دو عقلمند


چنے خان اور منے خان کا نام تو دوستوں کی زبانی بہت سنا تھا مگر اُن سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ لیکن جس دوست سے بھی ان کا سُنا اُس نے ان لفاظ میں تعریف کی کہ ”جہاں عام انسان کی سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کی سوچ شروع ہوتی ہے“ ۔ میرے اندر اُن سے ملنے کا اشتیاق حد سے بڑھ رہا تھا مگر شومئی قسمت کہ ابھی تک ملاقات کی کوئی سبیل پیدا نہ ہو سکی تھی۔ لیکن ایک دن جب ہم سب دوست ایک بیٹھک میں اکٹھے لوڈو کھیلتے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے، کہ اس دوران یہ نوائے حزیں میرے کانوں میں گونجی کہ چنے خان، منے خان تشریف لا رہے ہیں۔ ہم نے فوراً لوڈو کو تہہ کر کے ایک طرف رکھا اور ایک قطار میں کھڑے ہو کر اُن کے استقبال کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ دونوں دوست اس شانِ بے نیازی کے ساتھ بیٹھک میں جلوہ افروز ہوئے کہ ہر ایک نے منہ میں سگریٹ سلگا رکھا تھا جس کا دھواں ہوا میں بکھرنے کی بجائے اُن کے چہروں پر پڑ رہا تھا جس سے یوں لگتا تھا کہ ریلوے کے دو سٹیم انجن ہیں جو بھاپ خارج کر رہے ہیں۔ اس کے بعد اُن کو نہایت عزت کے ساتھ گاؤ تکیے لگا کر بٹھایا گیا اور ہم سب اُن کے سامنے دو زانو ہو کر یوں بیٹھ گئے جیسے درس و تدریس کا کوئی حلقہ جما ہے۔

چنے خان جی! ہمارے ایک دوست نے گفتگو کا آغاز فرمایا، ”جی بسم اللہ کراں“ ، چنے خان نے میٹھی زبان میں جواب دیا۔ ”چنے خان جی ایک بڑا مشکل سوال ہے جو آج تک دنیا کے کسی سائنسدان سے حل نہیں ہوا۔ سو ہم نے سوچا کہ آپ سے پوچھا جائے“ ۔ میں دوست کی سنجیدگی کو دیکھ کر بھانپ گیا تھا کہ بہت ہی علمی سوال ہو گا۔ ”لو جی سائنسدان کو ہم کیا جانیں۔ آپ ہم سے پوچھیں۔ کیوں منے خان“ ۔ منے خان نے بھی سن کر اثبات میں سر ہلایا۔ ”چنے خان جی یہ بتائیں کہ مصر میں جو پیرامڈ ہیں وہ کیسے بنے؟“ سوال سن کر پہلے چنے خان اور پھر منے خان نے کھانسی کی پھر ایک دوسرے کی طرف عجیب انداز سے دیکھنے کے بعد چنے خان کچھ یوں بولے، ”دیکھو میرے عزیز! مصر والے پہلے یہ پیرامڈ بیسن سے بنا رہے تھے۔ جیسے ہی اُنہوں نے بیسن والے پیرامڈ توے پر فرائی کیے تو ٹوٹ گئے۔ اب وہ سب پریشان کہ اس کا حل کیا ہو۔ بس جی وہاں ایک پاکستانی تک جب بات پہنچی تو اُس نے میرا اور منے خان کا بتایا کہ اُن سے مشورہ کرو“ ۔ ہم سب سنجیدگی سے سر جھکائے سن رہے تھے، ”اچھا تو پھر آپ وہاں مصر گئے تھے مشورہ دینے؟“ دوسرے دوست نے پوچھا۔ ”ارے نہیں بھائی! ہمارے پاس اتنا وقت کہاں۔ مصر والے یہاں آئے تھے ہمارے گھر۔ وہ جب آئے تو میں نے بتایا کہ پیرامڈ بیسن سے نہیں میدے سے بنتے ہیں۔ لو جی اُنہوں نے اس بار جب میدے سے بنائے تو بالکل صحیح سلامت بنے“ ۔ ہم سب نے بہت مشکل سے ہنسی روکی تاکہ اُنہیں شک نہ ہو۔ اس سوال کے بعد منے خان کی جانب ہم متوجہ ہوئے اور اُن سے پوچھا کہ انسان نہانے کے بعد گیلا کیوں ہو جاتا ہے۔ تو منے خان نے بتایا کہ اس کا سبب پانی ہے۔ لہذا اگر ہم لوگ نہاتے ہوئے پانی استعمال نہ کریں تو ہمارا جسم گیلا ہونے سے بچ سکتا ہے۔ اس علمی محفل میں مجھ سے بھی جب نہ رہا گیا تو میں نے بھی پوچھا کہ مرغی پہلے آئی تھی یا انڈا۔ اس سوال کا جواب چنے خان نے یہ دیا کہ مرغی جب آئی تھی تو انڈا اُس وقت اُس کے پیٹ میں تھا لہذا یہ سوال ہی فضول ہے کہ کون پہلے آیا۔ اس طرح کے مزید کچھ علمی اور عقلی سوالات کرنے کے بعد مجھ جیسے کم فہم پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ چنے خان اور منے خان کتنے عقلمند ہیں۔ ہم نے اس پر افسوس بھی کیا کہ کاش! دنیا میں ان جیسے پانچ یا چھ عقل مند مزید ہوتے تو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔ ہمارے ایک دوست نے جو اب تک خاموش بیٹھے تھے اُنہوں نے چنے خان سے پوچھا کہ کیا چلو بھر پانی میں انسان ڈوب کے مر سکتا ہے۔ جس کے جواب میں چنے خان نے بتایا کہ ایک بار اُن کے ساتھ ایسا ہوا تھا کہ وہ خود چلو بھر پانی میں ڈوبتے ڈوبتے بچے تھے۔ ”مگر کیسے“ ۔ میں نے تجسس سے پوچھا، ”وہ کسی نے نلکا بند کر دیا تھا ورنہ میں تو اُس دن ضرور ڈوب کے مر جاتا“ ۔

