اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے


اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔

کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت ہوئی اور المناک ہجرت ہوئی لہذا دونوں طرف المیہ لکھا گیا اور ہجرت کا المیہ لکھا گیا۔ بیانیہ ابھی دونوں طرف وہی تھا جس دور میں تقسیم ہوئی تھی کیونکہ استاد ادب تو وہی تھے دانشواران ادب تو وہی تھے۔ جنہوں نے ہجرت کی، ان کا المیہ بھی اس وقت ہجرت اور ہجرت سے جڑے مسائل و مصائب تھے۔ المیہ ہجرت سے نکلتے تو ادب کا ارتقاء شروع ہوتا لگ بھگ دس بیس سال تک تو ادب میں ہجرت کا کرب ہی لکھا جاتا رہا وہ ناول تھا، افسانہ تھا یا شاعری و سفر نامے، البتہ شاعری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ لمحے بھر میں اپنا موضوع بدل لیتی ہے۔ روتے روتے ہنس بھی پڑتی ہے اور ہنستے ہنستے رو بھی پڑتی ہے۔ مجاز میں حقیقت اور حقیقت میں مجاز کو رنگ لیتی ہے لہذا یہ تو ہوتا رہا مگر ہجرت کا درد کم نہ ہوا۔

ادب کو سیاسی و سماجی حالات بہت متاثر کرتے ہیں۔ سیاست اور سماج ایک کروٹ بیٹھ ہی نہیں رہے تھے لہذا ادب کو سکون کہاں میسر ہوتا کہ وہ بھی نئے تجربات کی طرف آتا لیکن کرنے والے اپنی دھن میں مست اپنا کام کر بھی رہے تھے۔ یہ تھوڑا تھوڑا کا آہستہ آہستہ جگہ بناتا ہے۔

یہ ادبی رسائل کا دور تھا جس میں سنجیدہ ادیب روزگار کے لئے ڈائجسٹ میں تراجم اور کہانیاں بھی لکھا کرتے تھے۔ چند سرکاری ادبی رسائل کے علاوہ کوئی اور رسالہ تو مصنف کو ادائیگی نہیں کرتا تھا اور بھوکے پیٹ ادب میں تجربات جذبات میں ہی کیے جا سکتے ہیں لہذا جذباتی ادب لکھا گیا اور با کمال لکھا گیا۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ سارا جذباتی ادب غیر معیاری لکھا گیا۔ ساغر صدیقی کی شاعری ایسی ہی ایک مثال ہے۔ درد، غم، حالات حاضرہ، محبت اور جذبات۔

احمد فراز، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، امجد اسلام امجد، پروین شاکر، ثریا بجیا ہر دور نے ہر لکھنے والے پہ اثر کیا اور ہر دور کا میڈیا اس دور کے ادیب کے لئے معاون ثابت ہوا۔ ہر دور کا ادب اپنے قاری و سامع تک اس دور کے وسائل کے توسط سے پہنچ رہا تھا۔ ہر دور کا ارتقاء علیحدہ نوعیت کا ہے لیکن ناقابل فراموش نہیں ہے۔

اس وقت بہت سے اچھا لکھنے والے ادیب روز گار کی خاطر صحافت سے بھی منسلک ہو گئے اس لئے ادب میں صحافت کے اور صحافت میں ادب کے بہت اثرات آئے۔ فیض احمد فیض، احمد بشیر، عطا الحق قاسمی، احمد ندیم قاسمی اور بے شمار ادیب جو سنجیدہ ادب سے تعلق رکھتے تھے فکر معاش نے ان کو نئی راہیں دکھائیں جس سے بلا شبہ ادب میں جدت اور حالات حاضرہ شامل ہونے لگے۔ یہ ایک خوش آئند بات تھی۔

پرنٹ میڈیا کے دور نے سنجیدہ ادب کو اس لئے جلا بخشی کے اس میں سنجیدہ ادیب شامل ہو گیا۔ پرنٹ میڈیا کے عروج پہ ہی سنڈے میگزینز کے ادبی صفحات نے ادب کو نئی راہ دی۔ افسانے شاعری تو شائع ہوتے ہی تھے۔ اسی نوے کی دہائی میں قسط وار ناول شائع ہونے لگے جن کو بہت مقبولیت ملی۔ بچپن کا دسمبر، عبداللہ ہاشم ندیم خان کے ناولز نہ صرف بہت پڑھے گئے بلکہ جب الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا تو ہاشم ندیم خان کے ناولز پہ ڈرامے بھی بنے۔

پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان سے ادبی پروگرامز ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو نے بھی سنجیدہ ادب کو پروان چڑھانے اور مقبول ہونے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ شاعری، افسانہ کے تو باقاعدہ پروگرامز ہوا کرتے تھے اور خواص کی ایک کلاس تھی جو اس کو شوق سے سنا کرتی تھی مگر عوام الناس میں بھی یہ ادبی پروگرامز مقبول تھے۔ لوگ ان کا انتظار کیا کرتے تھے۔ یوں سماعتی ادب شناسی کا ایک دور بھی گزرا ہے۔ اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہم یہاں ادب کے ان ارتقائی ادوار کی بات کر رہے ہیں جن پہ بات ہی کبھی نہیں ہوئی جس سے ایک ادیب ادیب بنتا ہے۔ وہ ذریعہ جو ادیب کو عوام تک پہنچاتا ہے اگر ادب عوام تک نہ پہنچے تو کوئی لکھنے والا ادیب کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ کچھ بھی لکھا ہوا ادب اور غیر ادب نہیں کہلا سکتا۔

روایتی گھسے پٹے ادوار کا ذکر یہاں کم ہی ہو گا۔

اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا ساٹھ کی دہائی میں آیا۔ جب پی ٹی وی کی لائیو نشریات کا آغاز ہوا۔ ابھی ریکارڈنگ کا دور شروع نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی وی پہ ریڈیو سے بھی بہت سے لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا اور کچھ صحافت و ادب کے میدان سے آئے لیکن یہ اپنی فیلڈ کے معیاری کام کرنے والے افراد تھے۔ اس وقت خبروں کے علاوہ گیت اور مشاعروں کا آغاز ٹی وی سے ہوا یوں سماعت سے بصارت تک کا ایک نیا سفر شروع ہوا جس نے بہت ہی زیادہ مقبولیت و پذیرائی حاصل کی۔ انسان اپنے من پسند ادبیوں کو دیکھنے لگے تو ایک خواب ہی محسوس ہوتا تھا پی ٹی وی نے اس خواب کو تعبیر دی۔ ناظر کے لئے بلا شبہ یہ خواب تعبیر ہونے جیسا تھا۔ اب ایک ادیب شاعر کو حالات حاضرہ اور سماعت عالیہ کے ساتھ ساتھ بصارت جمال کا خیال بھی رکھنا تھا۔ ادب کا کینوس وسیع و حسین ہو رہا تھا۔ کچھ اچھا لکھنے والوں کو شکایت رہی کہ ریڈیو پہ انہیں مقبولیت ملی مگر ٹی وی چونکہ بصری ذریعہ تھا ان کو یہاں رسالے اور ریڈیو والی مقبولیت نہ مل سکی۔ اس حقیقت کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا گرچہ صد فی صد کچھ بھی سچ نہیں ہوتا ہر سچ کے اپنے مقدر بھی ہوتے ہیں۔

