ایک جانب ٹیرف کی جنگ اور ایک جانب صفر ٹیرف


امریکہ میں ہونے والے گزشتہ انتخابات کے ابھی نتائج ہی آئے تھے کہ صدارت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملات پر ایسے بیانات دیے کہ عالمی معیشت مشکلات کا شکار ہو گئی۔ وہ وقت ہے اور آج، امریکہ چین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ ٹیرف جنگ سے پیدا ہونے والے مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ مسائل ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ ایسے وقت میں جب دنیا ٹیرف کا نام سنتے ہی ڈر جاتی ہے اور گمان یہی ہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پھر کسی ملک پر نئے ٹیرف کا اعلان ہونے جا رہا ہے، چین کی جانب سے ایک صدا بلند ہوئی ہے۔ یہ صدا ٹیرف لگانے کی نہیں بلکہ ٹیرف ختم کرنے کی ہے۔ بر اعظم افریقہ میں 53 ایسے ممالک کی مصنوعات پر صفر ٹیرف، جن کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔

یہ اعلان بیجنگ میں ہونے والے چین افریقہ تعاون فورم 2024 میں ہوا۔ 50 سے زائد افریقی ممالک کے رہنما اور افریقی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت والے اس اجلاس میں چین اور افریقہ دوستانہ تعاون پر تبادلہ خیال کرنے، اعلی سطحی چین افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لئے ایک نیا خاکہ تیار کرنے اور ”گلوبل ساؤتھ“ میں یکجہتی اور تعاون کا ایک نیا باب لکھنے کے لئے تمام فریق جمع ہوئے تھے۔ 2015، 2018 اور 2021 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے چین افریقہ تعاون فورم میں ”دس بڑے تعاون منصوبوں“ ، ”آٹھ بڑے اقدامات“ اور ”نو پروجیکٹس“ پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا۔

11 جون کو چین افریقہ تعاون فورم کے نتائج کے نفاذ کے لئے کو آڈینیٹرز کا وزارتی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے نام چینی صدر شی جن پھنگ نے مبارکباد کا پیغام بھیجا اور اعلان کیا کہ چین افریقہ میں سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 ممالک کی مصنوعات پر صفر ٹیرف نافذ کرے گا۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اجلاس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور چین کی طرف سے چین افریقہ تعاون کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لئے پانچ نکاتی تجویز بھی پیش کی۔ فریقین نے گلوبل ساؤتھ کے اتحاد اور تعاون کے تحفظ کے لئے چھانگ شا اعلامیہ جاری کیا اور چین افریقہ تعاون فورم کے بیجنگ سربراہ اجلاس کے نتائج کے نفاذ کی فہرست اور 2026 کے ’چین افریقہ ثقافتی تبادلوں کے سال‘ کی تصوراتی دستاویز جاری کی۔

چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے چار ماہ میں چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی حجم 103.1 ارب امریکی ڈالر رہا، جو سال بہ سال 8.1 فیصد کا اضافہ ہے۔ اس سال کے پہلے چار ماہ میں چین نے افریقہ میں 830 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی، افریقہ میں منصوبوں کے لئے 20.67 بلین امریکی ڈالر کے نئے معاہدوں پر دستخط کیے، اور 11.26 بلین امریکی ڈالر کا کاروباری حجم حاصل کیا۔ 2024 ء میں چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی حجم 295.56 بلین امریکی ڈالر کی ریکارڈ بلندی تک جا پہنچا تھا اور یوں چین مسلسل 16 سالوں سے افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ 2024 کے اختتام تک چین نے افریقہ میں مجموعی طور پر 1.2137 ٹریلین امریکی ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جس سے 754.4 بلین امریکی ڈالر کا کاروباری حجم حاصل ہوا۔

حالیہ برسوں میں چین اور افریقہ کے تعلقات میں بے پناہ ترقی دیکھی گئی ہے۔ چین نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تجارت اور سرمایہ کاری جیسے مختلف حوالوں میں افریقہ کے ساتھ اپنا تعاون بڑھایا ہے۔ چین افریقہ تعاون میں ایک بڑی رائے اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی وجہ سے اسے مثبت طور پر دیکھتے ہیں جبکہ کچھ کے مطابق قرض کی پائیداری، ماحولیاتی اثرات اور لیبر کے طریقوں کے بارے میں کئی خدشات ہیں جن کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ چین نے پورے افریقہ میں متعدد بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تعاون کیا ہے، جو براعظم کی ترقی میں معاون رہا ہے۔ کچھ قابل ذکر منصوبوں میں ریلوے، سڑکیں، بندرگاہیں اور ہوائی اڈوں کی تعمیر شامل ہے۔ مثال کے طور پر کینیا، ایتھوپیا اور نائیجیریا جیسے ممالک میں چین جدید ریلوے نظام کی تعمیر میں شامل رہا ہے۔ اس کے علاوہ چینی کمپنیاں براعظم میں نقل و حمل اور رابطوں کو بڑھانے کے لیے مختلف افریقی ممالک میں شاہراہوں، پلوں اور بندرگاہوں کی تعمیر میں سرگرم رہی ہیں۔ ان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور افریقہ میں تجارت اور ترقی کو آسان بنانا ہے۔

دنیا کو شاید اسی رویے کی ضرورت ہے جو اس وقت چین کا افریقہ کے ساتھ ہے۔ غریب پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے احساس محرومی اور ضروریات کی عدم دستیابی میں انہیں وہ مواقع میسر آئیں جہاں وہ اپنی خصوصیات اور اپنے ترقی کے راستے کا ادراک کرسکیں اور اس پر چل سکیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مقصد میں چین کی طرح کے کسی ایک بڑے ملک پر ساری ذمہ داری نہیں عائد کی جا سکتی بلکہ سب کو اخلاص کے ساتھ اپنا اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا اور زمین کے اس بڑے خطے اور ایک بڑی آبادی والے علاقے کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS