شبانہ


 ’مولانا آپ نے شبینے تو بہت دیکھ رکھے ہوں گے، آج شبانہ کو دیکھیے‘

میں نے احترام الحق تھانوی صاحب سے شبانہ اعظمی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، مولانا جو کراچی کی نصف شب میں سر پر چار کونی کلف لگی ٹوپی، سفید براق لباس مین ناقابل یقین حد تک سیاہ لشکتی ہوئی ڈاڑھی، سرمہ لگی روشن انکھوں اور اپنے بوٹا سے قد کے ساتھ ہماری محفل میں شامل ہوئے تھے۔

 ’بھئی یہ تو شبانہ ہیں اور ہم روزانہ ہیں‘ مولانا نے چہک کر کہا،

 ’واہ مولانا‘ میں نے مولانا کی حاضر جوابی سے متاثر ہوتے ہوئے کہا، ’بخدا آپ کا تو باطن بھی اسی قدر روشن ہے جتنا ظاہر‘

مولانا نے شبانہ جی کے ساتھ ایک تصویر کھنچوائی اور ادب آداب کرتے رخصت ہو گئے۔

یہ ایک نہ بھولنے والی رات تھی، 1989 میں شبانہ اعظمی جمیل دہلوی کی فلم The immaculate conception میں کام کرنے پاکستان تشریف لائیں تھیں، میں اسی زمانے میں اپنی فلم فنکار گلی بنا رہا تھا۔ جمیل کا مقامی پروڈیوسر احسن چوہدری جسے میں پیار سے پنڈت کہتا تھا میری فلم کا بھی پروڈیوسر تھا۔ تقریباً ہر شام پنڈت کے گھر ہماری محفل جمتی۔ میں جمیل کی سکرپٹ کے اردو کے مکالمے لکھ رہا تھا۔ اس میں ایک پاکستانی جرنلسٹ خاتون کا بھی رول تھا جس کے ایک انگریز کے ساتھ تعلقات بنتے ہیں اور وہ اسے پاکستان کے کچھ خفیہ راز بتاتی ہے۔ رول کوئی زیادہ اہم نہیں تھا لیکن اس کے لیے جمیل نے شبانہ اعظمی کو کاسٹ کیا تھا۔ جب شبانہ کراچی تشریف لائیں تو ہر آدمی ان سے ملنا چاہتا تھا، بڑے رئیس زادے اور سیاست دان انہیں گھر بلانا چاہتے تھے۔ ایک دن جمیل نے مجھ سے کہا، ’تم شبانہ کو ملنا چاہتے ہو؟‘ میں نے شبانہ کی کچھ فلمیں دیکھی ہوئی تھیں خاص طور پر جنہیں شیام بینیگل نے ڈائریکٹ کیا تھا اور ان میں مجھے ان کی اداکاری بہت پسند آئی تھی۔ میں شبانہ جی کا مداح تو ضرور تھا لیکن میں کبھی کسی مشہور شخصیت کو زندگی میں نہ تو خواہ مخواہ ملا تھا اور نہ ملنا چاہتا تھا۔ میں نے کہا ’اگر وہ اسی طرح جیسے یہاں تم بیٹھے ہو ہمارے ساتھ بیٹھی ہوں تو کوئی حرج نہیں لیکن میں ان سے خاص طور پر نہیں ملنا چاہتا‘

جمیل نے کہا میں اسے تمہارے بارے میں بتا دوں گا وہ تمہارے ساتھ مل لے گی۔ میں نے اسے پھر کہا، ’یار میں اس کو اس طرح نہیں ملنا چاہتا، اتفاقاً ملاقات ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ‘ اس پر پنڈت نے کہا، ’بکواس نہ کرو، میں بھی اس سے ملنا چاہتا ہوں، ہم دونوں اکٹھے چلیں گے۔ میں خود تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا، ‘

کراچی شہر میں شبانہ کا والہانہ استقبال کیا جا رہا تھا، روزانہ وہ کسی نہ کسی ڈنر پارٹی میں بلائی جاتیں، ان کے ساتھ تصویریں کھنچوائی جاتیں اور ان کو سر انکھوں پر بٹھایا جاتا۔ دوسرے دن جمیل نے کہا شبانہ سے اس کی بات ہو گئی ہے تم لوگ رات گیارہ بجے اسے پارٹی سے لے کر کہیں اکیلے بیٹھ کر گپ شپ کر لینا۔

پنڈت شام کو نہا دھو کر خوب تیاری کے ساتھ مجھے کار میں بٹھا کر ایک عالی شان بنگلے میں لے گیا، میں نے کہا تم اندر جاؤ اور شبانہ جی کو لے آؤ، میں گاڑٰی کے اندر ہی بیٹھا ہوں‘۔ تھوڑی دیر بعد شبانہ جی نیلی ساڑھی میں ملبوس پاؤں میں اونچی ایڑیاں پہنے باہر آ گئیں اور کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ کوئی خاص تعارف نہ ہوا، بس گاڑی کراچی کی کشادہ سڑکوں پر چل پڑی، چاروں طرف سانیو، فلپس ٹی وی، پیناسونک اور ایسی کئی کمپنیوں کے بڑے بڑے اشتہار نیون سائنز میں چکا چوند پیدا کر رہے تھے۔ یک دم پچھلی سیٹ سے آواز آئی

