اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان
” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔
آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے شوہر کے ساتھ پُرامن ازدواجی زندگی گزار رہی ہے۔ اس کے باوجود، وہ ہر سال اگست کے مہینے میں ایک فیری لے کر اُس جزیرے پر جاتی ہے جہاں اس کی ماں کی قبر ہے۔ اور ہر اگست، وہ ایک نیا عاشق بناتی ہے۔ یہ گبریل گارسیا مارکیز کا واحد ناول ہے جس کا مرکزی کردار ایک عورت ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ہمیں یہاں کافکا اور میکس برود والی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اگر بعد از مرگ شائع ہونے والی کتابوں کی ایک پہاڑی ہو اور اس کی چوٹی پر دی ٹرائل ہو، تو اگست تک، کہیں دامن میں آتی ہے۔ نہ بالکل خراب، نہ مکمل کام یاب، بلکہ کچھ کچھ بکھری ہوئی۔
یہ ناول مردانہ نگاہ سے بھی لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ صفحہ پانچ پر آنا، آئینے میں اپنے جسم کا جائزہ لیتی ہے اور سوچتی ہے کہ ”دو حمل کے باوجود بھی اس کے سینے گول اور بلند ہیں“ پھر ”وہ ایک اجنبی مرد کے ساتھ بستر پر ہے جو صرف اپنی لذت کی خاطر اس پر سوار ہے، اس کی لذت کا خیال کیے بغیر“ سطحی طور پر یہ مردانہ تخیل کی عکاسی لگتا ہے۔
لیکن اس کے نیچے کچھ اور بھی ہے، چاہے یہ ناول مارکیز کے دیگر شاہکاروں جتنا گہرا نہ ہو۔ کہانی کی ساخت سادہ ہے، ایک لوک داستان کی طرح۔ ہر سال آنا ایک غیر نام زد کیربین جزیرے پر ماں کی قبر پر پھول چڑھانے آتی ہے، اور ہر بار ایک نئے مرد کے ساتھ ایک رات گزارنے کی کوشش کرتی ہے۔ قاری یہاں مختلف مردوں اور حالات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ایک دوست جو اچانک محبت کا اظہار کر کے اس کی منصوبہ بندی درہم برہم کر دیتا ہے، اور دوسرا ایک خطرناک آدمی جو بیوہ عورتوں کو دھوکہ دے کر ان کا استحصال کرتا ہے، بلکہ شاید دو کو قتل بھی کر چکا ہے۔ ”اس کے ساتھ گزاری رات ماورائی لذت کا دھماکہ تھی کہ وہ جھلس گئی، پٹک دی گئی، اور تین دن رات تک ٹھنڈے اور نیم گرم غسل کی محتاج رہی۔“ اور تیسرے سال تو وہ سڑک پر کھڑی گاڑیاں روکنے کی ہمت کرتے ہوئے سوچتی ہے کہ بس کوئی ایسا شخص مل جو اگست کی اس رسم کو نبھا دے۔
اگست تک۔ شہوانی خیالات یا مردانہ فینٹسی سے کہیں زیادہ ہے۔ موسیقی اس ناول کا ایک مرکزی استعارہ ہے۔ خود آنا کا نام، اس کے شوہر کا موسیقی کے ادارے کا سربراہ ہونا، اور موسیقی کی اصناف میں جدت کے تجربات۔ جیسے ڈیبوسی کے ”کلیر ڈی لون“ کی بولیرو دھن میں ترتیب، بارٹوک کے ”کنٹراسٹس“ کی سیکسوفون پر جاز ترجمانی، یا شوپن کے انداز میں اگسٹین لارا کی بولیرو دھن۔ یہ تمام تجربے اس سوال کی طرف لے جاتے ہیں کہ کیا انسان اپنے رویے اس حد تک بدل سکتا ہے کہ اپنی اصل ہی کھو دے۔ یا کیا انسان کی شخصیت بھی ایک پہلے سے موجود دھن پر جاز نوٹس کا مجموعہ ہے؟
مارکیز کے بہترین کاموں کی طرح، یہاں بھی فلسفیانہ سوالات جسمانی حقیقت اور ماورائی فضاؤں کے درمیان جنم لیتے ہیں۔ جزیرے کی منظرکشی پسینے میں بھگو دیتی ہے، آنا کی بیٹی جاز کی شوقین ہے جو رات بھر باہر رہتی ہے اور مستقبل میں ننگے پاؤں رہنے والی راہبہ (ڈسکالسیڈ کارمیلائٹ نن) بننے کی خواہاں ہے۔ یعنی شناخت کی تلاش یہاں بھی نظر آتی ہے۔
