بچوں کی تربیت اور نشو و نما کے تین مختلف مراحل


عام طور پر ایک انسانی بچے کی تربیت اور نشو و نما کو تین مختلف مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے یہ وہ دورانیہ تصور کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر بچے اپنے والدین کے پاس وقت گزارتے ہیں سوائے ان بچوں کے جو کیڈٹ کالج یا اس قسم کے رہائشی اداروں میں داخلہ لیتے ہیں اور والدین سے ان کی ملاقات ایک ماہ بعد دو ماہ اور بعض حالات میں تین ماہ بعد ہوتی ہے۔

پہلا مرحلہ پیدائش سے آٹھ سال تک کا ہے۔

یہ مرحلہ بچپن کا مرحلہ بھی کہلاتا ہے جیسے تعلیمی ادارے میں پرائمری تعلیم، ابتدائی تعلیم بہت اہم ہے بالکل اسی طرح ماں باپ کے پاس بچے کا یہ وقت بڑا اہم ہے۔ اس میں بچوں کی عادات ان کے سماجی رویوں کو جاننے اور پختہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان آٹھ سالوں کو مزید تین مراحل میں تقسیم کر دیا جائے تو پیدائش سے تین سال تک اور تین سے پانچ سال اور پانچ سال سے آٹھ سال تک کا دورانیہ ہے پیدائش سے تین سال تک کے دورانیہ میں ماں باپ کو کئی قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر پہلا بچہ ہے تو پھر تجربات اور مشاہدات زیادہ ہوتے ہیں۔ ان تین سالوں میں بچہ روتا ہے، ہوں ہاں، غوں غاں آنکھیں گھما کے اِدھر اُدھر دیکھنا، دودھ پی کر قے کرنا اور والدین کو پریشان کرنا۔ پیٹ میں ہوا بھرنا، ناک میں سے دودھ نکالنا۔ زیادہ دیر تک جاگنا اور جگا کر رکھنا۔ شکلیں بدلنا، بستر پر گھومنا۔ کبھی گھوم کر نیچے گرنا۔ دودھ موافق نہ آنے پر پیٹ خراب ہونا۔ بار بار ڈاکٹر کے پاس چکر لگوانا۔ ویکسین لگوانے پر چیخنا چلانا، بخار ہو جانا، بیٹھنے کی کوشش کرنا، چلنے کی کوشش کر نا۔

پھر چلنے لگ جانا اور اسی دوران چوٹ لگ جانا۔ ماں باپ کی نقل کرنا چھوٹے چھوٹے الفاظ بولنا اور پھر توتلی زبان میں مکمل جملے بولنا، والدین کے ساتھ باہر جانے کی فرمائش کرنا، کھلونوں سے کھیلنا، سائیکل چلانا جیسے کام شامل ہیں۔ ان تجربات کے علاوہ بچوں کا سر بنانے کا دباؤ الگ ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں تو بچوں کے سر بنانے کے لیے باقاعدہ لکڑی کے ڈبے سے ملتے ہیں جن کے اندر بچے کا سر رکھ کر گول بنایا جاتا ہے۔ تجربہ اور مشاہدہ میں یہ بات آئی ہے کہ بعض حالات میں بچوں کو اس قسم کے لکڑی کے فریم استعمال کروائے گئے تو چونکہ اس حالت میں بچوں کو سیدھا لٹانا ہوتا ہے تو بچے قے کر دیتے ہیں جو ان کی خوراک یا پھیپھڑوں کی نالی میں چلی جاتی ہے جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سر بنانے کے چکر میں کہیں کوئی اور نقصان نہ ہو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس کے علاوہ بچہ پیمپر سے خود واش روم جانا سیکھ لیتا ہے۔ اپنی پسند کے کھیل کھیلتا ہے۔ کھانے، کپڑوں اور جوتوں میں اپنی پسند نا پسند کا اظہار کرنا سیکھ جاتا ہے۔ اس دوران بچے کا قد اور جسمانی نشوونما بھی ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ دودھ وقت پر دیں۔ ایک اور تصور بھی پایا جاتا ہے کہ دودھ پلانے کا دورانیہ دو گھنٹے ضروری ہے۔ جب کہ مجھے بچوں کے ڈاکٹر نے اس کا جواب یوں دیا تھا کہ کیا آپ بھوک لگنے پر کھانا کھاتے ہیں یا گھنٹہ پورے ہونے کا انتظار کرتے ہیں؟ میرا جواب تھا بھوک لگنے پر، اس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بچے کو بھوک لگنے پر کھانا کھلائیں نہ کہ دو گھنٹے مکمل ہونے کے انتظار میں بچہ بھوکا رکھیں۔

ان تین سالوں کے دوران بچوں میں بہت سی عادات پختہ ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ بچے اچھی عادتیں اپنائیں۔ آج کل اس عمر میں بچوں میں موبائل فون کا استعمال بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ بچے والدین کا موبائل لے کر اپنی پسند کی گیمز کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ موجودہ حالات میں شاید بچوں کو موبائل فون سے مکمل طور پر دور رکھنا ممکن نہ ہو۔ اس کا ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے سیکھنے والی ویڈیوز دکھائی جائیں۔ اس کے لیے مختلف ایپس موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ بعض حالات میں بچے ڈھائی سے 3 سال تک سکول جانا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو سکول کی ضروریات کے مطابق بچے کو ڈھال لیا جائے۔

بچوں کی نشوونما کا دوسرا مرحلہ تین سے پانچ برس کا ہے۔ اس میں عام طور پر بچے کے سماجی رویے بنتے ہیں۔ یعنی دوسرے بچوں کے ساتھ ان کا رابطہ اور تعلق بنتا اور پختہ ہونا شروع ہوتا ہے۔ صحیح اور غلط کا تصور بھی بنتا اور پختہ ہوتا ہے اور اپنی پہچان ہوتی ہے کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ مزید یہ کہ بچوں کو اپنی چیزوں کی ملکیت کا احساس ہونا شروع ہوتا ہے۔

پانچ سے آٹھ برس کے درمیان بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ تعلق یعنی دوستی کا تصور بھی پختہ تر ہوتا ہے۔ سکول باقاعدگی سے جانے کی وجہ سے بچوں کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ گھر اور سکول، یہ وقت قدرتی ماحول رکھتے ہوئے بچوں کی عادتیں پختہ کرنے کے لیے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ ان سالوں میں بچوں کو نظر انداز ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے ساتھ والدین کا دوستانہ تعلق بے حد ضروری ہے۔

8سے 12 سال کی عمر بلوغت کا ابتدائی دورانیہ ہے۔ آج کل تو کچھ بچے اس عمر میں بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس دوران بچوں میں جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ والدین کا بچوں کے ساتھ رابطہ انہیں کسی بھی ممکنہ شخصی تخریبی عمل سے بچا سکتا ہے۔

13 سے 19 سال تک مکمل ٹین ایج ہے۔ اس میں بچوں میں بہت سی جسمانی، جذباتی اور جنسی تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ مکمل جذباتی دور کہلاتا ہے جس میں بچوں کا تعلیمی سلسلہ بھرپور وقت مانگتا ہے تو دوسری طرف جسمانی، جذباتی اور جنسی تبدیلیوں کا عمل ان کا یہ وقت بھی تقسیم کرتا ہے اور یہی تقسیم نازک ہے۔ اس عمر میں والدین بچوں کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور بچے گھر کے ماحول سے باہر حالات کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ اب جن بچوں کو والدین کی طرف سے مناسب رہنمائی مل جاتی ہے وہ تو وقت کو بڑی حد تک تعلیمی اور تعمیری سرگرمیوں میں لگاتے ہیں مگر جو والدین بچوں کو وقت نہیں دے پاتے وہ بچے تعلیمی عمل سے دور ہو جاتے ہیں اور غیر تعمیری سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت بھی ہے جب بچوں نے پروفیشنل اداروں میں جانا ہوتا ہے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جنہوں نے ٹین ایج سنبھال لی اور یہی وہ بہترین وقت ہے جس میں والدین اپنے بچوں کو کچھ بننے کے لیے اچھی بنیاد دے سکتے ہیں۔ اداروں میں جانے کے بعد تو بچے گھروں میں زیادہ تر نہیں آتے۔

بچے مستقبل میں یقیناً اچھے لیڈرز بنیں گے جب پروفیشنل اداروں میں جانے سے پہلے ان کے ساتھ والدین کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

Facebook Comments HS