علامہ اقبال کے مکمل اردو کلام کا منظوم فارسی ترجمہ
علامہ اقبالؒ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد جب 1908 ء میں انگلستان سے واپس ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت انہیں یورپی ادبیات کی حالت بھی ویسی ہی محسوس ہوئی جیسے مشرقی ادبیات کی تھی جو اپنی تمام تر ظاہری دل فریبیوں اور دلکشیوں کے باوجود روح اور جذبے سے خالی تھیں۔ اقبال مشرقی ادبیات میں روح پیدا کرنے کے لیے کوئی ایسا وسیلہ تلاش کر رہے تھے جس کی مدد سے ادبیات میں اک نئی روح پیدا کی جائے۔ جو انسانیت کے لیے آب حیات کا کام دے سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1910 ء میں فارسی مثنوی ”اسرار خودی“ لکھنا شروع کی۔ اردو کو چھوڑ کر فارسی میں شعر لکھنے کے بارے میں لوگوں کے درمیان بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کہ اس وقت فارسی کا دائرہ وسیع تھا اور ان کا مقصد تھا کہ ان کا پیغام وسیع حلقے تک پہنچے، اقبال کا نقطۂ نظر اس کے بالکل برعکس تھا۔ اقبال نے ابتدا میں ”اسرارِ خودی“ صرف ہندوستان کے لیے لکھی تھی اور اس وقت ہندوستان میں فارسی سمجھنے والے بہت کم لوگ تھے۔ اقبال کا خیال تھا کہ وہ جو کچھ اس مثنوی میں کہنا چاہتے ہیں وہ کم سے کم حلقے تک پہنچے اس وقت ان کا خیال تھا کہ یہ مثنوی ہندوستان کی سرحدوں سے باہر نہیں جائے گی بلکہ اس کا دائرہ ہندوستان کے چند مخصوص حلقوں تک ہی محدود رہے گا، لیکن ان کا یہ گماں، صحیح ثابت نہیں ہوا اور یہ مثنوی ہندوستان کی سرحدیں عبور کر کے یورپ میں اہل دانش کا موضوع بنی۔ اس کے بعد اقبال کو فارسی کی دل کشی نے اپنی طرف ایسے کھینچا کہ وہ فارسی میں ہی شعر کہتے گے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے چھ ہزار اشعار اردو میں جبکہ نو ہزار اشعار فارسی میں لکھے۔ اقبال ایک آفاقی شاعر ہیں وہ اپنا پیغام لوگوں تک پہچانا چاہتے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ بات بات پر ملائیت، خانقائیت اور علاقائیت کے جھگڑوں میں پڑ کر اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس میں ضائع کر دیں۔ آج ان کا اُردو اور فارسی کلام یکساں طور پر سمجھا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں بہت سے لوگوں نے منظوم اور نثری تراجم کیے اور پیغام اقبال کو عام قاری کے لیے آسان بنایا۔ پلندری آزاد کشمیر سے ڈاکٹر عبدالعلیم صدیقی نے اقبال کے پورے فارسی کلام کا اردو منظوم ترجمہ کر کے اقبال کے فارسی کلام تک عام قاری کی رسائی دلائی۔
اب ضرورت اس امر کی تھی کہ کوئی علامہ اقبال کے مکمل اردو کلام کا منظوم فارسی ترجمہ کرے، اس کام، کا بِیڑا افغانستان کے عظیم فارسی شاعر ڈاکٹر محمد افسر رہبین نے اٹھایا آپ عالمی شہرت کے حامل افغان شاعر، ادیب، مترجم اور صحافی ہیں۔ آپ افغانستان میں کئی اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائر رہے اور افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت میں مجلاتی مطبوعات کے نگران کے فرائض بھی سر انجام دیے۔ مختلف اَدبی موضوعات پر آپ کی تین درجن سے زائد کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ کلیات اقبال اُردو کا منظوم فارسی ترجمہ پاکستان قوم پر بہت بڑا احسان ہے۔ یہ ترجمہ معنوی اور فنی دنوں حوالوں سے بھرپور ہے۔ اس میں کلاسیکی فارسی کے ساتھ زبان کا معاصر روزمرہ بھی استعمال ہوا جو ترجمے کی دلکشی کو چار چاند لگا رہا ہے۔ تمام تراجم اصل کلام کی بحور میں ہیں۔ اس ترجمے سے نہ صرف افغانستان کی نئی نسل مستفیض ہو سکے گی بلکہ یہ ترجمہ فارسی سمجھتے اور بولنے والوں تک شعر و فکر اقبال کے نئے پہلوؤں سے روشناس کروائے گا۔
