ہٹی دا ٹائم


’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا منڈٰی کی طرف روانہ ہوجاتی جہاں ان کا کلینک تھا۔

میرا ڈاکٹر صاحب سے غائبانہ تعارف پانچ چھ سال پہلے گورنمنٹ کالج کے بس سٹاپ پر ہوا تھا۔ میں بس کے آنے کے انتظار میں تھا کہ ایک لڑکا میرے ساتھ ٓاکر کھڑا ہو گیا، اس کے ہاتھ میں ایک نہایت خوبصورت رسالہ تھا جس کا نام تھا ’کیمکول‘، عجیب نام تھا، میں نے اس لڑکے سے کہا کہ میں یہ رسالہ دیکھنا چاہتا ہوں، اس نے مجھے رسالہ دیا، سرورق پر ایک بہت خیال انگیز پینٹنگ تھی، نام دیکھا تو انور سجاد تھا، اندر ان کا افسانہ اور چند نثری نظمیں بھی تھیں، پرچے کے ہر مضمون اور شاعری کے ساتھ کچھ بہت نفیس سکیچز بھی تھے جو سب کے سب انور سجاد کے تھے۔ میں وہ رسالہ تو نہ پڑھ سکا لیکن انور سجاد کے نام نے میرے اندر ان کے بارے میں خاصا تجسس پیدا کر دیا۔ یہ ایوب خان کا زمانہ تھا اور میں بی اے میں پڑھتا تھا۔ ایک دن میں نے انور سجاد کی ایک کتاب کسی بک سٹال پر دیکھی، اس کے ٹائٹل پر مونخ کی مشہور پینٹنگ ’چیخ‘ تھی جسے دیکھتے ہی میرے دل سے واہ نکلی، ایوب کی آمریت کے حوالے سے وہ بہت معنی خیز سرورق تھا، یہ ایک ایسی چیخ تھی جو کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔ منجمد اور گونگی چیخ۔

1964 میں جب لاہور سے ٹی وی کے پروگرام شروع ہوئے تو ’شب تمثیل‘ میں ہر ہفتہ ایک ڈرامہ دکھایا جاتا تھا جو میں بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ میں نے ان ڈراموں میں ڈاکٹر صاحب کے بھی کئی ڈرامے دیکھے جو مجھے بہت پسند آئے۔ ایم اے کرنے کے بعد میں جب ایک نوکری چھوڑ کر لاہور ٹی وی کے لیے انٹرویو دینے گیا تو اس میں اور باتوں کے علاوہ مجھ سے میرے پسندیدہ ڈرامہ نگار کا نام بھی پوچھا گیا، میں نے انور سجاد کا نام لیا اور ان کے ڈراموں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اسی سال مجھے ٹی وی پر سکرپٹ پروڈیوسر کی ملازمت مل گئی۔ اب میرا شہر کے ادیبوں شاعروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس زمانے میں ہفتے میں دو ڈرامے دکھائے جاتے تھے جو لائیو ہوتے تھے۔ جب ایک ہفتے کوئی ڈرامہ نہ مل سکا تو یاور حیات کے کہنے پر میں نے ایک ڈرامہ لیمپ پوسٹ کے نام سے لکھا۔ اس ڈرامے میں انور سجاد کا کردار ایک مجذوب فقیر کا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سکرپٹ پڑھتے ہی میرے دفتر آ گئے اور ڈرامے پر خاصی لمبی گفتگو کی۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔
ڈرامے میں ان کا ایک سین محمد قوی کے ساتھ تھا جس میں قوی ایک ایسے پراسرار شخص کا کردار کر رہا تھا جس کو سبھی جانتے بھی ہیں اور نہیں بھی جانتے، جو تانگے والے سے بھی ایسے بات کرتا ہے جیسے وہ اس کی پوری زندگی سے واقف ہو، کسی پروفیسر سے، کسی طالب علم سے اور کسی غریب چرسی سے۔ لیکن دیکھنے والوں کے لیے وہ ایک پراسرار شخص رہتا ہے۔ آخر ایک فقیر ملنگ (انور سجاد) اپنی جلالی ’ہو حق‘ کے دوران اس کی اصلیت پہچان جاتا ہے، اس موقع پر قوی اپنی جیب سے ایک سیب نکالتا ہے اور اسے گیند کی طرح اچھالتا ہے جیسے وہ اس سے کھیل رہا ہو لیکن اس کے ساتھ ہی جیسے ملنگ فقیر کو للچا رہا ہو، فقیر کچھ اور مکالمے بولتا ہے جس سے وہ اس پراسرار کردار کو بالکل بے نقاب کر دیتا ہے۔ قوی (پراسرار کردار) سیب کو فقیر کی طرف پھینکتا ہے، فقیر اس کو چبا کر زمین پر پھینکتے ہوئے کہتا ہے ’ایہہ گئی تیری دنیا۔‘ ( ’یہ گئی تیری دنیا‘)

