سرکاری چوہے اور ہمارے قومی ادارے
میں نہیں جانتا کہ قیام پاکستان کے وقت کن لوگوں نے کب اور کہاں بیٹھ کر طے کیا تھا کہ نومولود ملک اور اس کے عوام کو علم، ادب اور فنون لطیفہ کی آزاد فضاؤں سے محفوظ رکھا جائے اور خالص تحقیق و تخلیق کی بجائے اس طفل نوخیز کے ہاتھ میں جعلی تھیوریوں اور جعلی فنون کے جھنجھنے دے دیے جائیں تاکہ خاکم بدہن عوام نام کا انبوہ کثیر سماجی و تاریخی شعور سے بہرہ ور ہو کر اپنے انسانی حقوق پہچاننا نہ شروع کر دے۔
پاکستان کی تہذیبی و سماجی تاریخ کے طالبعلم جانتے ہیں کہ کیسے اس بدنصیب ملک پر فلسفہ اور روشن خیالی کے دروازے بند کر کے اس پر جعلسازی کے دروازے کھولے گئے۔ یوں یقینی بنایا گیا کہ جیتے جاگتے شعور کے حامل انسانوں کی بجائے ایک ایسا غول بیابانی وجود میں آئے جو حکمرانوں اور ان کے کاسہ لیسوں کی غلط کاریوں اور قوم و ملک کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے آنکھیں بند کر کے ایک دوسرے کو نوچ کھانے پر تلا بیٹھا ہو۔
اس مقصد کے لیے جہاں سکولوں کو طفل کشی کے مراکز بنایا گیا وہاں یونیورسٹیوں کو دماغ سے محروم، احساس کمتری کے مارے ہوئے بالشتیوں کے پیداواری یونٹ کے طور پر ڈھال دیا گیا۔ یہ ایک عمل مسلسل تھا، وقت کے ساتھ ساتھ جس میں شدت آنا ناگزیر تھی۔
ماضی کے حکمران قدرے سیانے تھے کہ وہ دنیا کو پاکستان کا ثقافتی چہرہ دکھا کر مطمئن کرنے پر یقین رکھتے تھے، کم ازکم وہ اتنے عقل مند ضرور تھے کہ کاٹھ کباڑ کو ڈھانپنے کے لیے اس پر خوشنما قالین بچھائے رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسی اور نوے کی دہائیوں تک ریاست کی اساسی ثقافت دشمنی کے باوجود اس ملک میں ثقافتی سرگرمیاں بھی ہوا کرتی تھیں، ادب کے میدان میں بھی قدر آور شخصیات اپنے وجود کا احساس دلایا کرتی تھیں، علمی مباحث بھی زوروں پر تھے، ادبی جرائد نہ صرف شائع ہوتے تھے بل کہ پڑھے بھی جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں فلم بھی تھی، ٹیلی ویژن اور تھیٹر بھی ہوا کرتا تھا جو ریاستی پابندیوں کے باوجود ہر ممکن حد تک تہذیب گری کا کام کیا کرتے تھے۔ اسی طور پر ماضی کے مختلف ادوار میں اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان، اقبال اکیڈمی، اردو لغت بورڈ اور دیگر کئی ایسے ادارے قائم کیے گئے جو آج تک بقدر ہمت و ظرف اپنے جواز کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔
یہاں میں خاص طور اکادمی ادبیات پاکستان کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ اس کے اسلام آباد میں واقع صدر دفتر کا سنگ بنیاد آج بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ذہن رسا کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں تحقیق و تخلیق سے منسلک سرگرمیوں کے فروغ کا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر تہذیبی مراکز میں قائم دفاتر مقامی ثقافتوں اور لسانی منظر نامے کو اجاگر کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان جیسا فعال ادارہ اپنے وجود کا بھرپور جواز رکھتا ہے۔ یوں کہ اکادمی ادبیات بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ادب کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں کو ممکن بنانے کے لیے بہت سے ممالک کے ساتھ مضبوط روابط کا حامل ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں اکادمی کی موجودہ چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک ایم او یو کے تحت عوامی جمہوریہ چین کے دورے پر گئیں جہاں چالیس دیگر ممالک کے وفود کے ساتھ انھوں نے پاکستان کا ثقافتی تشخص ابھارنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
اکادمی ادبیات اب تک 600 سے زائد متنوع موضوعات پر کتب شائع کرچکی ہے۔ اگر اس کے تراجم کی فہرست ملاحظہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ موقر ادارہ نہ صرف بین الاقوامی منظر نامے کو اردو میں منتقل کرنے کا باعث بن رہا ہے بل کہ یہ ملک کی قومی زبانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کا لازمی فریضہ بھی سر انجام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ادارہ ہر سال بیس کے قریب ایوارڈز اور ایک کمال فن ایوارڈ بھی جاری کرتا ہے۔ جبکہ مالی مشکلات میں گھرے ایک ہزار سے زیادہ ادیبوں اور شاعروں کی معاونت اس کے علاوہ ہے۔ اسی پر بس نہیں۔ موجودہ ادب کش فضا میں جب کہ کوئی ادبی رسالہ شائع کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، اس کا سہ ماہی ادبی جریدہ ”ادبیات“ ملک بھر کے تخلیق کاروں کو ایک موقر پلیٹ فارم بھی مہیا کرتا ہے۔ ادارے کے تحت چند ادبیات اطفال اور پاکستانی لٹریچر (انگریزی) بھی اپنی شمع جلائے ہوئے ہیں۔
اکادمی ادبیات کے علاوہ دیگر تحقیقی ادارے بھی نہایت قلیل سرکاری امداد کے باوجود اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ جس کی تفصیل کا یہاں محل نہیں ہے۔
یہ تو ہوئی ایک بات، اگلی بات یہ کہ سرکار دربار سے منسلک مقتدر لوگوں کو پاکستان میں علم و ادب کے فروغ کے لیے قائم ادارے کبھی ایک آنکھ نہ بھائے۔ انتہا پسند رویوں کی مسموم فضا میں پروان چڑھے سرکاری بابوؤں کے ننھے منے دماغوں کے لیے یہ بات ہمیشہ ماورائے تصور رہی کہ آخر ”سپارٹا“ میں ایسی بے کار کی سرگرمیاں جاری کیوں رکھی جائیں؟ کیسا علم، کیسا ادب؟ جدید دنیا میں ان بیکار کی باتوں کی بھلا گنجائش ہی کہاں ہے؟ اس طرز فکر کے تئیں شاعر، ادیب، فنکار اور اہل علم نہیں بلکہ ”مضبوط افراد“ قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ قوم کی رہنمائی افراد کرتے ہیں، ادارے نہیں۔ اسی سوچ کے زیر اثر ہم ایک ایک کر کے اداروں سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
شنید ہے کہ اس مائنڈ سیٹ نے ایک تازہ واردات کرنے کی ٹھانی ہے کہ پانچ موقر ترین علمی اداروں ؛ اکادمی ادبیات پاکستان، ادارہ فروغ قومی زبان، اردو سائنس بورڈ، اردو لغت بورڈ، اور اقبال اکادمی کو ضم کر کے اسے کسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ماتحت کر دیا جائے اور اگر ایسا کرنا قانونی اعتبار سے ممکن نہ ہو تو انہیں بیک جنبش قلم ختم کر دیا جائے۔
سوچیے کہ، اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟
اس سے فائدہ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے چند کروڑ روپے کی بچت ہو جائے گی اور ہم آئی ایم ایف کے حضور اپنی بچت گزاری کی روداد پیش کر کے تحسین کے مستحق ٹھہریں گے؟ اچھا، یہ بھی ہو گیا لیکن ان شاندار عمارتوں کا کیا بنے گا جہاں یہ پانچوں ادارے قائم ہیں؟ اس کا آسان سا حل سوچا گیا ہے کہ ان میں وزارتوں کے دفاتر قائم کر کے اس ملک سے تحقیق و تخلیق کی تجہیز و تکفین کے نئے منصوبے سوچے جائیں گے۔
اس بات پر میری طرح آپ کے ذہن میں بھی یہ تین الفاظ ہی آئے ہوں گے : تف ہے بھئی!
میں نے اوپر ہرگز نہیں کہا کہ مذکورہ بالا ادارے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، یقیناً ان میں بھی کہیں نہ کہیں خامیاں اور کجیاں ہوں گی لیکن اس کا حل ان کے حالات میں بہتری لانے میں ہے یا ان کے وجود پر کلہاڑا چلانے میں ہے؟
یقین واثق ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں اس قسم کی سرکاری حماقت ٹھہر نہ پائے گی لیکن ادب دشمن مائنڈ سیٹ تو بہرحال وہیں کا وہیں موجود رہے گا۔ اس مائنڈ سیٹ کو صرف اہل قلم متحد ہو کر اپنی آواز بلند کر کے ہی پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔
کیا آپ اپنے ثقافتی اداروں کے تحفظ کے لیے اپنے عافیت کدوں سے باہر نکلنے کی زحمت فرمائیں گے؟