 ’Why you Pakistani people are so colonial?‘

( ’تم پاکستانی لوگ اتنے کلونیل کیوں ہو؟‘) میں شبانہ جی کے لہجے اور طرز تخاطب پر حیران ہوا، ’یہ تم‘ ’پاکستانی لوگ‘، ’کلونیل‘؟

اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی بولتا انہوں نے پھر فرمایا

What are these multinationals doing here? Why don’t you throw them out‘

 ’یہ ملٹی نیشل کمپنیوں کے اشتہار یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ ان کو اپنے ملک سے باہر کیوں نہیں نکالتے‘ )

ہم دونوں بالکل خاموش رہے، یوں لگا جیسے وہ کوئی بیگم ہیں اور ہم ان کے دو ملازم ہیں جنہیں ڈانٹا جا رہا ہے۔ میرے ذہن میں تھا کہ ہم ان سے کوئی فلموں کی باتیں کریں گے، کچھ ادب اور کلچر کے بارے میں گپ شپ کریں گے لیکن وہ تو کسی اور ہی موڈ میں تھیں

 ’Where are the slums of this city?‘

تھوڑی دیر بعد پھر بولیں، ’اس شہر کی غریب آبادیاں کہاں ہیں؟‘ (یاد رہے کہ یہ سب گفتگو وہ انگریزی یعنی ایک نوآبادیاتی زبان میں کر رہی ہیں۔ )

 ’ وہ ان بلڈنگز کے پیچھے ہیں‘ پنڈت نے ڈرتے ڈرتے بلند عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،

 ’So you have pushed them behind these tall buildings?‘

 ’اچھا تو آپ لوگوں نے انہیں ان اونچی بلڈنگوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے! ‘ ایک اور ڈانٹ پڑی۔

اپنے ملک سے محبت سبھی کو ہوتی ہے، لیکن اس کو بہانہ بنا کر کسی دوسرے ملک کو نیچا دکھانا کم ازکم ایک آرٹسٹ کو زیب نہیں دیتا۔ بھارت سے بہت سے فنکار پاکستان آ چکے ہیں، دلیپ کمار، اوم پوری، نصیرالدین شاہ، شیام بینیگل اور کئی ادیب اور شاعر جیسے شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی صاحب، میں نے ان میں سے کسی کو بھی پاکستان کے بارے میں اتنی ہٹ دھرمی کے ساتھ بات کرتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح ہمارے بہت سے فنکار، ادیب شاعر بھارت جا چکے ہیں، فیض صاحب، احمد فراز، نور جہاں، مہدی حسن اور بہت سے اور جنہوں نے ہمیشہ امن، انسان دوستی اور محبت کا پیغام دیا ہے لیکن افسوس کچھ ایسے کم ظرف بھارتی بھی ہیں جو باہر کے ملکوں میں اور بھارت میں کسی نہ کسی طرح ہمیں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل میں تو ہندوستان ایک ہی ہے لیکن ہم پاکستانیوں نے بلاوجہ اپنی ایک الگ ڈیڑھ انچ کی مسجد بنا لی ہے۔

میرے ساتھ اکثر ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے ایک چھوٹا سا واقعہ یوں ہے کہ مجھے اوسلو ناروے کی آرٹس کونسل میں انگریزی میں تھیٹر پرایک مقالہ پڑھنا تھا۔ اس کانفرنس کے ناظرین میں نارویجینز کے ساتھ کچھ سکھ اور بھارت کے لوگ بھی شامل تھے۔ مقالے کے بعد سوال جواب کے وقفے میں ایک بھارت کے باشندے جن کا پورا نام تو مجھے یاد نہیں بس ’دتا‘ یاد ہے۔ وہ اٹھے اور کہا، ’دیکھیں بھائی صاحب آپ کی موسیقی تو ہماری موسیقی ہے۔ آپ تو وہی گاتے ہیں جو ہم گاتے ہیں۔ ذرا اس کی وضاحت کریں‘ دتا جی کے اس سوال کا میرے مقالے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا تھا لیکن وہ حاضرین کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اصل میں تو ہم ایک ہی ہیں لیکن پاکستانیوں نے اپنا ایک الگ ملک بنا رکھا ہے۔

