جب عورت منہ پھٹ بنتی ہے: معاشرتی تلخیوں کا عکس
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں عورت کو پردے، حیاء، نرمی اور بردباری کا پیکر سمجھا جاتا ہے وہاں ایک منہ پھٹ یا سخت لہجے والی عورت لوگوں کے لیے کسی عجیب مخلوق سے کم نہیں ہوتی۔ اسے فوراً ناپسندیدہ، بدتمیز، تربیت سے عاری اور ضدی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک عورت ایسی بن کیوں جاتی ہے؟ آخر کیا مجبوری ہوتی ہے کہ وہ عورت جسے صبر اور خاموشی کی تعلیم دی گئی ہو وہی عورت تلخ لہجہ اپنا لیتی ہے اور ہر بات پر بولنے لگتی ہے؟ اس سوال کا جواب شاید ہر اس عورت کے دل میں دفن ہے جس نے زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر خود کو اکیلا پایا ہو جب اسے لگا ہو کہ اس کے لیے بولنے والا کوئی نہیں۔
جب ایک لڑکی کو شروع سے یہی سکھایا جائے کہ وہ نازک ہے، کمزور ہے اور اس کے بھائی، باپ یا شوہر اس کے محافظ ہیں تو وہ اپنے تحفظ کے لیے انہی پر بھروسا کرتی ہے۔ لیکن وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور اکثر وہ محافظ پیچھے ہٹ جاتے ہیں تو پھر وہی لڑکی جو کل تک خاموش رہتی تھی بولنا سیکھتی ہے اور معاشرہ جو اس کی خاموشی کو پسند کرتا تھا اس کی آواز سے گھبرا جاتا ہے۔ یہ عورت جب بولتی ہے تو اسے بدتمیز کہا جاتا ہے۔ جب وہ اپنا حق مانگتی ہے تو اسے گستاخ کہا جاتا ہے۔ جب وہ غلط کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو اسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جو ہماری سوسائٹی میں اکثر عورتوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔
بسوں میں سفر کرنے والی خواتین جنہیں اکثر مرد حضرات دھکے دیتے ہیں، گھورتے ہیں یا طنز کرتے ہیں جب وہ ان حرکتوں پر احتجاج کرتی ہیں تو لوگ الٹا انہی کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ بعض دفعہ مردانہ آواز میں بولا جاتا ہے ”بی بی آرام سے بات کرو“ اصل ظلم کو چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔ لیکن عورت کو اگر ہر روز یہ سب سہنا پڑے تو اس کا لہجہ نرم کیسے رہ سکتا ہے؟ وہ بولے گی، جھگڑے گی اور دوسروں کو برا بھی لگے گا۔ لیکن اسے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اگر اس نے آواز نہ اٹھائی تو شاید کوئی دوسرا بھی نہیں اٹھائے گا۔
اسی طرح بازاروں اور دکانوں میں عورتوں کے ساتھ ہونے والا رویہ بھی کوئی نیا نہیں۔ اکثر دکاندار عورتوں کو کمزور سمجھ کر غیر معیاری اشیاء دے دیتے ہیں یا زیادہ پیسے لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب عورت سوال کرے، دلیل دے، یا غصے سے بولے تو فوراً اردگرد کے لوگ اسے بد لحاظ کہنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر وہ خاموش رہے تو اس کا نقصان طے ہے۔ ایسے میں وہ خود ہی اپنا حق لینے کا ہنر سیکھتی ہے اور اسی ہنر کو دنیا بدتمیزی کہتی ہے۔
روزمرہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالیں بھی بتاتی ہیں کہ عورت کیوں سخت ہو جاتی ہے۔ جیسے ورک پلیس پر جب عورت کو بار بار کام کے لیے ٹالا جاتا ہے یا اسے جان بوجھ کر پریشان کیا جاتا ہے تو ایک دن وہ چپ نہیں رہتی۔ جب وہ اپنی بات مضبوطی سے کہتی ہے تو ساتھ کام کرنے والے مرد اسے ”زیادہ سمجھدار“ بننے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ اسے برداشت نہیں کرتے کہ ایک عورت برابر کا حق مانگے۔ اگر وہ نرم بولے تو اسے کمزور سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ سخت بولے تو بدتمیز۔ اسی طرح اگر ورک پلیس پر صرف خواتین ہوں تب بھی جب ایک عورت سے نا انصافی کی جاتی ہے، اس سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، اسے استعمال کیا جاتا ہے، اسے نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے یا اسے اس کے اچھے کاموں پر سراہا نہیں جاتا یا جب اسے اس کے کیے کام کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا تب بھی اسے منہ پھٹ اور بدتمیز بن کر اپنے حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے چاہے اس پر بدتمیز اور بد تہذیب کا ٹھپا ہی کیوں نہ لگ جائے۔
