ادائیگی کریں۔ آپ جب یہاں آئے تو میں بیٹھا پڑھ رہا تھا۔ آپ نے میرے وقت کا ایک گھنٹہ لیا۔ پچیس لیرے شرح ہے۔ اگر مجھ پر یقین نہیں تو کسی اور وکیل سے معلوم کر لیں کہ میں رقم کا حقدار ہوں یا نہیں۔ میں آپ کو تین دن دیتا ہوں۔ بصورت دیگر اگر آپ نے اس مدت کے اختتام تک مجھے ادائیگی نہیں کی تو میں آپ پر مقدمہ کر دوں گا۔“
”لیکن، جناب عالی۔“ ڈولسما سکولو ہاتھ جوڑتے ہوئے ہکلایا۔ اس کا چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
پیکارون نے گردن ہلائی اور ہاتھ اٹھا کر بولا۔
”میں کچھ سننا نہیں چاہتا۔ میں مقدمہ کر دوں گا۔“
آخر دولسما سکولو کو غصہ آنے لگا۔ نقصان کی وجہ سے نہیں، بلکہ اُس تضحیک کے بارے میں سوچ کر جس کا اندازہ وہ ان دو کسانوں کے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر لگا سکتا تھا۔ وہ جو اپنے آپ کو اتنا ہوشیار سمجھتا تھا، جس نے پہلے ہی گھمنڈ کر لیا تھا کہ وہ غالب آئے گا، وہ جو اپنے ہاتھوں سے فتح کو تقریباً چھو چکا تھا۔ اب انتہائی غیر متوقع طور پر اپنے ہی جال میں پھنس گیا تھا۔ اس نے غصے کی ایک تیز لہر کو اپنے اندر اٹھتے محسوس کیا۔ وہ کھڑا ہو گیا اور چلایا۔ ”کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا کتا اتنا چور کیوں ہے؟ اس لیے کہ اس کی تربیت آپ نے کی ہے۔“
پیکارون بھی اٹھ گیا اور غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر چلایا: ”نکل جاؤ! اب تمہیں ایک مہذب آدمی کی توہین کا جواب بھی دینا ہو گا جو۔“
”مہذب آدمی کو؟“ دولسما سکولو تمسخرانہ انداز میں بولا اور اس کی طرف بڑھا۔
دونوں کسان اسے روکنے کے لیے اٹھے، لیکن اچانک وکیل کا ہاتھ بے جان ہو کر گر گیا۔ اس نے کرسی پر بیٹھے کی کوشش کی لیکن پھر کسی بوری کی طرح لڑھک کر زمین پر جا گرا۔
دولسما سکولو غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔ دونوں کسانوں نے خوف زدہ ہو کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی۔ کیا ہوا تھا؟ اس نے تو وکیل کو چھوا تک نہیں تھا۔
کسانوں نے وکیل پر جھک کر اس کا ہاتھ ہلایا۔ پھر چلائے۔ ”بھاگو!“
دولسما نے خالی نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا اور بڑبڑایا۔ ”بھاگو۔“
اسی اثناء میں پھاٹک پر کچھ ہلچل ہوئی اور دو حمال خاموشی سے ہانپتے ہوئے اپنے کندھوں پر وہ تابوت اٹھائے باغ میں آتے نظر آئے جو وکیل نے اپنے لیے محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے انہیں اطلاع ملی ہو کہ بلاتاخیر کام شروع کر دیں۔ تابوت دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔
دراصل کونسلر کے قبرستان کے دورے اور تنقید کے بعد محافظ نوشیو پامپینا کو معاملات کو درست کرنے اور تابوت کو اس کی منزل تک پہنچانے کی جلدی تھی۔ آخر دولسما سکولو کو سرائے میں میندولا کی کہی گئی باتیں یاد آ گئیں، اور اچانک اُسے لگا کہ اس خالی تابوت کو جیسے ایک غیبی طاقت نے بلایا ہے۔ وہ صحیح وقت پر پہنچا تھا۔ اس کے لیے قدرت نے سرائے کے مالک کو استعمال کیا تھا۔
وہ سر پکڑ کر چلایا۔ ”دیکھو! یہ دیکھو! تابوت اسے پکار رہا تھا۔ میں نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا، تم سب گواہ ہو۔ تابوت اسے پکار رہا تھا۔ اس نے تابوت کو اپنے لیے رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اب وہ آ گیا ہے، کیونکہ اِسے مرنا تھا۔“
پھر اس نے حمالوں کے ہاتھ پکڑ کر ہلائے۔ گویا ان کو حیرت سے نکالنا چاہتا ہو۔ ”کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ تم بتاؤ۔“
لیکن وہ دونوں بالکل بھی حیران نہیں ہوئے۔ انہوں نے تابوت کو وقت پر پہنچا دیا تھا۔ ان کے لیے وکیل پیکارون کو مردہ پانا ایک فطری بات تھی۔ ایک حمال نے کندھے اچکا کر کہا۔ ”جی ہاں، تابوت آ گیا ہے۔“
(ختم شد)
(لوئیجی پیراندیلو ( 1867۔ 1936 ) سسلی میں 28 جون 1867 کو پیدا ہوا۔ وہ اطالوی تھا۔ بون یونیورسٹی سے 1891 میں فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، کچھ سال پروفیسر کی حیثیت سے تدریس کا پیشہ بھی اپنایا۔ اس کی صلاحیتوں کا اظہار ڈرامے، افسانے کے علاوہ تنقید اور شاعری میں بھی ہوا۔ بعض نقاد اور عالمی ادب کے ان گنت قاری آج تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ وہ بڑا ڈرامہ نگار تھا یہ افسانہ نگار۔ تاہم اسے 1934 میں نوبل انعام ایک عظیم ڈرامہ نگار کی حیثیت سے دیا گیا۔ اس کا سب سے مشہور اور رسوا زمانہ ڈرامہ ”سکس کریکٹر ان سرچ آف این آتھر“ ہے۔ جسے عالمی ڈرامے میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس نے عالمی ادب کو بعض ایسے افسانے دیے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پیراندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف تھا۔ اس کی کہانیوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہوتا ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اس کا انتقال 10 نومبر 1936 کو روم میں ہوا)




