جیسے دیکھی جوہی

جوہی مونث ہوتی ہے۔ جوۂ شہر کہتے وقت مذکر میں استعمال ہوتی ہے۔ بہرحال، جوہی کا اصل اچار ”جُوہی“ ہے۔ جوہی ایک پھول کی قسم بھی ہے اور دنیا میں ایک برادری یا ذات بھی ہے، لیکن میری نظر میں شہر ”جُوہی“ کے نام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی یہ مفروضہ درست ہے کہ اداکارہ جوہی چاؤلہ کے آبا و اجداد یہاں کے ہونے کی وجہ سے اس کا نام جوہی رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا جوہی یہاں پیدا ہوئی تھی؟ یا کوئی اور جوہی یہاں تھی؟ جوہی چاؤلہ کی پیدائش سے صدیوں پہلے یہ گاؤں ”جوہی“ کے نام سے آباد تھا۔ جوہی کا پھول بھی یہاں نہیں اگتا۔ اگر اگتا ہے تو کوئی اس بارے میں بتائے تو بہتر ہو گا۔ نہ ہی جوہی برادری کے یہاں رہائش پذیر ہونے کا کوئی تاریخی حوالہ ملتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شہر کا نام یا تو کسی معروف شخصیت، قبیلے، علاقائی یا جغرافیائی مقام کے مطابق رکھا جاتا ہے یا کسی بانی کی جانب سے۔ مثال کے طور پر میاں یار محمد خان عباسی کلہوڑو نے قدیم بستی ”شکارپور پہنورکی“ کو ”خدا آباد“ نام دیا۔ اب بھی اس نام سے منسوب ہے۔
”جوہی“ لفظ پر غور کریں تو یہ ”جُوھو“ (جنگل) کا مؤنث ہے، یعنی درختوں کا چھوٹا جھنڈ۔ جوہی ایک قدیم تجارتی راستے پر واقع ایک ندی کے کنارے درختوں کے جھنڈ کے قریب واقع تھا، جہاں مسافر قافلے قیام کرتے تھے اور پھر کچھ لوگ وہاں آباد ہوئے۔ اسی لیے پہلے اسے ”جُوہی“ (درختوں کے چھوٹے جھنڈ) والا گاؤں کہا گیا اور بعد میں صرف ”جُوہی“ کہلانے لگا۔ اب اسے صرف جوہی کہا جاتا ہے۔ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں ”جُوہی“ گاؤں ہے اور ”ٹھل“ تعلقہ، جبکہ ضلع دادو میں ”جُوہی“ تعلقہ اور ”ٹھل“ گاؤں موجود ہیں۔
جوہی کے قریب دو نالے بہتے تھے۔ ایک ”نوناری ندی“ جو جنوب مغرب سے بہتی ہوئی موجودہ گرلز ہائی اسکول روڈ سے گزر کر دادو ناکہ چوراہے سے بہتی ہوئی ”باہوٹا“ محلے سے ہو کر مشرق کی طرف جاتی تھی۔ نوناری ندی کی ایک چھوٹی دھارا جوہی کے جنوب میں قریب ایک گمشدہ تالاب میں جا گرتی تھی۔ میرے خیال میں یہ تالاب گھروں کی تعمیر کے لیے بنایا گیا تھا، جو بعد میں تالاب کی شکل اختیار کر گیا۔ دوسری ندی شمال مغرب سے بہتی ہوئی ”ببر“ محلے کے مشرق میں آ کر ”نوناری“ ندی سے ملتی تھی۔
