بچوں میں ہونے والے ممکنہ حادثات، احتیاطی تدابیر اور ان کی روک تھام ( حصّہ اوّل)


dr qamaruddin nizami

بچپن زندگی کا وہ دور ہوتا ہے جس میں بچّہ دنیا کو سمجھنے، سیکھنے اور دریافت کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔ تاہم یہی دور بّچوں کے لیے خطرات سے بھی بھرپور ہوتا ہے، کیونکہ ان کی حرکات غیر محتاط، تجسس سے بھرپور اور غیر متوازن ہوتی ہیں۔ بچّوں کی چھوٹی سی غلطی کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اچّھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر حادثات مناسب احتیاطی تدابیر سے روکے جا سکتے ہیں۔ ان حادثات میں اونچائی سے گرنا، گرم اشیاء یا آگ سے جلنا، زہریلی چیزوں کا کھا لینا، پانی میں ڈوبنا اور ٹریفک کے حادثات وغیرہ شامل ہیں۔ آج ہم ان حادثات پر بات کریں گے کہ یہ حادثات کیوں ہوتے ہیں اور ان کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

1۔ اونچائی سے گرنا:

بچّوں کا اونچائی سے گر جانا ایک عام بات ہے۔ اکثر ایک سال سے کم عمر کے بچّے پلنگ یا صوفے سے نیچے گر جاتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات بڑے بچّے بھی سیڑھیوں یا اونچے مقامات سے نیچے گر جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ لگ جاتی ہے۔ اگر فر‌‌ش سخت ہو تو یہ چوٹ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ میرے پاس والدین اکثر ایسے بچّوں کو لے کر آتے ہیں جو لا پرواہی کی بنا پر پلنگ سے نیچے گرے ہوتے ہیں اور ان کے سر پر ایک گومڑ سا بنا ہوتا ہے۔

کبھی کبھی یہ والدین بچّے کے گرنے کے بعد فوراً ہی لے آتے ہیں اور کبھی کبھار کئی دن کے بعد لاتے ہیں۔ اکثر اوقات ان بچّوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہوتا ہے سوائے سر پر ایک ابھار یا گومڑ کے۔ جس کی وجہ سر کی ہڈّی اور کھال کے درمیان خون کا جمع ہونا ہے۔ یہ خون وقت کے ساتھ خود بخود جذب ہو جاتا ہے اور کبھی کبھی ہلکا سا سخت ابھار چھوڑ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچّہ کو کوئی اور سنگین نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ صورتوں میں چوٹ زیادہ سنگین ہو سکتی ہے، جیسے سر کی ہڈّی میں فریکچر ہوجانا یا سر کے اندر یا دماغ میں خون کا جم جانا اور یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

ہڈّی کا فریکچر بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک سادہ فریکچر جس میں ہڈّی میں فریکچر تو ہوتا ہے لیکن ہڈّی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے اور سر کے اندر کوئی خون جمع نہیں ہوتا۔ دوسرا خطرناک قسم کا فریکچر جس میں سر کی ہڈّی اندر کی طرف دب جاتی ہے اور دماغ پر دباؤ ڈالتی ہے یا سر کے اندر خون بھی جمع ہوجاتا ہے۔ ان کی تشخیص کے لئے سر کا ایکسرے اور سی ٹی اسکین کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتوں میں علاج فوری طور پر ضروری ہو جاتا ہے۔

اگر بچّے کے سر پر گومڑ ہو یا سادہ فریکچر ہو تو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ خود بخود وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاتا ہے اور بچّے پر بعد میں بھی کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔ لیکن اگر سر کی ہڈّی اندر کی جانب دب گئی ہو تو اسے سرجری کے ذریعہ ٹھیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر سر کے اندر یا دماغ میں خون جم جائے تو اسے نکالنا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ کیونکہ سر کے اندر جمع ہوا خون نہ نکالنے کی صورت میں فالج یا مرگی ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم یہ خون کی مقدار پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ اسے نکالا جائے یا نہیں۔

سر کے اندر خون جمع ہونے یا چوٹ کی خطرناک ہونے کی علامات

سر کی چوٹ کے خطرناک ہونے کی چند علامات ہوتی ہیں جن کا والدین کو خیال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ بر وقت طبّی مدد حاصل کی جا سکے اور صحیح علاج ہو سکے۔ اس لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال کرنا اور ان علامات کو دیکھنا بہت اہم ہے

(الف) اگر بچّے کو چوٹ لگنے کے بعد مسلسل الٹیاں ہوں
(ب) بچّہ نیم بے ہوشی کی حالت میں ہو۔
(ج) بچّہ کی حرکات و سکنات چوٹ لگنے سے پہلی جیسی نہ ہوں

(د) آنکھوں کی پتلیاں مختلف سائز کی ہوں یا ان کی حرکت غیر معمولی ہو۔ اگرچہ یہ والدین کے لئے دیکھنا مشکل ہے لیکن ڈاکٹر کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ بچّہ کی آنکھ کی پتلیوں پر نظر رکھے کہ ان کی حرکات صحیح ہیں اور دونوں آنکھوں کی پتلیاں ایک جیسی اور برابر ہیں۔

بچّوں کو سر پر چوٹ لگنے سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر

(الف) چھوٹے بچوں کو کبھی بھی تنہا نہ چھوڑیں

(ب) شیر خوار بّچوں کے بستر کے ارد گرد ریلنگ یا حفاظتی باڑ ہونی چاہیے۔ تاکہ بچّہ پلٹنے پر بستر سے نہ گرے۔

(ج) بچّوں کو عام پلنگ پر سلانے کی صورت میں بھی پلنگ کے اطراف میں ریلنگ یا حفاظتی باڑ لگائیں۔

(د) سیڑھیوں کے اوپر اور نیچے حفاظتی دروازے لگائیں تاکہ بّچہ سیڑھیوں سے نہ گرے۔ اس کے علاوہ سیڑھیوں کے اطراف میں بھی ریلنگ ہونی چاہیے اور اس میں بھی اتنی بڑی جھری یا جگہ نہ ہو جس میں سے بچّہ نکل سکے

(ہ) فلیٹس یا دیگر گھروں میں جو جالیاں بالکونی یا برآمدوں میں لگائی جاتی ہیں ان میں بھی اتنی جگہ نہیں ہونی چاہیے جس سے بچہ گزر سکے یا اس پر چڑھ سکے

(و) بچوّں کے ساتھ کھیلتے ہو‎ئے انہیں ہوا میں اچھالنا نہیں چاہیے۔ کیونکہ بچّے کو پکڑتے وقت بچّہ ہاتھ میں پکڑے جانے کے بجائے فرش پر گر سکتا ہے جس سے سر کی ہڈّی ٹوٹ سکتی ہے اور سر یا دماغ میں خون جم سکتا ہے۔

2۔ بچّوں کا پانی میں ڈوبنا:

‎ یہ ایک اور عام حادثہ ہے جو گھروں میں بچّوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔ اگر بچّہ زندہ بچ بھی جائے تو تمام عمر کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار بچّے کے پانی میں ڈوبے رہنے کے وقت یا دورانیہ پر ہوتا ہے۔ اگر بچّہ کا سر پانی میں چند منٹ ڈوبا رہے تو اس کے دماغ میں آکسیجن کی شدید کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بّچے کو پوری زندگی کے لئے مستقل دماغی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر بچّہ کا سر زیادہ دیر پانی کے اندر رہے تو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اس کی زندگی ختم ہو سکتی ہے۔ اس حادثہ کی عام طور پر دو صورتیں ہوتی ہیں۔

(الف) اگر نہانے کا ٹب پانی سے بھرا ہوا ہو اور چھوٹا بچّہ اس میں جھکنے کی کوشش کرے تو عام طور پر الٹ کر ٹب کے اندر جا گرتا ہے۔ اگر وہ ٹب کے اندر ہو اور پھسل جائے تو سنبھل نہیں سکتا۔ اس طرح اس کا سر پانی میں ڈوب جاتا ہے۔

(ب) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پانی سے بھری بالٹیاں رکھی ہوتی ہیں اور اگر بچّہ سال ڈیڑھ سال کا ہو تو اس میں جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں وہ بالٹی کے اندر جا گرتا ہے اور نکل نہیں سکتا اس طرح وہ بچّہ بالٹی کے پانی میں ڈوب جاتا ہے۔

