ایران کی دفاعی اڑان


پنجابی کا محاورہ ”گجی گجی لومڑی تے۔ ۔ ۔ دا سواد“ اسرائیل پر بہت صادق آتا ہے، کمزوروں کو دبانا، ڈرانا یا کچلنا کوئی بہادری نہیں، اسرائیل نہتے فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد خود کو بڑا سورما سمجھ رہا تھا، الحمدللہ ایران نے اس شیطان کو آئینہ دیکھا دیا۔ اسرائیل نے بدترین جارحیت اور فسطائیت کے زور پر غزہ کو کھنڈر بنا دیا اور اس نے اب اپنی توپوں کا رخ برادر اسلامی ملک ایران کی طرف موڑ دیا ہے۔ بزدل اسرائیل نے گھات لگاتے ہوئے ایران کی پیٹھ پروار کیا اور اب ایران کے جوابی وار نے اسرائیل میں صف ماتم بچھا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں یہودی پادری اپنی مخصوص عبادت گاہ، روتے اور ماتم کرتے ہوئے صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ حالیہ چند روز کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے افق پر جو آگ بھڑکی ہے، وہ صرف دو ملکوں کے درمیان فوجی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی ایک نئی تعبیر بن کر ابھری ہے۔ ملعون اسرائیل نے 13 جون کی صبح ایران کی سرزمین پر وسیع پیمانے پر حملہ کر کے جو آگ بھڑکائی تھی، اس نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ، ایران کی مسلح افواج کے آرمی چیف اور چھ معروف ایٹمی و میزائل سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، اس کے ساتھ ہی 86 معصوم شہریوں کی شہادت اور 320 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے اس جارحیت کو ظلم و درندگی کی واضح مثال بنا دیا ہے۔

تاہم ایران نے اپنے مخصوص مزاحمتی اور جوابی دفاعی نظام کے تحت اسرائیل کے ناپاک وجود پر انتہائی کاری ضرب لگائی ہے جس نے اسرائیل کے دفاعی فخر اور غرور کو چکنا چورکرتے ہوئے زمین بوس کر دیا ہے۔ ایرانی دفاعی فورسز کے مطابق، انہوں نے اسرائیل کے تین جدید ترین ایف۔ 35 جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ یہ طیارے جنہیں جدید ترین سٹیلتھ ٹیکنالوجی، برقی مداخلت اور فضائی برتری کے لیے تیار کیا گیا ہے، ایران کی فضائی حدود میں نشانہ بنائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک طیارہ جب نشانہ بنا تو پائلٹ نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی، جس کے بعد ایرانی کمانڈوز نے نہ صرف اسے گرفتار کیا بلکہ اسرائیل کی ایک خاتون پائلٹ سمیت دو اہلکاروں کو حراست میں لے کر دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل، جو ہمیشہ اپنی فضائی برتری اور ایٹمی طاقت کے زعم میں مبتلا رہتا ہے، کھلے میدان میں نہ صرف شکست سے دوچار ہوا بلکہ اس کی عسکری ساخت کو بھی چیلنج کیا گیا۔ یہ واقعہ تاریخ میں ایک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے 10 مئی 2025 کو بھارت کو اپنے گھمنڈ، بھاری اسلحے اور فضائی طاقت کے باوجود پاکستان کے ہاتھوں منہ کی کھانی پڑی تھی، اسی طرح اسرائیل بھی مشرقِ وسطیٰ میں چوہدراہٹ کے خواب لیے ایران کے خلاف حملے کا آغاز تو کر بیٹھا، مگر اس کا انجام تباہی کی شکل میں سامنے آیا۔

یورپ کی پروردہ ناجائز صہیونی ریاست جو عشروں سے اردن، شام، لبنان اور بالخصوص نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتی آ رہی ہے، وہ اب پہلی بار ایران کی صورت میں ایک ایسے دشمن کے مقابل آئی ہے جو نہ تو بکھری ہوئی ریاست ہے، نہ ہی عالمی حمایت سے محروم، بلکہ ناجائز پابندیوں کے باوجود برادر اسلامی ملک ایران عسکری، تکنیکی اور نظریاتی طور پر ایک مضبوط قوت بن کر ابھرا ہے۔ ایران پر حملہ کر کے اسرائیل نے اپنی عسکری برتری کا غرور ظاہر کیا، مگر اسی حملے نے اس کے اندرونی دفاعی کمزوریوں کو آشکار کر دیا۔ جس ایران کو وہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے سے روکنے کے لئے سازشوں پر سازشیں کر رہا تھا، اسی ایران نے اسے محض آٹھ گھنٹوں میں ایف۔ 35 جیسے مہنگے طیاروں سے محروم کر دیا۔ یہ محض برادر اسلامی ملک ایران کا ایک دفاعی کارنامہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے ”جارحانہ پیش قدمی“ کی رہی ہے، مگر اس بار جارحیت کے جواب میں جس قوت، مہارت اور جرات کا مظاہرہ ایران نے کیا ہے، وہ مستقبل کے خطے کے سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اسرائیل اب دو راستوں میں گھرا ہوا ہے یا تو وہ اس شکست کو تسلیم کرے اور مذاکرات و مکالمے کا راستہ اپنائے، یا پھر ایک ایسی وسیع جنگ میں کود جائے جس کا دائرہ لبنان، شام، یمن، حتیٰ کہ خلیجی ریاستوں تک پھیل سکتا ہے۔ تاہم ایران نے جس انداز سے اسرائیل کے عزائم کو روکا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن اب یک طرفہ نہیں رہا۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ حملہ ایران کی فوجی طاقت کا صرف ایک پہلو ہے۔ ایران کے جوابی اقدامات محض میزائل حملے یا فضائی دفاع تک محدود نہیں، بلکہ وہ نفسیاتی اور نظریاتی محاذ پر بھی اسرائیل کو شدید زک پہنچا رہے ہیں۔ خاتون پائلٹ کی گرفتاری بذات خود اسرائیل کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ چکی ہے کہ آیا ان کا فوجی غرور حقیقت پر مبنی ہے یا صرف پروپیگنڈا۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو کمزور فلسطینیوں پر دن رات بمباری کر کے خود کو فاتح سمجھتا رہا، مگر جب اس کا واسطہ ایران جیسے ریاستی مزاحمتی نظام سے پڑا، تو وہ اپنے ہی طیارے اور پائلٹ کھو بیٹھا۔ یہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ خطے میں اب وہ دور واپس نہیں آئے گا جہاں اسرائیل بلا خوف و خطر کسی بھی عرب ملک کو نشانہ بناتا رہے۔ یہ نیا دور ہے مزاحمت کا دور، وقار کا دور اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا دور ہے۔

ایران کی سربلند و سرفراز روحانی اور آئینی قیادت نے دو ٹوک انداز میں امریکہ کے دباؤ کوتسلیم کرنے اور سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ ایران اپنی پوری طاقت، استقامت اور مزاحمت اسرائیل سے غزہ کے شیر خواروں اور شہیدوں کا انتقام لے رہا ہے، ریاست پاکستان نے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا ہے، امید ہے پاکستان کی طرح کوئی بھی اسلامی ملک اب ایران کی مدد سے پیچھے نہیں رہے گا۔

Facebook Comments HS