ریونیو ریکارڈ کے مطابق 1876 ء میں ضلع کراچی کی دیہہ ”جوہی ٹپہ پھلجی“ کے نقشے میں جوہی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ اس میں جوہی گاؤں /شہر اور انگریز سرکار کے سرکاری دفاتر دکھائے گئے ہیں۔ جوہی کے شمال میں ”کبیر ببر“ گاؤں (موجودہ ببر محلہ) ، ”میرل باہوٹو“ گاؤں (موجودہ باہوٹو محلہ) ہے۔ یہ میرل باہوٹو، چاچا حاجی میرل باہوٹو کا دادا یا پردادا تھا۔ دیہہ کے نقشے میں ”حسن درویش“ کا قبرستان، ”جنگو جمالی“ گاؤں (موجودہ حاجی قاسم جمالی) ، ”کنگرانی“ گاؤں (موجودہ گل محمد گنب) ، ”لالوانی لُنڈ“ ، اور اس کے آس پاس ”کوسا“ ، ”بخش علی“ (اب بخش علی رند) ، ”کبڑ (ملاح)“ ، ”آڈھے جو کھوہ“ (موجودہ سائیں داد جمالی) ، اور ”چنجانی“ گاؤں دکھائے گئے ہیں۔
جوہی پہلے ضلع کراچی کے دادو تعلقہ میں شامل تھی۔ 1907 ء میں اسے ضلع لاڑکانہ کے ایک تعلقہ کے طور پر شامل کیا گیا۔ بعد میں 1931 ء میں دادو ضلع بنایا گیا تو جوہی کو تعلقہ کا درجہ ملا۔ جوہی کا قدیم گاؤں کا نقشہ کچھ یوں تھا: گرلز ہائی اسکول روڈ سے مڑ کر مین پرائمری اسکول کی گلی، آندل شاہ بخاری کی مزار، للو کی مسجد، قاضی محلے کے پیچھے سے گلی لے کر دادو ناکہ چوراہے سے مل کر دوبارہ گرلز ہائی اسکول روڈ سے جڑتی تھی۔ اس بیچ میں جوہی کا قدیم گاؤں تھا۔
انگریز دور میں موجودہ نیشنل بینک چوراہے سے جوہی کے شمال میں سیدھا راستہ ناکے اور پھر گرلز اسکول روڈ سے مڑ کر جوہی مندر اور چھاپری والی سڑک کے ساتھ نیشنل بینک (اب یہاں بینک نہیں ) چوراہے سے جڑتا تھا۔ اس بیچ میں جوہی شہر کو انگریز دور کے نقشوں میں دکھایا گیا ہے۔
تالاب موری (Bridge) سے ناکے تک تپیداروں (پٹواری) کے چبورے، مختیارکار آفس اور تھانے کی عمارتیں دکھائی گئی ہیں۔ تالاب کے جنوب میں عبادت گاہ یعنی بدھ مت اٹوپا دکھایا گیا ہے، جو اب سید نجف علی شاہ کی بیٹھک ہے۔ یہ ٹیلہ میں نے 1970 ء کی دہائی میں دیکھا جو تقریباً 40 فٹ اونچا اور 50 فٹ قطر کا تھا۔ میں نے اس کی چوٹی 1974 ء میں دیکھی جو تقریباً 10 x 10 فٹ چوڑی تھی۔ اس ٹلھ یا اسٹوپا کی بنیاد پر جوہی کی موجودگی کو رائے خاندان کے دور ( 450۔ 632 ) سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔
جوہی کے ٹیلے کے شمال میں ایک تالاب ہوتا تھا۔ ”جدہ بازار“ جوہی کے جنوب میں عمارتیں برصغیر کی تقسیم کے بعد بنی تھیں۔ تالاب کے شمالی کنارے پر بوائز ہائی اسکول کے راستے پر چند ایک گھر، جیسے سائیں دوست محمد سومرو کا گھر، کنویں تک موجود تھے۔ کنویں کے بعد مشرق میں زراعتی زمینیں تھیں جہاں اب عدالت کی نئی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔ تالاب کے مغرب اور پرانی عدالت کی عمارت کے جنوب میں صرف پرانی اسپتال کی عمارت تھی، جس کے جنوب میں بڑا قبرستان تھا، جو اب صرف چند قبروں پر مشتمل ہے۔ چھنی روڈ کے مشرق و مغرب میں چند گھر تھے، باقی سب زرعی زمینیں تھیں۔ ببر اور مستوئی محلوں کے مغرب میں بھی زرعی زمینیں تھیں۔
حسین آباد کالونی کا علاقہ بھی زرعی زمین تھیں۔ ڈاک بنگلہ شہر سے کافی دور تھا، جہاں ایک پارک اور باغ ہوا کرتا تھا۔ ناکے کے مغرب میں بھی چند ہی گھر تھے۔ اریگیشن آفس بھی کافی دور ہوا کرتا تھا۔ اس کے جنوب کی نئی کالونی بھی زراعتی زمین تھی، جہاں ایک باغ بھی تھا۔ اریگیشن بنگلے کے قریب ایک نہر ہوا کرتی تھی، جس پر ”سونھارو ببر“ نامی چرخے پر زمین اور باغ آباد کرتا تھا۔ یہ نہر نائیں شاخ (Minor) سے نکلنے والے واہ پر مشتمل تھی۔ ڈاک بنگلے کا باغ اور اس کے مشرق میں زرعی زمین و باغ اسی واہ پر آباد تھے۔ اریگیشن بنگلے سے نائیں شاخ تک کے راستے کے دونوں طرف ”شیشم“ کے درخت ہوتے تھے۔ نئی کالونی 1980 ء کی دہائی میں آباد ہوئی۔ اس وقت ڈاکو ”کالے کرکلی لغاری“ کا عروج تھا اور لوگ کاچھے سے نقل مکانی کر کے آ کر آباد ہونے لگے۔ سید نجف شاہ کی بیٹھک کے مغرب میں بھی ”رند“ برادری کی زرعی زمین ہوتی تھی۔ وہاں صرف عیدگاہ کی عمارت ویرانے میں موجود تھی، جو بعد میں رہائشی علاقے میں تبدیل ہو گئی ہے۔
پرانے ٹیکسی اسٹاپ کے قریب ایک بڑا قبرستان ہوتا تھا، جہاں اب صرف چند قبریں باقی ہیں۔ تھانے کی طرف جانے والے راستے کے شمال میں ایک بڑا قبرستان تھا اور وہاں کوئی عمارت موجود نہ تھی۔ اب قبرستان غائب ہے۔ چھنی روڈ کے ساتھ ”چھاپرو“ ہوتا تھا جہاں کنواں بھی تھا۔ کاچھے کے مختلف گاؤں جانے والی سواریاں وہیں سے روانہ ہوتی تھیں۔ موجودہ ”واہی بس اسٹاپ“ اور UBL بینک کے قریب صرف دو یا تین عمارتیں تھیں۔ اس کے شمال میں بھی ایک بڑا قبرستان تھا اور وہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔
اب جوہی شہر کتنا بڑھ چکا ہے، اس کا اندازہ نہیں ہے۔ جیسا میں نے جوہی کو دیکھا، ویسا ہی بیان کر دیا۔
جوہی میری رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔ چاہے وہ مکھن کی مانند موہنے والی ہو یا کانٹوں سے کھردری، دونوں صورتوں میں وہ میرے لیے شہد جیسی ہے۔ اسی شہر میں میں نے تعلیم حاصل کی، ابتدائی تعلیم دی۔ دوستیوں کا میٹھا ذائقہ بھی چکھا، اور منافقت کا زہر بھی مٹھاس سمجھ کر پی لیا۔ جوش و ولولے سے سندھ کا پانی بھی پیا اور رکاوٹوں کے صحراؤں کو بھی پار کیا۔ 2013 ء میں میرے والد شہید ہوئے، تب سے جوہی جانا کم ہو گیا۔ 2016 ء کے بعد سے میں نے جوہی کو ایک نظر بھر کے نہیں دیکھا۔ پتا نہیں اب یہ شہر اور کتنا بڑھ چکا ہو گا۔



