پاک فضائیہ کا ایک افسانوی عقاب: گروپ کیپٹن سیف الاعظم
پاک فضائیہ کی تاریخ میں انتہائی حیرت انگیز فضائی معرکے سرانجام دینے والے بہت سے مایہ ناز اور دلیر لڑاکا ہواباز گزرے ہیں۔ جن میں عالمی شہرت یافتہ لڑاکا ہواباز ائر کموڈور ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) کا نام سرفہرست ہے۔ جنہوں نے ستمبر 1965 ء کی پاک و ہند جنگ کے دوران ایک ہی فضائی مشن میں سرگودھا کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے حملہ آور دشمن بھارت کے پانچ طیاروں سے تن تنہا نبرد آزما ہو کر انہیں مار گرایا تھا جس کے نتیجہ میں انہوں نے حربی ہوابازی کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
اسی طرح پاک فضائیہ کے ایک اور مایہ ناز لڑاکا ہواباز گروپ کیپٹن سیف الاعظم کا شمار بھی دنیا کے ایک جری اور افسانوی کردار کے لڑاکا ہوابازوں میں کیا جاتا ہے۔ لیکن آج سے نصف صدی قبل انجام دیے گئے ان کے زریں فضائی کارناموں سے ہماری نئی نسل واقف نہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ ائر کموڈور ایم ایم عالم اور گروپ کیپٹن سیف الاعظم دونوں کا تعلق ملک کے مشرقی حصہ، مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے تھا۔ افسانوی لڑاکا ہواباز سیف الاعظم نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران دنیا کے چار ممالک پاکستان، اردن، عراق اور بنگلہ دیش کی فضائیہ میں تقریباً تیس عشروں تک ایک ماہر اور دلیر لڑاکا ہواباز کی حیثیت سے عقابی انداز میں فضاؤں پر حکمرانی کا لوہا منوایا۔ نوجوان لڑاکا ہواباز سیف الاعظم نے 1965 کی پاک و ہند اور 1967 کی عرب اسرائیل جنگوں کے دوران زبردست حربی فنون اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کا ایک حملہ آور لڑاکا طیارہ اور اسرائیل کے چار حملہ آور لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔ گروپ کیپٹن سیف الاعظم 72 گھنٹے کے مختصر وقت میں دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں اسرائیلی لڑاکا طیارے مار گرانے والے افسانوی ہواباز کی منفرد شناخت اور تاریخی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ پاک فضائیہ نے ملک کی تاریخ میں اب تک جتنے بھی لڑاکا ہواباز تیار کیے ان سب کے درمیان سیف الاعظم اپنی ایک مخصوص جداگانہ شناخت کے حامل ہیں جو اپنی بے پناہ شجاعت اور شاندار حربی کارناموں کی بدولت اپنی زندگی میں ہی ایک افسانوی کردار بن گئے تھے۔
دنیا کے نامور لڑاکا ہواباز گروپ کیپٹن سیف الاعظم پاک فضائیہ کے لڑاکا ہوابازوں کی تربیت کے لئے قائم مشہور زمانہ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور، نوشہرہ (جسے 2017 میں پاک فضائیہ کے پہلے مسلم سربراہ ائر مارشل اصغر خان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ) کے تربیت یافتہ تھے اور مختلف فضائی معرکوں کے دوران ان کی دشمن کے خلاف غیر معمولی کارکردگی اور بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرنے کے اعتراف میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ جرات، مملکت ہاشمیہ اردن کی طرف سے ”وسام الاستقلال“ اور جمہوریہ عراق کی جانب ”نوت الشجاع“ کے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم نے ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک فضائیہ کی جانب سے ہندوستان کی فضاؤں میں داخل ہو کر زمینی حملوں کے 12 مشن میں حصہ لیا تھا اور اس دوران انہوں نے اپنی فضائی حربی مہارت اور عسکری ہنر کی بدولت بہادری کے بے شمار جوہر دکھائے اور اپنے اہدافی فضائی حملوں میں بھارتی افواج کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔ سیف الاعظم نے دوران جنگ فضاء میں بھارتی فضائیہ کے ایک حملہ آور لڑاکا جنگی طیارہ کے پرخچے اڑا دیے تھے جسے لڑاکا ہواباز ونگ کمانڈر مایا دیو اڑا رہا تھا۔ اس شاندار کارنامہ کے اعتراف میں فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کو ملک کا تیسرا بڑا فوجی اعزاز ستارہ جرات عطا کیا گیا تھا۔ مایہ ناز لڑاکا ہواباز سیف الاعظم نے اپنے ہوابازی کے کیریئر کے دوران تقریباً تیس عشروں تک دنیا کے چار ممالک کی فضاؤں میں بڑی شجاعت اور بہادری کے ساتھ اپنی فضائی حکمرانی برقرار رکھی اور فضائی معرکوں کی تاریخ میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