میں نے ان سے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ  کہا، ’بالکل جناب ہماری اور آپ کی ثقافت میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں لیکن کچھ مختلف بھی ہیں‘ اس پر وہ بضد ہو گئے اور بار بار یہی سوال دہرانے لگے، میں نے یک دم انہیں پنجابی میں کہا، ’دتا جی، قوالی ہے جے؟، کافی گا لیندے او؟، غزل ہے جے؟، گجل ای گاندے او ناں‘ (قوالی ہے آپ کے پاس؟ کافی گا لیتے ہیں آپ؟ غزل ہے؟ گجل ہی گاتے ہیں نا اپ؟) اس پر جو لوگ پنجابی سمجھتے تھے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ میں نے کہا ’دتا جی ایہہ گل میں پنجابی وچ ایس لیٔ کہہ رہیا اں جے ایتھے باہر دے ملکاں دے لوگ وی بیٹھے ہوئے نیں۔ میں نئیں چاہندا جے اوہناں نوں ایس گل دا پتہ لگے‘ ( دتا صاحب میں یہ بات میں اس لیے پنجابی زبان میں کہہ رہا ہوں کہ یہاں باہر کے ملکوں کے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ان کو اس بات کا پتہ چلے ’) اس پر پھر ایک قہقہہ لگا۔

میری شبانہ جی سے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ہم سے دتا جیسی گفتگو فرمائیں گی، میں نے دل میں سوچا ’مانیا گل ودھ گئی اے‘ (بات بڑھ گئی ہے یعنی برداشت سے باہر ہو گئی ہے)۔ میں نے نہایت عاجزی سے ان سے کہا، ’اصل میں شبانہ جی دنیا میں جو بھی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے اسے ہر شخص حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اس پر اس کا حق بھی ہوتا ہے۔ اب ہمارے اور آپ کے ورکرز جب دوبئی جاتے ہیں تو ذرا سوچیں وہ وہاں سے کیا لانا چاہتے ہیں، یہی وی سی آر، ٹی وی سیٹس، کیمرے، اب یہ سب کچھ اگر ہم نے ایجاد کیا ہوتا تو ظاہر ہے یورپ، جاپان امریکا ہم سے یہ چیزیں خریدتے.

 ویسے بھی ہم آپ ٹیکنالوجی میں جتنی بھی ترقی کر لیں وہ آج کی بیسویں صدی میں یورپ امریکا سے کم تر اور ناپائیدار ہو گی اس لیے کہ بغیر کسی مقامی صنعتی انقلاب کے ہم ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی نہیں بنا سکتے اور جو بھی بنائیں گے اس میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور رہ جائے گا، لیکن ہم پھر بھی بھارت کو سیلوٹ کرتے ہیں کہ اس نے ان ساری غیر ملکی چیزوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اب آپ نے تو پہیا بھی دوبارہ سے ایجاد کر لیا ہے میرا مطلب ہے اپنی موٹر کار بنالی ہے، بس اس میں ایک ہی نقص ہے کہ وہ صحیح طرح موڑ نہیں کاٹ سکتی۔ میرے خیال میں بیسویں صدی میں اس طرح کا نیشنلزم Regressive اور primitive ہو گا۔ ’میرے ان لفظوں یعنی قدامت پسندی اور فرسودہ قومیت پسندی اور پہیے کی دوبارہ ایجاد پر شبانہ جی غصے میں آ گئیں لیکن جواب دیے بغیر پھر کہا

 ’I have to see the slums of this city‘

، ’مجھے اس شہر کے سلمز دیکھنے ہیں۔ ‘

 ’میں نے کہا‘ شبانہ جی غربت تو ہمارے ملک میں بھی ہے اور آپ کے ملک میں بھی، آپ نے بمبئی اور کلکتہ کے سلمز تو ضرور دیکھے ہوں گے، ان کے سامنے تو یہ آپ کو ایک خوشحال آبادی نظر آئے گی، ویسے رات کے اس وقت تو ہم وہاں ٹورسٹوں کی طرح ہی جا سکتے ہیں اور

غربت کو کار کے شیشوں کے پیچھے سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ چھوڑیں وہ کبھی ہم آپ کو دن کے وقت پیدل لے جاکر دکھا دیں گے،

میں یہاں ایک چھوٹی سی کمرشل بریک لینا چاہتا ہوں۔

شبانہ جی کے میاں جاوید اختر صاحب جو ایک پبلک انٹلکچول ہیں انہوں نے لاہور یاترا کے بعد بھارت میں ایک پریس کانفرنس میں حسب معمول اپنی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑی گہری بات کی۔ انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ ’لاہور والے کمال کے لوگ ہیں۔ میں نے سارا لاہور دیکھا مگر مجھے کوئی غریب آبادی نظر نہیں آئی، میں بہت حیران ہوا لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ لاہور والے واقعی بہت کمال کے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی غریب آبادیاں بڑی بڑی عمارتوں کے پیچھے کس خوبصورتی سے چھپا رکھیں ہیں‘

اب خبر یہ ہے کہ جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت تشریف لائے تو تاج محل کے پیچھے جتنی غریب آبادیاں تھیں ان کے گرد دیوار کھینچ دی گئی تھی۔ شاید اس خوف سے کہ ان آبادیوں کی بے تحاشا غربت کے سامنے تاج محل کا خیرہ کن حسن ماند نہ پڑ جائے۔

(بریک ختم ہوئی)

چلیے ہم آپ کو کسی ریسٹورانٹ میں اچھی سی کافی پلاتے ہیں؟ ’میں نے انہیں خوشدلی سے کہا

