جس کا نکاح ہو چکا تھا…
وہ لڑکی میرے آفس آئی۔ نقاب میں لپٹی، چہرہ ڈھکا ہوا مگر لہجہ ایسا دھیما اور مدھم جیسے کوئی کان کے قریب چپکے سے کہہ رہا ہو: ”سر، میں اس لڑکے سے نکاح کر چکی ہوں۔ مگر اب وہ انکاری ہے۔“
شہر کے شمالی حصے میں ایک شام ایسی بھی آئی تھی جس نے سورج سے روشنی چھین لی تھی اور گھروں کے اندر قفل لگے چہروں پر صرف اندھیری دھوپ اتری تھی۔ دل کے موسموں میں بھی کبھی کبھی ایسا زوال اترتا ہے جہاں بہار کی امید کرنا جرم لگتا ہے اور خزاں بھی خودکشی کی طرح آتی ہے۔ خاموش، مسلسل اور زخم دیتی ہوئی۔
میں نے چونک کر دیکھا۔ ”نکاح؟ کب؟“
”دو ماہ قبل ہمارے ساتھ والے محلے کی مسجد میں خاموشی سے میری امی کی مرضی کے بغیر۔ میرے چچا میرے ولی بنے تھے کیونکہ میرے ابا فوت ہو چکے ہیں۔“
میں نے دل ہی دل میں آہ بھری۔ ایک اور ”خاموش نکاح“ جو صرف آواز سے محروم نہیں، سماج کی سرپرستی سے بھی خالی ہوتا ہے۔
لڑکی نے کہا، ”سر! وہ اب کہتا ہے کہ میں نے دباؤ میں نکاح کیا۔ میرے گھر والوں کو نہیں مانتا اور مجھے تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔“
یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس کا فیصلہ صرف قانون نہیں، ضمیر بھی کرتا ہے۔
میں نے نکاح نامہ دیکھا۔ باقاعدہ قانونی اور دو گواہوں کے دستخط کے ساتھ۔ لڑکا بھی عاقل و بالغ تھا اور لڑکی بھی۔ مگر اب لڑکا کہہ رہا تھا کہ ”یہ نکاح زبردستی تھا“ اور گھر والے اسے مجبور کر رہے تھے کہ ”ایسی لڑکی کو بیوی نہیں ماننا۔“
اگلے روز میں نے لڑکے کو بلایا۔ ایک پڑھا لکھا سلجھا ہوا، خوبصورتی سے بنائے ہوئے بال، ماڈرن لڑکا۔
میں نے نرمی سے پوچھا: ”کیا تم نے نکاح کیا؟“
”جی۔ کیا تو ہے۔“
”پھر انکار کیوں؟“
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا:
”سر! تب محبت تھی اب پچھتاوا ہے۔ میری ماں نے کہا ہے کہ اگر اسے قبول کیا تو مجھے عاق کر دیں گی اور ویسے بھی۔ اب لگتا ہے کہ شاید وہ میرے لیے مناسب نہیں۔“
میں نے اپنا قلم میز پر رکھ دیا۔
”بیٹا! نکاح جذبات سے نہیں، ذمے داری سے باندھا جاتا ہے۔ جس دن تم نے کلمے کے سائے میں ہاتھ تھاما تھا اس دن تم نے ماں باپ سے چھپ کر نکاح کیا تھا۔ اب ماں باپ کے کہنے پر انکار کر رہے ہو؟ کل کوئی اور رائے دے گا تو طلاق بھی دے دو گے؟“
لڑکا خاموش رہا، نظریں جھکا لیں۔
میں نے لڑکی کی طرف دیکھا۔ اس کے آنسو چپ چاپ اس کے دوپٹے میں جذب ہو رہے تھے جبکہ اس کی خودداری چیخے بغیر ماتم کر رہی تھی۔ میں نے لڑکے کو بہت سمجھایا کہ اس لڑکی کا آخر قصور کیا ہے جو سب چھوڑ چھاڑ کر تمہارے ساتھ بیاہی گئی مگر وہ لڑکا اپنی بات پر بضد تھا کہ اس پر خاندان کی طرف سے بہت دباؤ ہے۔ اس کے بعد میں نے لڑکی کے چچا کو اپنے دفتر بلا کر انھیں تصفیہ کروانے کا کہا مگر انھوں نے نظریں جھکا کر جو کچھ بتایا وہ یہاں ناقابل بیان ہے۔ قصہ مختصر انھوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔
خیر میرے وکالت نامہ کے ساتھ عدالت میں کیس دائر ہوا۔ مجھے معلوم تھا اور میں نے اپنی کلائنٹ کو اچھی طرح بریف کیا کہ یہ ایک کمزور کیس ہے کیونکہ جس طرح لڑکی اپنا خلع یا تنسیخ نکاح کا حق استعمال کر سکتی ہے اسی طرح صرف چند شرائط کے تابع شوہر بھی اپنا طلاق کا حق کسی وقت بھی استعمال کر سکتا ہے کوئی امر مانع نہیں ہوتا۔
کیس اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا اور سچ اپنی اذیت سے۔
ایک دن لڑکی نے کہا، ”سر! میں مقدمہ واپس لینا چاہتی ہوں۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا، ”کیوں؟“
وہ بولی، ”کیونکہ میں جان گئی ہوں کہ نکاح صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں بلکہ قبول کرنے کا نام ہے اور جس کے ساتھ مجھے محبت ثابت کرنا پڑے میں اس کے ساتھ عمر بھر کی اذیت نہیں گزار سکتی۔“
اس کی یہ بات مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور گئی کہ کبھی کبھار فیصلہ عدالت نہیں کرتی، کردار کرتا ہے۔
وہ کیس بند ہوا بغیر کسی فیصلے کے۔ میاں بیوی میں علیحدگی ہوئی یہ ایک الگ کہانی ہے کہ لڑکی کو اس کی ماں کے پاس واپس کس طرح بھیجا۔
لڑکی نے تعلیم مکمل کی اور کئی سالوں بعد ایک سماجی تنظیم کے تحت خواتین کے حقوق پر لیکچر دیتے ہوئے میری کرسی کے برابر آ کر بیٹھی۔ اب وہ مدعیہ نہیں ایک مثال بن چکی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوئی۔ (یہ میرا تیسرا کیس تھا جب میری کوئی کلائنٹ کئی سال بعد اتفاقاً ملی اور میں نے اپنی کسی کلائنٹ کو سالوں بعد بہت کامیاب و کامران دیکھا تھا اس سے ایک سال پہلے بھی میری ایک کلائنٹ مجھے اتفاقاً ایک ہسپتال میں جاب کرتی ہوئی اور شاید اس سے پہلے ایک تقریب میں ہی بہت اچھے حال میں ملی تھی۔
میں نے دل میں سوچا۔ بعض رشتے ”بچانے“ کے لیے نہیں بنتے۔ وہ ہمیں خود کو پہچاننے کے لیے ملتے ہیں اور بعض وکیل کیس نہیں جیتتے، کردار کو ہارنے سے بچاتے ہیں۔
نکاح سے پہلے جذبات ہوتے ہیں، نکاح کے بعد ذمے داریاں۔ اگر رشتہ نبھانے کا عزم نہ ہو تو نکاح محض کاغذ کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے اور کسی کی زندگی ایک ناحق سزا۔ ایسے مقدمات میں وکیل کا سب سے بڑا ہنر صرف عدالت میں دلیل دینا نہیں، زندگی میں فہم بانٹنا ہوتا ہے۔