ستر کی دہائی میں پی ٹی وی نے ریکارڈ شدہ پروگرامز اور ڈراما میں قدم رکھ لیا۔ فلم کی بڑی سکرین کے بعد ٹی وی کی چھوٹی سکرین نے اتنی مقبولیت حاصل کر لی کہ ڈراما ٹائم پہ سڑکیں خالی ہو جاتی تھیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے ڈراما ادب کے ارتقاء میں کیسے آ گیا تو جناب من ڈراما ادب کا ہی حصہ ہے۔ شکسپیئر جیسے بڑے ادیب نے ڈرامے ہی لکھے تھے جو آج تک سٹیج ہو رہے ہیں، فلمائے جا رہے ہیں۔
بہت سے نوبل پرائیز لینے والے ڈراما نگار بھی ہیں۔ امتیاز علی تاج کی پہچان بھی اردو ادب میں انار کلی سے ہے جو ایک ڈراما ہے۔ ہر لحاظ سے ڈراما ادب ہی کی شاخ ہے۔

پی ٹی وی کے اس دور میں زیادہ تر ڈراما نگار فکشن لکھنے والے ادیب ہی تھے جنہوں نے فکشن کو اپنی عمر دے دی تھی۔ تب سکرپٹ رائٹر کا الگ شعبہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ اب تو ڈراما اور سکرپٹ رائیٹگ پڑھائی جاتی ہے اور اس کے بہت سے شعبہ جات ہیں تب یہ ایک شخص کا کھیل ہوتا تھا اس کے بعد ہدایت کار کی ذمہ داری ہوتی تھی۔

سنجیدہ ادیب جب ڈراما لکھتا ہے تو اس کے پیش نظر تفریح ہی نہیں نظریہ بھی ہوتا ہے۔ ان کے پیش نظر ذمہ داری و معیار بھی ہوتا ہے لہذا اس وقت کی سینسر شپ ایک ایک جملے اور لفظ پہ غور کرتی تھی کہ کیا نشر کیا جانا چاہیے اور کیا نشر نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے میں کہانی پہ تو بہت ہی توجہ دی جاتی تھی۔

ستر کی دہائی میں ادب کے ہر شعبہ میں تجربات شروع ہو چکے تھے۔ ملکی حالات تو ہمیشہ ہی نازک موڑ پہ رہتے ہیں مگر ملک میں کسی حکومت کا کچھ سال گزار جانا اپنی تمام قباحتوں کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ ٹھہراؤ میں ہی غور و فکر کیا جاتا ہے لہذا اب ادب اور ادیبوں کو ٹھہراؤ میسر آیا اور تجربات ہونے لگے۔

ستر کی دہائی کے آخر میں گرچہ مارشل لا لگ گیا مگر یہ بھی ایک عشرہ کا ٹھہراؤ تھا اور اب سب ادیب تجربہ کار ہو چکے تھے انہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا فرق سمجھ آ چکا تھا اور اس کو برتنا بھی آ چکا تھا وہ جو کہتے ہیں جبر میں بڑا ادب نکل کر سامنے آتا ہے ایسا ہی ہوا۔ میڈیا کے تمام ذرائع سے بڑا ادب سامنے آ رہا تھا۔

علامتی رنگ نے ہر شعبہ ادب میں جگہ بنائی۔ یہ اچھا خاصا مشکل رنگ ہے جس میں مصنف کا مطالعہ و مشاہدہ ہی کام آتا ہے۔ افسانہ، ناول، صحافت اور ڈراما میں یہ رنگ خوب دکھائی دیا اور مقبول بھی ہوا بلکہ مزاحیہ ادب میں اس رنگ نے قوس قزح بکھیر دی۔

اس دوران جو مزاحیہ ادب تخلیق ہوا یہ دنیائے ادب کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا منفرد ترین مزاح ہے جو کئی دہائیوں سے تاحال لکھا اور پسند کیا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کا مزاح انگریزی ادب میں بھی موجود نہیں ہے۔ انگریزی ادب والے اس مزاح کی تعریف کے لئے اردو مزاحیہ ادب ہی پڑھاتے ہیں۔