اس علمی محفل کے بعد چائے کی محفل سجی جس پر دونوں صاحبان نے اپنے اپنے حالاتِ زندگی بیان کیے، مثلاً ایک مرتبہ منے خان گانے کے مقابلے میں گئے تو گانا سُن کر جج نے باقی لوگوں کو انعام دیے اور انہیں بیس جوتے مروانے کے بعد نصیحت کی آئندہ کسی کے آگے اتنی سریلی آواز میں گانا مت گانا ورنہ نظر لگے جائے گی سو اُن کی بات کو پلے باندھ کر منے خان نے گانا ترک دیا ورنہ شاید دوسرے نصرت فتح علی خان کا جنم ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں چنے خان نے اپنے عشق کی داستان بیان کی کہ جوانی میں کئی لڑکیوں نے ان کی محبت میں جان دے دی اور وہ اب باقاعدہ اُن تمام لڑکیوں کی قبر پر حاضری دے کر اُن کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ ”چنے خان جی! یہ پاکستان کس کے مشورے سے بنا تھا“ ۔ میں نے بیچ میں ایک سوال داغ دیا۔ ”میاں ویسے تو یہ کہا جاتا ہے بابا جی نے بنایا ہے مگر میں تم کو بتاؤں تو اس میں بھی میرا ہاتھ ہے۔ اصل میں ہماری پھوپھی جان جو کہ بالکل بارڈر پر رہتی تھیں وہ میری ماں سے بہت لڑتی تھیں۔ میں نے پھر اس مسئلے پر سوچنا شروع کر دیا کہ اس کا حل کیا ہو۔ انہی دنوں بابا جی نارووال غلہ منڈی میں چاول لینے آئے تھے جہاں میری اُن سے ملاقات ہو گئی۔“ ”ہیں قائد اعظم غلہ منڈی نارووال میں چاول لینے یہ کیسے ممکن ہے“ میں بیچ میں اچھل کر بول پڑا۔ ”ارے جب میدے سے پیرامڈ بن سکتے ہیں تو قائداعظم چاول لینے نارووال کیوں نہیں آسکتے۔ نارووال آنے کے لئے کون سا ویزہ درکار ہوتا ہے“ ۔ ایک دوست نے میری توجہ جب اس نکتے کی طرف دلائی تو میں اپنی عقل اور تاریخ پہ سات حرف بھیجنے کے بعد چپ ہو گیا۔ ”لو جی بابا جی پہلے تو نہیں مانے۔ مگر میں نے جب دو گلاس گڑ کے شربت پلانے کے بعد تیز پتی والی چائے الائچی ڈال کر پلائی تو بابا جی کی سوچ میرے ساتھ موافق ہو گئی۔ اب میں بابا جی کو لے کر اُس جگہ گیا جہاں میری پھوپھی کا گھر تھا۔ میں نے بابا جی کے ہاتھ سے چھڑی لے کر ایک لکیر اس طرح کھینچی کہ پھوپھی کا گھر ہندوستان میں آئے۔ بس جی اگلے دن بابا جی نے اسلام آباد جا کر پاکستان کا اعلان کر دیا اور یوں میری امی کی جان پھوپھی سے چھوٹ گئی“ ۔ اب رات بھی بہت زیادہ ہو چکی تھی اور مزید ہنسنے کی ہمت بھی نہیں رہی تو ایسے میں یہ علمی مجلس اس قرارداد کے ساتھ ختم ہوئی کہ ہر جمعرات کو چنے خان اور منے خان کے ساتھ ایسی علمی مجلس منعقد کر کے اپنے علم میں اضافہ کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS