بھٹو پاکستان ایران
ایرانی قدیم قوم ماضی کے کارناموں سے مزین زندہ تاریخ کی حامل اپنے دور کی سپر پاور دور زرتشت سے اسلام تک کا لمبا سفر ان کی کہانی کا حصہ ہے۔
انقلاب ایران کے بعد انہوں نے ایک سخت گیر تبدیلی کی ہے فی زمانہ یہ امر طے شدہ ہے کہ اگر آپ افراد قوم کو جمہوری رویے سے نہیں دیکھتے جیسا کہ بہت سے ممالک میں دیکھا جا رہا ہے تو ریاستی انتشار آپ کا منتظر ہے ایک خاص مذہبی ریاست کا روپ دھار لینا ارد گرد موجود ریاستوں اور ان کے عوام کو اپنے نقطہ نظر سے چلانے کی کوشش کرنا شاید عذاب ماضی ہے جس میں انہوں نے خود کو جکڑ لیا ہے لڑائی چھوٹی ہو یا بڑی، تنہا ہی لڑنا پڑتی ہے ہاں کچھ بیرونی مدد مل جاتی ہے لیکن پرائی جنگ دوسرے نہیں لڑتے۔ ایران نے انقلاب کے بعد ایک خاص اسلامی فرقہ کی آبیاری کرنے کی تو پوری دنیا میں کوشش کی ہے خود کو بھی عالمی پابندیوں کے باوجود کافی حد تک سنبھالا ہے لیکن اگر وہ اپنی تمام تر توانائیاں خود کو تعمیر کرنے پر صرف کرتا تو آج صورتحال ان کے حق میں بہت ہی بہتر ہوتی آنے والے دنوں میں شاید کوئی انہونی کر دکھائیں ابھی تک کامیابی نظر نہی آ رہی ان کی اندرونی سورش اندرونی غدار ان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اس پر شدت سے سوچنا ہو گا ناراض ایرانیوں کو قومی دھارے میں لانا ہو گا اب تو امریکہ کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ ہر چڑھی برات پر یہ ڈائیلاگ نہی بولنا کہ بند کرو اوئے واجے اے شادی نئی ہو سگدی ایران تو ابھی علاقائی طاقت بھی نہیں بن سکا اس لئے ایران کے لئے میرے پاس صرف نیک خواہشات ہی ہیں۔
اب ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اور اس پر بات کرتے ہیں
انڈیا نے جب ایٹمی دھماکہ کر لیا تو پاکستان ایک شکست خوردہ ملک تھا انڈیا اگر دھماکہ نہ کرتا تو شاید پاکستان کے کان بھی کھڑے نہ ہوتے یہ رب کا حکم تھا کہ پاکستان نے ایٹمی طاقت بننا تھا چنانچہ رب نے پاکستان کو ایک مرد قلندر ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں عطا کیا وہ ارادے کا پختہ اور دھرتی کا بیٹا تھا اس کی جڑیں دھرتی میں پیوست تھیں جب ڈاکٹر عبدالقدیر نے ان تک رسائی حاصل کی اور جوہری (بھٹو) نے ہیرے (عبدالقدیر) کو پرکھ لیا تو ہیرے کو مکمل آزادی دی کہ مجھے ایٹمی طاقت بن کر دکھاوٴ کتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے پرواہ نہیں پھر بھٹو ایک بہت بڑے مشن پر نکلا محسن پاکستان کے آگے دولت کے انبار لگا دیے معمر قذافی، شاہ فیصل جیسے دولت مند ملکوں کے سربراہوں نے بھر پور مالی معاونت کی ایک واقعہ کوٹ کیا جاتا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کے لئے ایک پرزہ امریکہ سے چاہیے تھا امریکہ کو معلوم ہوا کہ وہ پرزہ خرید لیا گیا ہے امریکہ میں ہلچل مچی کہ کس نے خریدا؟ کیوں خریدا؟ کہاں گیا؟ سراغ رسانی شروع ہوئی تو کُھرا برطانیہ پہنچا کہ ایک برطانوی رجسٹرڈ فرم نے خریدا ہے امریکی برطانیہ پہنچے کہ معلوم کریں کیوں خریدا؟ رجسٹرڈ فرم موجود تھی لیکن کہاں تھی؟ کس نے رجسٹر کروائی تھی؟ سر توڑ کوشش کے باوجود سراغ نہ مل سکا کہ محسن پاکستان کا نیٹ ورک اتنا مضبوط تھا کہ کُھرا پاکستان تک پہنچا ہی نہیں یقیناً برطانوی اور امریکی اداروں یا متعلقہ اتھارٹی کو اتنا پیسہ دیا گیا کہ وہ بک گئے یہ سب کچھ اس جوہری کی بدولت ہوا جس نے ہیرے کو جانچ لیا تھا۔
پھر بھٹو کو ایک بدبخت بد اعمال بدروح نے مروا دیا لیکن جس کام کی داغ بیل وہ ڈال گیا بعد میں آنے والا کوئی بھی حکمران اس سے رو گردانی نہ کر سکا شاید ہم بھٹو کی زندگی ہی میں ایٹم بم کے اتنے قریب پہنچ چکے تھے کہ اس کو وائنڈ اپ کرنا ناممکن تھا۔
ایٹم بم کا کریڈٹ کسی کو بھی دیا جا سکتا ہے لیکن یاد رہے کہ دو کردار ہمیشہ امر رہیں گے ایک ذوالفقار علی بھٹو دوسرا ان تھک مخلص محسن پاکستان عبدالقدیر۔ بھٹو ہمیشہ امر رہے گا اس کی قبر پر لوگ آتے رہیں گے فاتحہ پڑھتے رہیں گے اور محسن پاکستان کو آپ جتنا بھلانے کی کوشش کریں گے وہ تاریخ میں زندہ ہی رہے گا۔ یہ دو ملکوں کی کہانی ہے جس میں دونوں ہی پراکسی وار میں ملوث رہے ہیں لیکن دونوں میں فرق بھٹو اور عبدالقدیر ہیں۔
حالیہ بھارت ایڈونچر شروع کروایا گیا صرف پاکستان کو چیک کیا جا رہا تھا کہ کرنٹ ہے یا نہیں ہم تیار تھے اور بتا دیا کرنٹ مارتے ہیں اور چنگا جھٹکا دیتے ہیں اور یہ سب مرد قلندر اور محسن پاکستان کی بدولت ممکن ہوا
ویسے تو ہم بھی شروع سے ہی کسی کے اشارے پر ناچتے آ رہے ہیں اور ایک دور میں تو ہم ناچتے ناچتے وجد میں آ گئے تھے لیکن ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں ہم ہر ڈھول کی تھاپ پر نہ ناچیں دعا ہے کہ پاکستان ایسا کر سکے۔

