ڈائن کا گھر


”ڈائن دا گھر وی اتھائیں تے بالاں دی کھیڈ وی اتھائیں“ ہمارے سرائیکی وسیب میں بولے جانے والی مشہور کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ جہاں بچے کھیلتے ہیں وہیں ڈائن کا گھر ہے یعنی ظلم کا ایوان بھی وہیں ہے اور معصوم بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی وہی ہے۔ ظلم اور معصومیت کب ساتھ رہ سکتے ہیں؟ یہ کہاوت آج کے جدید ترین عالمی ظلم پر صادق آتی ہے۔ کہاں ایک دیہی کہاوت اور کہاں ایک جدید، مسلح اور سفاک اور دہشت گرد ریاست اسرائیل مگر مزاج ایک جیسا ہے۔ اس دہشت گرد کی ظالمانہ موجودگی بھی وہیں ہے اور معصوم فلسطینی بچوں کی قربان گاہ بھی وہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ارد گرد کے سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے لیکن یہاں کوئی ہمسایہ بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔ اسرائیل صرف غزہ کی سرزمین ہی نہیں ہتھیا رہا ہے بلکہ وہ لاکھوں معصوم بچوں کے کھلونے، کھیل، خواب اور ان سے ماؤں کی گود بھی چھین رہا ہے۔ وہاں روزانہ ملبے سے لاشیں نکلتی ہیں ان میں اکثر وہ بچے ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں، راکھ اور دھول لگی ہوتی ہے۔ ان کے جسموں میں کھلونوں کی بجائے میزائلوں کے ٹکڑے پیوست ہوتے ہیں۔ فضاؤں میں بچوں کے اڑتے ہوئے اعضا دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں کی ہر گلی میں دو چیزیں لازم ہیں ایک فوجی چوکی اور دوسرا قبرستان اب تو پورا غزہ ہی قبرستان بن چکا ہے۔ جو زندہ بچے ہیں وہ بھوک اور پیاس سے بلبلا رہے ہیں۔ اس ڈائن اسرائیل نے اپنے پنجے ایسی جگہ گاڑ رکھے ہیں جہاں مسلمانوں کا مقدس قبلہ اول موجود ہے۔ جو انبیا کی سرزمین بھی کہلاتی ہے۔ جو آج کھنڈر بن چکی ہے۔ لیکن اپنا سب کچھ گنوا کر بھی اس بھیانک ڈائن کے ڈر سے فلسطینی اپنی دھرتی چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

یہ المیہ صرف انسانی نہیں، عالمی سیاست کی سب سے گہری ناکامی بھی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمی منشور اور جنیوا کنونشن کی تمام شقیں صرف الفاظ کی حد تک زندہ ہیں۔ فلسطین کی تباہی پر خاموشی اختیار کرنے والے ممالک گویا اس ڈائن کے ہم سفر ہیں یا اس سے خوفزدہ ہیں۔ جس نے بچوں کی ”کھیڈ“ یعنی کھیل کی جگہ کے عین بیچ میں قبضہ کر کے اپنا گھر بنا لیا ہے۔ غزہ کے بچوں کی ”:کھیڈ“ اب مٹی میں نہیں بلکہ یہ عالمی ضمیر کی زمین پر بھی ہو رہی ہے جہاں ایک طرف یہ ڈائن بیٹھی ہے اور دوسری طرف انسانی مزاحمت کھڑی ہے کبھی فلسطینی ہاتھوں میں تو کبھی لبنانی کبھی شامی اور کبھی ایران کی مٹھی میں دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اس ناجائز ریاست کو امت کی پیٹھ میں چھرا قرار دیا تھا۔ اور کبھی بھی تسلیم نہ کرنے کا عزم کیا تھا۔ ظلم اور معصومیت کے ساتھ ساتھ یہ مزاحمت وہ امید کی کرن ہے جس کی یہ سرزمین ایک عرصہ سے منتظر ہے۔ عالمی طور پر ہر جانب سے مذمت اور احتجاج کے باوجود اس ظلم کی تاریخ بنانے والی اس ڈائن کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، وہ دنیا میں کسی کی بات ہی سننے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن یونانی ادب کی میڈیائی ڈائن سے لے کر آج کی صیہونی ڈائن نما ریاست تک ہر زمانے میں ظلم نے خود کو تہذیب کی چادر میں چھپایا ہے لیکن جس زمیں پر بچوں کا خون بہا وہاں آخر کار صدائے حق ضرور گونجتی ہے۔ غزہ ملبہ ضرور ہے مگر اس کے بچوں کی سسکیاں عالمی انسانی ضمیر کا اعلان بغاوت بن چکی ہیں۔ اسرائیل کا ائر ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم ضرور طاقتور ہو سکتا ہے لیکن فلسطینی ماں کی ماتم زدہ چھاتیاں ٰ، فلسطینی بچے کے آنسو اور ان کے جلتے گھر کی راکھ یہ وہ گواہیاں ہیں جنہیں کوئی ڈوم، کوئی ڈرون اور کوئی ڈپلومیسی مٹا نہیں سکتی اور نہ ان کی آہوں اور فریادوں کو آسمان چیر کر ان کے رب تک جانے سے روک سکتی ہیں۔

ایران جیسے بعض حلقے اور سوچ رکھنے والے مغرب کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں اور عرب دنیا میں سیاسی رقیب سمجھے جاتے ہیں وہی ملک آج فلسطین کے مظلوم بچوں کی بقا کا سب سے توانا ہتھیار بن کر ابھر رہا ہے۔ ایک جانب عرب بادشاہتیں اسرائیل اور امریکہ سے اقتصادی معاہدوں میں مصروف ہوئیں تب ایرانی مزاحمت نے نہ صرف غزہ کے حق میں آواز بلند کی بلکہ ”محور مزاحمت“ کا تصور عملی صورت میں پیش کیا حزب اللہ، حماس اور انصار اللہ، حوثی جیسے گروہوں کو نظریاتی، عسکری اور سفارتی حمایت دینا ایران کا وہ حصہ ہے جو تاریخ میں مزاحمت کی بنیاد بن چکا ہے۔ جو فلسطینی مسلمانوں سے ایرانی لگاؤ اور محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ معرکہ زمین کے ٹکڑے کا نہیں یہ جنگ ہے عزم حسین اور اور نیت یزید کے درمیان اور ایران اسی مزاحمتی سوچ کا وارث ہے۔ جس نے کربلا میں سر کٹوا کر بھی حق کی آواز کو بلند رکھا۔ جب غزہ پر بم برستے ہیں تو تہران کی گلیوں میں سوگ کی شمعیں روشن کی جاتی ہیں۔ جب اسرائیلی ٹینک دندناتے ہیں تو ایران کے نوجوان کے ہاتھوں میں قدس کی آزادی کے بینرز بلند ہوتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جو سیاسی تنہائی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود فلسطینی کاز سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا کیونکہ اس کے نزدیک یہ محض ایک سفارتی مسئلہ نہیں ہے یہ امت کی غیرت اور جذبہ ایمانی کا معاملہ ہے۔ ایران پر چاہے کتنی بھی تنقید ہو مگر ایک بات مسلم ہے کہ فلسطین کا پرچم تہران میں کبھی نہیں جھکایا گیا بلکہ ہر نماز کے بعد فلسطین کی آزادی اور امریکہ اور اسرائیل کی تباہی کے دعا کی جاتی ہے۔ جب دنیا نے غزہ کے بچوں کی چیخوں پر کان بند کیے تو ایران نے انہیں ”شہید راہ القدس“ قرار دیا۔ یہی وہ مزاحمت ہے جو اس ڈائن کے در و دیوار ہلا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا اسرائیل جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ داری کا محافظ بن کر بھی خوف میں مبتلا ہے کیونکہ اس کے خلاف اب ایران کی جانب سے نہ صرف میزائل اور راکٹ اڑ رہے ہیں۔ بلکہ فکر، قلم، ایمان اور مزاحمت بھی صف بستہ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایران پر تازہ ترین اسرائیلی حملے کو کھلی جارحیت اور مداخلت قرار دیا جا چکا ہے اور ایرانی جوابی کارروائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کوئی تر نوالہ نہیں ہے جسے آسانی سے ہضم کر لیا جائے بلکہ ایرانی قوم ایک غیرت مند زندہ قوم ہے جو آخری دم تک مزاحمت کرے گی۔ ایران نے اسرائیل کا غرور خاک میں ملا دیا ہے اور اسرائیل جیسی دہشت گرد ڈائن کے گھر کی تباہی دیکھ کر ایران اور فلسطین میں جشن کا سماں ہے۔ پورا عالم اسلام خوشی کا اظہار کر رہا ہے جس کی وجہ ایران سے ہمدردی کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے شدید نفرت ہے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی دعائیں ایران کے ساتھ ہیں۔

کل شائع ہونے والے نیویارک ٹائمز کے آرٹیکل میں واضح طور پر لکھا گیا کہ اسرائیل کا طویل عرصے سے قائم دفاعی برتری کا تاثر ایرانی حملوں کے بعد بکھر چکا ہے۔ ایران نے کامیابی سے اسرائیل کے حساس ملٹری انسٹالیشنز کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ اگر وہ 2000 کلومیٹر دور سے اسرائیل کے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے تو پھر امریکی مفادات کے لیے خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے ایران سے صرف 200 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔ دوسری جانب اگر جنگ مزید وسعت اختیار کرتی ہے تو امریکہ کے ساتھ برطانیہ اور فرانس کے لیے بھی مسائل بڑھ جائیں گے، کیونکہ یہ دونوں ممالک پہلے ہی سنگین معاشی بحران سے دوچار ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اسرائیل نے دنیا بھر کے یہودیوں کو یہ خواب دکھا کر بلایا تھا کہ اسرائیل میں انہیں مکمل تحفظ، سہولیات اور خوشحال زندگی میسر ہوگی، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے کے باوجود خوف اور بے بسی کا شکار ہیں۔ ایران کے لیے یہ صورتحال نسبتاً سازگار ہے کیونکہ وہ برسوں سے پابندیوں، جنگی دباؤ اور مسلسل نقصان اٹھانے کا عادی ہے۔ اس لیے کسی بڑی جنگ میں اس کے لیے نقصان برداشت کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ جنگ مزید بڑھتی ہے اور امریکہ یا دیگر ممالک براہ راست میدان میں اترتے ہیں تو پھر یہ ایک مکمل عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں ایران کے حمایت یافتہ مزاحمتی گروہ بھی بھرپور حصہ لیں گے، اور ممکنہ طور پر کئی عرب ممالک کو بھی اس تنازع میں شامل ہونا پڑے گا۔ یہ جذبے اور ٹیکنالوجی کی جنگ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جذبے لافانی ہوتے ہیں۔

عالمی ماہرین اس وقت اس بات پر متفق ہیں کہ اس کشیدگی کا فائدہ فی الحال ایران کو ہے۔ اور اگر جنگ رک بھی جائے تو ایران اس پوری صورتحال میں خود کو ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر منوا چکا ہو گا۔ اور گو بہت سی حکومتوں کی نہ سہی لیکن دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر چکا ہے۔ اس دہشت گرد ڈائن کے اس گھر سے نفرت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایران نے اسرائیلی بربریت کے سامنے کھڑے ہو کر سامراجیت اور طاقت کے تمام بڑے بڑے بت پاش پاش کر دیے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر دفاع پاکستان نے ایران سے تاریخ ساز یکجہتی کا اظہار کر کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔

Facebook Comments HS