چومکھی میں پھنسا ہوا امریکہ
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ غزہ کے بے گھر اور در بدر ہونے والے خاندان اپنی بے کسی پر اور معصوم بچوں کے لاشے اٹھانے والے ماں باپ حماس اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور غزہ کے قتل و غارت پر اسرائیل کے قہر کا ساتھی حماس کو بھی سمجھ رہے ہوں گے، جبکہ بے گھر ہونے اور جوان لاشے اٹھانے والوں کی نظر میں اسرائیلی ظلم اور بمباری کے مجرم حماس اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے نظر آرہے ہوں گے، حماس کے ضمن میں یہ بات یاد رہے کہ 1986 میں امریکہ نے فلسطین کی مضبوط ”الفح تنظیم“ کو کمزور کرنے کے لئے شیخ یاسین کی سربراہی میں اپنی پراکسی ”حماس“ کو مذہبی بنیاد پر کھڑا کیا تھا، مگر پھر وقت اور حالات کے جبر نے ”الفح تنظیم“ کو امریکہ کی بہترین اتحادی بنا دیا، جس کے بعد فلسطین کے امور میں ”حماس“ کی وہ اہمیت و حیثیت نہ رہی جو 90 کے عشرے تک رہی، اسی وجہ سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں ”حماس“ نے الفح کے اقتدار کے خلاف مذہبی بنیاد پر اختلاف کیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ امریکہ کی پراکسی نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کرنے والی فلسطین کے مفادات کی تنظیم ہے۔
مگر فلسطین کے حالات اور اسرائیلی بربریت نے ثابت کیا کہ امریکہ/اسرائیل گٹھ جوڑ نے اسماعیل ہانیہ کی ”حماس“ میں ایک متبادل قیادت ابھار کر اسے اپنی پراکسی بنایا اور پھر ”حماس“ اسی پراکسی کے ذریعے اسرائیل کی مدد سے اسماعیل ہانیہ سمیت لبنان کے حزب اسلامی کے سربراہ نصراللہ، ایرانی کمانڈر باقر اور ایرانی صدر رئیسی کا خاتمہ کر کے مشرق وسطی میں نہ صرف اسرائیل کی بالادستی کو مضبوط کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایران کی دفاعی اور خفیہ صلاحیتوں پر بھی سوالات کھڑے کیے اور اسرائیل کو فلسطین و غزہ کی طرح ایران پر حملہ کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے ، جبکہ اسی اثنا ایران میں اسرائیل اور بھارت کے نیٹ ورک کے ذریعے موساد کا ایران میں اثر و نفوذ بھی بڑھایا، جس نے اسرائیل کو ایران کے خلاف نیو کلیئر بم رکھنے کے بہانے ایران پر حملہ کرنے کا جواز بھی فراہم کیا۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار نہ بنانے کے NPT، معاہدے اور IAEA کے معائنے کرنے کی دستاویز پر عمل پیرا ہو کر عالمی طاقتوں سے جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کے لئے راضی بھی تھا اور اسرائیل کے حملے سے پہلے امریکہ سے مذاکرات کرنے کا دن اور تاریخ بھی طے کر چکا تھا، سوال یہ ہے کہ پھر اسرائیل نے تمام تر مثبت اشاروں کی موجودگی میں بھی اچانک ایران پر کیوں حملہ کیا اور اس کے اعلی فوجی جنرل اور سائنسدانوں کو کس لئے مارا؟ اسرائیل کی جانب سے حملہ اور ہونے کی یہ کوشش کیوں ہوئی یا اس کے مقاصد کیا رہے یا ابھی تک ہیں۔ ؟
اس مذکورہ حملے اور اس کے مقاصد پر دنیا بھر میں خیال آرائی اور جائزے پیش کیے جا رہے ہیں، کچھ کا خیال ہے کہ ”گریٹر اسرائیل“ کے منصوبے کی تکمیل کے لئے امریکی صدر ٹرمپ بہت زیادہ جلدی میں ہیں، کسی کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کے بیان کے بعد اسرائیل اس جنگ کو امریکی آشیرباد کے سہارے جاری رکھنے کی کوشش ایران کی ”رجیم۔ چینج“ کی وجہ سے کر رہا ہے جبکہ کچھ کی رائے ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مشرق وسطی کو کمزور کرنے کے بعد اپنی بالا دستی وسط ایشیائی خطے پر حاصل کرنا چاہتا ہے جس کا فائدہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو اپنی عالمی ساکھ قائم رکھنے کا ہو سکتا ہے، یا کہ امریکہ چین اور روس کے اثر کو خطے سے مکمل ختم کر کے خطے میں امریکی بالادستی چاہنے کے علاوہ امریکہ چین کی مضبوط عالمی معیشت کو نقصان پہنچا کر اس خطے کو مکمل اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں جنگ رکوانے کی کوششوں میں ایک گمان یہ بھی ہے کہ امریکہ مسلسل جنگ میں براہ راست شامل نہ ہونے کی پیشکش کی میعاد محض اس وجہ سے بڑھا رہا ہے کہ غیر متوقع طور پر جنرل عاصم منیر نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دینے