کشمکش۔ افسانہ


saila rubab

جنازہ اٹھنے کی دیر تھی، لوگ آہستہ آہستہ گھروں کو لوٹ گئے، وہ بھی گھر چلی آئی۔ اب وہاں بیٹھ کر افسوس کرنے سے اسے کیا ہی مل جانا تھا؟ اس کا ذہن کچھ کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ کب سے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا، سب لوگ سو چکے تھے۔ اس نے سب کے اطمینان بھرے چہروں کو کس قدر حسرت سے دیکھا اور پھر تنگ آ کر اپنی چارپائی سے اٹھ کر باہر آ گئی۔

اسے نیند نہیں آ رہی تھی، اسے آنی بھی نہیں تھی۔ موت کے خوف نے اسے چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے سے وہ رسیوں کے نشان نہیں جا رہے تھے۔ اس کے کانوں میں اب تک پنوں خالہ کے بچوں کے رونے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

وہ باہر آ کر اماں کی مشین کے سامنے پڑے موڑھے پر بیٹھ گئی۔ باہر کی لائٹ ہمیشہ جلتی رہتی تھی۔ وہ ننگے سر اور ننگے پاؤں وہاں بیٹھی اپنی سوچوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر لگی گھڑی میں وقت دیکھا تو رات کے بارہ بج کر اکتیس منٹ ہو چکے تھے۔ اسے پتہ تھا اماں بھی نہیں سو رہی ہوں گی۔ اس نے انھیں بار بار کروٹیں بدلتے دیکھا تھا۔ اس کی اماں کیسے رو رہی تھی، یہ سوچتے ہی اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں، دل پر بوجھ بڑھنے لگا۔

جنازہ اٹھتے ہی جو لوگوں نے باتیں کیں، وہ اسے بھلائے نہیں بھول رہی تھیں۔ وہ گھبرا کر اٹھی اور کچھ قدم دور پڑی ٹی وی ٹرالی میں سے اپنی ڈائری نکالی۔

کیا لوگ ایسے بھی مر جاتے ہیں؟ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پنوں خالہ کو اماں کے ساتھ دیکھا ہے۔ اماں کہتی ہیں میں چھوٹی سی تھی جب پنوں کی شادی ہوئی۔ پہلے پہل ہم جس گھر میں رہتے تھے، وہ پنوں خالہ کے گھر کے بالکل قریب تھا۔ وہ بڑی سگھڑ اور خوبصورت خاتون تھیں۔ مجھے انھیں دیکھ کر لگتا جیسے وہ پٹھانی ہوں۔ ان کے بچے بھی بالکل ان جیسے ہی خوبصورت ہیں۔ لیکن پنوں خالہ یوں ایک دن مر بھی جائیں گی، یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ ہم لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہمیں آخر کار مر جانا ہے؟ چلتے پھرتے کسی بھی دن، کسی بھی وقت ہماری موت واقع ہو سکتی ہے۔ میں جب بھی یہ سوچتی ہوں کہ میں ایک دن مر جاؤں گی، تو ایک عجیب سا خوف میرے اردگرد پھیل جاتا ہے۔ میں مر جاؤں گی تو کیا ہو گا؟

میرے بہن بھائی اور اماں کچھ دن روئیں گے مجھے، پھر وہ آہستہ آہستہ واپس اپنی زندگیوں کی طرف لوٹ جائیں گے، مجھے شاید موت سے اتنا ڈر نہیں لگتا، جتنا اس بات سے ڈر لگتا ہے کہ مجھے ایسے بھلا دیا جائے گا جیسے میں کبھی اس دنیا میں آئی ہی نہیں تھی۔ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ میں نے جن لوگوں کو خوش کرنے میں، متاثر کرنے میں اور انھیں راضی کرنے میں صرف کر دیا، وہ لوگ مجھے بھول جائیں گے۔ ایک دن آئے گا جب لوگوں کو میری شکل بھی بھول جائے گی۔ میری یادیں لوگوں کے ذہنوں سے مدھم ہوتی ہوتی ختم ہو جائیں گی۔ وہ اپنی زندگی کی الجھنوں میں اتنے الجھ جائیں گے کہ میرا نام تک ان کے لبوں پر کبھی نہیں آئے گا۔

