نظریہ، اعتماد اور قیادت: علی امین خان گنڈاپور کے خلاف سازشیں کیوں؟


sultan ayaz

پاکستان تحریکِ انصاف کا بنیادی نظریہ ہمیشہ انصاف، خودداری اور عوامی فلاح پر مبنی رہا ہے۔ عمران خان نے جب سیاست میں قدم رکھا تو ان کے پاس نہ روایتی سیاسی ڈھانچہ تھا نہ خاندانی سیاست کا سہارا۔ لیکن ان کے پاس تھا ایک وژن نیا پاکستان ایک ایسا پاکستان جہاں ادارے مضبوط ہوں، کرپشن کا خاتمہ ہو اور عوام کو ان کا حق ملے۔

اسی نظریے کے سائے میں پی ٹی آئی نے کئی اہم رہنماؤں کو جنم دیا۔ ان ہی میں ایک نام نمایاں ہے علی امین خان گنڈاپور۔ یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مشکل ترین وقت میں نہ صرف پارٹی کا پرچم بلند رکھا بلکہ خیبرپختونخوا میں پارٹی کی قیادت بھی سنبھالی۔ اُس وقت جب پارٹی اندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار تھی۔

عمران خان کا علی امین خان پر اعتماد محض سیاسی نہیں نظریاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا جیسے پیچیدہ صوبے کی قیادت انہیں سونپی گئی۔ وزیراعلیٰ بنتے ہی علی امین خان نے جنوبی اضلاع، بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کی جانب تاریخی توجہ دی، جنہیں ماضی میں محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔

آج ان اضلاع میں سڑکیں بن رہی ہیں، اسپتال اپ گریڈ ہو رہے ہیں، آب پاشی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو عمران خان کے وژن اور علی امین خان کی عملی قیادت کا نتیجہ ہے لیکن جیسے ہی یہ کامیابیاں سامنے آئیں، سازشوں کا بازار گرم ہو گیا۔ پارٹی کے اندر ہی کچھ عناصر علی امین خان کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ الزامات، افواہیں اور میڈیا میں منفی مہم کا آغاز ہوا۔ مقصد واضح ہے، عمران خان کے قریبی اور با اعتماد ساتھی کو متنازعہ بنا کر اسے کمزور کرنا۔ لیکن یہ سازشی عناصر یہ بھول گئے ہیں کہ عمران خان کا نظریہ افراد پر نہیں، اصولوں پر چلتا ہے۔ اور جب تک علی امین خان اس نظریے کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، انہیں کوئی ہٹا نہیں سکتا۔ وہ نہ صرف وزیراعلیٰ رہیں گے بلکہ خیبرپختونخوا خاص طور پر جنوبی اضلاع کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن رکھیں گے۔

علی امین خان کے مخالفین کو چاہیے کہ وہ الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر اپنے کردار پر غور کریں کیونکہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کون اُن کے ساتھ کھڑا ہے اور کون صرف اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے۔

آخر میں ایک بات طے ہے، نظریہ زندہ ہو، قیادت مضبوط ہو اور عوام کی حمایت حاصل ہو تو سازشی کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS