”فیل می“ ایک سماجی برائی


ہمارے سماج کو بہت سی سماجی برائیوں کا سامنا ہے لیکن سوشل میڈیا کے عروج اور موجودہ منظر نامے میں سب سے بڑی بیماری ”Feel Me“ ہے۔ یہ ایک نفسیاتی الجھن ہے جو ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس بیماری کی علامات نہ صرف ہمارے ناخواندہ طبقے میں نظر آتی ہے بلکہ پڑھے لکھے طبقے میں بھی کافی حد تک اس کے آثار اب دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بیماری کسی وائرس سے کم نہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسان کو اپنی ذات کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ اس بیماری کے مریض ہر فورم، ہر مکالمے، ہر موضوع کو اپنی ذات کی نمائش کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اس مرض کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ مریض کو ہر موضوع پر اپنی رائے دینے کا جنون ہوتا ہے، چاہے وہ موضوع اُس کے علم یا تجربے سے کوسوں دور ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر کہیں کوئی علمی بحث ہو رہی ہے اور اس بیماری میں مبتلا شخص غیر متعلقہ اور غیر ضروری سوالات پوچھے گا تاکہ محفل میں موجود لوگ اس کی علمیت کو تسلیم کریں۔ اس بیماری میں مبتلا شخص سیاست سے لے کر ادب تک، طب سے لے کر انجینئرنگ تک ہر موضوع پر خود کو ماہر سمجھتا ہے اور اس میں بے لگام گھوڑے کو دوڑاتا ہے۔

”فیل می“ کے مریضوں کا مقصد کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ تنقید کو اپنا آئینی حق سمجھتے ہیں، مگر یہ تنقید تعمیری نہیں ہوتی صرف اپنی آواز بلند کرنے کا بہانہ ہوتی ہے۔ انہیں پرواہ نہیں ہوتی کہ اُن کا تبصرہ موضوع سے متعلق ہے یا نہیں، بس اتنا چاہتے ہیں کہ ان کا اکاؤنٹ ”ٹرینڈ“ ہو جائے۔ اس مرض نے سماجی حساسیت کو بھی نگل لیا ہے۔ کوئی حادثہ ہو، کسی کی موت کی خبر ہو، یا کوئی اور المیہ ہو وہ صرف اس مقصد کے تحت پوسٹ کرتے ہیں کہ لوگ کہیں ”دیکھو، فلاں صاحب نے تو بہت جلدی خبر شیئر کر دی!“ المیے کی تفصیلات، متاثرین کے جذبات، یا واقعے کی سنجیدگی اُن کے لیے ثانوی ہوتی ہے۔

اس مرض سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی توانائی کو ”دکھاوے“ کی بجائے ”کام“ میں لگائیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو علم سے محبت ہے، تو کسی علمی مسئلے پر گہری تحقیق کریں، نہ کہ صرف اقوالِ زریں شیئر کر کے ”دانشور“ بنیں۔

اگر آپ سماجی مسائل پر بات کرتے ہیں، تو کسی عملی کام میں شامل ہوں، نہ کہ صرف ہیش ٹیگ چلا کر ”ایکٹیوسٹ“ کہلائیں۔

اپنی رائے کو احتیاط سے استعمال کریں، ہمارے بڑوں کے مطابق جس موضوع پر علم نہ ہو اس پر خاموشی ایک دانش ہے۔

ہماری ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو ”دکھاوے“ کی بجائے ”تعمیر“ کے لئے استعمال کریں۔ یاد رکھیں، سماجی میڈیا پر ہزاروں فالوورز آپ کو ”فیمس“ تو بنا سکتے ہیں، مگر حقیقی عزت اور کامیابی وہی ہے جو آپ کے کام سے جڑی ہو۔

Facebook Comments HS