بدقسمتی سے اس ترجمے کا مسودہ علامہ اقبال سے منسوب ایک قومی ادارے کے سرد خانے میں مدتوں محض تنگ نظری کے باعث پڑا رہا۔ چند روایتی پنڈتوں نے اس میں کیڑے ڈال کر اس ادارے سے اسے شائع نہیں ہونے دیا، ضرورت اس بات کی تھی کہ اس مسودے میں اگر کہیں کوئی جھول موجود تھا تو اسے نکال کر اسے شائع کیا جاتا، ان اداروں میں کام کرنے والے قومی خزانے اور اس قوم کے ٹیکسوں سے بے تحاشا مراعات اور تنخواہیں لیتے ہیں لیکن اعتراض محض یہ تھا کہ ”اسی گلاں کردے رہ گئے تے افغاناں دا مُنڈا بازی لے گیا“ ۔ بہرحال یہ سعادت کسی کسی کے نصیب میں ہوتی ہے۔ نہایت مبارک باد کی مستحق ہیں ڈائریکٹر اکادمی ادبیات ڈاکٹر نجیبہ عارف جنھوں نے اخلاص سے اس کام کو سمجھا اور اس ترجمے کو آکادمی ادبیات پاکستان کے پلیٹ فارم سے نہایت توجہ سے شائع کیا ہے۔ دیدہ زیب سرورق، بین الاقوامی معیار کا کاغذ، خوبصورت طباعت اور پروف کی اغلاط سے پاک ہے۔ اس عظیم کلیات کی باقاعدہ تقریب رونمائی کا اہتمام 22، اپریل 2025 ء کو اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں کیا گیا جس میں معروف امریکی محققہ، لویولا یونیورسٹی شکاگو کی پروفیسر مارسیا ہرمینسن کے علاوہ مختلف ممالک کے سفارتکاروں اور پاکستان سے چند ماہرین اقبال کو مدعو کیا گیاجس میں، میں نے بھی ڈاکٹر افسر راہبین کی خصوصی محبت پر اس تقریب میں شرکت کی یہ تقریب نہایت شاندار تھی میں نے اس کلیات کے ترجمے کے ضمن میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں اپنے عظیم دوست ڈاکٹر افسر رہبین سے استفسار کیا تو انھوں نے نہایت شفیق انداز میں بتایا کہ مجھے علامہ اقبالؒ سے ایک خاص دلبستگی ہمیشہ رہی ہے، مگر کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ اُن کے اردو کلیات کا ترجمہ کرنے کی جسارت کروں گا۔ سال 2014 میں مجھے ”یومِ اقبال“ کی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت ملی۔
لاہور میں اس موقع پر کئی پروگراموں کے علاوہ مرحوم جناب جاوید اقبال صاحب اور جناب صلاح الدین صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اسی دوران ایک دوست نے میرا تعارف کرایا اور میری ترجمہ شدہ کتب کی تعریف کی۔ جب جناب صلاح الدین صاحب کو یہ معلوم ہوا کہ میں نے ”غبارِ خاطر“ اور دیگر دو اردو کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے، تو انہوں نے مجھے علامہ اقبال کے کلیات کا تحفہ دیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر ممکن ہو تو میں اقبالؒ کے اشعار کا فارسی ترجمہ بھی کروں۔ اُن کی یہ بات میرے لیے گویا ایک عظیم ذمہ داری بن گئی۔ جب میں اپنے مقامِ تعیناتی (تہران) واپس پہنچا، تو بلا تاخیر ”بالِ جبریل“ کے ترجمے کا آغاز کیا، اور چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں اسے مکمل کر لیا۔ اس کے بعد ”ضربِ کلیم“ ، پھر ”بانگِ درا“ اور آخر میں ”ارمغانِ حجاز“ کا ترجمہ کیا۔ یہ پورا عمل دو سال تک جاری رہا۔
