الوداعی پیغام: آصف حمید صاحب کی خدمات کا اعتراف اور قومی فریضہ
جب بھی کوئی سفارتی نمائندہ، خواہ وہ کسی بھی منصب پر فائز ہو، اپنی ذمہ داریاں مکمل کر کے رخصت ہوتا ہے، تو یہ محض ایک تقرری یا تبادلہ نہیں ہوتا۔ یہ لمحہ درحقیقت اس جذبہ خدمت کا اعتراف ہوتا ہے جو وہ اپنے ساتھ لاتا اور اپنی محنت سے چھوڑ جاتا ہے۔ آصف حمید صاحب کا ناروے میں بحیثیتِ ویلفیئر اتاشی کی ذمہ داریاں انجام دینا، صرف ایک سرکاری فریضہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے رشتے کی تکمیل تھی جس میں خلوص، ذمہ داری، قربانی اور حب الوطنی کی جھلک نمایاں تھی۔
گزشتہ چند سالوں میں پاکستان نے جس غیر یقینی سیاسی صورتحال کا سامنا کیا، اس میں ہمارے سفارت کاروں کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ داخلی بے چینی اور بیرونی پروپیگنڈے کے دوران پاکستانی کمیونٹی کو بیرونِ ملک متحد، باشعور اور باوقار رکھنا ایک چیلنج تھا۔ آصف حمید صاحب نے نہایت حکمت، تدبر اور دیانت سے اس فریضے کو نبھایا۔ انہوں نے نہ صرف کمیونٹی کے مسائل کو سمجھا بلکہ ان کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب رہے۔ ان کا رویہ، موجودگی اور جذبہ ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔
ہماری قابلِ فخر سفیرِ پاکستان محترمہ سعدیہ الطاف صاحبہ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہر فرد کا ”اپنا دیا جلائے رکھنا“ ہی ایک اجتماعی روشنی میں ڈھلتا ہے۔ ان کی یہ سوچ گویا ہمارے سفارتی مشن کا سلوگن بن چکی ہے۔ انفرادی کوشش جب اجتماعی بھلائی کے لیے کی جائے تو اس سے ایسا توازن پیدا ہوتا ہے جو کسی قوم کو ترقی اور عزت کے راستے پر لے جاتا ہے۔
ناروے جیسے ملک میں، جہاں ویک اینڈز اور تعطیلات خاندانی لمحات کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، آصف حمید صاحب نے اپنی ذاتی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر ہر سماجی و ثقافتی تقریب میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا۔ میں نے خود انہیں ایک ہی دن میں کئی تقریبات میں شرکت کرتے دیکھا۔ جہاں اکثر لوگوں کے لیے صرف ایک جگہ پہنچنا بھی دشوار ہوتا ہے۔
ہم کوئی کمزور قوم نہیں۔ ہمیں ہر جگہ اپنی صلاحیتوں اور وقار کا ادراک ہوتا ہے۔ نارویجن احباب نے بھی بارہا یہ احساس دلایا کہ پاکستانی کمیونٹی منظم، باصلاحیت اور مثبت سوچ کی حامل ہے۔ اسی جذبے کو ہم اپنے پلیٹ فارم Echoes from Oslo کے ذریعے زندہ رکھتے ہیں۔ ہمارا مشن ہے کہ ہم ہر اس مثبت پہلو کو اجاگر کریں جو پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنائے۔ جہاں پہ ضروری ہو وہاں مثبت تنقید بھی ہوتی ہے مگر تنقید سے پہلے کسی بھی معاملے کی فہم و فراست کا ہونا بنیادی عمل ہے۔
کیا کوئی ایسا فرد ہو سکتا ہے جو اس وطن کی قدر نہ کرے؟ جو اس چھت کو ماں کی طرح پناہ دینے والا نہ سمجھے؟ ہمیں اپنے ان نمائندوں کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے جو اپنی ذات سے بلند ہو کر قوم کی خدمت کرتے ہیں۔
آج جب ہم آصف حمید صاحب کو رخصت کر رہے ہیں، تو یہ صرف ایک سرکاری الوداع نہیں۔ بلکہ محبت، شکریہ اور اعتماد کا وہ پیغام ہے جو ہم ان کے ذریعے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر براہِ راست فلائٹ آپریشنز کے تناظر میں، پوری کمیونٹی کی یہ آواز ہے کہ سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں کی جائیں تاکہ ہمارے بزرگوں کو سفر کی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اگر کسی ائرلائن کے قیام میں کچھ بنیادی ضروریات ہیں، تو حکومتِ پاکستان انہیں ممکن بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ہم نے اپنے حصے کے چراغ جلا دیے۔ لیکن نیت میں خلوص باقی ہے، ہمارے بزرگ ماں باپ جو حسین خواب سجائے اپنی مٹی کی قربت میں رہنا چاہتے ہیں ہم اپنے بزرگوں کی آنکھوں میں امید کا چراغ کبھی بجھنے نہیں دیں گے۔
میں جان بہ لب تھا، پھر بھی اصولوں پہ اڑ گیا
بجھتا ہوا چراغ ہواؤں سے لڑ گیا
آخر میں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آصف حمید صاحب کو آئندہ ذمہ داریوں میں کامیاب کرے، اور ان کی دی گئی روشنی ہمیشہ مٹی سے وفا کرنے میں رہنمائی کرتی رہے۔


