بے سمت تربیت۔ ایک سنگین خاموشی
ریشم کا کیڑا اپنی چند دن کی زندگی کا تقریباً اسی فیصد وقت صرف کھانے میں گزارتا ہے، اور پھر مرنے سے قبل تقریباً نو سو میٹر (لگ بھگ ایک کلو میٹر) تک انسانیت کے کام آنے کے لئے خام ریشم چھوڑ جاتا ہے۔
جو کچھ بھی اس کے پاس ہوتا ہے، وہ زندگی کی آخری سانس تک لٹا دیتا ہے۔ مگر انسان؟ وہ جو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے؟ آج کے انسان کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے قتل کی نیت کسی جذباتی عمل سے نہیں بلکہ قتل سے بھی بہت پہلے طے کر لی جاتی ہے۔ بستی بستی، قریہ قریہ، دنیا ”حفظِ ماتقدم“ کے نام پر ظلم اور قتل کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہے۔ زندگی کی بقا کے نام پر موت کا بازار گرم ہے۔ جنگل کا قانون انسانی معاشروں میں لوٹ آیا ہے۔
آج کی ایک صبح میں نے اپنی ہی تحصیل میں ایک دل دہلا دینے والا منظر دیکھا اور سنا۔ ایک پولیس افسر موبائل کا اسپیکر آن کیے ایک روتی ہوئی بچی سے سوال پوچھ رہا تھا ”بچے کہاں کے رہنے والے ہو؟ تمہارے والد کیا کام کرتے ہیں؟“ بچی، سہمے لہجے میں جواب دیتی ہے رو رو کر پوچھتی ہے اور بھائی سے بات کرنے کو کہتی ہے جو کسی سکول کا طالب علم ہے ”میرے والد درزی ہیں”۔ بیٹا بتاتا ہے "میں ان سے صبح سے فون پہ بات کر نے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر وہ فون نہیں اٹھا رہے”۔ انہیں کیا خبر کہ والد کی لاش اب کس بے رحمی کا شکار ہو کر تپتی دھوپ میں ٹھنڈی ہو چکی ہے۔ جن ہاتھوں سے وہ درزی کپڑا سیتا تھا، شاید انہی ہاتھوں سے کسی دلہن کے خواب سنورے تھے۔ وہ مر گیا، مگر اس کی محنت زندہ ہے۔ مگر مارنے والا؟ وہ بھی تو کسی کا باپ، بیٹا یا بھائی ہے۔ یقیناً وہ جان اور کسی کی جان جیسے احساس سے مکمل عاری ہو گا۔
بچپن میں پہلی بار لفظ ”ماہرِ نفسیات“ سنا تو لگا جیسے یہ کوئی جادوگر ہوتا ہے جو ذہنوں کی گرہیں سلجھاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ روح کے زخم نہ دِکھتے ہیں، نہ جادو سے ٹھیک ہوتے ہیں۔ یہ سوچ مجھے میرے والد صاحب کی دی ہوئی ہے، بچپن کے چند سال ان کی انتہا کی شفقت اور ایسے وقت میں شفقت۔ بقول خواجہ غلام فرید : شالا وقت نہ کھاوے ڈولے، بس وقت کو ہی رولے پڑ گئے تھے۔ ایک تعلیم یافتہ انسان مشکلات تو برداشت کر ہی جاتا ہے مگر اپنی بے بسی میں زندگی کے آخری ایام ایسے گزارنا جو شاید مرنے کی تکلیف سے کہیں زیادہ ہوں، اور اولاد جس کو پھولوں کی طرح پالا ہو ان کے سامنے میرا بیٹا اور میری بیٹی اور اپنے انداز میں پیار سے بلانے جیسے الفاظ کا ایک ”سیلِ رواں“ انہوں نے مجھے سکھایا کہ سوچنا سیکھو، زبانیں سیکھو تاکہ دوسروں کا موقف سمجھ سکو اور یہ کہ اصل تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے اسی بنیاد پر میں آج وہ بات کہنے جا رہا ہوں، جو سننے میں سخت ہے مگر سچے اور حقیقت پسند لوگ ہر کسی کی سچائی کو تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ سچ ان کے اپنے لئے ہی ایک تلخ حقیقت کیوں نہ ہو۔
پچھلے مضمون میں میں نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ ان خاموش مجاہدوں کو جو اپنی آسائشیں قربان کرتے ہیں۔ مگر آج تحسین نہیں، کچھ کہنے کی جرات ہے اپنے بڑوں سے صد احترام کے ساتھ۔
والدین! کیا آپ واقعی تربیت کر رہے ہیں؟ آج کا المیہ یہ ہے کہ ”بے سمت تربیت یافتہ والدین“ تیزی سے عام ہو رہے ہیں۔ یہ وہ والدین ہیں جو احترام کی بات تو کرتے ہیں، مگر خود کسی کا احترام نہیں کرتے۔ جو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، مگر گھر میں جھوٹ، غیبت، اور بدتمیزی عام ہے۔ جو اسکول، میڈیا یا سوسائٹی کو تو سنتے ہیں، مگر اپنے گھر کے ماحول پر غور نہیں کرتے۔ ایسے والدین صرف رشتہ نبھا رہے ہیں، ذمہ داری نہیں۔
آج گھروں کا حال یہ ہے کہ بچے بے لگام ہو چکے ہیں، اور گستاخی کو ”اعتماد“ سمجھا جا رہا ہے۔ محنت کی جگہ سستی، اور کامیابی کی جگہ حسد نے لے لی ہے۔ والدین سوشل میڈیا پر مصروف، شکایتوں میں گم، اور کسی معجزے کے منتظر ہیں۔ جان لیجیے، معجزے باہر سے نہیں آتے۔ اگر آپ خود محنت، دیانت، نظم و ضبط کا نمونہ نہیں بن رہے۔ دوسروں پر تنقید اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے میں لگے ہیں، صرف جسمانی طور پر موجود، مگر ذہنی و اخلاقی طور پر غیر حاضر ہیں تو آپ تربیت نہیں کر رہے، بلکہ اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ رہے ہیں۔
اصل تبدیلی کہاں سے آئے گی؟ یہ روشنیاں، یہ رہنمائی، نہ حکومت سے آئے گی، نہ کسی سیاسی لیڈر سے نہ اسکول سے، نہ کسی ایپ یا یوٹیوب چینل سے۔ یہ صرف آپ کے کردار، عمل، اور فیصلوں سے آ سکتی ہے۔ یاد رکھیں ”قومیں معیشت سے نہیں، اقدار کے خاتمے سے تباہ ہوتی ہیں۔“ خود سے سوال کریں کیا میرے بچے مجھے محنت کرتے دیکھتے ہیں اور پھر کیا اثر لیتے ہیں؟ کیا میں دانائی سے بات کرتا ہوں یا تلخی سے؟ کیا میں تربیت دے رہا ہوں، یا صرف بڑا ہونے دے رہا ہوں؟ کوئی والدین کامل نہیں ہوتا۔ مگر ذمہ دار ضرور ہونا چاہیے۔ محبت اگر رہنمائی کے بغیر ہو تو بگاڑ ہے، آزادی اگر نظم کے بغیر ہو تو بربادی ہے اور امید اگر عمل کے بغیر ہو تو محض فریب۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اگر ہم اپنی نئی نسل کو اندھوں کی تقلید، مادہ پرستی، اور اخلاقی زوال سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود ایک زندہ مثال بننا ہو گا۔ اپنے بچے کے لیے آپ ہی وہ معجزہ بن سکتے ہیں جس کا وہ انتظار کر رہا ہے۔


