ہاں مگر: افریقی راک سٹار۔ ایک حیران کن سٹوری
اڑان کا وقت قریب تھا۔ سبھی مسافر آ چکے تھے بس ایک فرسٹ کلاس مسافر نے ابھی آنا تھا۔ کچھ منٹ باقی تھے کہ مطلوبہ مسافر سوار ہوا۔ نہ صرف مسافر بلکہ ائرہوسٹس کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا۔ مسافر کے حلیے سے نہیں لگتا تھا کہ وہ فرسٹ کلاس ٹکٹ ہولڈر ہو سکتا ہے۔ فرسٹ کلاس میں تقریباً دس افراد تھے جو تمام کے تمام گورے اور سونے اور ہیرے جواہرات کی نامی گرامی کمپنیوں کے سی ای اوز تھے۔ اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ائرہوسٹس نے اسے روک لیا اور کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے آپ اس کلاس میں نہیں جا سکتے۔ مسافر نے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی بلکہ میں نے ٹکٹ ہی اس کلاس کا خریدا ہے۔ ائرہوسٹس نے اسے آگے جانے کی اجازت نہ دی۔ دونوں میں بحث زور پکڑ چکی تھی۔ اگرچہ ائرہوسٹس کا رویہ تحقیرانہ تھا لیکن نوجوان بڑے ہی تحمل اور صبر کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ مسافروں نے بھی شور کرنا شروع کر دیا کہ اگر اس کے پاس ٹکٹ ہے تو آپ کو اسے روکنے کا حق نہیں۔ اتنے میں سیکیورٹی افسر بھی آ گیا، اس نے ٹکٹ سکین کیا اور اصل پا کر اسے فرسٹ کلاس میں جانے کی اجازت دی۔ جہاز نے اڑان بھری اور جب مطلوبہ ائرپورٹ پر لینڈنگ کی تو نہ صرف جہاز کے ارد گرد سیکیورٹی کا حصار مکمل ہو چکا تھا بلکہ ریڈ کارپٹ بھی بچھ چکا تھا۔ سب کو تجسس تھا کہ اس جہاز میں ایسا کون ہے جسے اتنا وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ سب مسافر اتر چکے تھے اور وہ مسافر بھی اتر رہا تھا جسے ائرہوسٹس نے فرسٹ کلاس میں جانے سے روکا تھا۔ سب کو اس وقت حیرت کے شدید جھٹکے لگنے لگے جب اس عام سے نوجوان نے سرخ قالین پر قدم رکھا۔ وہ جوان سیکیورٹی کے سخت حصار میں سرخ قالین پر چلتا ہوا اپنا بچپن یاد کر رہا تھا۔
جب وہ بچہ تھا تو اس کا باپ باقی لوگوں کی طرح سونے کی ایک کان میں مزدوری کرتا تھا۔ کبھی کبھار چھٹی والے دن یہ اپنے باپ کے ساتھ کان میں چلا جایا کرتا تھا اور دیکھتا رہتا تھا کہ کان میں مزدوروں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان کی سیکیورٹی کا مناسب انتظام تک نہیں تھا۔ ایک دن دھماکا ہوا جس میں اس کا باپ چل بسا۔ بہت مشکل وقت تھا لیکن اس نے کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی مکمل، فوج میں افسر بھرتی ہو گیا اور ترقی کرتے کرتے کیپٹن کے عہدے پر جا پہنچا۔ 2022 میں اس نے چند نیک دل افسران کے ساتھ مل کر مغرب کی نمائندہ حکومت کا تختہ الٹا اور خود کو ملک کا صدر ڈکلیئر کر دیا۔ بعد ازاں اس نے الیکشن کرایا جس میں وہ دوبارہ صدر منتخب ہو گیا۔
