بچے کی تربیت کا آغاز کب ہوتا ہے؟


ماں بننے کے آغاز کے ساتھ ہی بچے کی ذہنی اور روحانی تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ وقت بہت اہم ہے۔ اِس وقت کو عام طور پر تربیت کے سلسلے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ تر بیت کا آغاز پیدائش کے بعد یا بچے کے سکول داخلے کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ماں بننے کا آغاز اور تربیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دوران حمل جو کہ کم ازکم سات ماہ کا وقت ہے۔ تربیت کے کچھ مراحل کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔

٭ والدین کی عادتیں اسی دوران بچے میں پیدا ہو جاتی ہیں۔

٭ دورانِ حمل ماں کے جذبات و احساسات اور سوچ کا اثر بچے پر ہوتا ہے۔

٭ اسی دوران ماں باپ کا رویہ بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد والدین کا جسمانی رویہ بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ وہ ان کی جسمانی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مشاہدہ بہت بڑا استاد ہے۔ اس لیے ہم اپنے بچوں کو اچھا مشاہدہ دیں۔

٭ اس دوران ماں اور باپ کا آپس میں تعلق کا اچھا رہنا بہت ضروری ہے۔

٭ شوہر کو بیوی کا اس لحاظ سے خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس دوران وہ غیرمعمولی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔ اس دوران چڑچڑاپن پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ جس کو مرد اکثر نہیں سمجھتے اور اگر مشترکہ خاندانی نظام ہے تو ان مراحل سے گزری اکثر خواتین جن میں ساس اور شوہر کی باقی رشتہ دار بالخصوص بہنیں اپنی مثالیں دے کر غیر ضروری پریشانی پیدا کرتی ہیں۔ اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر کیس ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر چیز کو میرٹ پر لیا جائے۔ جس طرح ہر انسان مختلف جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر ماں کو اپنے ہونے والے بچے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنا ہوتے ہیں، اس لیے موازنہ کرنا مناسب نہیں۔ اگر ڈاکٹر سے رابطہ رکھنا ضروری ہے تو سستی ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔

بعض حالات میں دیکھا گیا ہے کہ اس میں سستی دکھائی جاتی ہے جو نامناسب رویہ ہے۔ عورت جب پہلی بار ماں بنتی ہے تو اسے جسمانی صحت، نفسیاتی مسائل، بچہ ہونے سے پہلے اور بعد میں ڈپریشن، جسم میں درد، کمر میں درد اور اسی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کے لیے اسے گھر بالخصوص شوہر کی طرف سے ہمدردی کی اور ڈاکٹر کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے یہ دونوں کام کرنے ضروری ہیں۔ آج کل کی مائیں پرانی ماؤں کی طرح سخت جان ہر گز نہیں نہ ان میں اتنی قوتِ مدافعت ہے کہ انہیں کی طرح رہ کر یہ وقت گزاریں۔ اکثر یہ سننے کو ملتا ہے۔ یعنی عورتوں سے، ”ہم نے بچے پیدا کیے، کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ یہ آج کل کی لڑکیوں کو کیا ہو گیا کہ اتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں؟ یہ لڑکیاں خواہ مخواہ کا مسئلہ بناتی ہیں“ ۔

٭ اس دوران ماں کا اچھی خوراک لینا بہت ضروری ہے۔ جو شوہر کا فرض ہے کہ وہ اُسے مہیا کرے۔
٭ اس دوران ضروری ہے کہ سوچ مثبت اور تعمیری ہو اور زندگی لڑائی جھگڑے سے پاک ہونی چاہیے۔

کیا فائدہ ہو گا؟

٭ آنے والے بچے پر خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔
٭ ماں کی ذہنی و جسمانی صحت اچھی ہو گی تو بچہ بھی صحت مند پیدا ہو گا۔
٭ اچھی خوراک سے بچے کی قبل از پیدائش صحت اچھی رہے گی۔

یاد رکھیں! اکثر یہ کہا جا تا ہے کہ دورانِ حمل اپنے کمرے میں موڈ کو خوش گوار رکھنے والی چیزیں زیادہ سے زیادہ رکھیں۔ ایسا کرنے سے آنے والے بچے پر خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ماؤں کی مثال بھی دی جاتی ہے کہ اس دوران وہ مینٹل میتھ یعنی ریاضی کی ذہنی مشقیں زیادہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے ہاتھوں میں پوری دنیا کا معاشی نظام غلام بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بچوں کی ذہنی و دماغی استعداد بڑھانے والی خوراک استعمال کرتی ہیں۔ جس سے ذہنی طور پر مستعد بچے پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ اسرائیلی ماؤں کی طرح ہماری ساری مائیں اس طرح کی آئیڈیل خوراک تو نہیں لے سکتیں اور تعلیمی معیار کم ہونے یا نہ ہونے سے ماؤں کو اتنی آگاہی بھی نہیں ہوتی مگر جہاں تک ممکن ہو اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ سورۃ الرحمٰن کے حوالے سے کہا جا تا ہے کہ اس کی آڈیو ترجمہ کے ساتھ اگر ماں سنتی رہے تو بچے کی قوت مدافعت یا Immune System بہتر ہو گا اور برین سیلز یعنی دماغی خلیے بہتر بنیں گے۔ اس طرح سورۃ مریم کے بارے میں بھی کہا جا تا ہے کہ ماؤں کے سننے سے بچوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔ اگر مائیں دورانِ حمل اس کا اہتمام کر لیں تو خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

آخری بات! ایک ایپ ہے، بے بی سنٹر Baby Center ماؤں کے لیے یہ بڑی اہم ہے بالخصوص پہلے بچے کے وقت، چونکہ اس وقت ماں کو کوئی تجربہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے؟ اس میں پہلے دن کی Pregnancy سے پیدائش کے بعد ایک سال تک کے تمام مراحل بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں، جن ماؤں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے وہ اس سے فائدہ ضرور اٹھائیں۔

Facebook Comments HS