جدید جنگیں ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے گٹھ جوڑ سے لڑی جائیں گیں


جنگ اور امن میں بالخصوص دشمن ممالک اور بالعموم دوست ممالک کی دفاعی صلاحیت سٹریٹیجیز اور دیگر ضروری اہم معلومات اکٹھی کرنا اور ان ممالک میں مخصوص ٹارگٹس حاصل کرنے کے لئے خفیہ ایجنسیوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ سیکنڈ ورلڈ وار اور کولڈ وار میں امریکی ایجینسی OSS اور سی۔ آئی۔ اے ’روسی ایجنسی KGB، FSB، SVR اور برطانوی ایجینسی M 16 کا کردار کاؤنٹر انٹیلیجنس‘ جاسوسی ’پراپیگنڈہ اور دنیا بھر میں سبوتاژ کی کارروائیوں میں اہم رہا ہے اور آج بھی اندرون ملک اور بیرون ملک جاری ہے۔

پاک انڈیا پس منظر میں دیکھا جائے تو سقوط ڈھاکہ‘ پاکستانی میں علیحدگی پسند تحریکیں ’فوجی تنصیبات شخصیات اور دیگر اہم مقامات پر دہشت گرد کارروائیاں‘ چینی شہریوں پر حملے ’APS Peshawer سے لے کر جعفر ایکسپریس کے اغوا تک کے واقعات میں غیر ملکی ایجنسیوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ اسی طرح بھارتی حکومت انڈین مقبوضہ کشمیر‘ انڈین پنجاب ’ناگا لینڈ‘ میزورام کی علیحدگی پسند تحریکوں اور بھارت میں دہشت گردی کے مختلف واقعات کا الزام پاکستان پر لگاتی آ رہی ہے اور اسی وجہ سے پہلگام واقعے کے بعد مئی 2025 میں چار روزہ پاک بھارت جنگ بھی ہو چکی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد جنگوں میں خفیہ ایجنسیوں کا کردار اور بھی اہم اور موثر ہو گیا ہے اور عالمی جنگی اسٹیج پر نئی ٹیکنالوجی ’خفیہ ایجنسیوں کی گٹھ جوڑ اور غیر روایتی حملوں کی شکل میں ایک نیا منظر نامہ سامنے آ چکا ہے۔ یوکرین نے روس کے ائر بیسز اور جنگی بیڑوں کو نشانہ بنانے کے لیے جس طریقے سے کارگو کنٹینرز، تجارتی ٹرکوں اور بغیر پائلٹ ڈرونز کو استعمال کیا اس نے عالمی دفاعی نظاموں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ حملے نہ صرف روایتی ہتھیاروں کے دائرہ کار سے باہر تھے بلکہ ان میں جدید طریقہ تخریب کاری اور سائبر انٹیلی جنس کی مہارت بھی شامل تھی۔ یوکرینی ڈرونز نے روس کے اندر سے ہی پرواز کر کے روسی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور انتہائی بیش قیمت جنگی جہازوں کو زمین پر اپنے ہینگرز میں ہی تباہ کر دیا۔

اسرائیلی ایجینسی موساد نے بھی ایران ’غزہ‘ شام ’لبنان اور فلسطین میں بھی یہی کام کیا۔ حزب اللہ کے راہنماؤں کے استعمال میں پیجرز کے ذریعے انہیں شہید و زخمی کیا گیا۔ انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کے کامیاب گٹھ جوڑ سے اسماعیل ہانیہ سمیت حماس کے متعدد راہنما اور ایرانی فوج کے کمانڈرز اور اہم سائنسدانوں کو شہید کیا گیا۔ امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد نے ایران کے اندر کئی مہینوں تک خاموشی سے بارودی مواد سے بھرے ہوئے ڈرون کے پرزے، چھوٹے کوارڈ کاپٹرز اور خودکار ہتھیار تجارتی کنٹینرز، سامان بردار ٹرکوں اور سوٹ کیسوں کے ذریعے پہنچائے۔ ان اشیاء کو اندر موجود نیٹ ورک نے مختلف ٹیموں کو تقسیم کیا۔ جو ایران کے ائر ڈیفنس سسٹمز، میزائل لانچرز، اور کمانڈ مراکز کے قریب خفیہ طور پر تعینات کی گئی تھیں۔ جیسے ہی اسرائیلی F۔ 35 جیٹس نے ایرانی تنصیبات پر حملہ کیا ان اندرونی ٹیموں نے زمینی سطح پر ایران کی دفاعی قوت کو مفلوج کر دیا۔

یوکرین میں روس اور اسرائیل کا ایران پر یہ حملے اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ جنگی حکمت عملی بدل چکی ہے۔ اب سرحدوں، دفاعی نظاموں یا روایتی ہتھیاروں پر انحصار کافی نہیں رہا۔ دشمن نہ صرف آپ کے دروازے پر بلکہ آپ کے گھر کے اندر بیٹھ کر خاموشی سے خفیہ اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کاری وار کر سکتا ہے۔

ان دونوں واقعات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان کارروائیوں میں تجارتی ذرائع یعنی کنٹینرز، ٹرانسپورٹ ٹرک، اور کارگو چینلز کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس کی ایران اور افغانستان کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ سرحدیں ہیں اور جہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کنٹینرز، آئل ٹینکرز، اور سامان بردار گاڑیاں آمد و رفت میں مصروف رہتی ہیں۔ ان راستوں پر نہ اسکیننگ کا موثر نظام موجود ہے نہ مکمل ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور نہ ہی مکمل طور پر پاکستان دوست افراد کی نگرانی۔ یہ خلاء کسی بھی وقت ایک ایسے خطرناک حادثے کا ذریعہ بن کر پاکستان کی سلامتی کو ایران یا روس جیسا دھچکہ دے سکتا ہے۔

ایران میں ہونے والی موساد کی کارروائی میں جس مہارت سے انٹیلی جنس نیٹ ورک بچھایا گیا اس میں را (بھارتی خفیہ ایجنسی) کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایرانی و پاکستانی بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں را کی سر پرستی میں کام کر رہی ہیں اور موساد اور را کی مشترکہ کارروائیاں نئی نہیں ان دونوں ایجنسیوں کی خفیہ انٹیلی جنس شیئرنگ، تربیتی تعاون، اور ٹیکنالوجی ایکسچینج پہلے سے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ایران میں ڈرون، بارودی پرزے، اندرونی نیٹ ورک اور ہدف بنائے گئے مقامات کی تفصیلات خود بخود موساد کو حاصل نہیں ہو سکتی تھیں یہ کسی اندرونی اشتراک ( را کی مدد) کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ایران اور روس جیسے ملوکیت نظام والے سخت گیر سیکورٹی کے حامل ممالک میں یہ سب ہو سکتا ہے تو پاکستان جیسے سیاسی طور پر غیر مستحکم، سماجی طور پر تقسیم اور سرحدی لحاظ سے غیر محفوظ ملک میں اس کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔

مزید خطرناک بات یہ ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی اس وقت سیاسی دباؤ اور عسکری ناکامی کی شرمندگی میں مبتلا ہے۔ گزشتہ چار روزہ جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت کے دنیا بھر میں بیانیے کو ماضی کی طرح پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لئے بی جے پی حکومت اپنی سخت گیر شبیہ بچانے کے لیے کوئی بھی فالس فلیگ آپریشن کر سکتی ہے۔ امریکہ مودی اور نیتن یاہو کی نظریاتی ہم آہنگی، را اور موساد کا تعاون، بھارت کا پاکستان مخالف اور اسرائیلی حمایت کا تاریخی رویہ اور پاکستان کا غزہ اور ایران جنگ میں اسرائیل مخالف بیانیہ اور امریکہ کا کھل کر اسرائیل کی حمایت میں آجانا سب خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ اب ان کی نظریں ایران کے بعد پاکستان پر ہوں یہ صرف امکان نہیں بلکہ ایک قوی اندیشہ ہے۔

یہ حالات متقاضی ہیں کہ پاکستانی قیادت دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے جنگی بنیادوں پر موثر سفارت کاری کرے ’ملک میں یکجہتی‘ سیاسی استحکام پیدا کرنے اور فوری طور پر جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول اور اس کے ماہرانہ استعمال کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے۔

پاکستان اپنی سرحدوں کی موثر نگرانی کرے، تجارتی آمد و رفت کو جدید اسکیننگ سسٹمز سے گزارے، اور ہر اس خلا کو پر کرے جس سے دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جنگیں اب میدانِ جنگ سے زیادہ کارگو کنٹینرز، خفیہ کوارٹرز، اور جعلی تجارتی نیٹ ورکس میں لڑی جا رہی ہے۔ یہ وقت قومی یکجہتی، بیداری، بلا امتیاز ظالمانہ ادارہ جاتی تطہیر، اپنے اندر چھپے دشمن نیٹ ورکس کو انجام تک پہنچانے اور دشمن کی سوچ سے پہلے اور اگے سوچنے کا ہے۔ ورنہ بہت دیر ہو سکتی ہے۔

* سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

Facebook Comments HS