جہاں تک ترجمے کے طریقۂ کار کا تعلق ہے، ہم جانتے ہیں کہ شعر کا ترجمہ مکمل طور پر کرنا ایک نہایت مشکل بلکہ بعض صورتوں میں ناممکن کام ہے۔ لیکن چونکہ میں نے اقبال کے اشعار کو ایک خاص نگاہ اور اُن کی رواں، سلیس زبان کے ساتھ دیکھا، مجھے لگا کہ میں کسی حد تک اس میدان میں کامیاب ہو سکتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ نثری ترجمہ نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن منظوم ترجمہ، وہ بھی اصل بحر و وزن کو قائم رکھتے ہوئے، ایک نہایت محنت طلب اور دشوار کام ہے۔ میں کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ بعض مقامات پر مجھے اقبالؒ کے اشعار کی تفہیم میں دشواری ہوئی ہو گی، لیکن میرے لیے اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ اقبالؒ کے بیان کی خوبصورتی اور اُن کے شعری زبان کا حسن محفوظ رہے اور الحمدللہ، خود بھی محسوس کرتا ہوں اور اہلِ نقد و ادب اور فارسی زبان کے ماہر اداروں کی رائے بھی یہی ہے کہ یہ پہلو برقرار رکھا گیا ہے۔ یقیناً کوئی بھی بڑا کام بغیر محنت اور مشقت کے ممکن نہیں ہوتا۔ کلیاتِ اقبال کے ان چار مجموعوں کے ترجمے میں درج ذیل نکات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے :
1۔ ان مواقع پر جب مجھے ایسے اشعار کا سامنا ہوتا جن کے اوزان فارسی زبان میں غیر معروف یا کم رائج ہوتے، تو مجبوری کے تحت اُن اشعار کے لیے کوئی دوسرا وزن یا بحر منتخب کرنا پڑتا۔ جیسا کہ یہ شعر:
عبد الرحمٰن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس میں
یہ اشعار جو عبد الرحمٰن اول کی تصنیف سے ہیں، ’تاریخ المقری‘ میں درج ہیں مندرجہ ذیل اردو نظم ان کا آزاد ترجمہ ہے ( درخت مذکور مدینۃ الزہرا میں بویا گیا تھا)
میری آنکھوں کا نور ہے تو
میرے دل کا سرور ہے تو
اپنی وادی سے دور ہوں میں
میرے لیے نخل طور ہے تو
مغرب کی ہوا نے تجھ کو پالا
صحرائے عرب کی حور ہے تو
پردیس میں ناصبور ہوں میں
پردیس میں ناصبور ہے تو
غربت کی ہوا میں بارور ہو
ساقی تیرا نم سحر ہو
……
ای بہ چشمانم نشستہ ہمچو نور!
در دلِ من مایۀ شور و سرور
من کہ دو رم از دیار خویشتن
تو برای من شدی چون نخل طور
درہوای غرب پر وردی چہ خوش
ای بیابان عرب را بودہ حور
من بہ تنگم در دیار دیگران
ھم چو من تو نیز خَست و ناصبور
ای غریب! آباد گرد و بارور
آب نوش از دست ساقیِ سحر
***
2۔ بعض اوقات قافیہ سازی میں بھی دشواری پیش آتی تھی، کیونکہ اردو زبان میں بعض ایسے الفاظ کو آپس میں قافیہ باندھ دیا جاتا ہے، جو فارسی زبان میں اس طور پر قافیہ مانے نہیں جاتے۔ مثال کے طور پر لفظ ”سلسلہ“ کو اردو میں ”دلربا“ ، ”آشنا“ جیسے الفاظ کے ساتھ قافیہ باندھا جاتا ہے، مگر فارسی زبان میں یہ طریقہ نہ رائج ہے اور نہ ہی درست سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جب میں ایسے قوافی سے روبرو ہوتا، تو بہت کوشش کرتا کہ قافیہ کو بدل دوں۔ لیکن نیا قافیہ چننا بھی ایک آسان کام نہ تھا۔ ایسے مواقع پر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ میں اسی سوچ میں سو جاتا، لیکن کچھ دیر بعد نیم خواب یا خلسے کی حالت میں کوئی ایسا لفظ ذہن میں آتا جو قافیہ کی جگہ پر فٹ بیٹھ سکتا تھا۔ پھر میں فوراً اٹھ کر وہ لفظ نوٹ کر لیتا۔
