کئی عرب ملکوں کے تخت گرائے جائیں گے اور تاج بھی اچھالے جائیں گے
ایران اسرائیل جنگ بندی کے لئے کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق تین عرب ممالک نے جنگ بندی کے لئے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا ہے جبکہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لئے فی الحال جنگ بندی کے بجائے امریکہ اور دیگر ممالک کو جنگ میں شامل کرنا چاہتا ہے تا کہ اس کی ممکنہ شکست جیت میں بدل جائے۔
صدر ٹرمپ کی تہران خالی کرنے کی دھمکی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت اس جنگ کا آغاز کیا جا چکا ہے کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کا عمل شروع کیا جائے اسی سازش کے تحت رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو تیار کیا جا چکا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل رہبر معظم کو شہید کر کے اس جنگ کو اپنے حق میں کرنے کی تیاری کر چکا ہے اس اقدام کی سنگینی کا اندازہ شاید امریکہ اور اسرائیل دونوں کو نہیں کہ نتائج کیا ہوں گے۔ آیت اللہ خامنہ ای ایران کی صرف سیاسی قیادت نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے شیعہ اثنا عشری کی روحانی قیادت بھی ہیں ان کی شہادت سے دنیا بھر میں اسرائیلی اور امریکی مفادات خطرے سے دوچار ہوں گے بلکہ میری رائے میں خود کش حملہ آوروں کی ایک ایسی فوج تیار ہوگی کہ جن پر قابو پانا ان کے بس میں نہیں ہو گا۔
ایک بات تو واضح ہے کہ ایران میں خدانخواستہ اسرائیلی اور امریکی مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے تو اس کے بعد پاکستان کی باری ہے کیونکہ گریٹر اسرائیل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کو ہی سمجھا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کی کوششیں اگر کامیاب نہیں ہوتیں ہیں تو پھر اسرائیل کی یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے کہ امریکہ جنگ میں کود پڑے اس صورت میں یہ خطہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے حوالے ہو رہا ہے جس کے اثرات سے نہ کوئی عرب ملک بچے گا نا پاکستان نا خطے کا کوئی اور ملک۔ ایک طرح سے دنیا ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کے سپرد ہو گی۔
ایران خلاف توقع اسرائیل کو شکست سے دوچار کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ بظاہر اس کی فوجی قیادت کی پہلی ایک صف شہادت سے ہمکنار ہوئی ہے لیکن ایران نے اپنے آپ کو کمزور نہیں مزید توانا کیا ہے۔ اسرائیل کو جنگی محاذ پر ایران شکست دے سکتا ہے لیکن ایران کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں اندر سے غداروں کی ایک فوج ظفر موج سے نبرد آزما ہونا ہے۔
اس منظر نامے میں خطے کے عرب ممالک نے ایران کے ہاتھ مضبوط نہ کیے اور اسرائیل کو آنکھیں نہ دکھائیں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ صرف ایران کا تخت نہیں بلکہ کئی عرب ملکوں کے تخت بھی گرائے جائیں گے اور تاج بھی اچھالے جائیں گے۔