بچّوں کو پانی میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر

(الف) چھوٹے بچّوں کو اکیلا غسل خانہ میں جانے نہیں دینا چاہیے۔ اگر ان کو نہلانا مقصود ہے تو اس دوران کوئی بڑا شخص ہر وقت ان کے ساتھ ہونا چاہیے جو مسلسل ان کی نگرانی کرے۔

(ب) گھر کے اندر بالٹیوں میں بھر کر پانی نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی دوسرا انتظام نہ ہو تو ان بالٹیوں پر ایسا کوئی ڈھکن ہونا چاہیے جسے بچّہ ہٹا نہ سکے۔

3۔ گرم سیال، پانی اور آگ سے جلنا

یہ بھی بچّوں میں ہونے والے حادثات میں ایک بہت ہی عام حادثہ ہے جو اکثر گھروں میں پیش آتا ہے۔ اکثر بچّے گرم چیزوں جیسے گرم برتن، جلتا ہوا کوئلہ یا لکڑی وغیرہ کو ہاتھ لگا لیتے ہیں یا گرم اشیاء منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی اور قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ان میں چند یہ ہیں

(الف) اکثر خواتین چھوٹے بچّوں کو گود میں لے کر کھانا پکاتی ہیں۔ چونکہ بچّہ گود میں کبھی بھی آرام سے نہیں رہتا اور اکثر چولھے یا گرم کھانے تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ خاص طور پر تیل اگر فرائی کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے تو وہ بّچے یا ماں پر گر سکتا ہے جس کی وجہ سے بچّہ کا جسم شدید طور پر جل سکتا ہے اور یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے

(ب) چونکہ سرکاری نلکوں میں آنے والا پانی صاف نہیں ہوتا اور پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لئے اس پانی کو ابالنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ بڑی دیگچی یا بھگونے میں پانی ابالتے ہیں اور اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے زمین پر رکھ دیتے ہیں اور اس پر ایک ڈھکّن لگا دیتے ہیں۔ بچّوں کو چونکہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ برتن گرم ہے وہ آ کر اس ڈھکّن پر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر گرم پانی میں گر جاتے ہیں اور بری طرح جھلس جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ مجھے اب بھی اپنے پڑوس میں رہنے والے ایک بچّے کا واقعہ یاد ہے جو ابلتے ہوئے پانی سے بھرے ایک بڑے گرم کھانا پکانے کے برتن پر بیٹھ گیا تھا اور اس میں گر گیا تھا۔ اسے ایک اچّھے اسپتال میں داخل کرنے کے باوجود بچایا نہیں جا سکا۔ پانی کو پینے کے لئے ابالا گیا تھا۔

(ج) اکثر بچّے کھانے کی میز پر بچھے ہوئے کپڑے کو پکڑ کر کھینچ لیتے ہیں جبکہ میز پر گرم چائے یا کھانا رکھا ہوتا ہے۔ اور وہ گرم چائے وغیرہ بچّے پر گر جاتی ہے اور بچّہ بری طرح جل جاتا ہے۔

(د) اکثر لوگ چھوٹے بچّوں کو گود میں لے کر گرم چائے پی رہے ہوتے ہیں۔ اور وہ بچّہ نادانستہ اور ناگہانی طور پر ہاتھ مارتا ہے۔ اس طرح وہ گرم چائے بچّہ پر گر جاتی ہے اور بچّہ جل جاتا ہے۔

بچّہ کو جلنے سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر

(الف) بچّوں کو گود میں لے کر کھانا نہیں پکانا چاہیے
(ب) گرم پانی کا برتن زمین پر نہیں رکھنا چاہیے
(ج) کھانے کی میز پر کپڑا نہیں ہونا چاہیے یا اسے میز کے کناروں سے لٹکنا نہیں چاہیے
(د) بچّوں کو گود میں لے کر چائے یا گرم مشروبات نہیں پینا چاہیے اور نہ ہی کھانا کھانا چاہیے
(جاری ہے )

Facebook Comments HS