جب اگلے دن اُسی شعر پر دوبارہ نظر ڈالتا، تو حیرت انگیز طور پر وہ نیا لفظ قافیہ کی جگہ بالکل درست اور موزوں معلوم ہوتا۔ یہ میرے لیے کسی اعجاز (معجزے ) سے کم نہ تھا۔
3۔ میں نے اپنی جانب سے حتیالامکان کوشش کی ہے کہ جب بھی کسی خاص اصطلاح یا محاورے کا سامنا ہوا، تو اُس کے لیے زبانِ مقصد میں بالکل درست اور موزوں اصطلاح تلاش کروں۔ مثلاً اردو کا محاورہ سونے پہ سہاگہ ”جس کے لیے فارسی میں“ نورٌ علیٰ نور ”کا ترجمہ سب سے قریب اور درست معادل بنتا ہے۔ ایسے کئی اور مواقع بھی پیش آئے جہاں اس طرح کی دقیق معادل سازی درکار تھی۔ ان تمام نکات کے باوجود، کہنا لازم ہے کہ شعر کا ترجمہ بھی، بالکل شعر کہنے کی طرح، خونِ جگر مانگتا ہے۔ یعنی جس طرح ایک اچھا شعر کہنا آسان نہیں، اسی طرح ایک شعر کا اچھا ترجمہ کرنا بھی دل و جان کی محنت اور گہری بصیرت کا طالب ہوتا ہے۔
ڈاکٹر افسر رہبین کا یہ کام ایک معجزاتی کام ہے، انھوں نے بالعموم فارسی سمجھنے والوں اور بالخصوص اپنی قوم کو ایک عظیم تحفہ دیا ہے۔ کشمیر، افغانستان، ترکی اور ایران میں اقبال کو جو پذیرائی مل رہی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ ترکوں نے اقبال کا علامتی مزار بنا کر اس سے خودی کی حرارت لی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ دنیا میں ایک خوددار اور باوقار قوم کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ہم نے اقبال کو لاہور میں دفن کر کے اس کی تعلیمات کو بھی دفنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اقبال کے نام پر بننے والے اداروں اور شعبہ جات پر متمکن افراد محض زبانی اعداد و شمار اور گفتار کے غازی ہیں عملی طور پر دیکھا جائے تو محض ذاتی تشہیر، اعلیٰ سطحی ذاتی تعلقات بنانے، سیر سپاٹے، کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے۔ اگر کوئی اہل جنوں میں سے اخلاص کے بل بوتے پراور عملی طور پر کچھ کرنے کے لیے عزم بھی کرتا ہے تو یہ مجاور اپنی نالائقی چھانے کے لیے اس کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں پیش پیش ہیں۔
افسر رہبین، آپ کی سوچ اور لگن کو سلام، کہ آپ نے ہم پاکستانیوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ کلیات اردو کو منظوم کلیات فارسی کے قالب میں ڈھال کر ثابت کیا ہے کہ عزم اگر بلند ہو تو راستے کے پہاڑ بھی سمٹ کر رائی بن جاتے ہیں۔ میری صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان اور دیگر متعلق افراد سے استدعا ہے کہ ڈاکٹر افسر رہبین کے اس عظیم کام پر انہیں بین الاقوامی صدارتی اقبال ایوارڈ پیش کیا جائے۔ وہ اس اعزاز کے ہر لحاظ سے حق دار ہیں۔ اس کے ساتھ میری روایتی اور دائمی اقبال شناسوں سے گزارش ہے کہ وہ دوسرے کے کام میں روڑے اٹکانے کی بجائے ان کے راستے ہموار کریں آسانیاں پیدا کریں دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے خود کچھ کر کے دکھائیں تاکہ اقبال فہمی کا دائرہ وسیع سے وسیع ہو سکے۔