پنوں خالہ کو بھی ہم کب تک یاد رکھیں گے؟ کیوں کسی کے مر جانے سے دنیا نہیں رک جاتی؟ فطرت کا کوئی نظام کیوں نہیں بدلتا؟ کیوں ہمارے دل اتنے مضبوط ہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو منوں مٹی تلے دفن کرنے کے بعد گھر لوٹ آتے ہیں؟ تھک کر سو جاتے ہیں؟ صبح اٹھتے ہیں تو سب کچھ پہلے جیسا ہوتا ہے، کوئی بدلاؤ نہیں آتا۔ سارے نظام جوں کے توں چل رہے ہوتے ہیں، نہیں ہوتا تو بس ایک شخص ہمارے درمیان نہیں ہوتا، جس کی کمی ہمیں پہلے پہل بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ لیکن پھر اس غم کو بھلانے کے لیے ہم اس خیال کو جھٹکتے رہتے ہیں اور آخرکار وہ غم بھی بھلا دیتے ہیں۔

میت اٹھتے ہی لوگوں نے باتیں بنانا شروع کر دیں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اپنے بچوں کا تو سوچتی؟ ارے سب کے شوہر ہی گالم گلوچ کرتے ہیں، ہاتھ اٹھاتے ہیں، لیکن اب کیا بندہ خودکشی کر لے؟ مجھے تو بچوں کو دیکھ دیکھ کر رونا آ رہا ہے۔

ان بیچاروں کا کیا قصور ہے؟ یہ تو معصوم ہیں۔

بن ماں کے بچے یوں ہوتے ہیں جیسے صحرا میں بھٹکتے مسافر۔ عورتیں پیڑھیوں پر بیٹھی، چادر کا کونا منہ کے آگے کیے دبی دبی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ وہ صدمے کی حالت میں ان کی باتیں سن رہی تھی۔

پنوں خالہ ایک ماں تھیں۔ اسے جتنے اپنے بچے عزیز تھے، اتنے کیا کسی اور کو ہو سکتے ہیں؟ لیکن پھر بھی اس نے اپنی جان لے لی۔ یہ پچھتاوا میرا پیچھا کبھی نہیں چھوڑے گا کہ میں انھیں بچا سکتی تھی لیکن میں نے دیر کر دی۔ میں اپنی پریشانیوں میں اتنا الجھ گئی کہ میں نے پلٹ کر انھیں پوچھا بھی نہیں۔

اماں بتا رہی تھیں کہ وہ کچھ دن پہلے پنوں خالہ سے ملنے گئی تھیں تو وہ گھر کی صفائیاں کر رہی تھیں۔ اماں اسے لاکھ سمجھاتی رہیں کہ ”پنوں، اپنی صحت دیکھو، تم کن کاموں میں پڑی ہوئی ہو“ ۔ تو وہ آگے سے ہنس دیں، کہنے لگیں، ”مہمان گھر آئیں گے تو گھر گندا ہو گا، اچھا نہیں لگے گا“ ۔ اماں کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ اپنی موت کے لیے اپنا گھر سجا رہی تھیں۔ وہ ایک دن اماں کو فیکٹری بھی ملنے آئی تھیں، تب بھی وہ ٹھیک تھیں، وہ خوش تھیں۔ اماں نے انھیں بتایا تھا کہ میں ان کی رپورٹیں جلد ہی لے آؤں گی اور ان کا علاج بھی ہو گا، اور وہ آگے سے مسکرانے لگیں۔

نجانے اس نے کتنی دفعہ اپنی جان لینے کا ارادہ باندھا ہو گا، پھر اپنے بچوں کو دیکھ کر اس ارادے کو ملتوی کیا ہو گا۔ نجانے جب اس نے آخری سانس لی ہو گی تو اسے کتنی اذیت ہوئی ہو گی؟ کیا پتہ وہ جینا چاہتی ہوں؟ وہ کسی معجزے کا انتظار کرتی رہی ہو کہ ابھی کوئی آئے گا اور اسے بچا لے گا، اور سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس نے خود کے گلے میں رسی ڈالی اور پنکھے سے لٹک گئی۔ اس نے خود اپنے پیر میز سے اٹھا لیے۔ میز نیچے گر گیا اور وہ۔ (آنسو اس کی آنکھوں سے گرتے ڈائری کے صفحے بھگونے لگے، سیاہی پھیل گئی) ۔ اس کی جان جاتے جاتے نجانے کتنی دیر لگی ہو گی؟ اس نے اپنی آخری سانسوں میں کیا سوچا ہو گا؟