 ’نہیں مجھے کویٔ کافی وافی نہیں پینی،‘

 ’تو پھر آپ حکم کریں آپ کہاں جانا چاہتی ہیں‘ پنڈت نے مودب ملازم کی طرح پوچھا

 ’ہمیں آپ کی عابدہ پروین کو سننا ہے،‘

 ’واہ یہ تو کمال کی بات ہے،‘ میں نے خوش ہو کر کہا۔ ’میں ان سے بات کر کے دیکھتا ہوں‘

میری عابدہ صاحبہ اور خاص طور پر ان کے میاں شیخ غلام حسین سے بہت اچھی اور پرانی دوستی تھی، عابدہ صاحبہ نے میرا لکھا ہوا گانا بھی جمیل کی اس فلم کے لیے گایا تھا۔ پنڈت نے کسی پی سی او کے پاس گاڑی روکی اور میں نے شیخ صاحب کو فون کیا، وہ بڑے خوش ہوئے اور کہا، آپ لوگ ضرور آئیں۔ ہم آپ کے منتظر رہیں گے۔‘

اب ہم عابدہ صاحبہ کے گھر کی طرف چل پڑے۔ عابدہ صاحبہ نے شبانہ جی کا زبردست استقبال کیا، گھر کے دروازے پر پھولوں کے ہار لٹک رہے تھے اور اندر فرش پر چاندنی بچھی ہوئی تھی، جن پر خوبصورت رنگوں والے کشن اور گاؤ تکیے رکھے تھے۔ عابدہ صاحبہ نے خود شبانہ کو اور ہمیں پھولوں کے ہار پہنائے، عابدہ صاحبہ نے جلدی میں کچھ اور لوگوں کو بھی بلا لیا تھا جن میں زیادہ تر ان کے ہمسائے میں رہنے والے لوگ تھے۔ ان میں سوائے مولانا احترام الحق تھانوی کے کوئی بھی مشہور شخص نہیں تھا، بس اٹھ دس عام لوگ تھے۔ تھوڑی دیر وہاں رکنے کے بعد میں نے شبانہ جی سے کہا، ’شبانہ جی آپ یہاں عابدہ صاحبہ اور ان کے مہمانوں کے ساتھ گپ شپ کریں، ہم ذرا اوپر جا رہے ہیں۔‘

Roohi Bano

میں پنڈت اور شیخ صاحب اوپر کمرے میں چلے گئے، ایک ادھ گھنٹے میں سوائے شیخ صاحب کے جب ہم حالت سکر میں نیچے آئے تو شبانہ جی لوگوں کو انقلاب کی تعلیم دے رہی تھیں۔ انہوں نے پورا ایک سٹڈی سرکل کا ماحول بنایا ہوا تھا۔ وہ مسلسل بولے جا رہیں تھیں اور لوگ کچھ سمجھے بغیر ان کی باتیں بڑی خاموشی اور انکساری سے سن رہے تھے۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ سب لوگ کلونیل ہیں، آپ بغاوت کریں اور انقلاب لے کر آئیں ۔ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ملک سے باہر نکالیں اور ایک پراپرٹی لس Propertyless معاشرے کے لیے جد و جہد کریں۔

لگتا تھا وہ اپنے ملک سے زیادہ پاکستان میں انقلاب لانے کی فکر میں ہیں، جیسے یہاں انقلاب لانا ان کا مشن ہے، اور جیسے وہ کسی فلم میں کام نہیں کرنے آئیں بلکہ انقلاب لانے آئی ہیں۔

 ’مانیا گل ودھ گئی اے‘ میں نے دل میں پھر سوچا اور ان کے سننے والوں میں شامل ہو گیا۔ اپنی مسلسل گفتگو کے بیچ جب انہوں نے ہلکا سا وقفہ لیا تو میں نے کہا، ’،‘ واہ شبانہ جی ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کی بات ہو سکتی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک سے ایک سرگرم انقلابی فنکارہ ہم غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو بیداری اور انقلاب کا پیغام دے رہی ہیں، مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں ارہی کہ آپ اس قدر انقلابی اور اینٹی کلونیل ہوتے ہوئے بھی ہمارے ملک میں ایک کلونیل رول کر رہی ہیں۔ ’شبانہ جی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں نے جمیل کا سارا سکرپٹ پڑھا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے اسی ڈانٹ ڈپٹ کے لہجے میں کہا،

 ’How can you speak for my character?‘

( ’آپ میرے کردار کے بارے میں کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں۔ ‘ )

میں نے کہا،

 ’It‘ s not me but your character in the script speaking. ’

( یہ میں نہیں سکرپٹ میں آپ کا کردار کہہ رہا ہے‘)

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتیں میں نے یک دم لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،‘ آپ روحی بانو کو جانتے ہیں؟

 ’ہاں جی‘ وہ یک زبان خوش ہو کر بولے

Roohi Bano

آپ کے خیال میں وہ کیسی اداکارہ ہیں

 ’کمال کی اداکارہ ہیں، ان جیسا تو کوئی بھی نہیں‘، انہوں نے پھر یک زبان ہو کر کہا

 ’ھم نے تو ان کا نام نہیں سنا‘ شبانہ جی نے لاپرواہی سے کہا

 ’ شبانہ جی آپ کو بھی یہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں، بہت سے لوگوں نے آپ کا نام بھی نہیں سنا۔ آپ کو تو شیام بینیگل جیسا ہدایت کار مل گیا ورنہ بمبے کی فلموں میں تو کبھی بھی آپ کا کوئی خاص رول نہیں رہا۔ ہاں آپ کا Parallel cinema کمال کا سینما ہے، کیا زبردست فلمیں بنائی ہیں آپ لوگوں نے اور ان فلموں میں آپ کی اداکاری کمال کی ہے لیکن یہ تو آپ جانتی ہوں گی کہ آپ کا یہ متوازی سینما پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں سے متاثر ہو کر وجود میں آیا ہے۔ اس کا اعتراف تو خود بھارت والے کرتے ہیں۔ یہی وہ ڈرامے ہیں جن میں سے کئی ڈراموں میں روحی بانو نے کام کیا ہے ’اس پر وہاں بیٹھے لوگوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ شبانہ جی کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہو رہا تھا کہ اس کے بعد وہ نہیں چاہتیں کہ میں وہاں ایک منٹ بھی اور بیٹھوں اور ان کی باتوں میں مخل ہوں۔ میں نے سوچا ’مانیا ہالی اینا ای کافی اے‘ (ابھی اتنا ہی کافی ہے۔) شبانہ جی سے اجازت لی اور میں اور پنڈت پھر اوپر چلے گئے۔

جب ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد واپس آئے تو سب لوگ جا چکے تھے۔ عابدہ صاحبہ غزل گا رہی تھیں اور کمرے میں صرف وہ اور شبانہ جی تھیں۔ ہم بھی ادھر آ کر بیٹھ گئے، جب غزل ختم ہوئی تو میں نے عابدہ جی سے کہا، عابدہ جی آپ ہمیں بلھے شاہ سنائیں‘ یک دم شبانہ جی نے کہا، ’بھئی پنجابی تو ہم نہیں سمجھتے،‘ میں نے ہنس کر کہا، دیکھیں عابدہ جی کے گانے کا ایک انداز ہے، وہ جس طرح سندھی پنجابی گاتی ہیں وہ کسی اور کے بس میں نہیں۔ وہ کوئی اور ہی دنیا ہے۔ شبانہ جی نے کہا، ’نہیں بھیٔ ہم پنجابی نہیں سنیں گے ہم تو صرف غزلیں سنیں گے۔‘ میں نے تھوڑا چھیڑنے کے موڈ میں کہا، ’میرا تو خیال تھا آپ اور آپ کے میاں دونوں کسی قسم کے لسانی تعصب سے ماورا ہیں۔ کیا آپ کے میاں جاوید اختر صاحب بھی پنجابی نہیں سمجھتے؟‘ اس پر شبانہ جی نے لپک کر کہا، ’نہیں تو، جادو تو لکھنو کے ہیں۔ ‘ میں نے کہا واہ آپ انہیں جادو کہتی ہیں، اور وہ آپ کو کیا کہتے ہیں جادوئی؟ ’اس سے پہلے کہ عابدہ جی بلھے شاہ سنائیں میں یہاں پھر ایک چھوٹی سی بریک لینا چاہتا ہوں،

اس واقعہ کے بہت برس بعد فیض صاحب کی یاد میں پاکستان ٹی وی پرایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا، مشاعرے سے پہلے جنرل مینجر کے کمرے میں، ظفر اقبال، شہزاد احمد اور میں ایک کونے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں ایک کھیس داخل ہوا، جس کے ساتھ ایک آدمی بھی چپکا ہوا تھا۔ مجھے اسے دیکھ کر بچپن کے دنوں میں ایک کھیس بیچنے والا یاد آیا جو اپنے کندھوں پر کچھ کھیسں رکھے ہاتھ میں لوہے کا گز لیے گلیوں محلوں میں آواز لگاتا پھرتا تھا، ’کھیس لے لو کھیس‘ اس ’کھیس بردوش‘ کے ہاتھ میں گز تو نہیں تھا لیکن مونہہ میں اتنی ہی لمبی زبان تھی۔ یہ وہ جادو میاں تھے جو عین میرے سامنے شہزاد احمد کے ساتھ بیٹھ گئے، میں نے ان کی طرف نہ دیکھا اور نہ ہی ہماری کوئی سلام دعا ہوئی۔

