اسرائیل اور ایران: تعقل بمقابلہ سستی جذباتیت

طاقت ننگا ناچ رہی ہے جبکہ ضعیفی ہاتھ پھیلائے آج بھی کسی معجزے کی منتظر ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ فطرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اس کے تو کچھ لگے بندھے سے اصول ہوتے ہیں جنہیں ”لاء آف نیچر“ کہتے ہیں، یہ خود کار نظام تو نجانے کب کا اپنے اٹل اصول یا مدار کے گرد گھوم رہا ہے۔
فطرت یا قدرت طاقت کا نام ہے اور یہ ہمیشہ طاقتور کا ہی ساتھ دیتی ہے، کمزور چیزیں بھلے کسی بھی حجم مثلاً ذرات، خلیے یا جرثومے کی شکل میں یوں بچتا وہی ہے جو سب سے طاقتور ہوتا ہے باقی یا تو اسی وقت مر جاتے ہیں یا چند سسکیوں کے بعد حالت عدم میں چلے جاتے ہیں بالکل اسی طرح سے جیسا کہ وہ تھے ہی نہیں، صدیوں کی کہانیوں کا بس اتنا سا نچوڑ ہے، چاہیے تو اس جوہر کو اپنے عقلی رویوں میں سمو لیں یا انہونیوں کے سراب میں گم ہو کر ہوا میں اڑا دیں قدرتی حقائق کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہی دستور دنیا ہے جو طاقتور ہوتا ہے وہی تخت پر بیٹھتا ہے، طاقت کے کھیل میں بھلا اخلاقی پہیلیوں کا کیا کام؟ سلطنت مغلیہ اور سلطنت عثمانیہ کو دیکھ لیں طاقت کے بے رحم کھیل نے باپ کے ذریعے بیٹوں کو مروایا اور بیٹوں کے ذریعے باپ اور دوسرے خونی رشتوں کا قلع قمع کروایا، شاہ جہاں اور دارہ شکوہ کے ساتھ جو ہوا اور کس نے کیا وہ سب تاریخ کے پنوں پر درج ہے۔ ابھرتی اور زوال پذیر ہوتی سلطنتوں اور تہذیبوں کی یہ کہانیاں نجانے کب سے چل رہی ہیں؟
ایران اور اسرائیل کی جنگ بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کی جنگ ہے، ایک طرف خواہ مخواہ کی انا ’عظمت رفتہ کا خمار اور سستی جذباتیت ہے جبکہ دوسری طرف تعقل ہے، عصر سے ہم آہنگی ہے، جدید ٹیکنالوجی ہے اور عقل کی امامت میں مزید طاقت کا حصول ہے، اب طاقت کو اخلاقی پاٹھ تو نہیں پڑھائے جا سکتے نا!
طاقت کوئی مفت میں تھوڑے ملتی ہے عقلی ریاضت کی صورت میں ایک بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے، اب یہ ایک بے رحم کھیل کی مانند ہوا کرتی ہے، وقت سے پیچھے رہ جانے والوں کا قلع قمع کر کے ہی طاقت کی اس بلند ترین مچان تک پہنچا جاتا ہے اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھائی۔
دوسری طرف دنیا بھر کے مسلمان ممالک ہیں جو انہی طاقتور ریاستوں کے جو ان کی نظر میں جہنم کا ایندھن بنیں گے، کے سب سے بڑے صارف یا گاہک ہیں، ان کی مدد کے بغیر تو ان کا دفاعی میکنزم ہی ممکن نہیں ہے باقی سب تو آپ چھوڑ دیں، جب اس قدر محتاجی مقدر بن چکی ہو تو کاہے کی غیرت اور کہاں کا طنطنہ بھائی؟
اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے مقام پر بیٹھے بٹھائے ایرانی فوج کی اعلیٰ قیادت اور اہم ترین ایٹمی سائنسدانوں کو مار ڈالا، شنید ہے کہ ایران سے ہی تعلق رکھنے والے جاسوس اسرائیلی قیادت کو ٹارگٹ کے متعلق رہنمائی فراہم کر رہے ہیں، غربت اور کھوکھلی انا کے سائے تلے بڑے اذہان پیدا نہیں ہوتے بلکہ موقع پرستوں کی بھرمار ہوتی ہے۔
جب آپ عوام پر خرچ کرنے کی بجائے پیشوائیت کو سربلند رکھنے اور مورل پولیسنگ کے ذریعے سے عوام کی ذاتی زندگیوں میں اس قدر گھسیں گے کہ سانس تک لینا مشکل ہو جائے تو آپ کو باہر سے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے، آپ کے اندر سے ایسی آوازیں اور لوگ اٹھیں گے جو آپ کے کھوکھلے طنطنے کو مسمار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
وہ معزز ٹھہرے تعقل کو گلے لگا کر اور ہم خوار ہو رہے ہیں کھوکھلی سی جذباتیت، انا، منافقت اور مصلحانہ رویوں کو اپنا کر، کیا ستم ہے؟ جہاں صدیوں سے عقل راندہ درگاہ ہو، عقلی رویوں کی حوصلہ شکنی کا چلن ہو بھلا وہاں تخلیقیت کیسے پنپ سکتی ہے؟ بانجھ سرزمین پر ہریالی مفقود ہوجاتی ہے، یاد رکھیں جہاں تخلیق نہیں ہوتی تو پھر وہاں تخریب ڈیرے ڈال لیتی ہے، ایران یا دیگر مسلم ممالک وہی کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے صدیوں سے بو رکھا تھا، جب عقلی رویوں سے منہ موڑیں گے تو اس کا نتیجہ تباہی ہی ہو گا یہی تاریخ کا سبق ہے۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ خداوندان ریاست کے غیر دانشمندانہ فیصلوں کا خمیازہ بے بس عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اور طاقت کے بہیمانہ کھیل میں عوام پستے ہیں، تباہی کی برق تو انہی پر گرتی ہے، مفاد پرست یا موقع پرست تو ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں، طاقت کے خمار میں بے گناہوں کا خون بہہ رہا ہے، اے دانشمندان ارض کچھ تو عقل کے ناخن لو، کہیں تمہاری بے وقوفیوں کا خمیازہ دنیا بھر کو نہ بھگتنا پڑ جائے اور یہ دھرتی ایک بار پھر انا کی بھینٹ چڑھ جائے؟