ڈاکٹر صاحب اس پر مصر تھے کہ بجائے قوی ان کی طرف سیب پھینکے، وہ اس کے ہاتھ سے سیب چھین لیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کی بات میں ایک رمز تو تھی لیکن وہ قوی کے کردار اور ڈرامے کے ردھم کے ساتھ نہیں جا رہی تھی۔ یہ دو بڑے اداکاروں کا مسئلہ تھا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ اپ اپنے چہرے کے تاثرات سے سیب چھیننے کا تاثر دے سکتے ہیں۔ ڈرامہ لائیو جانا تھا چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے میری اور اپنی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ایسا تاثر دیا جس میں قوی کے سیب اچھالنے اور پھینکنے کے درمیان سیب چھیننے کا واضح اشارہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے سین کو اور بھی پراثر بنا دیا تھا

انور سجاد تمثیل ’لیمپ پوسٹ‘ کے کردار میں

لیمپ پوسٹ کے بعد ڈاکٹر صاحب سے میری گہری دوستی ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب بھی وجودی مارکسسٹ تھے اور میں بھی، ہماری جدیدیت میں بہت زیادہ دلچسپی تھی چنانچہ جدید ادب اور مارکسی فلسفے کے بارے میں گفتگو رہتی۔ جب میں نے سٹیج کے لیے اپنا پہلا اردو کھیل ڈارک روم لکھا تو ڈاکٹر صاحب کو پڑھایا۔ ڈاکٹر صاحب کو ڈرامہ تو بہت اچھا لگا لیکن ڈارک روم کے آخری مکالمے پر انہوں نے مجھ سے شدید اختلاف کیا۔

’ڈارک روم‘ چار نوجوان دوستوں کی کہانی تھی جو شہر کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اکٹھے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک دوست ظفر ہے جو گاؤں سے ٓ ہے۔ صدیقی ایک صحافی ہے جو ڈرامے کا راوی بھی ہے۔ آخری سین میں ظفر کے باپ کو قتل کر دیا جاتا ہے اور اس کا چچا اس کی زمینوں پر قبضہ کر لیتا ہے، ظفر واپس اپنے گاؤں باپ کے قتل کا بدلہ لینے جاتا ہے۔ ڈرامے کا اختتام صدیقی کے اس مکالمے پر ہوتا ہے، ’ظفر چلا گیا واپس اپنے گاؤں اپنا حق لینے، اور میں ابھی تک یہ سوچ رہا ہوں کہ انسان کب تک اپنا حق لینے کے لیے دوسرے انسان کا خون بہاتا رہے گا۔‘

’یہ کیا بات ہوئی‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا، ’حق پلیٹ پر رکھ کر تو نہیں ملتا؟ اس کے لیے تو لڑنا پڑتا ہے، ظالم کا خون بہانا پڑتا ہے۔‘