ادب میں بے وفا عورتوں کی کہانیاں بہت پرانی ہیں۔ ہیسٹر پرائن سے لے کر مارگریٹ دور کی لول سٹین تک۔ مگر مارکیز کا انداز کہیں زیادہ لطیف ہے۔ آنا ماگدالینا کی بے وفائی صرف جنسی تسکین نہیں، بلکہ خود شناسی کی ایک پیچیدہ جستجو ہے۔ وہ نہ تو کسی طویل تعلق کی متلاشی ہے، نہ کسی مرد کی وفاداری کی طلب گار۔ بلکہ وہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ کب کس سے ملنا ہے، کسے رد کرنا ہے، اور کس کے نمبر کو پھاڑ کر سمندر کے جھونکے میں اڑا دینا ہے۔
یہ مارکیز ہی کا فسوں ہے کہ وہ عورت کی جنسی شناخت اور بڑھاپے کے خوف کو ایسے تصویری انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری وہ جھریاں، وہ ویزلین والے ہونٹ، اور وہ خود کو جوان یاد دلانے والی حرکتیں۔ سب دیکھ سکتا ہے۔ ایک موقع پر، آنا آئینے کے سامنے اپنے چہرے کو انگلیوں سے کھینچ کر جوانی کی شکل یاد کرتی ہے۔ اگلی بار وہ جزیرے پر جاتی ہے تو سیاہ ریشمی لباس اور مصنوعی زمرد کے زیور پہن کر خود کو کسی پرفتن عورت کی مانند پیش کرتی ہے۔ مگر اسی لباس کی چمک ایک نوسرباز کو اپنی طرف کھینچتی ہے جو دھوکہ دے کر اس کے بستر تک پہنچتا ہے۔
اور پھر، جب وہ جانتی ہے کہ کوئی نامعلوم سفید بالوں والا مرد اس کی ماں کی قبر پر پھول رکھتا ہے، تو کہانی ایک دھیرے مگر پُراثر موڑ لیتی ہے۔ آنا ماگدالینا ماں کی قبر کشائی کر کے اُس کی ہڈیاں ایک بیگ میں رکھتی ہے، اور شوہر کے سامنے واپس لاتی ہے۔ یہ لمحہ، جو حقیقت سے زیادہ خواب جیسا ہے، اس مختصر کتاب کو ایک دیومالائی کہانی میں بدل دیتا ہے۔ یہی ہے مارکیز کی اصل طاقت۔ وہ حقیقت اور سحر کو، روزمرہ اور رومان کو، طنز اور پیش گوئی کو اس مہارت سے بُنتے ہیں کہ ہر فقرہ ایک احساس میں ڈھل جاتا ہے۔
گارسیا مارکیز کا ”اگست تک“ جادوئی حقیقت نگاری کی فتح ہے، جس میں عمومیت اور غیر معمولی پن کا امتزاج ہے۔ روشن کرداروں اور گہرے موضوعات سے بھری پیچیدہ کہانیاں تخلیق کرنے کی ان کی لاجواب لیاقت کو ایک بار پھر سامنے لاتا ہے۔ ہر نیا صفحہ اُلٹنے کے ساتھ، قاری ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں ناممکن ممکن ہو جاتا ہے، اور جہاں انسانی تجربے کا حُسن بے نقاب ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہ ناول زندگی کے جوہر کو اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ گرفت میں لانے والی ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور آخری صفحے کے بعد قارئین پر ایک انمٹ نشان چھوڑتا ہے۔
مارکیز نے اس ناول میں کسی کردار کو، سوائے آنا کے کردار کے، ڈویلپ نہیں کیا ہے، شاید اس لیے کہ وہ چاہتے تھے سارے کردار آنا کے گرد گھومیں۔ بہرحال یہ ناول ایک ماسڑ ناول نگار کی آخری کاوش کے طور پر پڑھنا چاہیے کہ اس میں گارسیا مارکیز کے بیانیے کی مہارت نئی بلندیوں کو پہنچی ہے۔ وہ قارئین کو ایک ایسی دنیا کے سفر پر مدعو کرتے ہیں جہاں حقیقت اور تخیل بغیر کسی رکاوٹ کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔



