’سالک‘ کی باتیں
نعیم اشرف کا خالد سہیل کو خط
محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل
تسلیمات!
مجھے اُمید ہے کہ میری یہ چٹھی آپ کو ہمیشہ کی طرح ہرا بھرا اور باغ و بہار پائے گی۔
میں نے SEEKER کے نام سے آپ کی سوانح حیات 2018 ء میں پڑھ لی تھی۔ اس کے چھ سال بعد جب یہی کتاب سالک کے نام سے اردو میں شائع ہوئی تو دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ پھر جب اس سال فروری میں کتاب کی تقریب رونمائی ٹورنٹو میں ہوئی تو قلب قبیلہ ( فیملی آف دی ہارٹ۔ انٹاریو) کے افراد نے بڑے ذوق و شوق سے سالک پر اپنے اپنے تاثرات ریکارڈ کر اوئے جو دلچسپ، حوصلہ افزا اور اثر انگیز تھے۔ ’سالک‘ کے حوالے سے میرے ذہن میں چند سوالات آئے ہیں۔
مگر اپنے سوالات آپ کے سامنے رکھنے سے پہلے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ خود نوشت لکھنا ایک کٹھن کام ہے۔ اپنی کہانی رقم کرتے وقت جو مشکلات پیش آتی ہیں ان میں سب سے بڑی مشکل سچ لکھنا ہے اور یہ کہ کتنا سچ لکھنا ہے؟ اس کے بعد یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ لوگ آپ کی کہانی کیوں پڑھیں گے۔ اس ضمن میں کہانی کے اندر کچھ ایسا شامل کرنا ہوتا ہے جو روز مرہ معاملات سے ہٹ کر ہو، قاری کی کہانی میں دلچسپی برقرار رکھ سکے اور پڑھنے والا شرُوع سے آخر تک کہانی میں محو رہے۔ ایک اُلجھن یہ بھی ہوتی ہے کہ کہانی کی طوالت اور گہرائی کتنی رکھنی ہے؟
ڈاکٹر صاحب۔ آپ سے یہ بھی پوچھنا تھا کہ ’سالک‘ رقم کرتے ہوئے آپ نے ان مشکلات پر کیسے قابو پایا؟
عموماً کہانی نگار اس کے آغاز میں ہی قاری کو اپنا ہم سفر بنا لیتا ہے اور ان مقامات کی سیر کرواتا ہے جہاں جہاں اس کا گزران یا بسرام ہوا تھا۔ نوشت نگار قاری کو ان افراد سے بھی ملواتا ہے جنہوں نے اس کی شخصیت کو متاثر کیا یا اس کی زندگی میں کوئی اہم کردار ادا کیا۔ اس کا زندگی کے بارے میں نقطہ نظر بدلا یا فکر فلسفے اور نظریے میں کوئی تبدیلی پیدا کی۔ بطور مجموعی خوشی کی بات ہے کہ ’سالک‘ ان عمومی معیارات پر پوُرا اترتی ہے۔ مگر اتنے کم وقت میں ایسا کیونکر ممکن ہوا؟
ڈاکٹر صاحب! آپ کی سوانح عمری ”سالک“ ایک منفرد اور دلچسپ کتاب ہے جو روایت سے ہٹ کر صیغہ واحد متکلم غائب میں لکھی گئی ہے۔ کہانی کے کرداروں کے نام ( بشمول سوانح نگار) استعاراتی ہیں۔ اور یہ نام اپنے اندر اپنے کردار کے اوصاف بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوانح حیات مختصر مگر جامع ہے۔ اور دلچسپ اس قدر ہے کہ انسان داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ڈاکٹر صاحب۔ بطور ایک نفسیات داں اپنی گوناگوں مصروفیات کے شور میں آپ اپنی اندر کی اس تخلیقی موسیقی کو کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟
ایک بات ٹائم مینجمنٹ کے حوالے سے بھی کرتا چلوں۔ میرے نزدیک انسانی زندگی چالیس، پچاس ساٹھ یا ستر برس نہیں ہوتی بلکہ چوبیس گھنٹے ہوتی ہے۔ اور ان چوبیس گھنٹوں میں ڈھنگ سے صرف ایک کام ہی ہو سکتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق میسر چوبیس گھنٹوں میں 8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے آرام اور باقی 8 گھنٹے سوشل میڈیا، فیملی اور دوستوں کے لیے رکھنے چاہئیں۔ میں وقت کے انتظام و انصرام کے حوالے سے آپ کے سامنے یہ سوال بھی رکھنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے وقت کو کیسے مینیج کر لیتے ہیں؟ آپ ایک مصروف طبیب، ایک نامور دانشور، ادیب، شاعر اور ایک مصروف ادبی و تخلیقی تنظیم ”فیملی آف دی ہارٹ“ کے سربراہ بھی ہیں۔ آپ نے فلسفے، نفسیات، ادبیات اور سماجیات پر ایک سو کے قریب کتابیں لکھ رکھی ہیں۔ دنیا بھر میں مداحوں کے ساتھ آپ رابطہ برقرار رکھتے ہیں اور ہمہ وقت تین چار لکھاریوں کے ساتھ خط کتابت بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھنا تھا کہ آپ اپنا وقت کیسے تقسیم کرتے ہیں؟ اور اپنے پیشے، تخلیقی کام اور نجی زندگی میں توازن کیسے قائم کرتے ہیں؟ آخر میں، ادبی دنیا کو ”سالک“ کی صورت میں ایک منفرد تحفہ دینے پر میں آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔
خیر اندیش نعیم اشرف
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
محترمی و مکرمی نعیم اشرف صاحب!
جب میں ایک بچہ تھا تو پشاور میں اپنے والدین اور اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ عید گاہ کے قریب رہتا تھا۔ ان دنوں میری پتلون کی ایک جیب میں ایک محدب عدسہ اور دوسری جیب میں چند سفید کاغذ ہوتے تھے۔ مجھے جب بھی موقع ملتا تھا میں عید گاہ کے باغ میں جا کر گھاس پر سفید کاغذ رکھتا تھا اور سورج کی شعاؤں کو محدب عدسے سے کاغذ پر مرکوز کرتا تھا۔ جب سورج کی شعائیں سفید کاغذ پر مرکوز ہوتی تھیں تو چند لمحوں کے بعد کاغذ کو آگ لگ جاتی تھی اور مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں ایک کرتب دکھانے والا اور کاغذ کو سورج کی شعاؤں سے آگ لگانے والا ایک جادوگر ہوں۔
یہ تو بچپن کی معصومانہ عادت تھی جب میں بڑا ہوا اور ایک لکھاری بنا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہر لکھاری کے اندر ایک تخلیقی سورج موجود ہے لیکن بہت سے لکھاریوں کے پاس محدب عدسہ نہیں ہے اس لیے وہ اپنی تخلیقی توانائی کو کسی ایک موضوع کسی ایک مضمون اور کسی ایک نکتے پر مرکوز نہیں کر پاتے اس لیے اپنی بہت سی توانائی کو ضائع کر دیتے ہیں۔
میں نے اپنی تخلیقی توانائی کو اپنے ذہنی محدب عدسے سے ایک نقطے پر مرکوز کرنا سیکھا۔
میں نے پچھلے چالیس سالوں میں ہر سال ایک کتاب اردو میں اور ایک کتاب انگریزی میں لکھی ہے۔
میں سال کے آخر میں اگلے سال کی دو کتابوں کا موضوع چنتا ہوں ابواب کا نقشہ بناتا ہوں اور پھر کتاب لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ اسی طرح میں نے ایک سال اپنی سوانح عمری انگریزی میں اور سات سال بعد اردو میں لکھی ہے۔
یہ میری خوش بختی کہ میری درویشانہ سوانح عمری کو آپ جیسے ادب دوست اور انسان دوست ادیب، مترجم اور نقاد نے پسند فرمایا۔
اپنی سر گزشت لکھتے وقت میں ایک ٹرانس میں آ گیا تھا وہ ایک آمد کی کیفیت تھی۔ اس عالم بے خودی میں خیالات جذبات تصورات اور نظریات ایک ترتیب سے آتے چلے گئے اور میں لکھتا چلا گیا۔ جب میں نے اپنی سوانح عمری دی سیکر مکمل کی تو مجھے یہ تو اندازہ تھا کہ میں نے ایک غیر روایتی اور دلچسپ کتاب لکھی ہے لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کیا قارئین اسے پسند کریں گے یا نہیں؟ اس کتاب کو میری توقعات سے زیادہ پذیرائی ملی اسی لیے میں نے اسے اردو کے قالب میں بھی ڈھال دیا۔
نعیم اشرف صاحب!