یہی حال گھریلو زندگی کا بھی ہے۔ ایک عورت جو دن رات گھر سنبھالتی ہے، بچوں کو پالتی ہے، شوہر اور سسرال والوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتی ہے وہ بھی اگر کسی دن اپنی مرضی یا خوشی کی بات کرے تو اسے ”منہ پھٹ“ کہا جاتا ہے۔ جب شوہر بیوی کو اپنے حق سے محروم رکھے اور سسرال والے طعنوں سے اس کا دل دکھائیں تو وہ آخر کب تک چپ رہے گی؟ اگر شوہر اس کی بات نہ سنے، باپ بھائی دور ہوں تو وہ خود ہی اپنے لیے بولنے لگتی ہے۔ یہ بولنا کوئی شوق نہیں یہ مجبوری ہے۔
یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ عورت کی آواز اس کی خودداری کی علامت ہے، اس کی عزت کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ یہ تلخ لہجہ، یہ سخت رویہ، دراصل معاشرے کی ان زیادتیوں کا ردعمل ہے جو برسوں سے عورت کے ساتھ روا رکھی گئی ہیں اور جب وہ ان زیادتیوں کے خلاف بولتی ہے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں ہر اس عورت کے لیے بولتی ہے جو اب تک خاموش رہی ہے۔
عورت منہ پھٹ تب بنتی ہے جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو جاتی ہے۔ جب وہ دیکھتی ہے کہ اس کے حق کے لیے نہ کوئی آواز اٹھاتا ہے، نہ انصاف ملتا ہے، نہ اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تب وہ خود آواز بن جاتی ہے اور جب وہ اپنی آواز بنتی ہے تو معاشرہ اسے چپ کرانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ معاشرہ ایسی مزاحمت پسند عورت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ لیکن اب عورت رکنے والی نہیں ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اگر اس نے خود کو نہ سنبھالا تو کوئی اسے نہیں سنبھالے گا۔
یہ ضروری ہے کہ ہم عورت کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کی تلخی کے پیچھے کی کہانی سنیں، اس کے دکھ کو محسوس کریں۔ کیونکہ جب وہ بولتی ہے تو اس کی ہر بات کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ اور کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور چھپی ہوتی ہے۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ عورت نرم، محبت بھری اور پُرامن رہے تو ہمیں اس کے لیے ایک ایسا معاشرہ بنانا ہو گا جہاں اس کے لیے انصاف ہو، تحفظ ہو اور اس کے جذبات کی قدر ہو۔ جہاں جب وہ کسی مسئلے کی نشاندہی کرے تو اسے سنا جائے اور مسئلہ حل کیا جائے، الزام نہ دیا جائے۔ جہاں اس کے رشتے دار، اس کے گھر کے مرد اس کے ساتھ کھڑے ہوں نہ کہ اسے اکیلا چھوڑ کر معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ عورت کی زبان تلخ نہیں، اس کا وقت تلخ ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عورت کا لہجہ نرم ہو، اس کی آنکھوں میں سکون اور اس کے چہرے پر اعتماد ہو تو ہمیں اس کے لیے ایسا ماحول بنانا ہو گا جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھے۔ ورنہ جب تک عورت خود اپنے حق کے لیے لڑتی رہے گی تب تک اس کا بولنا دنیا کو برا لگتا رہے گا اور وہ عورت، جو خاموش رہ کر معاشرے کی عزت بننا چاہتی تھی وہی عورت، بول کر خود کو عزت دلانا سیکھ جائے گی۔


