پاکستان میں پانی کا بحران: شفافیت اور مشترکہ طرزِ حکمرانی کا امتحان


پاکستان اس وقت ایک کثیر جہتی اور وسیع پانی کے بحران کا شکار ہے، جو بنیادی طور پر سیاسی فیصلہ سازی (سیاسی و غیر سیاسی حکومتوں کی طرف سے ) ، اس کے نتیجے میں تکنیکی مسائل، اور اب موسمیاتی تبدیلی، اداراتی ناکامی، اور وفاقی۔ صوبائی عدم اعتماد کی صورت میں قومی اہمیت کے مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ صورتحال صرف پانی کی تقسیم تک محدود نہیں رہی؛ یہ خوراک کی سلامتی، معاشی استحکام، اور وفاقی اتحاد کے تحفظ سے بھی براہِ راست منسلک ہو چکی ہے۔ پانی کی ابھی مقداری پہلو کو زیرِ بحث لاتے ہیں، معیاری پہلو تو اس سے بھی شاید زیادہ خطرناک ہے، جس پر کوئی اہم کام ابھی تک نہیں ہوا۔

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) ، جو 1992 میں 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے قائم کی گئی۔ کئی دہائیوں کے بعد کم از کم ایسا ادارتی ڈھانچہ صوبوں کو مہیا ہوا جہاں پر وہ اپنے پانی کے حقوق پر بات کر سکیں اور اس کو حاصل کرنے کی قانونی کوشش بھی ہو سکے۔ کچھ اچھائیوں کے ساتھ لوئر رپیرین / دریا کے بہاؤ کے ذیلی صوبے اس کا دکھ بھی جھیل رہے ہیں۔ سندھ کے نقطہ نظر سے، ارسا مرکز اور بالائی صوبے کے زیر اثر رہا ہے۔

اس کے تاریخی شواہد بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ 2003 میں گریٹر تھل کینال، 2016 میں جلال پور پراجیکٹ، 2024 میں چولستان، دہائیوں سے چلنے والے تین درجاتی فارمولے، کوٹری سے نیچے پانی نہ چھوڑنے سے لے کر CJ اور TP کینالوں کو سندھ کے شدید اعتراضات کے باوجود چلانے تک سب کچھ واضح ہے۔ اس عدم اعتماد نے پانی کی سیاست کو سنگین بنا دیا ہے۔

سندھ اور بلوچستان نے اس وقت شدید ردعمل دیا جب وفاقی حکومت نے ارسا ایکٹ میں ایسی ترامیم تجویز کیں جو پانی کے وسائل پر مرکزی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھی گئیں۔ صوبوں نے اس عمل کو 18 ویں آئینی ترمیم کے خلاف قرار دیا۔ دوسرا یہ کہ مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کو بھی نظرانداز کیا گیا۔

پانی کی منصوبہ بندی میں مشترکہ مشاورت اور متفقہ فیصلے کرنے کی اہمیت کا واضح ثبوت 28 اپریل 2025 کو CCI کے اجلاس میں دیکھنے میں آیا، جہاں چولستان کے لیے ارسا کی طرف سے جاری کردہ پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ واپس کر دیا گیا، اور چھ کینالوں کے پراجیکٹس کو پلاننگ کمیشن کی طرف واپس بھیج دیا گیا۔ سی سی آئی نے فیصلہ دیا کہ ایسے پراجیکٹس تبھی آگے بڑھائے جائیں جب تمام صوبوں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو۔

پاکستان میں پانی کی تقسیم کے بارے میں درست ڈیٹا کی کمی ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ ٹیلی میٹری سسٹم، جو پانی کے بہاؤ کی ریئل ٹائم نگرانی کے لیے پہلی بار 2000 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا، واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی غیر پیشہ ورانہ کارکردگی اور دیگر وجوہات کی بناء پر ابتدائی طور پر ناکام ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونا اور اعتماد میں نہ لینا بتایا گیا۔ تکنیکی خرابیوں، اداراتی مزاحمت، اور ڈیٹا کو ظاہر کرنے سے انکار نے شفافیت کے تصور کو ہی ختم کر دیا۔

2024 میں ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے اور اب تک تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہم کوشش کی گئی ہے ؛ پانی کے ناپنے کے مسلسل جاری مشن میں تمام صوبوں کے پیشہ ور انجینئرز حصہ لے رہے ہیں۔ پچھلی ناکامیوں کی روشنی میں صوبوں کی شمولیت اور اعتماد پر زور ہے۔ اسے عملی مرحلے تک پہنچنے میں ابھی تین سال لگیں گے۔ صوبوں کو بھی اپنی صلاحیتوں کو اس سلسلے میں بڑھانا ہو گا۔

پانی کے حوالے سے واپڈا کے فیصلے، جو صوبوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اکثر تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ واپڈا، جسے غیر جانبدار تکنیکی ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، اس کی پالیسیاں اکثر بجلی کی پیداوار کو آبپاشی سے ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پانی سے متعلق تنازعات کا مرکز بن گیا ہے۔

تربیلا ڈیم پر T 4 (ٹنل/سرنگ چار) پاور پراجیکٹ کے نفاذ کے بعد ، لوئر لیول آؤٹ لیٹ (LLO) کی افادیت شدید متاثر ہوئی ہے۔ آؤٹ لیٹ کے ذریعے ضرورت کے وقت زرعی پانی چھوڑنا ہوتا ہے، خاص طور پر جب پانی کی سطح کم ہو جائے۔ (ایسا کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار بند کرنی پڑتی ہے ) اس کے باوجود، T 5 پراجیکٹ شروع کیا گیا، جو نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب کے لیے بھی تشویش کا باعث بنا۔ اس نازک نکتے پر سندھ اور پنجاب کے خیالات میں غیر معمولی ہم آہنگی دیکھی گئی، جو دیگر تمام معاملات میں اکثر مختلف رخ پر ہوتے ہیں۔

کیونکہ پانی کی کمی کا اثر سندھ اور پنجاب کے لاکھوں کسان خاندانوں اور ملکی خوراک کی سلامتی پر پڑتا ہے۔ ارسا نے مسلسل واپڈا کو خطوط لکھے ہیں کہ LLO کو قابلِ عمل رکھا جائے تاکہ صوبوں کو آبپاشی کے لیے پانی مل سکے۔ لیکن واپڈا کی طرف سے اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ یہ مسئلہ صرف تکنیکی نہیں، بلکہ اداراتی ہے : واپڈا عام طور پر بجلی کی پیداوار کو ترجیح دیتا ہے، حالانکہ قومی پانی کی پالیسی میں واضح لکھا ہے کہ آبپاشی بنیادی ترجیح ہے، جبکہ بجلی ثانوی فائدہ ہے۔

یہ رویہ، خاص طور پر سندھ کے لیے، خطرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ تاخیر یا غیر منصفانہ پانی کی تقسیم اس کی معیشت، زراعت، اور ماحول پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ آج کے دن سندھ کی پانی کی طلب ایک لاکھ ستر ہزار کیوسک ہے، تربیلا سے ٹی فور کی عائد پابندی کے باعث پانی ایک لاکھ پچاس یا پچپن ہزار کیوسک سے زیادہ نہیں چھوڑا جاسکتا باوجود اس کے کہ پانی موجود بھی ہے! اور جب تک تربیلا کی سطح 1510فُٹ سے اوپر نہیں ہوگی نچلے صوبوں کو بھگتنا ہو گا کیونکہ پنجاب منگلا سے پانی زیادہ نہیں لینا چاہتا آنے والی ربیع کی وجہ سے ؛ جبکہ سندھ اور بلوچستان کو حال کے خریف کی پڑی ہوئی ہے!

پاکستان کے لیے پانی کا بحران صرف کمی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ براہِ راست وفاقی اتحاد، اداروں کی شفافیت، اور ملکی طرزِ حکمرانی کا سوال بن چکا ہے۔ اس کا حل صرف نئے پراجیکٹس یا قوانین نہیں، بلکہ اداراتی اصلاحات، وفاقی سطح پر صوبوں کے لیے اعتماد کی بحالی، اور ڈیٹا پر مبنی شفاف حکمرانی ہے۔

مستقبل کا راستہ اسی وقت بنے گا جب ٹیلی میٹری سسٹم حقیقی، قابلِ تصدیق، اور عام طور پر دستیاب ہو گا، ارسا کو صوبوں کا اعتماد حاصل ہو گا، اور واپڈا قومی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے آبپاشی کو ترجیح دے گا۔

اگر حکمت، اتحاد، اور شفافیت کے ساتھ سنبھالا گیا تو یہی پانی قومی یکجہتی، مضبوطی، اور خوشحالی کا بنیاد بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS