جبری تبدیلی مذہب: سندھ کی بیٹیوں کو کس نے بے آواز کیا؟


پاکستان کے صوبہ سندھ میں گزشتہ چند برسوں سے ہندو برادری کی کم عمر لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی اور شادیاں ایک مسلسل اور تشویش ناک مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی خاندانوں کے لیے یہ المیہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، سلامتی اور بقا سے جڑا ہوا سوال بن گیا ہے۔

پچھلی دہائی میں میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتوں کے نمائندوں کی طرف سے سامنے آنے والے درجنوں کیسز میں ایک قدر مشترک رہی ہے : ایک ہندو لڑکی، عام طور پر 13 سے 17 سال کی عمر کے درمیان، اچانک غائب ہو جاتی ہے۔ چند دن بعد وہ ایک مقامی مدرسے یا درگاہ سے نمودار ہوتی ہے، اعلان کرتی ہے کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے، اور ایک مسلمان مرد سے شادی بھی کر چکی ہے۔

اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب شہداد پور سے تعلق رکھنے والے تین نابالغ بچوں سمیت پانچ ہندو بچوں کو اغوا کر کے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جن میں سے چار کراچی کے علاقے کٹی پہاڑی سے بازیاب کروائے گئے۔ اس سارے عمل میں سکول کا ایک استاد ملوث پایا گیا۔ چونکہ بچیوں نے عدالت میں جا کر یہ بیان دے دیا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھیں۔ اس لیے عدالت نے ملزمان فرحان اور اس کے بھائی ذوالفقار خاصخیلی کو رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا اور 13 سالہ ہنی کمار اور 15 سالہ ڈِشا بائی کو ان کے والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ دیا بائی اور جیئا بائی کو کراچی کے فلاحی ادارے (شیلٹر ہوم) واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

عدالت میں ’اپنی مرضی‘ کا بیان، لیکن پس پردہ کیا ہے؟

ان واقعات میں جب متاثرہ خاندان پولیس یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو لڑکی کا ایک ویڈیو بیان سامنے آتا ہے، یا وہ عدالت میں جا کر کہتی ہے کہ ”میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور شادی کی۔ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔“

لیکن سوال یہ ہے کہ 14 یا 15 سال کی ایک لڑکی، جس نے کبھی اپنا شہر تک نہ چھوڑا ہو، اچانک نہ صرف مذہب تبدیل کر لے بلکہ نکاح اور عدالت کی کارروائی بھی مکمل کر لے، کیا یہ سب واقعی کسی آزاد مرضی کا نتیجہ ہے؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) ، اقلیتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان بیانات کے پیچھے اکثر دباؤ، خوف، اور بلیک میلنگ کا عمل کارفرما ہوتا ہے۔

قانونی سقم اور ریاستی بے عملی

پاکستانی قانون میں مذہب کی تبدیلی کی کوئی واضح عمر مقرر نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک 13 یا 14 سالہ بچی ”مرضی“ سے مسلمان ہو کر شادی بھی کر سکتی ہے، اگر وہ عدالت میں ایسا بیان دے۔

گو کہ Child Marriage Restraint Act کے تحت 18 سال سے کم عمر کی شادی ممنوع ہے، مگر اس کی خلاف ورزی پر سزائیں نرم ہیں اور اکثر لاگو نہیں ہو پاتیں۔ پھر سندھ میں شادی کی عمر 18 سال ہے، مگر دیگر صوبوں میں یہ 16 سال ہے، جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔ اور اسلام آباد کے لئے بھی اس ضمن میں حال ہی میں پارلیمنٹ کی طرف سے ایک بل منظور کیا گیا جسے مذہبی حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح پاکستان میں ابھی تک مذہب کی تبدیلی کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ نہ ہی کوئی قانونی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے کہ تبدیلی مذہب کا عمل آزادانہ ماحول میں، بغیر کسی دباؤ کے، مکمل ہو۔ سندھ اسمبلی نے 2016 میں جبری مذہب تبدیلی کو روکنے کے لیے ایک بل منظور کیا تھا، مگر مذہبی جماعتوں کے دباؤ پر اسے بھی واپس لے لیا گیا۔

مشہور کیسز جو قومی سطح پر گونجے

ارجن کمار کی بیٹی پوجا کماری ( 2022 ) : گھوٹکی کی رہائشی 14 سالہ پوجا کماری نے جبری شادی کے خلاف مزاحمت کی تو اسے قتل کر دیا گیا۔

میرا اور رینا ( 2019 ) : سندھ سے اغوا ہونے والی دو بہنوں نے میڈیا پر آ کر اپنی ”مرضی“ کا دعویٰ کیا، مگر ان کے والدین کا موقف تھا کہ وہ دباؤ میں ہیں۔

ہینا شاہانی، لجو، رادھا، اور دیگر بچیاں : جن کے کیسز عدالتوں میں گئے اور ان میں سے اکثر کو ”مرضی“ کی بنیاد پر شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی۔

اس حوالے سے جب، سندھ سے تعلق رکھنے والی، انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ہما عباسی، جو ایسے کئی کیسز کو قریب سے دیکھ چکی ہیں، ان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاقیہ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم مافیا کا شاخسانہ ہیں۔ ان کے مطابق ”ان تمام واقعات میں ایک مقامی مافیا ملوث ہوتا ہے جو مذہب اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ہندو بچیوں کو زبردستی مسلمان کرواتا ہے، اور پھر ان کی جبری شادیاں کروا دی جاتی ہیں۔ دراصل ان کا مقصد اپنی جنسی خواہشات کو مذہب کی آڑ میں پورا کرنا ہوتا ہے۔“ ہما نے کہا، کہ یہ ہمیشہ ایک ہی طرز کا واقعہ ہوتا ہے :
لڑکی کو اغوا کیا جاتا ہے،
مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے،
نکاح نامہ تیار ہوتا ہے،
اور پھر عدالت میں پیشی پر وہ بیان دے دیتی ہے کہ سب کچھ اس نے ”اپنی مرضی سے“ کیا۔

”عدالت لڑکی کے بیان کی بنیاد پر ملزمان کو چھوڑ دیتی ہے، مگر وہ یہ نہیں دیکھتی کہ کیا یہ بیان آزادانہ ماحول میں دیا گیا؟ کب سے یہ سلسلہ یونہی چل رہا ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس مافیا کو عدالتوں اور پولیس کی خاموش حمایت حاصل ہے۔“ ان کا یہ بھی کہنا تھا، کہ ریاست کا رویہ بھی اس پورے معاملے میں شرمناک حد تک خاموش ہے، ”ریاست مذہبی ٹھیکیداروں سے ڈرتی ہے اور میڈیا کو تو یہ مسئلہ ہی نہیں لگتا۔ اگر ریاست چاہے تو اس کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ ایک ہفتے میں یہ سب کچھ روک دے۔ مگر مسئلہ ریاست کی نیت کا ہے، نہ کہ صلاحیت کا۔“

حل کیا ہے؟
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور اقلیتوں کے نمائندے مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ:
مذہب کی تبدیلی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے۔
تحقیقات کے بغیر تبدیلی مذہب قبول نہ کی جائے۔
ہر کیس میں لڑکی کو آزاد ماحول میں بیان دینے کا موقع دیا جائے۔
سندھ اقلیتی تحفظ بل کو دوبارہ فعال کیا جائے۔

سندھ میں اقلیتوں کی لڑکیاں نہ صرف اپنی شناخت سے محروم ہو رہی ہیں، بلکہ ان کے بنیادی انسانی حقوق، تحفظ، تعلیم، اور مستقبل بھی چھینا جا رہا ہے۔ جبری مذہب تبدیلی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض مذہب کا مسئلہ نہیں، بلکہ جنسی استحصال، ریاستی خاموشی، اور عدالتی ناکامی کا ایک خوفناک امتزاج بن چکا ہے۔

یہ معاملہ محض اقلیتوں کا نہیں رہا، یہ ریاست، انصاف اور معاشرتی ضمیر کا امتحان ہے۔

Facebook Comments HS