15 جون کو فادرز ڈے منایا جاتا ہے۔ اس میں لوگ مختلف طرح سے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عموماً اس کو روایتی طرز سے منایا جاتا رہا ہے کہ لوگ اپنے والد کو تحائف، پھول اور کارڈ اچھے الفاظ کے ساتھ مزین کر کے پیش کرتے ہیں۔ اب لوگ مختلف طرح کے باپوں کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جیسے وہ باپ جنہوں نے مس کیرج میں اپنے بچوں کو کھو دیا یا جنہوں نے مختلف حادثوں میں بچوں کو کھو دیا یا وہ جو خود زندگی سے ہار گئے لیکن اس فادرز ڈے میں ان باپوں کے بارے میں بات کروں گی جو اکلوتی بیٹی کے باپ ہیں۔ اس لیے کہ روایتی معاشروں میں بے اولاد جوڑے کے بعد جس جوڑے کو سن سے زیادہ معاشرے کے منفی رویے اور جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ والدین کا یہ گروہ ہوتا ہے جن کی صرف ایک بیٹی ہوتی ہے۔

اس میں عورت کی تو شامت ہوتی ہی ہوتی ہے، مرد کے اوپر عجیب و غریب طرح کا پریشر ہوتا ہے۔ ایسے جیسے ایک بیٹی کوئی عجوبہ ہے اور اس عجوبہ کی عجائبات کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ ایک لڑکا پیدا کریں۔ اس سب سے میری واقفیت اور اس رویے کا احساس مجھے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ میرے والد خود اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں اور میری والدہ پر تو معاشرے کی طرف سے پریشر تھا۔ ہی تھا کہ اور بچے ہونے چاہیے اور اکلوتی بیٹی جیسے کوئی بیماری ہے جس کا علاج اور بچے پیدا کر کے کیا جا سکتا ہے۔ میرے والد کو عجیب و غریب رویے کا سامنا کرنا پڑتا اور خود مجھے بھی۔ میرے والدین نے اور خاص طور پر میرے والد نے کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اُن کے اور بچے نہیں ہیں۔ لیکن اکثر میرے والد کو میرے سامنے ہی جو دعا دی جاتی وہ یہ تھی کہ اللہ آپ کو بیٹا دے کبھی وہ چپ ہو جاتے اور کبھی کہتے کہ آپ میری بیٹی کے لیے دعا کریں۔

آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ ایک روایتی معاشرے میں یہ اچنبھے کی بات ہے کہ آپ کی ایک بیٹی ہو اور آپ اس کے ساتھ خوش اور مطمئن ہوں جو سب سے عام مشورہ ہوتا تھا۔ وہ تھا کہ آپ دوسری شادی کر لیں مجھے اپنے والد کا قہقہہ ابھی بھی یاد ہے کہ وہ ہنس کر کہتے اور پھر بیٹا نہ ہو تو تیسری چوتھی کر لوں بس یہی کام کروں لیکن جس پر وہ دکھی ہو جاتے تھے، وہ تھا کہ یہ بیٹی ہے، اس کی شادی ہو جائے گی، یہ آپ کو چھوڑ کے چلی جائے گی لیکن میرے والد کو لگتا تھا کہ ان سے زیادہ میں دکھی ہو جاتی ہوں یہ بات سن کر اور ایک دن اُنہوں نے مجھے بلایا اور مجھے کوئی دس پندرہ اپنے قریبی جاننے والے گنوائے جن کے بیٹے شادی کے بعد ان سے الگ رہتے تھے جس پڑھنے اور کام کرنے کے لیے کہیں اور ملک چلے گئے اور آخر میں انہوں نے کہا کہ ”سارہ والدین کی ساری ریاضت کا ثمر یہ ہوتا ہے کہ ان کے بچے اپنے پاؤں پر انڈیپینڈنٹ کھڑے ہونا اور زندگی گزارنا سیکھیں میں نہیں چاہتا کہ آپ میرے گھٹنے سے لگ کر زندگی گزاریں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ پاکستان سے جانا چاہتی ہیں اور میں آپ کے اس فیصلے میں آپ کے ساتھ ہوں“ اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

لوگ جب ان کو گھر داماد کا مشورہ دیتے تھے تو وہ جواب دیتے تھے کہ ”میں نے یتیم خانہ نہیں کھولا ہوا اگر کوئی شخص انڈیپینڈنٹ رہنا نہیں افورڈ کر سکتا تو اس کو میں اپنی بیٹی کیوں دوں۔“ اس وقت مجھے اپنے ابا کی ان باتوں پر غصہ آتا تھا کہ وہ ہر وقت مجھے اپنے سے الگ کرنے کے لیے تیار کیوں رہتے ہیں۔ میں تو ملک سے باہر جانے کے پلان میں بھی ان کو شامل رکھتی ہوں اور یہ مجھے اپنے ساتھ گھر میں رکھنے کو تیار نہیں۔ آج جب میں اپنی ایموشنل فیز اور عمر سے باہر آ چکی ہوں اور خود رشتوں میں والدین کے رشتے پہ ہوں تو ان کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور ساتھ ہی دکھ ہوتا ہے کہ ان کو کس قسم کے پریشر کا سامنا کرنا پڑا، صرف اس لیے کہ وہ ایک مسوجینسٹ مرد نہیں تھے۔ وہ اپنی بیوی سے محبت کرتے تھے اور اپنی بیٹی کے ساتھ خوش تھے۔ وہ جانوروں کی طرح سے ری پروڈکشن کے حامی نہیں تھے بلکہ وہ اتنے ہی بچے پیدا کرنے کے حق میں تھے جتنی انسان کی استطاعت ہو اور اس دکھ میں اس وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے جب میں یہ سوچتی ہوں کہ میری طرح کی اور بیٹیاں اور میرے بابا کی طرح اگر باپ ہوں گے جو خاموشی سے پدرسری معاشرے کا یہ مینٹل ٹارچر برداشت کرتے ہوں گے اور کسی سے کوئی بات شیئر نہیں کرتے ہوں گے کہ ہم جیسے لوگ اس کو روایتی معاشرے میں رہنے کی سزا کے طور پر برداشت کرتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔

لیکن اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر بیٹا اکلوتا ہے تو اس کو ایسیٹ کے طور پر لیا جاتا ہے لیکن اگر بیٹی ہے تو اس کو جائیداد پر قبضے کے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی اتنی حیرت ہوتی ہے کہ میرے والد ایک سوشلسٹ تھے۔ ان کی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ صرف ایک گھر تھا جس میں وہ رہتے تھے اور اکثر میرے سامنے اس طرح سے بات کی جاتی تھی۔ ”ارے واہ جس سے سارہ کی شادی ہوگی اس کے تو مزے ہوں گے۔ بنا بنایا گھر اور ڈاکٹر کرامت کے سارے پیسے بھی۔“ میرے لیے یہ بہت حیرت کی بات ہوتی تھی کہ میں جیتی جاگتی بیٹی سامنے بیٹھی ہوں پہلے تو یہ ان کی چیزیں ہیں اور اگر کسی کا ان پر اختیار ان کے جانے کے بعد ہو گا تو وہ میں ہوں گی۔ وہ کیسے اس کا مالک ہو سکتا ہے جس سے میری شادی ہوگی اور اب میں نے یہ رئیلائز کیا کہ یہ باتیں مسلسل سن سن کر آپ ایک مسلسل ٹراما کی کیفیت میں آ جاتے ہیں جس میں ہر وقت آپ ہر کسی سے اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میرے لیے سونے کی چڑیا کے الفاظ میرے منہ پر استعمال کیے گئے اور یہ سب پڑھے لکھے لوگ تھے۔ آج بھی تمام تر روشن خیالی کے باوجود بیٹیوں اور ان کے والد کے لیے چیزیں کچھ بدلی نہیں ہیں، جب تک کہ بیٹی اپنے زور بازو پر اس سائیکل کو نہیں توڑ دیتی۔ اس ٹراما سائیکل کو توڑنے کے لیے میں نے جو مشکلات برداشت کیں وہ صرف میں جانتی ہوں یا میرے والد۔ آج بھی شادی کے وقت لڑکی کے ساتھ آنے والا جہیز زیادہ اہم ہوتا ہے اور وہ بھی یہ کہہ کر جو آپ کی خوشی ہو وہ دے دیں۔ اتنا خوشی کا خیال ہے تو مت لیں۔

پھر خواتین کا جو جائیداد میں حصہ ہوتا اس کو لینے کے لیے خاوند اتنے اتاؤلے اس لیے ہو رہے ہوتے ہیں کہ یہ ان کی جیب میں جانا ہوتا ہے۔ وہی خاتون اس حصے ہر اپنا ذرا سا حق جما دے یا کہہ دے کہ میں اپنے بنک اکاؤنٹ میں رکھنا چاہتی ہوں تو سسرے سسرال میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ بیوی میاں کے ماں باپ کا ایسے خیال رکھے جیسے اپنے ماں باپ کو اور میاں بیوی کے گھر جاکر آؤ بھگت کے لیے ساس سسر کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں کہ ان کی ایکسٹرا عزت کی جائے۔ یہ سب برداشت کرنا اور اس سائیکل کو توڑنا جس دل گردے کا کام ہے۔ اس کو کرنے والوں کو سلام ہے۔

میرے والد کے ساتھ ان کے بھائی اور ان کی بہنیں ہمیشہ کھڑے رہے اور کبھی مجھے اپنی پھوپھوؤں اور تایا کی طرف سے کسی قسم کے طنزیہ جملے یا سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ شاید میرے دادا اتنے اچھے انسان تھے کہ ان کی تمام اولاد اتنی روشن خیال اور انسان دوست ثابت ہوئی۔

آج جب میں لوگوں کو یہ کہتے سنتی ہوں کہ یہ میری بیٹی نہیں میرا بیٹا ہے تو مجھے بے اختیار اپنے بابا یاد آتے ہیں کہ جب میں ان سے پوچھتی تھی کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں آپ کی بیٹی نہیں بیٹا ہوں تو وہ مجھے جواب دیتے کہ بیٹیاں زیادہ ماں باپ کے حق میں بہتر ہوتی ہیں کہ آپ کی بیٹی مرتے وقت تک ہمیشہ آپ کو یاد رکھتی محبت کرتی اور آپ کی بیٹی رہتی ہے۔ آج بھی مجھے جب میرے بابا کے نام سے جانا اور ڈاکٹر علی کہہ کر پکارا جاتا ہے تو مجھے ان کے یہ جملے یاد آتے ہیں۔

والد کے اس عالمی دن پر بیٹیوں اور خاص کر اکلوتی بیٹی کے والد کو میرا سلام اور محبت جو روایتی پدرسری معاشروں میں رہ کر اپنی بیٹیوں کے سامنے حفاظت کی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کو پڑھاتے لکھاتے ہیں اور ان کو اپنے بل پر جینا کا حوصلہ دیتے ہیں۔