اسی کی دہائی تک ڈراما، مشاعرہ و فکشن نے جو عروج دیکھا وہی عروج ان فکشن نگاروں اور شاعروں کو بھی ملا کیونکہ ان کی عزت افزائی یہ پلیٹ فارم کر رہے تھے۔ اس حقیقت کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ آج ہم ڈراما دیکھتے ہیں مگر ان کے مصنفین کے انٹرویوز ویسے نشر نہیں ہوتے جیسے پی ٹی وی کے دور میں ہوتے تھے۔ کچھ ڈراما نگار فقط ڈراما نگار ہیں سکرپٹ رائٹر ہیں مگر وہ سکرین پہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔

ادبی پروگرامز الگ سے نشر ہونے لگے جس میں نمایاں ادیبوں کے انٹرویوز کیے جاتے تھے۔ پروین شاکر ایک ایسا ہی ادبی پروگرام کیا کرتی تھیں جس پروگرام کو بہت مقبولیت ملی۔ ان پروگرامز کی وجہ سے ایک ادیب ایک لکھاری ایک ہیرو ایک لیجنڈ بنا تھا۔ آج کی طرح ڈرامے کا سہرا ڈائریکٹر پروڈیوسر کے سر نہیں باندھا جاتا تھا۔

”رات گئے“ کے عنوان سے نوے کی دہائی میں ایک بار پھر ادبی پروگرام کا آغاز ہوا جس کی میزبانی عمار مسعود اور وصی شاہ نے مختلف ادوار میں کی۔ درمیان میں یہ پروگرام کچھ عرصہ کے لئے بند بھی ہو گیا لیکن آہستہ آہستہ یہ پروگرامز ختم ہوتے چلے گئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ادب معدوم ہو رہا تھا بلکہ ترجیحات بدل رہی تھیں اور جب ابلاغ عامہ کے ذرائع سے ہم اچھے برے کی تمیز ختم کر دیں گے تو سماج میں بھی یہ تمیز ختم ہو جائے گی جیسا کہ اب ہو گیا ہے۔

صوفیانہ ادب جو ہمارے پاس ابھی تک موجود تھا۔ ڈرامے کے دور نے اس کو بھی نیا رنگ دیا۔ جس کو اگر کہیں تو ”باباجی“ دور سے پہچانا جا سکتا ہے۔ ایک بزرگ بابا جی ہیں جو بہت دانش مندی کا مکالمہ بولتے ہیں جس سے زندگی کشید ہوتی ہے لیکن کسی نسائی دانشور کردار کو ہیروئن نہیں بنایا گیا۔ خواتین مصنفین نے بھی یہ معرکہ سر نہیں کیا حالانکہ بانو قدسیہ اس قبیل سے بھی تھیں اور ان کو وہ عزت و مرتبہ بھی سماج میں ملا جو کسی اور ادیبہ کے حصے میں نہیں آیا۔ ان کا اپنا انٹرویو ایسے ہی نسائی کردار سے کم نہیں ہوتا تھا۔ آج بھی ان کی بات غور سے سنی و پڑھی جاتی ہے۔ یہ عزت افزائی کی بات ہے۔ وہ تو شاید اس وقت بھی ہماری نسل کے لئے اپنی نسائی موجودگی کی جنگ لڑتے لڑتے مرد ہو چکی تھیں۔

اسی کی دہائی مارشل لاء کی دہائی تھی۔ لیکن ہر وقت اپنے ساتھ کچھ اچھائیاں بھی لاتا ہے جسے عام لفظوں میں کہا جاتا ہے ”ہمارا بھی وقت آئے گا“ تو یہ دور کسی کا وقت تھا۔ اس دور میں محفل سماع، نعت، حمد اور صوفیانہ کلام بہت لکھا گیا۔ ایک عشرے میں ایک ماحول بن گیا تھا۔ ایک پورا دبستان وجود میں آ چکا تھا۔ ایسا ایسا کلام لکھا گیا اور پڑھا گیا کہ اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔ آج تک نہیں ملتی۔ قوالی کو عروج ملا۔ بلا شبہ قوالی کا کلام تو شاعری ہی ہے۔ آج بھی وہی کلام ری مکس ہو کر گایا جا رہا ہے۔ کیسے کیسے نامور قوال سامنے آئے۔ اب قوالی معدوم ہو چکی ہے۔ قوال تلاشنے سے بھی نہیں ملتے

نعت کو لیجیے کیسے کیسے نعت خواں جلوہ گر ہوئے جن کا ثانی آج بھی نہیں ملتا اور سب سے اہم یہ کہ یہ سب کلام قومی زبان میں تھے۔ کیسی کیسی جادو گر آوازیں سنائی دیں۔ کتنے کتنے درود پاک ﷺ کے لہجے سننے و دیکھنے کو ملے۔ نعت کی کیسٹس کسی سنگر کی کیسٹس کی طرح مارکیٹ میں فروخت ہوتیں تھیں اور کلام شوق و عشق سے سنا جاتا تھا۔ نعتیہ مشاعرے رسماً آج بھی ہوتے ہیں مگر نعت کی تاثیر وہ نہیں رہی آواز کا سوز وہ نہیں رہا۔ نعت عشق سے لکھی و پڑھی جاتی ہے وہ دور شرع کے عشاق کا تھا۔ مصطفی ﷺ کے عشاق کے متوالوں کا تھا جبرا ہی سہی مگر وہ دور اپنی مثال آپ تھا۔

صوفیانہ کلام کو بھی جو عروج اس عشرے میں ملا وہ شاید برصغیر میں تصوف و صوفیوں کے دور میں ملا تھا۔ جب امیر خسرو نے لکھا اور پھر بات چل نکلی اور یہاں تک پہنچی۔ صوفیانہ کلام پڑھنے والے حمد و نعت لکھنے و پڑھنے والوں کو وہی عزت ملی جو میڈیا پرسن کو ملتی ہے وہ لیجنڈ بنے۔ آج ایسا کوئی لیجنڈ ہمارے سامنے کیوں نہیں آتا؟ صوفیانہ کلام میں گرچہ بہت سے پہلے لکھے کلام بھی پڑھے گئے مگر مقبول وہ اس دور میں ہوئے تھے۔ عابدہ پروین کے کلام ہوں یا سائیں ظہور کے یہ دور دوبارہ نہیں آ سکا مگر خراج تحسین کے لئے نئے گلوکار آج بھی اسی کلام کو ری مکس کرتے ہیں گویا اس مقابل کا کلام دوبارہ لکھا ہی نہیں گیا پڑھا ہی نہیں گیا کمپوز ہی نہیں ہوا۔

اس پورے دور کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم و ادب کا نیا، تجرباتی، کامیاب اور اپنی مثال آپ کا دور تھا۔
اس دور کا اثر پھر ہر شعبہ ادب میں جاری رہا، جاری ہے اور رہے گا۔ اس کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

نوے کی دہائی کے آغاز میں ہی ادب کو ایک نیا پلیٹ فارم میسر آیا۔ ریڈیو ایک بار پھر نئی طرز سے زندہ ہو گیا۔ یہ ایف ایم ”کا زمانہ تھا۔ اسی کی دہائی میں ایک پوری نسل آمریت کے خلاف ادبی جنگ کرتے پروان چڑھ چکی تھی ایک نیا باغی ادب جمع ہو چکا تھا۔ کوڑے کھانے والوں کے درد لکھے جا چکے تھے۔ اب ان کو عوام تک ہی پہنچنا تھا۔

ایف ایم ریڈیو پہ ادبی پروگرام رات بھر سب شہروں سے ہوا کرتے تھے۔ نوجوان نسل رات بھر ان کو سنا بھی کرتی تھی۔ بٹن والا موبائل بھی آ چکا تھا۔ پروگرام میں میسج کرنے کی سہولت بھی تھی یوں نوجوان نسل کو ادب سیکھنے اور سمجھنے کا نیا ڈھب و جگہ مل گئی تھی۔ ہر دور اپنی ٹیکنالوجی ساتھ لاتا ہے۔ زندگی کا سفر نہیں رکتا تو ادب کا بھی نہیں رکتا۔ ادب سے مایوس وہی لوگ ہوتے ہیں جو جدید طرز ادب سے ناواقف ہوتے ہیں

ان ادبی پروگرامز میں شاعری بھی ہوتی تھی بلکہ کچھ پروگرامز کے میزبان شاعر ہی ہوتے تھے جیسے خلیل اللہ فاروقی کراچی سے پروگرام کرتے تھے۔ اپنا اور دوسروں کا کلام سنا سنا کر مقبول کر دیتے تھے۔ سننے والوں کی یاداشت پہ یہ شاعری نقش بھی ہو گئی۔

افسانہ پہ بھی رات بھر پروگرام ہوا کرتا تھا۔ کوئی افسانہ منتخب کر لیا جاتا تھا اس کو پوری نستعلیق کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ اس پہ بات ہوتی تھی۔ نئے لکھنے والے اس میں فون کال کر کے یا میسج کر کے شامل ہو سکتے تھے جیسے لاہور سے عامر فراز مدثر ناڑو افسانے و ادب پہ پروگرام کیا کرتے تھے جو بہت مقبول ہوتے تھے رات گزر جاتی تھی بات ختم نہیں ہوتی تھی۔

اس کے علاوہ ادبی شخصیات کے انٹرویوز ان کی یادداشتوں پہ بات ہوتی تھی۔ ادبی چٹکلے ہوتے تھے۔ لیکن ایف ایم کا دور بھی آدھا عشرہ سے کچھ زائد ہی مقبول اور خدمت ادب میں موجود رہا آج بھی ادبی پروگرامز ہو رہے ہیں مگر ان کا وجود پروگرام کرنے والے کی اپنی ذات پاک تک محدود ہے اس میں سے ادب اور ادبیات و شخصیات نکل چکی ہیں۔

ایف ایم کے ساتھ ساتھ این ٹی ایم کا بھی وجود ہوا گویا الیکٹرانک میڈیا کا ظہور یہیں سے ہوا مشرف کا دور آیا تو چینلز کو بھی این او سی ملنے لگے۔ یہ بالکل نیا دور تھا۔ جب ایک ساتھ کئی چینلز ڈراما کرنے لگے۔ نیوز چینل کو بھی اگر چلنا تھا تو ڈراما ہی کرنا تھا یوں چینلز کی نہ رکنے والی چین چل پڑی جو اب تک جاری ہے۔

اس دوران مغربی ادب پڑھا جا رہا تھا۔ تراجم ہو رہے تھے۔ ویسے بھی نیا نوجوان نئی دنیاؤں کو ان کی زبانوں میں تلاشنے کا متمنی ہوتا ہے۔ کچھ ادیب اپنے آپ کو گروم کرنے کے لئے دوسری زبانوں کے ادب و کو پڑھنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اپنے ہم عصر غیر ملکی ادب کو سمجھنا و موازنہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں ایک ذہانتی غلطی کر جاتے ہیں۔ وہ یہ کہ کسی ترقی یافتہ ملک کا موازنہ ادب میں بھی کیا جائے تو کسی ترقی پذیر ملک سے نہیں کیا جا سکتا۔ قصہ مختصر مغربی ذہنی غلامی سے ہم نہیں نکل سکے تھے انگریز بہادر کو گئے ابھی ایک صدی بھی نہیں ہوئی تھی یوں اپنے فخرکا نیا رنگ نیا ڈھب مغربی ادب کے اثرات ہمارے ادب میں دکھائی دینے لگے تھے یہ اثرات ستر کی دہائی میں ہی شروع ہو گئے اور دھیرے دھیرے بڑھتے گئے۔ کچھ نے تو پورے کا پورا خیال ماخوذ لیا مگر کہیں اعتراف جرم نہیں کیا۔ بھلا ہو وقت کا جب نیا محقق آیا اس نے بتایا یہ یہ بات فلاں صدی میں فلاں ادب میں موجود ہیں۔