اسے زندگی سے کیا ملا؟ وہ پہلے اپنے گھر میں اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی۔ کم عمری میں اس کی شادی اپنے سے دس سال بڑے آدمی سے ہوئی، جو نہ خوبصورت تھا نہ اتنا امیر۔ اس نے کبھی پنوں کی قدر نہیں کی، اسے کبھی پنوں خوبصورت نہیں لگی۔ اس نے ہمیشہ باہر منہ مارا۔ اس عورت نے اس کے مکان کو گھر بنایا، اپنی جوانی فیکٹری میں کپڑے سلائی کرنے میں گزار دی۔ وہ اسے رات میں اپنے بستر کی زینت بناتا اور صبح اسے دھتکار کر نکل جاتا۔ وہ گالم گلوچ کرتا، اس پر طرح طرح کے الزام عائد کرتا، لیکن اس نے اس کی بے روزگاری پر اسے طعنے نہیں دیے بلکہ خود کما کر اسے کھلایا۔ پھر شادی کے پہلے چند سال اس کی اولاد نہیں ہوئی۔ بات بات پر اس کی ساس کہتی کہ وہ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کر دے گی۔ کتنی دفعہ پنوں خالہ روتے ہوئے ہمارے گھر آئیں، کتنی دفعہ میں نے خود اماں کو اس کے زخموں پر مرہم رکھتے دیکھا، کتنی دفعہ وہ اماں سے پیسے ادھار مانگنے آئیں، کتنی دفعہ وہ ناراض ہو کر اپنے میکے گئیں۔

پھر اس کے ہاں اولاد ہوئی۔ وہ خوش رہنے لگی۔ بیٹی کے بعد اللہ نے اسے دو بیٹے دیے۔ اس کے قدم زمین پر نہیں پڑتے تھے۔ اسے شوہر کا غم بھول گیا۔ وہ اپنے بچوں کے لیے زندہ تھی، وہ انھیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی رہتی۔ پھر یہ خوشی بھی محدود تھی، بہت محدود۔ اتنا سب کچھ زندگی میں چل رہا تھا تو پھر اسے کینسر ہو گیا۔ جان لیوا مرض۔ اسے سب نے کہا کہ تم ٹھیک ہو جاؤ گی، لیکن پیٹھ پیچھے سب یہی کہتے کہ وہ کیسے ٹھیک ہو گی؟ وہ علاج کیسے کروائے گی؟

وہ اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہتی تھی، جینا چاہتی تھی، لیکن وہ روز ان کے سامنے مرتی تھی۔ کبھی اس میں ہمت آ جاتی تو وہ جینے کی امنگ لے کر اٹھ کھڑی ہوتی، لیکن اس کا جسم، اس کی ہڈیاں، اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھیں۔ اس کے پاس تھا ہی کیا جو وہ خود کا علاج کرواتی؟ رشتوں میں اس کے پاس بچا ہی کیا تھا؟ وہ بھائی جو آج اس کے مرنے پر اتنا رو رہے تھے، انہوں نے اسے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں۔ ایک دفعہ مان سے یہ نہیں کہا کہ ”ہم ہیں ناں، ہم کروائیں گے تمہارا علاج“ ۔

وہ بھی کس منہ سے بولتے، ان کے پاس بھی کیا ہے؟

میں نے بھی تو ایک دفعہ انھیں یہ نہیں کہا کہ میں کرواؤں گی ان کا علاج۔ کیا پتہ اس سے ان کی ڈھارس بندھ جاتی؟ بولنے سے کیا ہی ہوتا؟ اگر میں ایک دفعہ انھیں اسپتال لے جاتی تو کیا پتہ وہ آج یوں نہ مرتیں۔

میں نے بہت دیر کر دی۔ میں ایک جان بچا سکتی تھی، اور میں نہیں بچا پائی۔ میرے دماغ کی رگیں پھٹ رہی ہیں۔ میں اب بھی یہ سوچ رہی ہوں کہ کاش یہ کوئی خواب ہو، لیکن یہ حقیقت ہے۔ میرے دل میں اٹھتا درد یہ واضح کر رہا ہے کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنوں خالہ نے زندگی سے ہار کر اپنے ہاتھوں خود کو مار دیا، اور انھیں مارنے میں ہم سب کا بھی ہاتھ ہے۔

ہم سب مفاد پرست ہیں۔ میں نے کتنی دفعہ یہ سوچا کہ میں پنوں خالہ کی مدد کر دیتی، لیکن میں نہیں کر پائی۔ الٹا میں نے اماں کو بھی باتیں سنائیں کہ اس نے کیوں دیے پنوں خالہ کو پیسے، کیونکہ ہمارے گھر کا راشن پانی بند ہو جاتا، میرے بہن بھائی فاقے کاٹتے، یہ میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ مالک مکان آ کر ہمیں گالیاں بکتا اور کرایہ نہ دینے پر مکان سے نکلنے کی دھمکی، یہ مجھے گوارا نہیں تھا۔ میں جانے انجانے میں پنوں خالہ سے دور بھاگ رہی تھی۔ میں بہت خود غرض ہوں۔ مجھے اپنے اور اپنے خاندان کے علاوہ کوئی عزیز نہیں ہے۔ اور یہی چیز جب دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ہم انھیں کس قدر جگرے سے یہ بول دیتے ہیں کہ یہ پتھر دل لوگ ہیں۔

زندگی میں کچھ لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ملتا۔ کچھ لوگوں کی اینڈنگ ہیپی اینڈنگ نہیں ہوتی، جیسے پنوں کی نہیں ہوئی۔ پنوں خالہ نے خودکشی کرنے سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا، کسی پر اپنی موت کا الزام عائد نہیں کیا۔ وہ خاموشی سے پنکھے سے لٹک کر مر گئیں۔ اس کی بچی نے اس کی پنکھے سے لٹکتی لاش دیکھ کر شور مچایا۔

اب کیا وہ سکون سے رہے گی؟ کیا اس کی ہیپی اینڈنگ ہو گی؟ میں پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہی ہوں، اور جو سوچ رہی ہوں وہ لکھ رہی ہوں۔ میرے خیال بھٹکتے ہوئے کہاں سے کہاں چلے جا رہے ہیں، لیکن میں اس وقت لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ میں کسی کو یہ نہیں بتا سکتی کہ مجھے کس قدر افسوس ہے پنوں کے مرنے کا۔ میں چاہتی تھی وہ خوش رہے، وہ خوشیاں دیکھے، لیکن خوشی اس کے نصیب میں نہیں تھی۔ اگر تھی بھی، تو وہ مجھے نظر نہیں آئی۔ میں نے بہت کم اسے خوش دیکھا، بہت کم۔

لیکن کیا واقعی اس نے خودکشی کی؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے مار کر اس کی لاش کو پنکھے سے لٹکا دیا ہو؟ ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے نا۔ میں برے سے بدتر بھی سوچ سکتی ہوں۔ میں مایوس ہوں، میرے خیال بھٹکے ہوئے ہیں، میرا ذہن عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ میں سونا چاہتی ہوں۔ رو رو کر میری آنکھیں سوج گئی ہیں اور اب درد کر رہی ہیں۔ مجھے صبح اٹھنا ہے، کام پر جانا ہے۔ میں پنوں خالہ کو کچھ دنوں میں بھول جاؤں گی اور یہ اذیت بڑی اذیت ہے۔ میرے ذہن میں ایک ہی سوال ہے : کیا خودکشی کرنے والے کا کوئی قاتل نہیں ہوتا؟

آنسو کا آخری قطرہ ڈائری کے صفحے پر گرا، اس نے ڈائری بند کر دی۔

Facebook Comments HS