مشرقِ وسطیٰ کی نئی بساط
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے مگر اس بار کہانی پرانے خطوط پر نہیں چل رہی۔ دہائیوں سے امریکہ اور یورپ کا اسرائیل کو مکمل عسکری، اقتصادی اور سیاسی تعاون حاصل رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ اس پرانے بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں۔ خاص طور پر عوامی احتجاج، ایران اسرائیل کشیدگی، اور سعودی عرب کا نئی طاقت کے طور پر ابھرنا، یہ سب مل کر خطے کی سیاسی بساط کو از سر نو ترتیب دے رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ نے اسرائیل کو ہر میدان میں غیر معمولی سپورٹ دی۔ جدید اسلحہ، اربوں ڈالر کی امداد، اقوام متحدہ میں سفارتی تحفظ، یہ سب عشروں سے جاری رہا۔ مگر حالیہ برسوں میں اسرائیل کی پالیسیوں پر خود امریکہ اور یورپ کے اندر سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں عام شہریوں پر حملے، اسپتالوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا، اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ان سب کے خلاف یورپ اور امریکہ کے بڑے شہروں میں احتجاج عام ہوا ہے۔
یہ احتجاج محض وقتی جذبات نہیں بلکہ رائے عامہ میں ایک گہرا بدلاؤ ہے، جو بالآخر پالیسی سازوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ جب مغربی عوام اسرائیل کی جارحیت کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو اس کا دباؤ بالواسطہ طور پر واشنگٹن اور برسلز کی پالیسیوں پر بھی پڑتا ہے۔
حال ہی میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ اسرائیل نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا، اور جواب میں ایران نے بھی غیرمعمولی میزائل حملے کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی میڈیا میں ان حملوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ سی این این سمیت کئی معتبر ادارے اس بات پر زور دیتے رہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات محفوظ ہیں اور اسرائیلی حملے زیادہ تر علامتی نوعیت کے تھے۔
یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی طویل امریکی امداد اور جدید دفاعی نظام ”آئرن ڈوم“ کے باوجود اسرائیل ایران جیسے ملک کے حملوں کا موثر جواب دینے سے قاصر کیوں رہا؟ کیا یہ عسکری ناہمواری امریکہ کو مجبور کرے گی کہ وہ خطے میں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے؟
دوسری جانب سعودی عرب اب محض ایک تیل برآمد کرنے والا ملک نہیں، بلکہ جدید فوجی قوت، ٹیکنالوجی، اور سفارت کاری کے میدان میں ایک متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ وژن 2030 جیسے انقلابی منصوبوں نے اسے خطے میں ایک معاشی اور سیاسی قوت بنا دیا ہے۔
اگر اسرائیل اب امریکہ کے لیے قابلِ اعتماد عسکری شراکت دار نہیں رہا، تو کیا سعودی عرب اس خلا کو پُر کر سکتا ہے؟ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے، اسلحہ کی خرید و فروخت، اور حالیہ سفارتی قربتیں اسی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے حوالے سے اپنی برہمی کا اظہار کیا، حتیٰ کہ انہوں نے طنزیہ انداز میں سیٹی بجا کر اسرائیل کو غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کا طعنہ دیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان محض ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک ممکنہ رجحان کی علامت ہو سکتا ہے۔ یعنی اسرائیل کی غیر موثر عسکری کارکردگی پر امریکہ میں سنجیدہ سوالات ابھر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر چین اور روس کا باہمی اتحاد اور ان کی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی دلچسپی ایک چیلنج ہے۔ چین نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ روس، شام اور ایران میں اپنے قدم جمانے کے بعد اب فلسطین کے مسئلے پر بھی سفارتی مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔
ان حالات میں امریکہ کو خطے میں نئے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات، سعودی عرب سے دفاعی تعلقات، اور اسرائیل پر دباؤ یہ سب ایک نئے توازن کی بنیاد ہو سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی شطرنج پر مہروں کی ترتیب بدل رہی ہے۔ اب یہ صرف اسرائیل، ایران یا سعودی عرب کی بات نہیں، بلکہ ان کے گرد موجود عالمی طاقتوں امریکہ، چین اور روس کے بدلتے رویے کی کہانی ہے۔ اسرائیل پر اندھی حمایت کا زمانہ شاید گزر چکا ہے۔ ایران کی مزاحمت، سعودی عرب کی ابھرتی حیثیت، اور ٹرمپ جیسے شخصیات کی کھلی ناراضگی، یہ سب اشارے ہیں کہ امریکہ اور یورپ ایک ”ری سیٹ“ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ سب ابھی امکانات کی سرزمین پر ہیں، لیکن امکانات ہی اکثر تاریخ کی پہلی اینٹ رکھتے ہیں۔