’لیکن ڈاکٹر صاحب یہ تو اس کے دوست صدیقی کا مکالمہ ہے جس میں وہ اس کو ایک امکان کی صورت میں دیکھ رہا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ کاش ایسا نہ ہو، یا وہ یہ کہہ رہا ہو کہ انسان کو اس کا حق ویسے ہی مل جانا چاہیے اس کے لیے اس کو خون تو نہیں بہانا چاہیے، یا پھر کاش کہ انسان کو کسی کا خون بہائے بغیر ہی اس کا حق ملتا رہے۔‘ میں نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی بات سمجھانا چاہی لیکن ڈاکٹر صاحب نہیں مانے۔ صرف اتنا کہا ’تمہاری مرضی‘ چنانچہ ڈرامہ ویسے ہی ہوا جیسے میں نے اسے لکھا تھا۔ ’ڈارک روم‘ اکہتر 1971 میں سٹیج ہوا، یہ یحییٰ خاں کا دور تھا، کچھ ہی دنوں بعد بنگلہ دیش کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی اور بنگالیوں کو اپنا حق لینے کے لیے بہت خون بہانا پڑا۔ اب بھی جب میں اپنے اردگرد دنیا کے حالات دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں شاید ڈاکٹر صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے۔ ایک ڈرامہ جو مجھے انہوں نے ٹی وی کے لیے دیا اس کو پڑھ کر میں نے ان سے کہا ’ڈاکٹر صاحب اس کے بہت سے مکالمے غیر ضروری ہیں کیوں کہ جو اپ مکالمے میں کہہ رہے ہیں وہی ہم سکرین پر دکھا سکتے ہیں۔ ، کہنے لگے، ‘ چھمے یار میرے الفاظ وژولز visuals سے زیادہ اہم ہیں، ’


میں نے ہنس کر کہا، ’ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب، جیسی آپ کی مرضی۔‘ جب ڈرامہ ہو گیا تو مجھے کنگ لیئر (King Lear) کا خیال آیا جس میں ایک طوفان کا سین ہے۔ شیکسپئر کے زمانے میں کوئی ایسی تیکنیک نہیں تھی جس سے طوفان کا منظر سٹیج پر دکھا یا جاسکتا ہو، صرف ایک لوہے کا گولا تھا جو پس پردہ لڑکھا دیا جاتا تھا اور اس کی گرج سے طوفان کا تاثر پیدا کیا جاتا۔ شیکسپئر نے طوفان کا تاثر اپنے لفظوں اور ان کی صوتیات سے بنایا تھا، آج اکیسویں صدی میں ہم پورا طوفان روشنیوں اور ساونڈ سے دکھا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود شیکسپئر نے جن لفظوں سے طوفان کا تاثر پیدا کیا تھا، ان لفظوں کے بغیر یہ سب کچھ بے معنی نظر آئے گا۔ اس لیے کہ آج بھی شیکسپئر کے الفاظ وژولز سے زیادہ پاورفل ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اکثر ایمبسڈر ہوٹل میں بیٹھ کر لکھتے تھے، بہت سے ادیب کسی ہوٹل کا ایک کونہ اپنے لیے مختص کر لیتے ہیں اور ایک خاص وقت میں وہاں بیٹھ کر اپنا تخلیقی کام کرتے ہیں، جیسے سارتر نے تو اپنی آدھی سے زیادہ عمر ہوٹل میں گزاری اور ہمارے اپنے کلیم عمر بھی عمر کے آخری حصے میں بہت عرصہ تک کراچی کے میٹروپول ہوٹل کے ایک کمرے میں رہے۔ ڈاکٹر صاحب مجھے بھی کبھی کبھی وہاں لے جاتے خوب گپ شپ رہتی، کبھی وہ مجھے اپنا نیا افسانہ بھی سناتے۔ ڈاکٹر صاحب میری بھی لکھنے پڑھنے میں بہت حوصلہ افزائی کرتے، مجھے کئی ایسی کتابیں پڑھنے کو دیتے جو مارکیٹ میں موجود نہیں تھیں۔ میری نظمیں بہت شوق سے پڑھتے اور ان پر بات بھی کرتے۔ ان کی دوستی بھارت کے ادیبوں سے بھی تھی، خاص طور پر بلراج مینرا سے جو ایک زبردست رسالہ ’شعور‘ کے نام سے شایع کرتے تھے۔

یار میرا دوست بلراج مینرا شعور کا سالنامہ نکال رہا ہے، تمہاری نظم مانگ رہا ہے، میں نے اسے کہا ہے کہ وہ تمہیں خود خط لکھے۔ ویسے میں نے اسے پڑھنے کے لیے تمہاری نظم ’تیسرے پہر کی دستک‘ بھیج دی ہے، ’اوہو ڈاکٹر صاحب وہ تو بہت طویل نظم ہے، وہ کیسے چھاپے گا؟‘ ، ایک ادھ ہفتے کے بعد مجھے نہایت خوش خط ہاتھ سے لکھا ہوا خط موصول ہوا، جس میں بلراج نے کہا کہ وہ اس نظم کو پورا شایع کر رہے ہیں، محمود ہاشمی اس کا تعارف لکھ رہے ہیں اور انور سجاد میرا خاکہ لکھ رہے ہیں۔ یہ میری پہلی نظم تھی جو بھارت میں شایع ہوئی۔ یہی وہی نظم تھی جس کو بعد میں شمیم حنفی صاحب نے جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ نظم ریڈیو پر صوتی اثرات اور موسیقی کے ساتھ ڈرامائی انداز میں بھی پڑھی جسے جمیل ملک نے پروڈیوس کیا۔ انہیں اپنی اس نظم کی پڑھنت پر بڑا ناز تھا، وہ بڑے فخر سے اسے لوگوں کو کیسٹ پلیئر پر سناتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے گھر پر ایک بہت خوبصورت دعوت کا اہتمام بھی کیا، جس میں خالد سعید بٹ، فاروق ضمیر، عظمیٰ گیلانی، اور بہت سے اداکار اور ادیب شامل تھے۔ وہاں انہوں نے اس نظم کی ریکارڈنگ بڑے سپیکرز پر سنائی۔ اسی دعوت میں میری خالدہ ریاست سے پہلی ملاقات ہوئی۔

ڈاکٹر صاحب صرف کلینک نہیں چلاتے تھے، وہ حلقہ ارباب ذوق میں بھی شریک ہوتے، ٹی وی کے لیے ڈرامے بھی لکھتے اور ان میں اداکاری بھی کرتے، اس کے علاوہ آرٹسٹوں کے حقوق کے لیے بھی لڑتے، کہانیاں اور مضامین بھی لکھتے، وہ ایک ایسی پارہ صفت شخصیت کے مالک تھے جو ہر وقت متحرک رہتی ہے، ایک تخلیقی اضطراب، ایک خوبصورت سنبھلی ہوئی بے چینی۔

آرٹسٹس ایکویٹی، آرٹسٹوں کی بہت مضبوط اور تگڑی تنظیم تھی جس کو ڈاکٹر صاحب لیڈ کر رہے تھے۔ وہ ملک کے کلچر اور اس کی پالیسیوں کو بدلنا چاہتے تھے، اس زمانے میں نعیم طاہر آرٹس کونسل الحمرا کے ڈائریکٹر تھے اور شعیب ہاشمی بورڈ آف گورنرز میں تھے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے، ان دونوں کو کلچر جہیز میں ملا ہے، اس لیے کہ نعیم طاہر کی بیگم امتیاز علی تاج کی بیٹی تھیں اور شعیب صاحب کی بیگم فیض صاحب کی صاحبزادی تھیں۔

بھٹو کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے آرٹسٹس ایکویٹی سے استعفا دے دیا اور آرٹ کونسل کے چیرمین بن گئے۔ ہمیں اس بات پر بہت غصہ آیا کہ ہم کو چھوڑ کر وہ سرکار کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ چنانچہ ہم نے ڈاکٹر صاحب کے خلاف جلوس نکالا، اس پر وہ مجھ سے بالکل ناراض نہیں ہوئے۔ بس ایک دن افسردہ لہجے میں کہنے لگے، ’یار تم بھی مجھے اگر ایسا سمجھتے ہو تو پھر ٹھیک ہے۔‘ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ وہ احتجاج دراصل کٹر اور بے مغز موقع پرست لوگوں کے حق میں جاتا تھا، ہم میں سے دونوں نے اس کا پھر کبھی ذکر نہیں کیا، اور ہماری دوستی اور محبت ویسے ہی ہری بھری رہی۔

اسی زمانے میں جب ڈاکٹر صاحب آرٹ کونسل کے چیئرمین تھے میرا ڈرامہ ’حیش‘ آرٹس کونسل میں سٹیج ہوا۔ اس ڈرامے میں طلعت حسین، سلیم ناصر، طاہرہ نقوی اور ثمینہ احمد مختلف کردار کر رہے تھے، ڈرامے میں پیپلز پارٹی کے بارے میں خاصے سخت مکالمے تھے، جیسے ایک ہجوم کورس میں پکار رہا ہے ’روٹی چاہیے، روٹی چاہیے، بارود کی نہیں، گندم کی‘

’میرا گھر کہاں ہے؟‘
’سڑکوں کے ساتھ فٹ پاتھ بنا دیے گئے ہیں۔‘
’ہم نے تمہیں دو کان دیے‘
’گالیاں سننے کے لیے؟‘
’ زبان دی‘ ،
’چپ رہنے کے لیے؟‘

ڈاکٹر صاحب نے پہلے شو پر حنیف رامے کو بلایا ہوا تھا جو پنجاب کے وزیراعلی تھے اور پیپلز پارٹی کے سرگرم رکن تھے۔ ڈرامے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھے حنیف رامے سے ملوایا اور میرا تعارف کچھ انداز سے کروایا کہ حنیف صاحب کو ڈرامے کی تعریف کرنا پڑ گئی۔

میری ٹرانسفر لاہور سے اسلام آباد ہو گئی جس کے بعد ڈاکٹر صاحب سے مدت تک ملاقات نہ ہو سکی۔ کئی برس بعد جب میں اپنی فلم ’فنکار گلی‘ بنا رہا تھا تو ڈاکٹر صاحب کراچی میں جیو سے وابستہ تھے۔ میں ان کو جیو کے دفتر ملنے گیا۔ ہم باہر بیٹھ کر چائے اور سگریٹ پیتے رہے، شکیل عادل زادہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے، وہ بہت مزے کی باتیں کرتے تھے۔ میں نے جب ڈاکٹر صاحب کو فنکار گلی کی تھیم اور کہانی کے بارے میں کچھ بتایا تو کہنے لگے، ’اوئے چھمے یار ایہہ تے میں لخنی سی۔‘ (یہ تو مجھے لکھنا تھی) یہ ان کا میری اس فلم کی تعریف کرنے کا ایک انداز تھا۔

Hieronymus Bosch

اسی زمانے میں مجھے جیو ٹی وی کی طرف سے قرۃ العین حیدر کے ناول ’گردش رنگ چمن‘ پر سیریل لکھنے کو کہا گیا، اس سلسلے میں یہ پلان بنا کہ میں، انور سجاد اور جیو کے ہیڈ بدر اکرام بھارت جا کر قرۃ العین سے رائٹس کی بات کریں۔ جب جانے کی تیاری مکمل ہو گئی تو پتہ چلا قرۃ العین کی طبیعت بہت خراب ہے اور وہ کسی سے نہیں مل سکتیں۔ کچھ عرصے کے بعد وہ فوت ہو گئیں، جیو کی مینجمنٹ بھی بدل گئی اور پراجیکٹ ختم ہو گیا، جس کا مجھے زندگی بھر افسوس رہے گا۔

ڈاکٹر انور سجاد کا مشاہدہ اور زندگی کا تجربہ بہت گمبھیر اور شدید تھا۔ انہوں نے ٹکرے ٹکڑے ہوتی انسانی معاشرت کو اکھڑے اکھڑے لفظوں، کٹے پھٹے استعاروں، اور ایک سٹکیٹو staccato آہنگ میں لکھا، ہم عصر افسانہ نگاروں سے الگ اپنا ایک اسلوب بنایا، ایک نئی نثر ایجاد کی۔ ایسی نثر جہاں کہیں مصوری شاعری کے ساتھ اور کہیں شاعری نثر کے ساتھ الجھ رہی ہے، کہیں جیک کیروک Jack Kerouac کی نثر کا آہنگ اور کہیں کافکا کی خواب آلود سریلزم۔ کہیں ایلن گنزبرگ کی بیٹ شاعری کا ردھم اور کہیں منٹو کے افسانے پھندنے کی جھلک۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ناول ’خوشیوں کا باغ‘ ان کا ماسٹر پیس ہے۔ ’خوشیوں کا باغ‘ پندرہویں صدی کے مصور بوش کی پینٹنگز سے متاثر ہو کر لکھا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے دیباچے میں لکھا، ’بوش خوابی ساختوں اور ان میں بسنے والی دنیا کی عجیب الخلقتی کے باعث سریئلزم کا باوا آدم ہے‘ ’میں سمجھتا ہوں اس کے تخلیقی ویژن کا سب سے اہم منبع جادوگری تھا۔ بوش کی عظیم فنتاسی تصاویر میں فطرت کا قدرتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ اور اس کی جگہ سراسیمگی پھیلانے والے شیطانوں، عفریتوں نے لے لی ہے۔ اس نے اس کی عکاسی اس دیانت داری سے کی ہے کہ اس کے ہم عصروں کو یہ تصاویر جادوگری کی ڈاکومنٹری دکھائی دیتی ہوں گی۔ بوش کی پینٹنگ ’خوشیوں کا باغ‘ تین حصوں (پینلز) پر مشتمل ہے، ’حوا کی تخلیق‘، دوسرا پینل ’خوشیوں کا باغ‘ اور تیسرے پینل کا نام ’موسیقی کا جہنم‘ ہے۔ (پیش لفظ۔ خوشیوں کا باغ)

انور سجاد کے ناول کی ابتدا اس جملے سے ہوتی ہے۔ ’بوش کے ’خوشیوں کا باغ‘ کا ہر پینل ایک دنیا ہے اور تیسرا پینل تیسری دنیا ہے‘۔
انور سجاد نے پہلے ہی جملے میں تیسرے پینل کو تیسری دنیا کہہ کر پندرہویں صدی کے بوش کو اپنا ہم عصر بنا لیا ہے۔ ان کے اس ناول میں تینوں پینل تین زمانوں، حال، ماضی، مستقبل کی صورت میں ایک دوسرے میں اس طرح سما گئے ہیں کہ زمانے جو ماہ سال میں گزرتے ہیں اور زمانے جو ہمارے باطن میں گزرتے ہیں۔ ان سب کی گردش ایک ہو جاتی ہے۔

ناول کے درمیان ایک جنگ کا منظر ہے جس میں ناول کے مرکزی کردار کی بیوی حاملہ ہے۔ چاروں طرف خوف و ہراس ہے، موت گشت کر رہی ہے اور اس میں بیوی کا ایک نئی زندگی کو جنم دینے کا واقعہ ہے، یوں لگتا ہے جیسے وہ ایک نئی زندگی کو جنم نہیں دینا چاہتی۔

’فضا میں ہوائی جہازوں کی چیخیں، گولہ باری، توپیں، بم، سائرن، بلیک آئوٹ

میری بیوی بے حد خوف زدہ ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ جنگ کیوں ہوتی ہے۔ اس کے پیٹ میں میرا بچہ ہے۔ وہ دن بھر اپنی پہلی کونپل کو سنبھالے بے چینی سے کبھی اس کمرے میں جاتی ہے کبھی اس کمرے میں۔ میرے ماں باپ بہت متفکر نظر آتے ہیں، وہ اکثر اوقات مصلے پر بیٹھے نماز کے بعد وظائف پڑھتے رہتے ہیں۔ سکون کی گولیوں کے باوجود میری بیوی کو رات بھر نیند نہیں آتی‘ اور پھر۔۔۔
چیخ۔ چیخیں۔ چیخیں
میری بیوی کی طویل چیخ، ہزاروں بموں کے پھٹنے کی آواز پر محیط
یوں میرا پہلا بچہ ضائع ہوجاتا ہے
میری بیوی نے آج تک نہیں بخشا، کسے نہیں بخشا؟ یہ وہ مجھے نہیں بتاتی۔‘ (خوشیوں کا باغ)

اگر بوش نے اپنی پینٹنگز کے لیے برش استعمال کیا ہے تو انور سجاد نے اس ناول کی پینٹنگ چاقو سے بنائی ہے، ’خوشیوں کا باغ‘ ایک نایف پینٹنگ ہے۔

ڈاکٹر انور سجاد سے جب بھی میری ملاقات ہوتی، خوب مزے کی ہوتی۔ وہ مجھ سے پوچھتے کیا لکھ رہے ہو، کیا سوچ رہے ہو، کیا کر رہے ہو، اور پھر میں بھی ان سے کچھ اس قسم کی ہی باتیں کرتا۔ افسوس یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے کراچی میں لکھنا چھوڑ دیا، ’خوشیوں کا باغ‘ چھپنے کے بعد میں نے شاید ہی ان کا کوئی ڈرامہ یا افسانہ پڑھا ہو۔ میں نے کچھ برس بعد جب میں امریکا جا چکا تھا ان کا ایک انٹرویو دیکھا جو ان کا آخری انٹرویو تھا۔ اس میں وہ بہت بیمار اور کمزور دکھائی دے رہے تھے لیکن ادب پر اور اپنے کام کے بارے میں بڑی توانائی کے ساتھ بول رہے تھے۔

ڈاکٹر صاحب کے اس دنیا سے رخصت ہونے کی خبر مجھے امریکا میں ملی۔ اس دن مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے وہ میرے دفتر میں بیٹھے ہوئے ہیں، اچانک اٹھے ہیں اور میز سے گاڑی کی چابیاں اور اپنی گھڑی اٹھائے بغیر چلے گئے ہیں، آج تو انہوں نے یہ بھی نہیں کہا،

’ یار چھمے ہن چلیے، میری ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے۔ ‘

Facebook Comments HS

3 thoughts on “ہٹی دا ٹائم

  • 18/06/2025 at 5:14 صبح
    Permalink

    شان دار لوگوں سے جڑی شان دار باتیں۔
    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

    ڈاکٹر صاحب ایک بلند پایہ رقاص بھی تھے اس بابت کیوں کچھ تذکرہ نہیں آسکا ؟

    • 18/06/2025 at 11:59 شام
      Permalink

      کیا بات ہے سرمد صۃبائی صاحب۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کے اعزاز میں شاندار تحریر۔۔۔خوش رہیں،،اللہ صحت دے۔۔۔عدنان الحق

  • 24/06/2025 at 5:08 شام
    Permalink

    سرمد صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اتنے بڑے لوگوں کے شخصی خاکے اپنی نظر سے لکھے۔
    شبانہ (شبانہ اعظمی)، ہٹی دا ٹائم (ڈاکٹر انور سجاد)، لفظوں سے بنا آدمی (ضیا محی الدین)، گوتم سے ملاقات (مشیر انور)۔۔۔۔علی الہذالقیاس

    ایک بار پھر ممنون

Comments are closed.