کیا اسی کا نام سیاسی، سماجی اور اخلاقی شعور ہے؟


اگر آج کارل مارکس زندہ ہوتا، تو شاید وہ ”سرمایہ“ کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام پر ایک اور شاہکار تصنیف رقم کر رہا ہوتا۔ دیکھ لو یہ نظام خود اپنی جڑیں کاٹ چکا ہے، اقتصادی طور پر اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ چکا ہے۔ گلوبلائزیشن کی تھوڑی سی امپلیمینٹیشن نے ہی انہی کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ جب باقی دنیا نے ان کی مین پاور کی قلت سے اقتصادی فائدہ اٹھایا، تو ان کے ’پڑھے لکھے عقل مند‘ لوگوں نے چیختے اور چلاتے روتے گاتے ہوئے ساری دنیا کا مستقبل انتہائی غیر ذمہ داری سے ایک غیر سنجیدہ، کم عقل، نیم خواندہ شخص کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

اب اس انسانیت کی ’اعلیٰ ترین‘ جمہوری علمبردار سپر پاور میں نئی استعماریت، آمریت اور جدید طالبانیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ کہیں دور دور تک کوئی جمہوری یا پارلیمانی شعور دکھائی نہیں دیتا۔ آئندہ دو ہفتوں میں وہ شخص ہمیں یہ بتائے گا کہ کتنے میٹر گہرائی تک مار کرنے والے میزائل وہ ساؤتھ ایشیا میں چلائے گا، اور اس کی اپنی دنیا کی ’ذہین ترین، تعلیم یافتہ قوم‘ ہاتھ جوڑ کر اس کے فیصلے کی منتظر ہو گی۔ کیا یہ سب دیکھ کر آپ کے دل نہیں کانپتے ہیں؟ کیا آپ کے کانوں میں عورتوں اور بچوں کی چیخیں سنائی نہیں دیتی ہیں؟ اگر نہیں تو میں آپ سے کہوں آپ بہرے ہیں یا آپ کو سوائے اپنے کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا ہے۔ یہ کس قدر شرمندگی کی بات ہے۔

حیرت ہے کہ میٹلرجی، نیوکلیئر فزکس یا اٹامک سائنس کا کوئی ماہر یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ اگر زمین کے کسی حساس علاقے میں ایسی نادانیوں کے نتیجے میں زلزلے ٹریگر ہو گئے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

مزید بدتر یہ کہ تاریخ سے نابلد یہ شخص عربوں، ایرانیوں، افغانی طالبان اور پاکستانی ملاّؤں کو ایک ہی ترازو میں تولتا ہے۔ کوئی اُسے بتائے کہ ایران یا فارس عرب نہیں ہے۔ فارس نے تاریخ میں کبھی بھی معاشی یا عسکری امداد کے لیے عربوں یا مغربی دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے، وہ ہمیشہ خوددار ملک رہا ہے۔ اس کی تہذیب کا مطالعہ کرلو نہیں تو صرف وہ ایک جملہ یاد کرلو جب عمر کی فوج نے فارس فتح کیا تھا تو عربوں نے اس بات کو بہت جلد سمجھ لیا تھا کہ اس معرکے سے عسکری فتح ان کی مگر تہذیبی فتح ایرانیوں کی ہوئی تھی کیونکہ عرب تہذیب کے پاس ایرانی علم و شعور کے سامنے رکھنے کے لیے دامن میں کچھ نہیں تھا۔

اور اب اس جدید دور میں ملائیت کو بھی آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ کوئی مولا علیؓ یا اصحابِ فیل آسمان سے ان کی مدد کو نہیں آئیں گے۔ آج کے دور میں مذہبی ریاستوں کی بقا بھی صرف اور صرف اقتصادیات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

یہ تمام حالات دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جس ذہنی، فکری اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے سیارے کو اپنا مسکن بنایا ہے۔ کاش ایسا نہ کرتے۔

امریکہ میں ہونے والے اس سارے سیاسی عمل نے ہمیں شدید مایوس کیا ہے۔ اگر ان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے ایسے ناسمجھ عوام اور نفسیاتی خلل میں مبتلا لیڈر پیدا کر رہے ہیں، تو عمر کے اس حصے میں اپنی اولاد کے سامنے کم از کم مجھے تو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ پتہ نہیں آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا اسی کا نام سیاسی، سماجی اور اخلاقی شعور ہے؟

Facebook Comments HS