اسرائیل کا تعارف اور حالیہ جنگ


 

فلسطین میں طویل عرصے سے بربریت دکھانے والا اسرائیل کوئی بڑا ملک نہیں ہے۔ اس کا کل رقبہ 20 ہزار 7 سو 77 مربع کلو میٹر اور آٹھ ہزار انیس مربع میل ہے جو کہ پاکستان کے کئی اضلاع یعنی بہاولپور، ژوب، خضدار اور چاغی سے کم ہے۔ اسرائیل کا محل وقوع اس طرح ہے کہ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، جنوب مغرب میں مصر، مغرب میں بحیرہ روم اور جنوب میں بحیرہ احمر ہے۔ اسرائیل کی کل آبادی پچانوے لاکھ پچاس ہزار ہے۔ مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں جن کی آبادی سترہ لاکھ ستتر ہزار ہے۔ اسرائیل کی آبادی میں اکثریت یہودیوں کی ہے (تقریباً 73.6 ٪) ، جب کہ اقلیتوں میں مسلمان (تقریباً 18.1 ٪) ، عیسائی (تقریباً 1.9 ٪) اور دروز (تقریباً 1.6 ٪) شامل ہیں۔ باقی آبادی میں دیگر مذاہب کے ماننے والے، جیسے بہائی اور سامری، نیز وہ افراد شامل ہیں جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں ہیں۔ اسرائیل کی قومی زبانوں میں عبرانی اور عربی شامل ہیں۔

جدید ریاست اسرائیل 14 مئی 1948 کو قائم ہوئی، جب ڈیوڈ بین گوریان نے آزادی کا اعلان کیا اور فلسطین پر برطانوی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ یہ اعلان صیہونی تحریک کے نتیجے میں عمل میں آیا، جو انیسویں صدی کے آخر میں اس مقصد کے تحت ابھری کہ فلسطین (جو اُس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا) میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کیا جائے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کا کنٹرول سنبھال لیا اور 1917 میں بالفور اعلامیہ جاری کیا، جس میں یہودی قوم کے لیے ایک ”قومی وطن“ کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔

دوسری جنگِ عظیم اور ہولوکاسٹ کے بعد ، بین الاقوامی برادری نے اقوام متحدہ کے 1947 کے تقسیم منصوبے کے ذریعے فلسطین کو ایک یہودی اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ 1948 میں آزادی کے اعلان کے بعد عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی، جس میں ہمسایہ عرب ممالک نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی۔ اگرچہ اسرائیل کو مسلسل تنازعات کا سامنا رہا، لیکن اس نے نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ دنیا بھر سے یہودی تارکینِ وطن کو اپنے اندر سمو کر ترقی کا عمل جاری رکھا۔

اسرائیل کی فوجی طاقت اس کے اہم جغرافیائی مقام، مضبوط معیشت اور دفاعی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔ اس کے تقریباً 1,70,000 فعال فوجی اہلکار ہیں، جن میں بری فوج کے 1,30,000، فضائیہ کے 34,000 اور بحریہ کے 9,000 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 4,65,000 کے قریب ریزرو اہلکار بھی موجود ہیں۔ اسرائیل میں لازمی فوجی سروس کا نظام نافذ ہے، جس کے تحت 18 سال کی عمر کے بعد ہر شہری کو فوجی خدمات انجام دینا ہوتی ہیں، مردوں کے لیے یہ دورانیہ 32 ماہ جبکہ خواتین کے لیے 24 ماہ ہے۔

اسرائیل کی معیشت جدید ٹیکنالوجی، اختراع، اور اعلیٰ تعلیمی نظام پر مبنی ہے، جس کی بدولت یہ مشرق وسطیٰ کی ایک مضبوط اور مستحکم معیشت بن چکی ہے۔ زراعت، دفاعی صنعت، ادویات، اور خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسرائیل نے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی کثرت کے باعث اسے ”اسٹارٹ اپ نیشن“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، برآمدات، سیاحت، اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی اسرائیلی معیشت کے اہم ستون ہیں۔ 2023 میں اسرائیل کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) تقریباً 5 کھرب ڈالر کے قریب رہی، اور فی کس آمدنی بھی بلند سطح پر ہے، جو اس کی معاشی ترقی کی واضح علامت ہے۔

اسرائیل کے پاس 2,200 سے زائد ٹینک، 530 توپیں، اور 339 لڑاکا طیارے ہیں، جن میں 196 ایف۔ 16، 83 ایف۔ 15 اور 30 جدید ایف۔ 35 طیارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 142 ہیلی کاپٹرز، جن میں 43 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹرز شامل ہیں، اور بحریہ میں 5 آبدوزیں اور 49 گشتی و ساحلی جنگی کشتیاں موجود ہیں۔ اسرائیل کے پاس اندازہً 80 سے 400 ایٹمی وارہیڈز بھی موجود ہیں، جنہیں جیریکو میزائلوں اور طیاروں کے ذریعے ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

مالی طور پر اسرائیل نے 2022 میں دفاع پر 23.4 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ 2023 میں امریکہ کی جانب سے 3.8 ارب ڈالر سے زائد کی فوجی امداد حاصل کی۔ اس کی کل قومی پیداوار کا تقریباً 4.5 سے 5.5 فیصد دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی، اختراع، امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد، اور لازمی فوجی خدمات کے باعث اسرائیل دنیا کی 15 ویں بڑی فوجی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اسرائیل کی فلسطین، ایران، شام، لبنان، پاکستان اور دیگر عرب ممالک سے جنگ یا دشمنی کی بنیادی وجہ سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات ہیں۔ فلسطین کے ساتھ اسرائیل کا مسئلہ زمین اور ریاستی حق کا ہے، اپنے اس حق کے لئے اسرائیل کے قیام سے اب تک فلسطین کے باشندے مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں جب کہ فلسطین امریکہ اور دیگر طاقتوں کی حمایت سے ان پر مظالم کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایران، شام اور لبنان اسرائیل کی پالیسیوں اور فلسطینیوں پر ظلم کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ حزب اللہ (لبنان) اور حماس (فلسطین) جیسے گروہ اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں، جس کے باعث اسرائیل ان کو مخالف تصور کرتا ہے۔ خطے میں ایران کی بڑھتی دفاعی طاقت کو اسرائیل اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اس لئے وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی قوت بننے سے روکنے کی کوشش میں ہے۔ ایران پر اسرائیل کا حالیہ حملہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس کی تیاری وہ طویل عرصے سے کرتا رہا ہے۔ حالیہ ایران پر حملے میں اسرائیل نے ایران کے ایٹمی سائنسدان اور ایٹمی تنصیبات کے علاوہ اہم فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا ہے جب کہ اس کا اگلا ہدف ایران کا سپریم لیڈر ہے جس کو ہٹا کر وہ اسرائیل و امریکہ نواز حکومت قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران کی شکل میں یہ خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹل جائے۔

حالیہ جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کی پراکسی وار بھی ہے۔ دنیا میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مختلف ممالک نے اپنے سیاسی، مذہبی اور سٹریٹیجک مفادات کے تحت ان میں سے کسی ایک کی حمایت اختیار کی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، بھارت اور چند خلیجی ممالک جیسے متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، جو اسے عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کو شام، عراق، لبنان (خصوصاً حزب اللہ) ، یمن کے حوثی باغیوں اور بعض حد تک روس و چین کی حمایت حاصل ہے، جو خطے میں امریکی و اسرائیلی اثر و رسوخ کے خلاف کھڑے ہیں۔ پاکستان ایران سے مذہبی و جغرافیائی تعلقات رکھتا ہے جبکہ اسرائیل پاکستان کا روز اول سے حریف رہا ہے اس لئے پاکستان نے بھی کھل کر ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عالمی صف بندی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

آنے والے دنوں میں ایران یا اسرائیل میں سے کسی ایک کی شکست دراصل ان کے حماتیوں کی شکست تصور ہوگی۔ اس لئے حالیہ ایران اسرائیل جنگ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے اور خدشہ ہے کہ اس کو اگر بروقت نہ روکا گیا تو یہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

Facebook Comments HS