فیض کی ’نقش فریادی‘ کے پشتو نقوش
ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق ’خون جگر کے بغیر تمام نقش ناتمام ہیں مگر بعض نقوش رنگِ ثبات رکھنے کے باعث مداومت کے خوگر ہو جاتے ہیں۔ اردو شعری روایت میں فیض احمد فیض کا اسلوب اور موضوعاتی امتیاز و تخصص اتنا مسحورکن اور متنوع ہے کہ مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ آپ کا حلقہ اثر جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔ آپ کے خاص لفظیاتی نظام اور اسلوب نے ایک عہد کو متاثر کیا ہے اور تاثیر و تاثر کا یہ سفر تا حال جاری ہے۔
پشتو ادب کے شاعر، ڈرامہ نویس اور محقق پروفیسر ہمایون ہمدرد ( 3 مارچ، 1967۔ 29 جون 2020 ) اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ انہوں نے فیض کی کتاب ’نقش فریادی‘ کا پہلا منظوم پشتو ترجمہ ’نقش فریادی‘ (مئی 2003 ) شائع کرا کر اولیت کا سہرہ امتیاز اپنے سر سجا لیا۔ اسی ضمن میں یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے بشمول ساحر لدھیانوی کی متعدد نظموں کے، بنگالی زبان کے شہرہ آفاق شاعر و تخلیق کار رابندرا ناتھ ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ کا پشتو منظوم ترجمہ بھی کیا ہے جو تا حال زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکا۔ اگرچہ فیض ترقی پسند پشتو ادب میں بالکل نئے اس لحاظ سے نہیں ہیں کہ ترقی پسند تحریک کے بالکل ابتدائی ایام میں ترقی پسندانہ تصورات پشتو ادب میں بہت عام تھے تاہم گاہے بگاہے فیض کی شعریات کے پشتو تراجم کا سفر بھی جاری رہا۔
نامور محقق مرحوم ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹک پروفیسر ہمدرد کے ان تراجم سے متعلق رقمطراز ہیں کہ ’ہمایون ہمدرد پشتو کے رومانی اور جمالیاتی احساس رکھنے والے شاعر ہیں مگر حالات کے ستم کا شکار بھی رہے ہیں۔ ان کی شاعرانہ استعداد فطری ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ فیض کی شاعری نے ہمدرد کے دل کو اپنی گرفت میں لیا ہے اور پھر انہوں نے فیض کے خیال کے رنگوں کے ساتھ اپنے خیالات بھی شریک کیے ہیں‘ ۔
اس ترجمہ سے متعلق ڈاکٹر پرویز مہجور کی یہ نپی تلی رائے بھی پروفیسر ہمدرد کی تخلیقی صلاحیتوں کا بلا واسطہ اعتراف ہے کہ ’دورانِ مطالعہ اگر آپ اس کو مترجمہ شاعری کے طور پر نہ پڑھ رہے ہوں تو ایک بہتر طبع زاد شاعری محسوس ہوتی ہے لیکن جب تکنیکی طور پر اس کو مترجمہ شاعری سمجھ کے پڑھ رہے ہوں تو کچھ تکلفات سامنے آتے ہیں‘ ۔ تاہم مجموعی طور پر ہمدرد اپنے اس فنی اور تخلیقی تجربہ میں کامران نظر آتے ہیں۔
چونتیس نظموں، بارہ غزلیات او ر کچھ قطعات پر مشتمل باسٹھ صفحات کے اس مجموعہ میں ہمایون ہمدرد کا تخلیقی جادو اور فن ترجمہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔ فیض احمد فیض چونکہ اپنے لفظیاتی نظام میں جامع فارسی تراکیب کے استعمال کے لئے شہرت رکھتے ہیں اس وجہ سے ان کا ترجمہ کرنا ایک تخلیق کار کے لئے بسا اوقات ایک مشکل امر ہوتا ہے تاہم پروفیسر ہمدرد اس کوشش میں سرخرو نظر آتے ہیں اور اسی طرف کہنہ مشق محقق فرہاد محمد غالب ترین بجا اشارہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’نقش فریادی کا پشتو ترجمہ پڑھنے پر میں نے اس لحاظ سے خوشی محسوس کی کہ میرے ذہن میں جو مشکلات تھیں، ہمدرد نے بڑی خوش اسلوبی سے ان پر قابو پایا تھا بلکہ کہیں کہیں تو یوں لگا گویا یہ ترجمہ نہیں بلکہ ہمدرد کی اپنی طبع زاد شاعری ہے‘ ۔
جس طرح پروفیسر ہمدرد کی اپنی پشتو شاعری ان کے معاصرین کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ سلاست اور طلاقت لسانی سے مزین ہے بعینہ یہی صفت اسی ترجمہ میں ایک کامل صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ متن اصلی مجروح نہ ہوں اور قارئین معنی شعر سے حقیقی شکل میں محظوظ و آگاہ ہوں۔ ڈاکٹر زبیر حسرت اسی ضمن میں رائے تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’منظوم ترجمہ ایک مشکل امر ہے اور اس میں تھوڑی سی فنی کوتاہی بھی متن کی روح کو مجروح کر دیتی ہے تاہم ہمدرد کے ترجمہ میں بے ساختگی، سلاست اور ابلاغ بدرجہ اتم موجود ہیں‘ ۔
ترجمہ سے متعلق یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ محض کسی تخلیق کار کے فن پارہ کی لفظیات و تخیلات کا ترجمہ نہیں ہوتا بلکہ ایک پورے تہذیبی، علمی اور ثقافتی ورثے کو ایک زبان سے دوسری زباں میں ممکن کامل صورت میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ لہذا مترجم بہ یک وقت کئی فنی، تخلیقی اور تہذیبی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ حزم و احتیاط کو ہاتھ سے جانے دیں تو یہ تجربہ کلی طور پر ناکامی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ بہر صورت پروفیسر ہمایون ہمدرد فیض احمد فیض کی اردو شاعری کو پشتو میں منتقل کرتے وقت ان تمام مراحل، مناصب اور فرائض کو ذہن میں رکھ کر ہی اپنا تخلیقی تجربہ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ کیونکہ یہ لفظی ترجمہ نہیں بلکہ مترجم نے پشتو روزمرہ اور محاورہ کو سامنے رکھ کر الفاظ کو اظہار کا ایک نیا جامہ پہنایا ہے۔
فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ کا پروفیسر ہمدرد کا کیا گیا پشتو ترجمہ نذر قارئین ہے :
اردو متن:
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
پشتو مفہوم :
ما خو وئیل چی تہ خائستہئی نو ژوندون خکلے دے
چی ستا غمونہ راسرہ دی نو بیا غم د سہ دے
سپرلی خو ستا د خایستونو نہ رنگونہ اخلی
چی سترگی ستا نہ وی بیا گل سہ دے شبنم د سہ دے
بس چی یو تہئی نو قسمت زما پہ لاسو کے دے
خو داسی نہ وہ ما خو صرف داسی غختی وہ چہ
داسی دے وشی خو دنیا کی محبت نہ سیوا
خوندونہ ہم شتہ دے د مینی د راحت نہ سیوا