Roohi Bano

میں ظفر صاحب کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا اور ایک لمحے کے لیے بھی نہ دیکھا کہ میرے سامنے کون بیٹھا ہے، اس پر جادو میاں نے ذرا بلند آواز میں گفتگو شروع کردی، میں نے پھر بھی ان کی طرف نہیں دیکھا، ان کے لہجے میں ایک خوانچہ باز یعنی ہاکر کا آہنگ تھا، وہ کسی کا حال بھی پوچھتے تو لگتا کوئی چیز یا اپنے آپ کو بیچ رہے ہوں۔ میری اس غفلت پر وہ تھوڑا تلملائے، پہلو بدل بدل کر کبھی کھیس کو ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر رکھتے، کبھی چائے کی پیالی پر زور سے چمچہ مارتے، کبھی اسی خوانچہ باز کی طرح شعر سناتے لیکن میں ایسے کہ جیسے وہاں میرے اور ظفر صاحب کے علاوہ کوئی موجود ہی نہ ہو۔ آخر تنگ آ کر وہ پیشاب کرنے کے بہانے کمرے سے باہر نکل گئے۔

جادو میاں کو میں نے پھر ایک ٹی وی کے پروگرام میں دیکھا جس میں پہلے انہوں نے اپنی شراب نوشی کی داستان سنائی اور پھر کہا ہم نے شراب نوشی سے توبہ کرلی کیوں کہ ان کے ذاتی تجربے کے مطابق آدمی شراب پی کر گدھا بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں نشے کی حالت میں انسان کی اصلیت باہر آ جاتی ہے اب ظاہر ہے اگر کسی انسان کی اصلیت گدھا ہے تو نشے کی حالت میں اس سے کوئی ناچتا ہوا مور تو نہیں نکلے گا،

پھر جادو میاں اور ان کی بیگم نے فیض صاحب کے ساتھ اپنے تعلقات کی جھوٹی سچی داستانیں سنائیں، شبانہ جی نے تو کہا کہ انقلاب کی گھٹی ان کو فیض صاحب نے گود میں بٹھا کر دی تھی۔ جادو میاں نے فیض صاحب کے خاندان پر کالا جادو کر دیا۔ انہوں نے بھی کمال دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جادو میاں کو بڑی عزت اور احترام سے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ بڑے بڑے ہوٹؒلوں میں ان کو ٹھہرایا، ان کے اعزاز میں دعوتیں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جادو میاں جہنم میں جانے کی بجائے بار بار فیض میلے کی دعوت پر پاکستان آتے رہے۔ (یاد رہے کہ ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر انہیں پاکستان یا جہنم میں جانے کی پیشکش کی جائے تو وہ جہنم جانا پسند فرمائیں گے۔ )

محمد علی جناح نے کہا تھا کہ جو مسلمان بھارت میں رہ گئے ہیں وہ اپنی ساری زندگی بھارت سے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے میں گزار دیں گے۔ جادو صاحب اپنے آپ کو سیکولر، لبرل اور تعصبات سے منزہ عالمی امن اور انسانیت کے علمبردار کہتے ہیں۔ لیکن بھارت کی وفاداری کے ثبوت میں بار بار پاکستان دشمنی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اور ان کی بیگم کہتے ہیں کہ انہیں بمبے میں ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کرائے پر گھر نہیں ملتا۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں نعرہ لگایا، ’اب آر پار ہوجانا چاہیے‘ ۔ وہ بجائے امن پسندی کی بات کرتے یا جنگ کی خوں ریزی کی مذمت کرتے، انہوں نے مودی کے بیانیے اور گودی چینل کے بیانیے میں اپنی وفاداری کا گراں قدر اضافہ کرتے ہوئے اسے مزید بڑھاوا دیا۔ شاید ان کی اس پاکستان دشمنی کے عوض اب انہیں بمبئی میں کرائے پر گھر مل جائے۔

جاوید جبار نے ایک فورم میں اس پاکستان دشمنی کا بڑی دانشمندی اور خوبصورتی سے جواب دیا تھا، اس جواب کے بعد تو جادو صاحب کو کچھ سوچ سمجھ لینا چاہیے تھا۔

چلیے کمرشل بریک ختم ہوئی۔ اب ہم واپس عابدہ صاحبہ کی محفل میں چلتے ہیں۔ میری فرمائش پر عابدہ جی نے بلھے شاہ کا کلام گانا شروع کیا، شاید وہ بھی غزلوں سے اپنی جان چھڑانا چاہتی تھیں، ان کا بھی پنجابی گانے کے لیے دل مچل رہا تھا، عابدہ جی نے کافی ’بلھے نوں پلایا کر، راتی صبح شام‘ جب گائی تو کمرے کی چھت اڑ گئی، در و دیوار نہ جانے کہاں غائب ہو گئے، ہمارا وجود بھی کہیں تحلیل ہو گیا، صرف عابدہ پروین کی آواز تھی جو چاروں طرف گونج رہی تھی، اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے۔ اس گانے کے بعد محفل ختم ہو گئی۔ شبانہ جی نے واپس اپنے ہوٹل ہمارے ساتھ جانا تھا۔ چنانچہ ہم نے عابدہ صاحبہ اور شیخ صاحب سے اجازت لی اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ شبانہ جی کا موڈ کافی بگڑا ہوا تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھی ہوئیں تھیں اور کار سے باہر صبح طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھیں، موسم خوشگوار تھا۔ میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا، ’شبانہ جی آپ کیا ناراض حسیناؤں کی طرح بیٹھی ہوئی ہیں؟‘ اس پر انہوں نے ذرا ایک ادا سے کہا، ’بس آپ سے بات کرنے کو من نہیں چاہ رہا‘