ایک اور اثر فارسی اور عربی ادب کا بھی تاحال ہمارے ادب میں گردش کر رہا ہے۔ فارسی عربی گرچہ مسلمانوں کے ساتھ چل کر آئیں تھیں مگر ادبی خیال و تصور ہمارے اذہان سے نہیں نکل سکا۔ اس کو ادیب بھی شاید مقدس مانتا ہے اور قاری بھی۔

ہم جو پڑھ رہے ہیں جس ماحول میں رہ رہے ہیں۔ جو دیکھ رہے ہیں جو کر رہے ہیں جو سوچ رہے ہیں۔ جو ملکی حالات و غیر ملکی تغیرات ہیں اس سب نے ایک ادیب کو متاثر کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہاں فرق یہ ہے کہ اس سب نے ادیب کو متاثر کیا ہے یا ادیب متاثرہ ہونے کی کوشش خود کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی علمی قابلیت قاری تک پہنچا سکے۔ ابھی ادیب اس فرق کو نہیں سمجھ پا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ نصابی ادب میں براہ راست مکمل مغربی تھیوری پڑھائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تفہیم ادب پہ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی صورت حال ہو چکی ہے۔

ادبی اداروں کا وجود بھی اسی کی دہائی میں ہوا اور سرکاری سطح پہ ادبی ایوارڈز دیے جانے لگے یہ ادب کی پذیرائی کے نئے دور کا آغاز تھا اور ادب و ادیبوں کے لئے اعزاز تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت بھی اور بعد میں بھی ان اداروں نے ”گرے پالیسی“ کا ساتھ دیا مگر ادب کے ارتقاء میں ان کی خدمات کو نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری ادبی رسائل بھی ان اداروں کی طرف سے شائع ہو رہے ہیں۔ لیجنڈ مصنفین پہ کتب بھی لکھوائی جا رہی ہیں۔ ملک کی مختلف زبانوں کے ادب کو قومی زبان میں منتقل بھی کیا گیا۔ مقامی ادب کو انگریزی کے قالب میں بھی ڈھالا جا رہا ہے۔ مقامی زبان کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا ہونے کا موقع ان اداروں سے ہی ملا اسے پہلے یہ سب کام بھی ادب نواز لوگ ہی کر دیا کرتے تھے۔ اکادمی ادبیات اسلام آباد کی بنیاد پڑی۔ ہر صوبہ میں اس کے صوبائی دفتر قائم ہوئے جو اپنے تئیں ادیبوں کو یکجا کیے ہوئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گروہ بندی بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا۔ شروع میں مفت کتب بھی شائع ہوئیں۔ نوجوان لکھنے والوں کے مقابلے کروائے گئے ان کا منتخب ادب شائع کیا گیا۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے بچوں کے ادب پہ بھی کام کروایا اور اس کے ساتھ ساتھ نیشنل بک فاؤنڈیشن کارڈ کا اجرا ہوا جو یہ کارڈ بنوا لیتا اس کو کتب پچاس فی صد رعایت پہ ملا کرتی تھیں۔