کا کوئی وعدہ نہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایک جانب آبنائے ہرمز کے خطرات پر فکر مند ہے تو دوسری جانب وہ پاکستان کے ایران/اسرائیل جنگ میں امریکہ کا حلیف بننے کے لئے تیار نہیں ہے سے پریشان ہے، اسی کے ساتھ عالمی طور پر اکثریت روس اور چین کے پر امن موقف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جس کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ مسائل کا حل سفارتی سطح پر طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے جس کی ایک کڑی جنیوا میں فرانس جرمنی برطانیہ اور ایران کا انسانی حقوق سلامتی کونسل اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے کا مشترکہ لائحہ عمل ہے۔
انسانی حقوق کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس قرامچی نے ایران کا موقف رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ”ھم۔ اسرائیل کی بلا جواز جارحیت کا شکار ہیں جس میں ہم نے اپنے پیاروں کی قیمتی جانیں گنوائی ہیں، ہم۔ جنگ نہیں چاہتے مگر اسرائیل کی سفاکانہ اور بلا جواز جارحیت کو بھی قبول نہیں کریں گے اور اسرائیلی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے، قرامچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھوایا جائے، ہم۔ پہلے بھی مذاکرات سے حل پر آمادہ تھے اور اب بھی ہم جوہری اور علاقائی مسئلے مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں“ ۔
ایران کے وزیر خارجہ کے مذکورہ بیان کو روس اور چین کے موقف کا پرتو کہا جاسکتا ہے، اس سے قبل اسرائیل کے نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ ایران کے سپریم کمانڈر کو قتل کرنے کے بیان پر اکٹھے تھے، پھر امریکہ اور اسرائیل رجیم چینج پر ایک آواز ہوئے جبکہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں اب امریکہ اور اسرائیل نہ سپریم کمانڈر کے قتل پر آمادہ نظر آتے ہیں اور نہ رجیم چینج پر یک آواز ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے اس جنگ میں شامل ہونے کی بڑھکیں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی نظر ارہی ہیں، جبکہ ایران کی رجیم چینج کی جب سے مخالفت ایران کی سب سے طاقتور اپوزیشن ”تودہ پارٹی/کمیونسٹ پارٹی“ روس اور چین کی جانب سے ہوئی ہے تو امریکہ اور اسرائیل ایران کی یکجہتی اور ”تودہ پارٹی“ کے اصولی موقف کی روشنی میں کم از کم رجیم چینج کے بے سروپا مطالبے پر ٹکتے نظر نہیں آتے، اس میں اس خیال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کسی بھی حماقت سے اقتدار ”تودہ پارٹی“ یا گرین تحریک کے ریفارمسٹ کی جانب نہ چلا جائے یا ان کے حوالے کر دیا جائے۔
اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف دنیا کی اکثریت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جنرل سیکریٹری نے واضح طور پر کہا ہے کہ ”ھم۔ دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں اور خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ایران اسرائیل کا تنازعہ بڑھا تو پھر یہ کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں رہے گا“ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ماحول میں ایرانی عوام کی یکجہتی امریکہ کے لئے ایران کی ملائیت سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں امریکہ اسرائیل کے کردار اور گٹھ جوڑ کو سمجھتی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر امریکہ عالمی مخالفت کو سر دست اپنے حصے میں ڈال کر ویتنام کی شکست کو شاید دہرانا نہیں چاہتا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون اور امریکی کانگریس کے بیشتر ارکان اس جنگ میں امریکہ کی براہ راست مداخلت کے حق میں نہیں ہیں اور اسی کے ساتھ امریکہ کے سامنے چین کی مضبوط معیشت کو کمزور کرنے کا خواب، ایران کی رجیم چینج، ایران کی یکجہتی ختم کرنے یا ایران کے سپریم کمانڈر کا قتل ایسے مشکل اہداف ہیں جن میں سے وہ فوری طور سے نکل کر اپنی عالمی ساکھ بچانا چاہتا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ پہ اس چومکھی کشمکش کے لالوں کے اثرات کتنے گلے پڑتے ہیں۔ ؟