بات ہو رہی ہے برکینا فاسو (Burkina Faso) کے 37 سالہ جوان صدر ابراہیم ترورے (Ibrahim Traoré) کی جس کا جنم ایک مزدور میں گھر میں ہوا تھا لہذا اس نے ملک کی اصل تصویر دیکھ رکھی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ملک میں سونے کی کانوں کے باوجود عوام غریب کیوں ہیں؟ لہذا جب وہ ملک کا صدر بنا تو اس نے ملک میں سونے کی تمام کانیں قومیا (Nationalize) لیں جن پر مغرب کا قبضہ تھا اور اعلان کیا کہ ان پر پہلا حق عوام کا ہے۔ اس نے کسانوں کے لیے 4000 ٹریکٹر کا انتظام کر کے زمینوں کو آباد کرنا شروع کر دیا اور ملکی اجناس کو ملک میں پروسیس کرنا شروع کر دیا۔ کاٹن اور کاجو کے پروسیس کی فیکٹریاں ملک میں لگا دیں جس سے نہ صرف خود کفیلی آئی بلکہ ان نوجوانوں کو نوکریاں بھی مل گئیں جو بیروزگاری کی وجہ سے مغربی گینگز کے لیے کرائے کا قاتل کا کام کیا کرتے تھے۔ اس نے ملک میں صحت کی تمام سہولیات مفت کر دیں۔ اس نے ایک اور انقلابی اعلان کرتے ہوئے کہ ہر شہری کا حق ہے کہ اس کا اپنا گھر ہو، سرکاری ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کر دیا۔
یہ ہے ابراہیم ترورے، گفتار کا دھنی، کردار کا غازی، بھرپور کمانڈو جسم، جاذب نظر، ہر وقت فوجی یونیفارم میں ملبوس، ہولسٹر میں لٹکتا پستول، ایک خوددار مسلمان حاکم جس نے محض تین سالوں میں اپنے غریب ملک کا نقشہ بدل دیا، کمال کا مقرر، بلا کا مناظر جسے بحث میں ہرانا ممکن نہیں۔ اس نے افریقی ممالک میں بیداری کی لہر پیدا کر دی ہے جس سے مغربی کمپنیاں پریشان ہیں کہ اگر باقی ملک بھی اس کی راہ پر چل پڑے تو ان کا کیا بنے گا؟ جب اس نے غیرملکی کمپنیاں قومیائیں تو امریکن کمپنیوں نے ٹرمپ کو شکایت لگائی۔ ٹرمپ نے اس بلایا تو اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ اس نے دھمکی دی لیکن اس نے اس دھمکی کو آج تک جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ سعودیہ نے مساجد تعمیر کر کے دینے کی پیشکش کی تو اس نے کہا کہ ہماری مساجد ہمارے نمازیوں کے لیے کافی ہیں آپ سکول بنائیں۔ پیوٹن نے دعوت دی تو وہ عام ائرلائن سے آنے پر بضد تھا لیکن اسے سمجھایا گیا کہ آپ نے استعمار کو للکارا ہے لہذا وہ آپ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ لہذا پیوٹن نے اپنا جدید ترین طیارہ اسے لانے کے لیے بھیجا جس کی حفاظت روس کے جدید فائٹر جیٹ کر رہے تھے۔ اس کی انقلابی تقریر کا مکمل ترجمہ وسعت اللہ خان نے ”ایک افریقی سیاسی راک سٹار کی تقریر“ کے عنوان سے اپنے تین کالموں میں کیا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے اس ائرہوسٹس کا کیا بنا؟ اس نے نہ صرف اسے بلکہ پورے عملے کو یہ کہتے ہوئے معاف کر دیا تھا کہ مسائل ایک فرد کو ہٹانے سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے سے حل ہوں گے۔ اسی لیے وہ افریقی ممالک کا اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ ائرہوسٹس اس سے متاثر ہو کر نئی نسل کا ذہن بدلنے کے لیے ایک اعلیٰ سکول چلا رہی ہے۔