اس کے بعد وہ دور ہے جس کو ہم ففتھ جنریشن وار کہتے ہیں۔ سب کچھ سمٹ کر ایک موبائل میں آ گیا۔ اب سب آزاد ادیب ہو گئے۔ سینئر ادیبوں کو شروع میں یہ تغیر ظاہر ہے اچھا نہیں لگا۔ وہ فیس بک، انسٹا گرام، انسٹا، ایکس، کچھ بھی استعمال نہیں کر رہے تھے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا رہے تھے لیکن نئے لکھنے والے اپنے ساتھ اپنا دور لے کے آئے تھے۔ وہ فاصلہ جو کچھ درمیانی عشروں میں آیا تھا اور ادیب نے خود کو عوام سے دور کر کے خواص کی ایک الگ دنیا بسا لی تھی۔ اس کا نتیجہ سامنے آ نا شروع ہو گیا تھا لیکن اب گلہ کرنا فضول تھا۔ اب اس نسل کو رد تو نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کہانی شاعری ادب انسانی سرشت سے نہیں جا سکتے یہ ہوا و پانی کی طرح رستہ بنا ہی لیتے ہیں لہذا سوشل میڈیا نے ایک نئی ادیب نسل کو پلیٹ فارم دیا جہاں ان کے اپنے چینلز، اپنے پیج، ویب سائٹس اور اکاؤنٹس ہیں جس پہ ملینز لائک و ویوز ہیں۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اس دور میں اچھا ادب نہیں لکھا جا رہا بس ادب کے عوام تک پہنچنے کے ذرائع بدل گئے ہیں۔ ایک کتاب شائع ہوتی ہے تو کئی ممالک سے شائع ہو جاتی ہے اس کا ای بک ایڈیشن سستا مل جاتا ہے۔ پی ڈی ایف مفت مل جاتی ہے۔ گوگل پہ کتاب مفت مل جاتی ہے۔

اب وقت فیصلہ کرے گا کہ ان میں سے بڑے ادیب کون بنتے ہیں بڑا ادیب اور مشہور ادیب میں فرق ہوتا ہے۔ یہ بھی وقت فیصلہ کرے گا کہ بڑا ادیب کون تھا اور مشہور ادیب کون تھا لیکن سوشل میڈیا آج کے دور کی وہ حقیقت ہے کہ جس نے اس کے رد کرنے والوں کو اس کا استعمال کرنا سیکھا دیا ہے اور اب یہ ادب کے مزید ارتقائی مدارج میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

لیکن ایک نسل وہ بھی ہے جس نے نے یہ سب ادوار جھیلے ہیں ان کو دوہری مشقت کا سامنا کرنا پڑا ان کو رسالے والے ادیبوں میں خود کو منوانے کے لئے رسائل میں بھی لکھنا پڑا، اخبارات میں بھی لکھنا پڑا، صحافت کو بھی گلے لگایا، بلاغت کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا، تراجم بھی کیے، تخلیق بھی کی، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پہ بیک وقت کام کیا اور سب سے جلد اسی نسل کے بالوں میں چاندی اتری۔ یہ مڈل ایج نسل تاحال عالم مشقت میں ہے لیکن ان میں سے بھی وقت نے اپنے حصے کے کردار نمایاں کر ہی دیے ہیں۔ جن میں چند اہم نام آمنہ مفتی، اقبال خورشید، منزہ احتشام گوندل، شمائلہ حسین، اسد محمود خان، سائرہ غلام نبی، آدم شیر، قاسم یعقوب، علی اکبر ناطق، عاصم بٹ، عرفان جاوید، عنبرین حسیب عنبر، عارفہ شہزاد، فریحہ نقوی، اسامہ صدیق، زیف سید، فرنود عالم، طاہرے گونیش، کومل جوئیہ، مژدم خان، تہذیب عافی، گل شیر بٹ، ہاشم ندیم خان، ظفر معراج، حسن معراج، سیمیں کرن، سبین علی، رفاقت حیات، افکار علوی، اختر رضا سلیمی، فارس مغل اور بہت سے نام ہیں جو یہاں موجود نہیں لیکن وہ اپنے حصے کا کام پوری ایمان داری سے کر رہے ہیں اور وقت نے ان کو خود بھیڑ سے الگ کر دیا ہے۔ یہ بھیڑ وقت کی ہم عصری ہوتی ہے جسے مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور اس مڈل ایج نسل نے کئی جہتوں پہ جہد کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اردو ادب کا ارتقائی جائزہ اس لئے ضروری تھا کہ سمجھا جا سکے کہ راستے کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں اور دور جدید کے ساتھ چلنا کتنا اہم ہے۔

(یہاں صرف پاکستانی اردو ادب کی بات ہوئی ہے )

Facebook Comments HS