زمین بنجر، اولاد بے ثمر


چاندنی راتوں میں جب دیہات کی سنسان گلیوں پر خاموشی اترتی تھی، تب بوڑھے پیپل کے درخت تلے بیٹھے بزرگ کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ زمین اور اولاد ایک جیسی ہوتی ہے ؛ دونوں کو محبت، محنت اور دعا سے سینچو تو وہ سایہ دیتی ہیں، ثمر بخشتی ہیں۔ لیکن کبھی کبھی زمین بنجر ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی اولاد۔ جب زمین بانجھ ہو تو فصلیں نہیں اگتیں، مگر جب اولاد کنجر ہو تو عزتیں مٹی میں مل جاتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں دل پر زخم ہی زخم رہ جاتے ہیں۔

کریم بخش کا بھی یہی المیہ تھا۔ ساری زندگی ہل چلاتے، پسینہ بہاتے گزاری۔ دو بیٹے خدا نے دیے، آنکھوں کا نور، دل کا قرار سمجھے۔ گاؤں کی سب سے زرخیز زمینیں اپنے ہاتھ سے سنواری تھیں جیسے اپنے بچوں کی تربیت کی تھی۔ مگر قسمت نے ایسا دھوکہ دیا کہ نہ زمینیں کام آئیں نہ اولاد۔ بڑھاپے میں جب کمر جھک چکی تھی اور ہاتھوں کی رگیں سوکھ چکی تھیں اسی وقت اولاد نے زبان درازی شروع کر دی۔ کریم بخش کو ایک دن معمولی بات پر دروازے سے دھکے دے کر نکال دیا گیا۔ وہی بیٹے جن کے لیے راتیں جاگ کر گزاریں، آج اسے بوجھ سمجھنے لگے تھے۔ کریم بخش بے سہارا ہو کر ایک عزیز کے گھر جا ٹھہرا۔

دنیا کی نظر میں اب وہ صرف ایک پرانا درخت تھا، جس کی چھاؤں کوئی نہیں چاہتا تھا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ قانونی راستہ اختیار کرو، یوں وہ اپنے ایک مخلص دوست کے ساتھ لرزتے قدموں سے میرے دفتر پہنچا۔ چہرے پر صدیوں کی تھکن، آنکھوں میں ایک بچھڑے ہوئے سکون کی حسرت۔ میں نے پوری توجہ سے اس کا درد سنا اور تسلی دی: ”بابا جی! انصاف ابھی مرا نہیں، تین ایکڑ زمین جو آپ کے بیٹے کے قبضے میں ہے وہ آپ کے نام ہے۔ ہم آپ کا مقدمہ لڑیں گے۔“ کریم بخش کی آنکھوں میں ایک ادھورا سا جگنو ٹمٹمایا۔

کریم بخش لاہور کے نواحی گاؤں کا رہائشی تھا یہ کیس سول کورٹ لاہور کے دائرہ اختیار میں آتا تھا۔ ہم نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا؛ زمین کے مکمل کاغذات کے ساتھ اراضی متدعویہ کے قبضے کا حصول اور ساتھ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باپ کے حقوق کی بحالی اور اولاد کی بدسلوکی کو دعویٰ کا حصہ بنایا

عدالت میں سماعتیں شروع ہو گئیں۔ بیٹے پیشیاں بھگتتے، شرمندگی سے نظریں چراتے۔ کبھی کبھی وکیلوں کے جھوٹے دلائل سن کر کریم بخش کی آنکھیں بھر آتیں مگر وہ پھر بھی خاموش رہتا جیسے دل کے کسی کونے میں اب بھی اولاد کے لئے کوئی امید بچی ہو۔ مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔

ایک دن جب کیس کی اگلی تاریخ کے لئے کاغذات تیار ہو رہے تھے ان کے اسی مخلص دوست کے توسط سے خبر آئی کہ کریم بخش اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے۔ میں جنازہ میں شرکت تو نہ کر سکا مگر اس کی فاتحہ خوانی کے لئے گیا۔ ان کے دوست نے بتایا کہ آخری وقت میں اس کے لبوں پر ایک ہی فقرہ تھا ”زمین بنجر ہو جائے تو بارشیں بھی کچھ نہیں کر سکتیں۔“

عدالت میں کیس تو خودبخود ختم ہو جانا تھا مگر بیٹوں پر جو قہر ٹوٹا وہ بیان سے باہر تھا۔ ان کے دوست نے مجھے بتایا کہ باپ کے جنازے پر پورا گاؤں موجود تھا مگر بیٹوں کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی اور آنکھوں میں اندھیرے۔ جنازے پر ہی لوگوں کی زبانیں آگ برسا رہی تھیں :

”یہ وہی بیٹے ہیں جنہوں نے باپ کو دھکے دیے تھے!“
”زمینیں کھا گئے، دعائیں کھو بیٹھے!“

جب باپ کی میت کو قبر میں اتارا گیا تو چھوٹے بیٹے کی چیخیں سن کر آسمان بھی شاید شرمندہ ہوا ہو گا۔
وہ قبر سے لپٹ کر پاگلوں کی طرح روتا رہا، اپنے آپ کو مٹی میں لت پت کرتا رہا۔ لوگوں نے بمشکل اسے ہٹایا۔ چند دن بعد خبر آئی کہ چھوٹا بیٹا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔ اب وہ گلیوں میں ننگے پاؤں گھومتا ہے، ہر آنے جانے والے سے ایک ہی فقرہ دہراتا ہے ”ابو جی واپس آ جائیں۔ میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے!“ مگر افسوس، زمین جب بنجر ہو جائے تو بارشیں بھی اسے زندہ نہیں کر سکتیں اور محبت جب مر جائے تو آنسو بھی کچھ نہیں کر سکتے۔

کہانی ختم ہو گئی مگر اپنے پیچھے بہت بڑا سبق چھوڑ گئی۔ سچ یہی ہے کہ جو بوئے گا، وہی کاٹے گا۔ محبت کا قرض ادا نہ کرو گے تو پچھتاوے کا سود چکانا پڑے گا۔

Facebook Comments HS