سیف الاعظم کی ولادت 11 ستمبر 1941 ء کو پبنہ مشرقی بنگال، برطانوی ہندوستان میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے بچپن کا کچھ وقت کلکتہ مغربی بنگال میں گزارا اور وہ 1947 ء میں آزادی وطن کے بعد اپنے گھرانے کے ساتھ ہجرت کر کے مشرقی پاکستان آ گئے تھے۔ سیف الاعظم کو اوائل عمری سے ہی جنگی ہوابازی سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے پاک فضائیہ میں شمولیت کے لئے صرف 18 برس کی عمر میں مشرقی پاکستان میں اپنے گھر کو چھوڑ دیا تھا۔ چونکہ ہوابازی کا شوق سیف الاعظم کی جبلت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ لہذا وہ مشرقی پاکستان میں اپنی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1955 ء میں مزید تعلیم کے حصول اور دل میں لڑاکا ہواباز بننے کی خواہش لئے مغربی پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے پاکستان ائر فورس کالج سرگودھا میں داخلہ حاصل کیا اور 1958 ء میں پاکستان ائرفورس اکیڈمی رسالپور میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ پاک فضائیہ اکیڈمی میں اپنی ہوابازی کی تربیت 1930۔ 40 کی دہائی کے امریکی ساختہ مشکل سمجھے جانے والے لڑاکا طیارہ HAWARD کے ذریعہ مکمل کر رہے تھے۔ ان کی ہوابازی کے گر سیکھنے کی غیر معمولی لگن اور جذبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے انسٹرکٹر بخوبی جانتے تھے کہ سیف الاعظم کا مقدر قطار میں سب سے اوپر کا ہے اور ان کی منزل ایک غیر معمولی لڑکا ہواباز بننا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طیارہ کے کاک پٹ میں بیٹھتے ہی ان کے جسم میں گویا ایک بجلی سی کوند جایا کرتی تھے۔ سیف الاعظم پاکستان ائر فورس کالج سرگودھا میں فضائی حکمت عملی اور لڑاکا ہوابازی کی ضروری تربیت مکمل کرنے کے بعد 1960 ء میں پاک فضائیہ میں جنرل ڈیوٹی پائلٹGD (P) کی حیثیت سے کمیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کو پاک فضائیہ میں سیسناT۔ 37 تربیتی طیارہ پر ابتدائی فضائی تربیت مکمل کرنے اور ہوابازی کے بنیادی اسرار و رموز سیکھنے کے بعد ایڈوانسڈ فائٹر کورس کی تربیت حاصل کرنے کے لئے ایریزونا، امریکہ میں واقع مشہور زمانہ فضائی تربیتی مرکز لیوک ائر فورس بیس بھیجا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے دوران تربیت T۔ 33 F۔ 86 اور F۔ 86 سیبر لڑاکا طیارے بڑی مہارت کے ساتھ اڑائے جس کے اعتراف میں آپ کو امریکی فضائیہ کی جانب سے Top Gun کا امتیازی لقب دیا گیا تھا۔ وطن واپسی پر آپ کو پاک فضائیہ کے ایلائٹ اسکواڈرن نمبر 14 میں آپریشنل فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے تعینات کر دیا گیا تھا۔ یہاں تعیناتی کے دوران سیف الاعظم کی پیشہ ورانہ مہارت، نرم مزاجی اور فرائض سے لگن کو بے حد سراہا گیا اور ان کی کافی عزت افزائی کی گئی۔ 1963 ء میں سیف الاعظم کو مختصر عرصہ کے لئے ڈھاکہ، مشرقی پاکستان اور ماری پور ہوائی اڈہ کراچی میں پاک فضائیہ کے نمبر 2 اسکواڈرن میں زیر تربیت لڑاکا ہوابازوں کو T۔ 33 لڑاکا طیاروں کی تربیت فراہم کرنے کے لئے ملٹری فلائٹ انسٹرکٹر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا۔
6 ستمبر 1965 ء کو پڑوسی ملک بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔ جس کے پر بھارت کے جارحانہ تیور بھانپتے ہوئے پاک فضائیہ کے معروف زمانہ اسکواڈرن نمبر 17 کے دس سیبر طیاروں کو سرگودھا کے فضائی اڈہ پر تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فضائیہ کا اسکواڈرن نمبر 17 وطن کی فضاؤں کی نگرانی اور حفاظت کے لئے ایک بے حد درخشاں اور قابل فخر تاریخ کا حامل ہے۔ پاک فضائیہ کے اس مایہ ناز لڑاکا اسکواڈرن کی تشکیل یکم اپریل 1957 ء کو کراچی کے قدیمی فوجی فضائی اڈہ ماڑی پور (موجودہ پی اے ایٖف بیس مسرور ) پر عمل میں آئی تھی۔ اسکواڈرن نمبر 17 کو پاک فضائیہ کے ایک غیر معمولی صلاحیت کے حامل لڑاکا اسکواڈرن میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد وطن کی فضاؤں میں اپنی فضائی بالا دستی قائم رکھنا ہے۔ اس اسکواڈرن کا نصب العین ہے ”ضرب مرہ کوہ شکن“ اور اس اسکواڈرن کی شناختی علامت بنگال کا ٹائیگر ہے۔ ماضی میں پاک فضائیہ کے کئی نامور اور مایہ ناز لڑاکا ہواباز اسکواڈرن نمبر 17 سے وابستہ رہے ہیں جو پاکستانی شاہینوں کے شہر سرگودھا کی آغوش میں آباد تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم نے پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 17 کا ایک اہم حصہ ہوتے ہوئے پاکستان ائرفورس بیس سرگودھا سے F۔ 86 سیبر طیارہ کے ساتھ جنگ ستمبر میں بھرپور طور پر شرکت کی تھی۔ لڑاکا ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم، شاہینوں کے شہر سرگودھا کے فضائی اڈہ سے پرواز کر کے عظیم لڑاکا ہواباز اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم اور دیگر شاہینوں کی مانند حملہ آور بھارتی فضائیہ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے تھے۔
جب ستمبر 1965 ء کی پاک و ہند جنگ کا آغاز ہوا تو پاک فضائیہ کے بیشتر سے لڑاکا ہواباز عسکری مہم جوئی کے لئے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ F۔ 86 سیبر لڑاکا طیارے اڑا رہے تھے جو لڑاکا ہوابازوں کو دوران پرواز آزادی اور مسرت کا احساس دلاتے تھے۔ 19 ستمبر 1965 ء کو دوران جنگ بھارتی سرزمین پر ایک کامیاب زمینی حملہ کے مشن سے واپسی پر فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم اور اس کے ساتھی ہوابازوں نے دشمن کے نمبر 9 اسکواڈرن کے برطانوی ساختہ Folland Gnat انٹرسیپٹرز کی چار لڑاکا طیاروں پر مشتمل ایک ٹکڑی کو پاکستانی فضاؤں میں داخل ہوتے دیکھا۔ جو غالباً پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو اپنا تر لقمہ سمجھتے ہوئے نہایت تیزی کے ساتھ پاکستانی فضاؤں میں داخل ہوئی ہو رہی تھی۔ ان کے تیور بھانپ کر فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم اور ساتھی ہوابازوں نے دشمن کے مداخلت کاران چاروں لڑاکا طیاروں سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فضائی معرکہ کے دوران ایک بھارتی لڑاکا طیارہ سب سے پہلے سیف الاعظم کے ہدف پر آ گیا اس سے پہلے کہ وہ ان پر حملہ کرتا اسے حملہ کرنا تو کجا، موقع سے جان بچا کر بھاگنے کا موقعہ تک نہ مل سکا اور پاک فضائیہ کے شاہین سیف الاعظم نے اپنی بھرپور حربی مہارت سے دلیرانہ کارروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے اس لڑاکا طیارہ کو فوراً مار گرایا جبکہ دوسرے حملہ آور طیارہ نے اپنے ساتھی ہواباز کا حشر دیکھ کر حملہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے نہایت تیزی کے ساتھ مقابلہ سے راہ فرار اختیار کرنے پر اپنی جان بخشی میں ہی عافیت جانی۔ اگرچہ سیف الاعظم کے ہاتھوں تباہ ہونے والے طیارہ کا ہواباز ونگ کمانڈر وی ایم مایا دیو پیراشوٹ کے ذریعہ کود کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن بالآخر وہ زمین پر موجود پاکستانی فوجی دستوں کے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران زبردست جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ان کی فضاؤں میں تمام حفاظتی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے داخل ہو کر زمینی حملوں کے 12 فضائی مشن میں حصہ لیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں بھارتی افواج کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کی جنگ ستمبر 1965 ءکے دوران ملک کی فضائی سرحدوں کی نگہبانی اور دشمن کے مداخلت کار لڑاکا طیاروں سے نمٹنے اور ایک لڑاکا طیارہ کو مار گرانے کی غیر معمولی خدمات اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے کے اعتراف میں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز ستارہ جرات سے نوازا گیا تھا۔ پاک بھارت سترہ روزہ جنگ کے اختتام پر انہوں نے 1966 ء میں پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 2 میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
اسی دوران دنیا کے ایک اور خطہ مشرق وسطیٰ پر بھی جنگ کے بادل منڈلانے لگے تھے، جہاں چھڑنے والی عرب اسرائیل جنگ کے آغاز سے تقریباً پانچ ماہ قبل پاک فضائیہ کے 25 سالہ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم 21 جون 1966 ء کو ایک خاتون وکیل نشاط آراء کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھ گئے تھے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے والدین سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ قبل اس کے کہ حکومت انہیں فضائی خدمات کے لئے مملکت ہاشمیہ اردن بھیج دے وہ شادی کا فریضہ سر انجام دینا چاہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ نشاط آراء بتاتی ہیں کہ ہم اپنی شادی کے دوسرے دن ہی مغربی پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔ جہاں سے ہمارا ایک ساتھ اردن جانے کا ارادہ تھا لیکن اس دوران حکام کی جانب سے سیف الاعظم کو بتایا کہ اردن کے اس فضائی اڈہ پر فیملی کے لئے کوئی رہائشی سہولیات دستیاب نہیں تو میں نے پھر وہیں قیام کا فیصلہ کیا تھا۔ کیونکہ میں اپنی والدہ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھی اس دوران سیف الاعظم اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے عمان، اردن چلے گئے تھے۔
چونکہ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم پاک بھارت جنگ کے دوران دشمن کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرانے کے بعد جنگی ہوابازوں کی دنیا میں ایک بہادر اور مایہ ناز لڑاکا ہواباز کی شہرت حاصل کرچکے تھے کہ اسی دوران 1966 ء کے آخر میں پاک فضائیہ کی جانب سے ان کی خدمات تکنیکی مشیر کی حیثیت سے برادر ملک مملکت ہاشمیہ اردن کی شاہی فضائیہ کو مستعار دیدی گئی تھیں جہاں انہوں نے اردن کی شاہی فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 1 میں شمولیت اختیار کی تھی۔
5 جون 1967 ء کو جب دوسری عرب اسرائیل جنگ کا آغاز ہوا تو اس دن اسرائیلی فضائیہ نے نہایت سرعت کے ساتھ تابڑ توڑ فضائی حملے کرتے ہوئے تقریباً دو تہائی مصری اور شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو پرواز سے قبل ہی شدید بمباری کر کے ان کے ہوائی اڈوں پر تباہ کر دیا تھا جس کے باعث ان دونوں ممالک کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے لئے بے حد غیر محفوظ صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔ پاک فضائی کے مایہ ناز لڑاکا ہواباز سیف الاعظم اردن میں اپنی تعیناتی کے دوران ایک بار پھر فضاؤں میں خود کو لڑاکا ہوابازوں میں نمایاں رکھے ہوئے تھے۔ اس چھ روزہ مختصر جنگ کے دوران سیف الاعظم نے ایک فضائی معرکہ کے دوران ایک اسرائیلی حملہ آور برطانوی ساختہ Hunter لڑاکا طیارہ کو اپنی حربی صلاحیتوں اور مہارت کے زور پر فضاء میں مار گرایا تھا اور فرار ہوتے دوسرے اسرائیلی لڑاکا طیارہ کو اپنے طیارہ سے زبردست فائرنگ اور توپوں کے گولوں سے ہدف کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاہ دھویں کے مرغولہ میں تبدیل کر دیا تھا۔ خواہ کیسے ہی ناسازگار اور مشکل ترین حالات ہوں لیکن پاک فضائیہ کے دلیر لڑاکا ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم دشمن کے جوابی حملہ کے خوف اور اپنی جان کو لاحق سخت خطرات کے باوجود انتہائی جارحانہ انداز میں اپنی پرواز اڑایا کرتے تھے۔ ہواباز سیف الاعظم کی ایک اور خاص مہارت اپنے ہدف پر درست درست نشانہ بازی کے ذریعہ بھاری فائرنگ اور گولہ باری کرنا بھی شامل تھی۔ جس کے نتیجہ میں ان کے شکار کو کبھی بھی ان کی مضبوط گرفت سے بچ نکلنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ جب سیف الاعظم نے شاہی اردنی فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 1 کے ایک لڑاکا طیارہ کو اڑاتے ہوئے اپنے پہلے اسرائیلی لڑاکا طیارہ کو شکار کیا تھا تو انہوں نے اپنا یہ عظیم کارنامہ کسی اور ہواباز کی معاونت کے بغیر تن تنہا ہی انجام دیا تھا۔ معرکہ کے آغاز میں گراؤنڈ کنٹرولر نے اعلان کیا کہ دشمن کا ایک طیارہ تیزی سے ان کی جانب بڑھ رہا ہے، آپ خبردار رہیں۔ سیف الاعظم نے بھی دشمن کے طیارہ کو اپنے عقب میں آتے دیکھ لیا تھا اور سوچا تھا کہ اب شاید ان کے لئے اس کے حملہ کی دسترس سے باہر نکلنا مشکل معلوم ہو رہا ہے۔ وقت کم تھا اور اب انہیں چشم زدن میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ قسمت سے کون باقی بچے گا اور کون نہیں! ۔ لیکن شاید اسرائیلی لڑاکا طیارہ کے ہواباز کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا پالا کسی اور سے نہیں بلکہ دنیا کے ایک انتہائی خطر ناک اور مایہ ناز لڑاکا ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم سے پڑنے والا ہے اور پھر سیف الاعظم نے اپنے دشمن ہواباز کو سنبھلنے کا کوئی موقع دیے بغیر اپنی مخصوص فضائی حربی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر شدید فائرنگ کر کے مار گرایا۔ 1967 ء میں اردن کی فضاؤں میں انجام دیے گئے اس شاندار فضائی معرکہ میں کامیابی کے بعد مملکت ہاشمیہ اردن کے بادشاہ، شاہ حسین بن طلال نے عراق کو بھی اپنی فضائیہ کے چند لڑاکا ہوابازوں کی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جن کا ملک بھی اب اسرائیل کے خلاف فضائی جنگ میں شامل ہو گیا تھا۔ اپنے آئندہ فضائی مشن کے دوران فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کو مزید اسرائیلی حملہ آور میراج طیارے مار گرانے کے اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کا موقع ملا۔ اسی دوران ایک اور فضائی مشن کے دوران سیف الاعظم نے اپنے طیارہ کو موڑتے ہوئے اپنی چھٹی حس اور عقابی نگاہوں سے محسوس کیا کہ ایک اسرائیلی حملہ آور لڑاکا میراج طیارہ ابھی تک ان کے دائیں جانب حرکت کر رہا ہے۔ لہذاء سیف الاعظم فوری طور پر خود کو منظم اور تیار کر کے نہایت تیز رفتاری سے اس میراج طیارہ کے تعاقب میں لگ گئے اور بالآخر اپنی فائرنگ رینج کی انتہائی حدوں پر اسے جا لیا۔ اب دشمن کے حملہ آور میراج طیارہ کو مجبوراً سیف الاعظم کے لڑاکا طیارہ کی مہلک توپوں کا سامنا کرنا تھا۔ چنانچہ سیف الاعظم نے بسم اللہ پڑھتے ہی دو سیکنڈ کے لئے اپنے طیارہ کی مشین گنوں کی لبلبی دبائی اور ان کی برسائی ہوئی سینکڑوں گولیاں مربع طور پر دشمن کے طیارہ کے پروں پر لگنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کے لڑاکا طیارہ کے دھاتی حصہ سے تیزی سے شعلے سے چمکے اور میراج طیارہ اچانک آگ کے سرخ گولہ میں تبدیل ہو گیا۔ لیکن اس طیارہ کا اسرائیلی ہواباز کیپٹنDror بٹن دبا کر پیرا شوٹ کے ذریعہ کودنے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور بعد ازاں زمین پر تعینات عراقی فوجی عملہ کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ اس کے بعد سیف الاعظم نے اپنے انتہائی تیز رفتار طیارہ کا توازن اور اس کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے عقب میں آنے والے ایک اور اسرائیلی لڑاکا طیارہ کو اپنے طیارہ سے محض 200 فٹ کے فاصلہ پر پرواز کرتے دیکھا۔ اس موقع پر لڑاکا ہواباز سیف الاعظم نے اپنی جان اور اپنے طیارہ کی حفاظت کو سخت خطرہ میں ڈالتے ہوئے اور دشمن کے لئے کوئی بھی موقع ضائع کیے بغیر اس پر اپنے طیارہ کی گنوں سے زبردست فائر کھول دیا اور جہاز کی توپوں کے لگاتار تین برسٹ بھی چلائے۔ جس کے نتیجہ میں یہ اسرائیلی لڑاکا طیارہ بھی ان کے پچھلے شکار کی طرح یک دم ٹکڑوں میں بکھر گیا اور اس کا جلتا ہوا ملبہ زمین کی جانب گرنے لگا۔ ان کے اس قدر نزدیک اسرائیلی لڑاکا طیارہ کے پھٹنے کے دوران سیف الاعظم کا طیارہ بھی اس قدر زور سے لرزہ کہ جیسے ان پر بھی حملہ ہوا ہو۔ اس پر سیف الاعظم نے اپنے اطمینان کے لئے ارد گرد دیکھا کہ کہیں انہیں تو نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن یہ ان کا گمان ثابت ہوا اور وہ خدا کے فضل و کرم سے اس معرکہ کے دوران بالکل محفوظ و مامون رہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان تمام خطرناک فضائی معرکوں کے دوران لڑاکا ہواباز سیف الاعظم کو کبھی کوئی گزند تک نہیں پہنچا۔
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم دنیا کے وہ واحد لڑاکا ہواباز تھے جنہوں نے مملکت ہاشمیہ اردن اور عراق کی فضاؤں میں اردنی شاہی فضائیہ کا ایک ہاکر ہنٹر لڑاکا طیارہ اڑاتے ہوئے اور اپنی بھرپور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور اسرائیلی فضائیہ کے ایکDassault Mystere سپر سانک جنگی طیارہ کو مار گرایا تھا۔ جس کا شمار اس دور کے ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ لڑاکا طیارہ میں کیا جاتا تھا۔
اس معرکہ کو انجام دینے کے بعد وہ عراقی فضائیہ کی ایک بیس میں منتقل ہو گئے تھے اور اس دن مغربی عراق کے اس فضائی اڈہ پر اسرائیلی فضائیہ کا یہ تیسرا حملہ تھا۔ ایسے میں جب فرانسیسی ساختہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں میراج اور Vautours پر سوار اسرائیلی سورما لڑاکا ہواباز اس موقع پر کسی مصری ہواباز سے اپنے مقابلہ کی توقع کر رہے تھے لیکن سوئے اتفاق سے یہاں ان کا مقابلہ پاک فضائیہ کے مایہ ناز لڑاکا ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم سے تھا جنہوں نے دشمن ہواباز کا ناپاک منصوبہ بھانپ لیا تھا۔ یہ فرانسیسی ساختہ طیارے خاص طور پر بمباری کرنے، دشمن کے حملہ آور طیاروں کو روکنے اور جارحانہ حملہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم 1949 ء کا برطانوی ساختہ سب سانک ہنٹر ہاکر لڑاکا طیارہ اڑا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے اس فضائی معرکہ کے دوران دو اسرائیلی حملہ آور لڑاکا طیاروں Vautour 11 A اور Dassault Mirage IIا کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں اپنی توپوں کا ہدف بنا کر مار گرایا تھا۔ اس طرح لڑاکا ہواباز سیف الاعظم نے چھ روزہ مختصر وقت کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران صرف 72 گھنٹوں میں چار اسرائیلی حملہ آور لڑاکا طیارے مار گرا کر ایک عالمی ریکارڈ قائم کر کے دنیا کی فضائی حرب کی تاریخ میں اپنا نام بلند کیا تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کے اس عظیم اور فقید المثال کارنامہ پر انہیں مملکت اردن کی جانب سے ”وسام الاستقلال“ اور جمہوریہ عراق کی جانب سے بہادری کے اعلیٰ اعزاز ”نوت الشجاع“ سے نوازا گیا تھا۔ بعد ازاں سیف الاعظم مملکت اردن اور عراق میں دو برس تک نمایاں فضائی خدمات انجام دینے اور ان دونوں ممالک کے فضائی دفاع میں اپنے غیر معمولی اور ناقابل فراموش کارناموں کی سنہری یادیں چھوڑنے کے بعد وطن واپس آ گئے تھے۔
پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ لڑاکا ہواباز فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کو جنگی طیاروں کا ایک منفرد اور یکتا ہنر اور امتیازی خصوصیت حاصل تھیں جس کی بناء پر انہیں اکا میں اکا (Ace of Aces) بھی کہا جاتا تھا۔ لڑاکا ہواباز سیف الاعظم کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں 2005 ء میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں منعقدہ دنیا بھر کے لڑاکا ہوابازوں کی عالمی تنظیم ایگلز فاؤنڈیشن کے اجتماع میں Living Eagle ”زندہ عقاب“ کا نمایاں اعزاز عطا کیا گیا تھا۔
فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم نے 1960 ء سے 1971 ء تک پاک فضائیہ میں مختلف کلیدی عسکری عہدوں پر نمایاں خدمات انجام دیں اور اپنے فقید المثال جنگی کارناموں کی بدولت دنیا میں پاکستان کا نام فخر سے سربلند کیا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سیف الاعظم نے اپنی خدمات نوزائیدہ ملک بنگلہ دیش کو سونپ دی تھیں۔ جہاں انہوں نے بنگلہ دیشی فضائیہ میں 1971 ء سے 1979 ء تک نمایاں خدمات انجام دیں۔ گروپ کیپٹن سیف الاعظم 1982 ء تا 1984 ء اور پھر 1987 ء تا 1988 ء کے دوران بنگلہ دیش سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیئرمین کے منصب پر فائز رہے اور بنگلہ دیشی فضائیہ سے گروپ کیپٹن کے عہدہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کاروبار کی دنیا میں بھی قدم رکھا تھا اور اپنی اہلیہ کی شراکت داری میں ایک ٹریڈنگ کمپنی اور ٹریول ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ بعد ازاں وہ سیاست کے شعبہ میں بھی سرگرم رہے اور 1991 ء تا 1996 ء کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی جانب سے اپنے آبائی علاقہ پبنہ سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے تھے۔
گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سیف الاعظم ایک عرصہ تک اپنی اہلیہ کے ساتھ ڈھاکہ چھاؤنی کی ڈیفنس افسران ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائش پذیر رہے۔ جبکہ ان کا اکلوتا صاحبزادہ اور صاحبزادیاں ریاست ایریزونا امریکہ میں مقیم رہے۔ دنیائے ہوابازی کے مایہ ناز عالمی ہیرو گروپ کیپٹن سیف الاعظم کو عمر کے آخری حصہ میں پارکنسن کے مرض کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ رفتہ رفتہ بڑھاپے کے دیگر عوارض میں بھی مبتلا ہو گئے تھے۔ پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ مایہ ناز لڑاکا شاہین اور آسمانوں کے افسانوی عقاب، گروپ کیپٹن سیف الاعظم نے طویل بیماری سے پامردی سے لڑتے ہوئے بالآخر 14، جون 2020 ءکمبائنڈ ملٹری اسپتال ڈھاکہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھیں موند لیں۔ ان کے جسد خاکی کی تدفین ڈھاکہ چھاؤنی کے شاہین قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ عمل میں آئی جس میں اعلیٰ سرکاری حکام، سیاستدانوں کے علاوہ ہزاروں افراد نے بھی شرکت کی اور اپنے عظیم ہیرو کو اشک بار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا۔
گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سیف الاعظم کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ نشاط آراء نے اپنے شریک حیات لڑاکا ہواباز کی جانب سے مملکت اردن اور عراق میں جنگی خدمات انجام دینے کے دوران چار اسرائیلی طیاروں کے مار گرائے جانے کے تاریخی واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے اخبار عرب نیوز کو بتایا تھا کہ وہ اپنی شادی کے تین ماہ بعد اپنے شوہر کے ساتھ مملکت اردن چلی گئی تھیں۔ جہاں ان کے شوہر کی اردنی شاہی فضائیہ میں ایک لڑاکا ہواباز کی حیثیت سے تعیناتی ہوئی تھی۔ یہ 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دنوں کی بات ہے۔ جس کے دوران اسرائیل نے یروشلم کے پرانے شہر اور مملکت اردن کے اطراف درجن بھر فلسطینی گاؤں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ ہم میاں بیوی ان دنوں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے بچنے کے لئے اردن کی مرفق ائر بیس کی ایک زیر زمین پناہ گاہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک دن جب سیف الا عظم ایک زبردست فضائی مشن سے کامیاب واپس آئے تو وہ بے حد پریشان لگ رہے تھے جب میں نے ان سے پریشانی کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے مجھے انتہائی دکھ کے ساتھ بتایا کہ آج کے فضائی معرکہ میں ان کے اردنی فضائیہ کے گہرے دوست فیراس (Feras) اسرائیلی بمباری کے نتیجہ میں شہید ہو گئے ہیں۔ نشاط آراء نے اس یادگار واقعہ کے بارے مزید بتایا کہ اگلے دن جب سیف الاعظم حسب معمول عراقی فضائی بیس سے اپنے فضائی مشن پر گئے تو انہوں نے اس دوران ایک فضائی معرکہ میں اپنے عزیز اردنی لڑاکا ہواباز دوست فیراس کی شہادت کا بدلہ لیتے ہوئے ایک ساتھ دو اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے۔ ”نشاط آراء کے مطابق سیف الاعظم کو اپنے عزیز اردنی لڑاکا ہواباز دوست فیراس سے کس قدر گہرا اور جذباتی لگاؤ تھا کہ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب ہمارے ہاں پہلے بچہ کی ولادت ہوئی تو سیف الاعظم نے اپنے مرحوم دوست کی یاد میں اپنے نومولود بیٹے کا نام فیراس رکھا تھا۔ بعد ازاں ہماری دو بچیاں انیلہ اور آنیہ پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی اہلیہ نشاط آراء کا کہنا ہے کہ ان کے شریک حیات اور مایہ ناز لڑاکا ہواباز سیف الاعظم کے لئے ایک لحاظ سے آسمان ان کا دوسرا گھر تھا۔ جب بھی وہ لڑاکا طیارے اڑاتے تو بہت خوش ہوا کرتے تھے۔ اعظم کی طبیعت میں بلند آسمانوں پر اپنے دشمن ہوابازوں سے بہادرانہ گھمسان کی لڑائی کی وجہ سے ان کی پہلی محبت ہمیشہ جنگی ہوابازی ہی رہی۔ البتہ وہ ایک جاں نثار شوہر، والد اور سب سے بڑھ کر وہ دوستوں کے دوست تھے۔
گروپ کیپٹن سیف الاعظم کی وفات پر پاک فضائیہ کی جانب سے اپنے تربیت یافتہ مایہ ناز ہواباز سیف الاعظم کی وفات پر جاری تعزیتی بیان میں پاک فضائیہ کے سربراہ ائر مارشل مجاہد انور خان نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تھا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جنگ ستمبر اور عرب اسرائیل جنگ کے دوران ان کی غیر معمولی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کے جرات مندانہ کارناموں کو سراہا تھا۔ پاکستانی ائر چیف کا کہنا تھا کہ سیف الاعظم دنیا کے ایک غیر معمولی لڑاکا ہواباز تھے جن کا آج تک کوئی ثانی نہیں وہ لڑاکا ہوابازی میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی بہادری کے لئے ہمیشہ یاد رہیں گے۔ پاک فضائیہ کو اپنے بہادر سپوت کے شاندار کارناموں پر فخر ہے۔ پاک فضائیہ کی ویب سائٹ پر فلائیٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کو ”زندہ عقاب“ کا لقب دیا گیا ہے۔ پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ عظیم بطل جلیل گروپ کیپٹن سیف الاعظم کی وفات کے بعد بنگلہ دیش کے علاوہ مملکت اردن کے ولی عہد حسن بن طلال اور فلسطینی عوام نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی اردن اور عراق کی سرزمین کے تحفظ کے لئے چار لڑاکا اسرائیلی طیاروں کو نیست و نابود کرنے کی غیر معمولی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا۔ دنیا کے عظیم لڑاکا ہواباز گروپ کیپٹن سیف الاعظم کے سوگواران میں ان اہل خانہ کے علاوہ پاکستان، اردن، عراق، فلسطین اور بنگلہ دیش کے عوام کے علاوہ دنیا بھر کی فضائیہ سے وابستہ ہزاروں لڑاکا ہواباز بھی شامل ہیں۔






The article is having lots of wrong information or better say incomplete and inconsistently narrated information
Its difficult to count but let me try to recall
The Trainer aircraft PAF cadets fly to get training was T-6 called as HARVARD and not Haward (name of a famous university)
–
PAF College Sargodha had nothing to do with fighter training as such an impression is assumed.
–
MM Alam was not a Bengali that is a long story. Alam’s father was Urdu speaking and
a British Govt servant . In 1947 he was posted to somewhere in Calcutta ie place nearer to East Pakistan (ie todays Bangladesh). After partition he opted to migrate Pakistan and conveniently reported East Pakistan where his family start living. Just in 5-10 years after partition, Alam got selected to RPAF Academy
His father / family remained living in East Pakistan like many other Urdu speaking families and second time migrated to Pakistan post 1972
Since his family was living in East Pak so he was often considered as Bengali which is as correct if a Urdu Speaking person born and live in Karachi is called as Sindhi
–
After great performance made by PAF pilots in 1965 war, many Muslim countries asked PAF to post this creme to their Airforces for training and motivational purposes.
In 1966, Libya, Syria, Jordan, Saudia get selected PAF officers, Jordan was the luckiest because they helped Pakistan a lot in 65 war.
Anwar Shamim, Khaqan Abbasi, Middlecoat, Sarwar Shad
many pilots went to Jordan. However, this must be remembered that they were their as Instructors and used to wear the uniform of PAF which means they cannot take part in any mission against enemy
–
When the 1967 war broke out, Saif was not supposed to fly any mission, after seeking a special permission by King Hussein with Ayub and FM Bhutto, Saif was allowed to take mission wearing Jordanian uniform and also warned not to enter in Israeli territory
–
During this ONLY mission he destroyed 2 or 3 IDF aircraft and barely landed at Mafraq Airbase (مفرق)
incorrectly mentioned in article as Marfaq
It is said that while Saif was in Air IDF aircraft destroyed the Mafraq Airbase runway making it impossible for pilots to land
Luckily Jordan still have Queen Aalia International Airport for commercial flying
Saif and his comrades landed safely
However, minutes after their landing IDF aircraft destroyed this Airport also.
After having complete Air Superiority and dominance IDF aircraft destroyed all the RJAF aircraft parked here and their on both airport
–
Now Jordan have no aircraft and no runway as well
but they have trained pilots who just destroyed IDF aircraft-
–
King Hussein first cousin Faisal-II was once the king of Iraq who was later assassinated in 1958 but King Hussein’s was still important for Iraqis
–
Hussein offered Iraqi Air Force get benefit of RJAF pilots, on affirmation these officers travelled in desert by Jeep avoiding IDF aircraft and reached Iraq in more than 24 hours
–
Iraqis were also having Hunters like RJAF thou its variant was little different they reached at night and next morning when they have not completed their breakfast and gave rest to their bodies, IDF attacked on Iraq
–
Now an International formation took off from Iraq having Iraqi, Jordanian and Pakistani pilots. Interestingly Saif was still not current on that specific Hunter yet he successfully not only flown it but cause destruction to enemy.
A memorable event was happened when Saif try to return Iraqi Airbase
He had no idea about the location of the base (as he never flew before and neither having any maps)
After trying many attempts he landed his aircraft on a hard but abandoned landing strip outside the city
–
As most of the article is lifted from Kaiser Tufail writeup, let me add that it is also said that in 1973 war (when Saif has joined BDAF) he went to take part in 1973 war from either Syria / Egypt side
just like Sattar Alvi fought for Syria in 1973 and destroyed an IDF aircraft
یہاں ایک بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ 19 ستمبر تک جنگ اپنے آخری حصے میں تھی۔ اس وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اب ستارہ جرات صرف ان ہی پائلٹس کو ملے گا جو ڈاگ فائٹ میں کم از کم دو جہاز گرائیں گے ۔
سیف کو محض ایک جہاز گرانے پر یہ اعزاز اس لئے ملا کیوں کہ لڑائی کے وقت ان کے طیارے کا رابطہ ریڈار کنٹرولر اور دوسرے ساتھیوں سے منقطع ہوگیا تھا اور انہوں نے دیویا کو تن تنہا بغیر زمینی ریڈار کی مدد سے گرایا تھا۔ اس مضمون میں دیویا کا رینک ونگ کمانڈر لکھا ہے جب کہ حادثے کے وقت دیویا محض فلائنگ آفیسر تھا۔