آپ نے میری کتاب: CREATIVE MINORITY
کا تخلیقی اقلیت کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا ہے اور اسے پاکستان سے چھپوایا بھی ہے۔ اس کتاب کی تخلیق کے دوران مجھے یقین ہو گیا کہ میں بھی تخلیقی اقلیت کا حصہ ہوں۔ جب میں نے اپنی شناخت قبول کر لی تو پھر میں نے اس حوالے سے اپنی غیر روایتی شخصیت کو دل کی گہرائیوں سے قبول کر لیا اور ایسا طرز حیات اپنایا جو میری تخلیقی زندگی کو بڑھاوا دے۔
اب میں اکیلا رہتا ہوں اور ایک تخلیقی تکون میں زندگی گزارتا ہوں۔ اس تخلیقی تکون کے تین کونے ہیں :
CREATIVE PSYCHOTHERAPY
CREATIVE WRITINGS
CREATIVE FRIENDS
جس طرح آپ نے میرے ساتھ خطوط کا تبادلہ شروع کیا ہوا ہے اسی طرح میں نے پچھلے ایک سال میں عابد نواز، حامد یزدانی، کامران احمد، ایڈن خواجہ اور احمد رضوان کے ساتھ بھی مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال شروع کر رکھا ہے۔
میں نے اپنے قیمتی وقت سے تخلیقی استفادہ کرنا سیکھا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ کہ میں شام کو مسی ساگا سے وھٹبی ڈرائیو کرتے ہوئے ایک گھنٹے میں ایک کالم سوچ لیتا ہوں اور پھر اگلی صبح اسے رقم بھی کر لیتا ہوں۔
میری دوستیاں بھی ایسے لوگوں سے ہیں جو خود بھی تخلیقی اقلیت کا حصہ ہیں، اس لیے میں انہیں خط بھی لکھتا ہوں، ان کے ساتھ مل کر ڈنر اور ڈائلاگ بھی کرتا ہوں اور کتابیں بھی لکھتا ہوں۔
میری نانی اماں کہا کرتی تھیں۔ ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔
یہ میری خوش بختی ہے کہ میری آپ جیسے مخلص دوستوں سے ملاقات ہوئی اور پھر ہم نے مل کر تخلیقی کام بھی کیے۔
میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اپنے کام سے محبت ہے۔ میں مذہبی آدمی نہیں ہوں لیکن اپنا تخلیقی کام سیکولر عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔ اور اپنی زندگی کو بامعنی بناتا ہوں۔
میرا یہ بھی مشاہدہ ہے کہ بہت سے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی حد سے زیادہ مصروف زندگیاں اور خاندانی ذمہ داریاں انہیں تخلیقی کام کرنے سے روکتی ہیں۔ میرا اکیلا رہنا بھی تخلیقی طرز حیات کا حصہ ہے۔ خاندان کی اور بیگم بچوں کی ذمہ داریوں کے نہ ہونے سے تخلیقی کام کرنے کے لیے روزمرہ زندگی میں بہت سا وقت مل جاتا ہے۔
میں رات کو سونے سے پہلے ایک گھنٹہ کوئی نئی کتاب پڑھتا ہوں اور صبح اٹھتے ہی ایک گھنٹہ لکھتا ہوں۔
میں رات کو سونے سے پہلے اپنی MUSE کو بتاتا ہوں کہ مجھے کس موضوع پر لکھنا ہے اور وہ میوس مجھے صبح کے وقت ایک تخلیقی تحفہ دیتی ہے۔ میری میوس میری تخلیقی دیوی مجھ پر مہربان رہتی ہے۔ اب ہماری پکی دوستی ہو گئی ہے۔ میری میوس سہیل کی سہیلی بن گئی ہے۔ اسی لیے میں اتنا کچھ لکھ لیتا ہوں۔
اب میں اگلے سال ریٹائر ہونا چاہتا ہوں تا کہ چند سال ایک فل ٹائم رائٹر کے طور پر زندگی بسر کر سکوں اور اپنی میوس کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکوں۔
آپ کے تراجم کا مداح،
خالد سہیل