 ’اوہو کیوں؟‘

آپ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں ”

 ’ارے یہ تو آپ نے الٹی بات کردی، یہ تو آپ ہیں جو اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتی ہیں‘ میں نے ہنس کر کہا

 ’but i am a star‘

 ” مگر میں تو ایک سٹار ہوں۔ ’انہوں نے ذرا شرارتی لہجے میں فرمایا۔ غالباً انہوں نے میرے ساتھ صلح کا ارادہ باندھ لیا تھا۔ لیکن میرا ابھی تک‘ مانیا گل ودھ گئی اے، والا موڈ چل رہا تھا

 ’یار پنڈت

There is too much Star DUST here. Please open the car WINDOWS, I feel suffocated

(یہاں تو بہت سٹار ڈسٹ ہے۔ کار کے شیشے کھولو، میرا دم گھٹ رہا ہے۔) میں نے بھی شرارتاً ہنستے ہوئے کہا، اور پھر شبانہ جی ویسے سٹار تو مادھوری ڈکشٹ ہے، ریکھا ہے، آپ تو آرٹسٹ ہیں، ایک سوشلسٹ ایکٹوسٹ ”

پنڈت نے پریشان ہو کر مجھ سے کہا، ’یار تم کیا شبانہ جی سے بحث کر رہے ہو، ان کو کوئی رول شول دو‘

اس پر شبانہ جی کا بس چلتا تو وہ کار سے چھلانگ لگا دیتں لیکن ان کی مجبوری تھی کہ صبح کے اس وقت وہ کویٔ ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھیں۔ میں نے ان کا موڈ بدلنے کے لیے کہا، ’چلیں شبانہ جی ہم آپ کو ساحل سمندر سے Sunrise کا منظر دکھاتے ہیں۔‘

 ’مجھے کوئی ضرورت نہیں کسی ساحل سمندر پر کوئی منظر ونظر دیکھنے کی، میری خود جوہو بیچ پر دو Huts (ہٹس) ہیں۔ ’

 ’اوہو، شبانہ جی آپ تو ایک پراپرٹی لس (Propertyless) معاشرے کے لیے جد و جہد کر رہی ہیں، یہ دو ہٹس کی پراپرٹی کہاں سے آ گئی۔ ’اس پر وہ اور برہم ہوئیں مگر کوئی جواب نہ دیا، وہ ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں، وہاں پہنچنے تک سارے سفر میں ایک غصے بھری خاموشی طاری رہی۔ جب ہم ہوٹل میں داخل ہوئے تو میں نے ہوٹل کی عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ء کہا،

SHABANA JI, YOU WERE ASKING ME ABOUT THE SLUMS OF THIS CITY. THIS IS ONE OF OUR SLUMS

( ’شبانہ جی آپ اس شہر کے سلمز کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہ ہمارے سلمز میں سے ایک سلم ہے۔ )

شبانہ جی تیزی سے کار سے اتریں اور اس زور سے دروازہ بند کیا کہ ہوٹل کے چوکیدار بھاگتے ہوئے جمع ہو گئے، ہوٹل کے برآمدے میں وہ ایڑیاں پٹخاتی ہوئی چلی جا رہی تھیں۔ ان کی اونچی ایڑیوں کی ’پٹخ‘ ان کے جانے کے بعد بھی دیر تک سنائی دیتی رہی۔

پس نوشت۔

دوسرے دن جب ہم پنڈت کے گھر شام کو جمع ہوئے تو جمیل نے کہا، ’سرمد یار تم نے شبانہ کو کیا کہہ دیا، وہ بڑی غصے میں تھی۔‘

اچھا، کیا کہا اس نے؟

اس نے کہا ’تم نے مجھے یہ کس شخص کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ ‘

پھر تم نے کیا کہا، میں نے جمیل سے پوچھا

میں نے کہا، ’تم کیا سکول کے بچوں کی طرح مجھے شکایتیں لگا رہی ہو، تم کوئی چھوٹی بچی تو نہیں، تمہیں اس کے ساتھ خود ڈیل کرنا چاہیے تھا۔ ‘

’میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ میں شبانہ سے خاص طور پر نہیں ملنا چاہتا، اس لیے کہ جب کوئی ایسے مشہور لوگوں کو خاص طور پر ملنے کی خواہش کرتا ہے تو ان میں سے اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے ملنے والا کوئی ان کا اندھا بہرہ فین یعنی چیلا چانٹا ہے جو ان کے آٹوگراف کا بھوکا ہے یا وہ اپنی تصویر ان کے ساتھ کھنچوانا چاہتا ہے اور جو ان کی ہر اچھی بری بات کو صحیفہ سمجھ کر چومتا پھرے گا۔ شبانہ جی سے بھی اس رات یہی غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ ایسے لوگوں پر کوئی ہلکی سی بھی تنقید کر دے تو وہ آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ ‘

میں دو تین دفعہ بھارت گیا ہوں جہاں کبھی کسی جگہ پر جادو اور شبانہ بھی تھے، اور ایک دو دفعہ پاکستان میں بھی ہمارا ایک دوسرے سے سامنا ہوا ہے لیکن اس واقعے کے بعد نہ میں شبانہ اور جادو کو پہچانتا ہوں اور نہ وہ مجھے پہچانتے ہیں، وہ مجھے اس لیے نہیں پہچانتے کہ وہ مجھے خوب پہچانتے ہیں اور میں ان کو اس لیے نہیں پہچانتا کہ میں ان کو پہچاننے سے زیادہ پہچانتا ہوں۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “شبانہ

  • 16/06/2025 at 2:13 صبح
    Permalink

    چور کو پڑ گئے مور ۔

    یہ دونوں میاں بیوی تو خلیفہ وقت ہیں ہی اصل افسردگی مجھے بہت جلد چلے جانے والی سمیتا پاٹل کی تصویر دیکھ ہوئی۔ اور اس کے ساتھ دو اور اداکارائیں یاد آگئیں جو کم عمری میں ہندوستانی سنیما سے شہرت ملنے کے بعد دنیا سے چلی گئیں۔ ایک تو دیویا بھارتی جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جہاز بن کر اپنے نئے خریدے فلیٹ کی بالکونی سے اڑنے کی کوشش میں اہنی روح کو قفس عنصری سے پرواز کر بیٹھی اور
    دوسری دل ربا تامل فلموں سے ہندی فلم میں آنے والی "سوندریا” جو امیتابھ کی ہیرؤین کے طور پر سوریاونشم فلم میں بیگم امیتابھ اور کلکٹر صاحبہ بنتی ہے۔ یہ بے چاری بھی اپنے بھائی کے ساتھ نجی کمپنی کے طیارے پر بنگلور سے اڑی مگر احمد آباد حادثے کی طرح جہاز پرواز کرتے ہی زمین پر آگیا۔ اور سب مسافروں کی چتا بن گیا۔

    فیض صاحب سے پہلی ملاقات کا ذکر بیگم جادو اس طرح کرتی ہیں کہ فیض ان کے والد سے ملنے آئے تو یہ کہنے لگیں میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں۔ فیض نے پوچھا میرا کون سا شعر آپ کو سب سے اچھا لگتا ہے۔
    شبانہ بولیں۔۔۔۔۔وہ جو ہے ناں۔۔۔۔یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے!

    فیض مسکرا کر بولے لیکن دیوان غالب میں نے نہیں لکھی۔ اور اس بی بی کے طوطے اڑگئے۔

    اس زمانے میں انڈیا سے آنے والے لگ بھگ سبھی لوگ "ایک حسرت” سے پاکستان میں بکنے والے غیرملکی برانڈ اور گاڑیوں کو دیکھ کر کچھ جلتے تھے کچھ رشک کرتے اور کچھ حسد کرتے تھے۔

    شبانہ جی اگر میرے ہاتھ لگ جاتیں تو میں ان کا جادو کی بیگم سے بی جمالو رکھ دیتا۔
    وہ خاتون جو جل ککڑی ہوتی ہے اور کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتی ۔

    کبھی اب بھی آپ یا کسی کا تاکرا بی جمالو سے ہوجائے تو بصد احترام اتنا پوچھ لیجئے گا کہ اقوام متحدہ کی آپ سفیر برائے بہبود آبادی بنی ہوئی ہیں جب کہ آپ تو خود بے اولاد ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں !

    جاوید اختر کا بیٹا فرحان اختر اور بیٹی زویا اختر پہلی بیوی ہنی ایرانی کی اولاد ہیں۔ جن کو جادو نے حالت خمر میں حمار بنتے ہوئے طلاق دے دی تھی۔

    • 16/06/2025 at 5:37 صبح
      Permalink

      کیفی اعظمی کی نوجوان صاحب زادی شبانہ اعظمی نے فیض صاحب کو شعر بھی یہی سنایا تھا مگر انہوں نے ازراہ تفنن کلیات میر (میر تقی میر کے شعر) کی بجائے دیوان غالب اس لئے کہا کہ اگر شبانہ کو شاعری کی ذرا بھی عقل ہوتی تو وہ کہہ دیتی کہ نہیں یہ دیوان غالب نہیں کلیات میر کا شعر ہے۔

      ہم پاکستانی کم از کم اتنی مروت اور رواداری ضرور رکھتے ہیں کہ جب کسی کہ گھر جائیں چاہے بن بلائے۔ کوشش کرتے ہیں خالی ہاتھ نہ جائیں۔

      حقیقت یہی ہے کہ عابدہ پروین کے سامنے شبانہ اعظمی کی کوئی حیثیت نہیں۔ مشہور ہونا دوسری بات ہے ۔ شبانہ خالی ہاتھ لہراتے عابدہ پروین کے گھر جاتی ہیں اور نخرے کرتے کرتے خالی ہاتھ واپس بھی آجاتی ہیں۔ اللہ تعالی ان کو صحت دے۔

Comments are closed.