برلن جرمنی۔ سترہ جون سن انیس سو تریپن کی یاد


(خاکسار کی خود نوشت سوانح حیات ”ریاض نامہ“ کے صفحہ نمبر 132 سے اقتباس)

سترہ جون 1953 ء کو، مشرقی برلن کے عوام نے مشرقی برلن پر روسی قبضے کے خلاف بغاوت کی تھی جس کو مشرقی جرمنی کی حکومت نے روسی فوج کی مدد سے کچل دیا تھا اور بہت سے جرمن لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعے کی مناسبت سے موجودہ برلن کی ایک سڑک، جو ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن سے برانڈن برگر گیٹ تک جاتی ہے، کا نام ’سٹراسے دئیر سبسنتے جونی‘ ہے۔ جرمنی کی جمہوری تاریخ میں اس دن کے علاوہ، شاید ہی کوئی دن ہو جب جرمن عوام، ڈکٹیٹرشپ اور غیر جمہوری حکومت کے خلاف، سڑکوں پر نکلے ہوں گے۔ سابقہ مشرقی برلن میں، بہتر سالہ پرانے واقعے کو شاذ ہی اب کوئی نوجوان یا عمر رسیدہ جرمن باشندہ یاد کرتا ہو گا۔

عوام بالخصوص مزدور طبقے کا یہ مظاہرہ، سابقہ مشرقی جرمنی کی حکومت کی طرف سے، مزدوری معیارات میں دس فیصد بڑھوتری کے قانون کے خلاف تھا۔ یعنی مزدوری کم اور کام زیادہ کرنا۔ سب سے پہلے، پندرہ اور سولہ جون کو برلن کی ایک بہت بڑی کنسٹرکشن سائٹ کے مزدوروں نے کام کرنے سے انکار کیا اور ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ بعد میں یہ عام ہڑتال سارے ملک میں پھیل گئی اور مظاہرے شروع ہو گئے۔ حکومتی اہلکار ملک گیر مظاہروں میں پھنس سے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی راہنما والٹر اولبریخت اور ایسٹ سی ڈی یو جماعت کے رکن، اوتو نشکے نے برلن کے ضلع کارل ہوسٹ میں تعینات مشرقی جرمنی پر قابض روسی فوج سے مدد کی اپیل کی۔ جنہوں نے ٹینکوں کی مدد سے ان مظاہروں کو کچل دیا۔ نہتے مظاہرین فوجی ٹینکوں کا مقابلہ نہیں کر پائے تھے۔

ایک پچاسی سالہ جرمن باشندے اور اس واقعے کے عینی شاہد کے مطابق، مظاہروں کی اجازت کے لئے چودہ دن پہلے حکومت کو درخواست دینا ضروری تھا۔ لیکن یہ مظاہرے بے ساختہ شروع کیے گئے۔ ان مظاہروں میں تقریباً ایک سو بیس لوگ مارے گئے، کئی سو زخمی ہوئے اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں عدالتوں کی طرف سے سخت سزائیں سنائی گئیں تھیں۔

یاد رہے کہ ابھی تک مشہورِ زمانہ دیوار برلن تعمیر نہیں ہوئی تھی۔ تیرہ اگست انیس سو تریسٹھ کو دیوار برلن کی تکمیل تک، اشتراکی نظام کے تحت مشرقی جرمنی سے، سرمایہ دارانہ نظام والے مغربی برلن/مغربی جرمنی کی طرف، تقریباً تین ملین باشندے ہجرت کر چکے تھے۔ اسی کارن یہ دیوار برلن بھی بنی جو سن انیس سو نواسی کے موسم خزاں میں منہدم کر دی گئی تھی۔

آج کل کی مہذب دنیا میں باشعور عوام، حکمرانوں کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیتے۔ ماسوائے چند ترقی پذیر نام نہاد تیسری دنیا کے ڈکٹیٹر حکمرانوں کے، جہاں عوام کی آواز طاقت اور ظلم و بربریت سے دبائی جاتی ہے۔ حقیقی جمہوریتوں میں ڈکٹیٹرشپ کی کوئی جگہ نہیں۔

لیکن بصد حیف آج بھی ایک، نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت، یو ایس اے کے صدر ٹرمپ، قانون سے بالا تر ہو کر حکومت کر رہے ہیں۔ ان کے مختلف حکومتی اقدامات بالخصوص وہاں رہنے والے امیگرینٹس کے خلاف، نئے صدارتی آرڈیننس متعارف کرانے کے خلاف نو کنگ نامی ملک گیر تحریک چلائی گئی۔ امسال پندرہ جون، ”نو کنگ ڈے“ کو، یو ایس اے کے تقریباً دو ہزار شہروں میں لوگ، ہاتھوں میں ”نو کنگ“ ، امیگریشن پولیس آئی سی ای کے خلاف اور مختلف دوسری تحریروں والے بینرز اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ٹرمپ بادشاہ کی طرح حکومت نہیں کر سکتے وہ عوام کے منتخب شدہ ہیں اور عوام کو جوابدہ ہیں۔ وہ اپنی من مانی نہیں کر سکتے۔ صرف نیو یارک میں دو لاکھ افراد مظاہروں میں شریک ہوئے۔ گولی لگنے سے ایک انسان کی موت بھی واقع ہوئی تھی۔

قدامت پسندانہ جماعتوں کے لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے تک سے دریغ نہیں کرتے۔ جیسے حال ہی میں امریکہ میں ایک ڈیموکریٹک سیاست دان اور ان کی اہلیہ کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا سیاستدان جوڑا بھی زخمی ہوا تھا۔

Facebook Comments HS