ایران اسرائیل جنگ کو کیسے دیکھا جائے؟
دنیا کے دو علانیہ نظریاتی ممالک ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے اور پہل اگرچہ اسرائیل نے کی ہے لیکن جوابی وار میں ایران بھی اُن تمام ممالک کو حیران کر رہا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دیوتا اسرائیل کے سامنے کوئی ملک نہیں ٹھہر سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تاثر تعمیر کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے زندگی کے تمام شعبوں میں معجزات کیے ہیں اور ایران نے انقلاب کے بعد ایرانی عوام پر زندگی تنگ کردینے سے متعلق کامیاب تجربات کیے ہیں۔ جب کبھی کبھار ٹی وی یا سوشل میڈیا پر اسرائیلی عوام اور خاص طور پر خواتین کو بھاری بھرکم اسلحہ اور تین تین بچوں سے لدی ہوئی پرامز کھینچتے ہوا دیکھا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومتوں نے جو تجربات اپنے عوام خاص طور پر بچوں اور خواتین پر کیے ہیں وہ بھی کوئی کم بھیانک نہیں۔ یہ ایک دوطرفہ جبر ہے جو اطراف کے نظریہ بازوں اور پاکبازوں نے اپنی اپنی ریاستوں کی سرحدوں کے اندر بسے نفوس پر لاگو کر رکھا ہے اور شاید اب اس سے دونوں ممالک کے عوام کبھی چھٹکارا نہیں پا سکیں گے کیوں کہ جنگیں ہمیشہ شناخت، راست بازی، پاکبازی اور خدائی حوالے سے منتخب شدہ ہونے کے تصورات کو مضبوط بناتی ہیں۔ اگر جنگ مزید جاری رہتی ہے تو پھر فتح و شکست کے احساسات مزید پیچیدہ نفسیاتی عوارض کا پیش خیمہ ہوں گے اور اطراف میں عدم برداشت بڑھے گی۔
اسرائیل میں حکومتیں ہمیشہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام کے تحفظ اور ترقی کے نام پر ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں اور عربوں کے ساتھ جاری دہائیوں پر محیط تنازعہ اِن حکومتوں کے دورانیے اور مقبولیت میں کمی بیشی کا موجب بنتا رہا ہے۔ اگرچہ باقی دنیا میں بھی حکومتوں کا کاروبار تقریباً اسی قسم کے خطوط پر چلتا ہے لیکن اسرائیل کے ساتھ جڑی یہ تخصیص نمایاں ہے کہ عوام کو ہر وقت جنگی ماحول میں رکھا جائے اور اُن کی زندگی دفتر، بنکر، سائرن، چاقو زنی کے خدشات اور دیگر انسانی آفتوں کا تصوراتی و عملی مقابلہ کرتے ہوئے گزرے۔ مدمقابل ایران میں مسائل اور آفات کی نوعیت قدرے مختلف ہے لیکن وہاں پر عمامہ بردار سماجی ٹھیکیداروں کی اتنی بڑی تعداد عوامی زندگی کو مشکل بنانے میں مصروف رہتی ہے کہ تصور سے ہی گھٹن ہونے لگتی ہے۔ مساجد میں ہر نماز کے بعد باجماعت نعرہ زن ہونا کہ مرگ بر امریکہ مرگ بر اسرائیل و مرگ بر دشمن ولایت فقیہ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکباز اہل طاقت ہر وقت کس قسم کا ماحول پیدا کیے رکھنا چاہتے ہیں۔ جن پر ایرانی عوام مرگ بر کی تلوار گراتے ہیں اِن میں ایک چوتھا نام بھی شامل تھا جو کہ روس تھا اور مرگ بر روسیا اس نعرے کا جزو تھا لیکن جب بین الاقوامی حالات تبدیل ہوئے اور ایران روس کے قریب ہونے لگا تو پھر اس کو مرگ بر کے اہل عناصر کی فہرست میں سے منہا کر دیا گیا اور اب ایرانی عوام اپنے دشمنوں کی پانچ وقتہ تباہی کی خواہش میں سے روس کو نکال چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات اور خبروں کو دیکھا جائے تو دونوں ممالک دوطرفہ بربادی اور غصے کی مزید فصل کاشت کر رہے ہیں اور اِن کو اپنے اپنے حامیوں کی طرف سے مقدور بھر شاباش مل رہی ہے۔ اسرائیل غزہ میں جاری اپنی انسان دشمن کارروائیوں کے باعث دنیا میں کم حامی رکھتا ہے لیکن اس کے علانیہ دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں۔ یورپی ممالک میں عام شہری اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں لیکن حکومتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں۔ امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کسی نئی وضاحت کا محتاج نہیں اور یہودی لابی کی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے ہر چار سال بعد امریکی انتخابات بہترین خاکہ پیش کرتے ہیں۔ تقریباً یورپی ممالک سے ملتی جلتی صورت حال عرب ممالک میں بھی ہے جہاں عوام اسرائیل کو سزا دینا چاہتے ہیں لیکن حکمران طبقات مصلحتاً اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ عرب ممالک کی وزارت ہائے خارجہ اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف سادہ الفاظ میں مذمتی بیانات جاری کرتی رہتی ہیں۔ اسرائیل کے بارے میں سخت موقف اپنانے کے لیے عرب ممالک کی طاقت ور اشرافیہ اجازتاً امریکی حکام کی طرف دیکھتی ہیں اور کسی بڑے واقعے کے بعد ہلکا سا مذمتی بیان ضرور داغ دیتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ امریکی دانشوروں کی کوشش رہی ہے کہ عرب حکمرانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ایک ایٹمی ایران صرف ایٹمی ایران نہیں ہو گا بلکہ شیعہ ایٹمی ایران ہو گا جو اکثریتی سنی عربوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہو گا۔ اس میں بھی شک نہیں کہ ایران کی بالادست مولوی اشرافیہ نے ایران کی خارجہ پالیسی میں شیعہ تاثر کو نمایاں رکھا ہے اور حزب اللہ سے لے کر حوثی تنظیموں کے ساتھ جڑت کا واضح مقصد شیعہ عسکریت پسندی کی حمایت رہا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ میں واضح فتح کا اعلان کون کرتا ہے۔ اسرائیل کے شروع کے حملوں میں ایرانی پاسداران اور ایٹمی سائنسدانوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے کے بعد اسرائیل نے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ وہ باقاعدہ جنگ سے پہلے ایران کی تمام تر عسکری اور ایٹمی قیادت کو ختم کرچکا ہے اور باقی بچ رہنے والوں میں شاید کوئی بھی اس قابل نہیں کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے سامنے ٹھہر سکے۔ جواب میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے اسرائیل کو بلند بانگ دعوؤں سے وقتی طور پر روک دیا ہے اور اسرائیلی شہروں پر میزائل حملوں کی فوٹیج دنیا کو مسلسل حیران کیے ہوئے ہے۔ پاکستان میں اسرائیل دشمنی کے اجزاء خاصے قدیم ہیں اور اسرائیلی شہروں پر ایرانی میزائلوں کی برسات اگرچہ اکثریت کے لیے خوش کُن ہے لیکن خوشی کے والہانہ اظہار کی راہ میں سرکاری سطح پر امریکی ناراضی سے پیشگی خوفزدگی اور شیعہ ایران کی شناخت حائل ہیں اور عوامی سطح پر خوشی ضرور ہے کہ پہلی مرتبہ کسی مسلم ملک نے اسرائیل پر ضرب لگانا شروع کیا ہیے۔ لوگوں کی اکثریت اس لیے بھی خوشی کا اظہار کر رہی ہے کہ اسرائیل کی ہزیمت براہ راست امریکہ اور صدر ٹرمپ کی شکست ہے۔
اگر دوسرے رخ سے دیکھا جائے تو یہ جنگ خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دے گی اور خلیج میں فرقہ ورانہ کشیدگی کے نئے ابواب کھولے گی اس کے ساتھ ہی خلیجی ممالک میں مہلک ایٹمی اسلحے کی دوڑ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے یہ خطے میں امریکی مقاصد کی فہرست میں شامل ایک مقصد ہو اور خلیج میں ایک نئی کشیدگی کی راہ ہموار کر دے۔


